Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان اور بھارت کے درمیان جتنی زمینی قربت ہے ذہنی طور پر اتنی ہی دوریاں ہیں، الطاف حسین


پاکستان اور بھارت کے درمیان جتنی زمینی قربت ہے ذہنی طور پر اتنی ہی دوریاں ہیں، الطاف حسین
 Posted on: 3/29/2014
پاکستان اور بھارت کے درمیان جتنی زمینی قربت ہے ذہنی طور پر اتنی ہی دوریاں ہیں، الطاف حسین 
میری دعا اور خواہش و کوشش ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نفرتوں اور دوریوں کے بجائے محبت اور قربتوں کے رشتے قائم ہوجائیں
میں دونوں ممالک کے درمیان امن، پیار اور محبت چاہتا ہوں، دوستی اور امن و آشتی چاہتا ہوں 
شعراء اور ادیب امن و پیار کی محفلوں کے ذریعے دہشت گردی کی سوچ کو شکست دے ڈالیں 
’’گہوارۂادب‘‘ کے زیر اہتمام منعقدہ عالمی مشاعرہ کے شرکاء سے خطاب 
لندن ۔۔29،مارچ 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جتنی زمینی قربت ہے ذہنی طور پر اتنی ہی دوریاں ہیں ۔ میری دعا اور خواہش و کوشش ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نفرتوں اور دوریوں کے بجائے محبت اور قربتوں کے رشتے قائم ہوجائیں ۔انہوں نے یہ بات ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں ایم کیوایم کے ادبی شعبہ ’’ گہوارہء ادب ‘‘ کے زیر اہتمام منعقدہ عالمی مشاعرہ کے شرکاء سے خطاب کر تے ہوئے کہی ۔ یہ عالمی مشاعر ہ ممتاز قومی شاعر محسن بھوپالی مرحوم کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا جس میں کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ بھارت ،امریکہ او رکینیڈا سے آئے ہوئے شعراء اور ادیبوں نے شرکت کی ۔جناب الطاف حسین نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کہا کہ برصغیر کو تقسیم ہوئے 67سال گزرچکے ہیں لیکن پاکستان اور بھارت زمینی طور پر قریب ہونے کے باوجود آج تک ایک دوسرے سے دور ہیں ۔ دونوں ملکوں کی سوچوں کے درمیان اتنی تلخیاں پیدا کر دی گئی ہیں کہ ہم پڑوسیوں کے ساتھ رہنے کے آداب تک بھو ل گئے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ کاش دونوں ملکوں کے لوگ اس بات کو جانیں کہ ہم نے بہت جنگیں لڑلیں ،وطن تقسیم ہوگئے آپ ہم یورپی ممالک کی طرز پر اس طرح ہاتھ ملالیں کہ یورپین کرنسی بن جائے اور آپس میں آنا جانا آسان ہوجائے ۔یہ میری دعا بھی ہے ،خواہش بھی ہے اور جدوجہد بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس نیک مقصد کے لئے کام کرنے پر الزامات سے نہیں ڈرنا چاہیئے ، مجھ پر بہت الزامات لگے لیکن میں نے الزامات کی پروا ہ نہیں کی ،میں دونوں ممالک کے درمیان امن ، پیار اور محبت چاہتا ہوں ،دوستی اور امن وآشتی چاہتا ہوں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں کے لوگ چھوٹی سطح پر بھی آپس میں کاروبار کر سکتے ہیں، جب دونوں ملکوں کے لوگ معاشی طور پر مضبوط ہوں گے تو لوگ نفرتوں میں پڑنے اور لڑنے جھگڑنے سے بھی گریز کر یں گے ۔جناب الطا ف حسین نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان امن وآشتی کے فروغ کے لئے شعراء اور فنون لطیفہ کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ ادبی محفلوں کا زیادہ سے زیادہ انعقاد کر یں اور جہاں کچھ لوگ لڑنے لڑانے کی باتیں کر رہے ہیں وہاں امن وآشتی کا پیغام دے کر اور امن وپیار کے ذریعے دہشت گردی کی سوچ کو شکست دے ڈالیں ۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ دونوں ملکوں کے مابین فرد سے فر د کا رابطہ بڑھ جائے، ہم پیار ومحبت سے رہنا سکھ لیں اور دونوں ملکوں کے درمیان نفرتوں کے بجائے محبت کے رشتے قائم ہوجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ شاہ لطیف کی دھرتی ہے جن کا پیغام امن کا پیغام ہے ۔ انہوں نے شاہ لطیف کا یہ شعر بھی پڑھا جس کا ترجمہ ہے ’’ اے اللہ سندھ کو ہمیشہ کے لئے خوشحال بنا سندھ کو ترقی دے ، اسے آباد کر اور سندھ کے ساتھ ساتھ سارے عالم کو بھی آباد کر اور خوشحال کر ے‘‘ ۔ انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب میں پیار ومحبت اوریگانگت بڑھائے ، ہم پیار کرنا سیکھیں ،ہمیں پیار سے پیار ہو اور نفرت سے ہمیں نفرت ہو ۔ 
جناب الطاف حسین نے گہوارہء ادب کی جانب سے مشاعرے کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے ماحول میں جبکہ ہر طرف شور و غوغا او رواویلا ہو اور جگہ جگہ دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہوں ، گھر گھر آہیں او ر سسکیاں ہوں ،گلی گلی ماتم بپا ہو اور لوگ اپنے غموں میں اس طرح مبتلاہوں کہ انہیں دوسروں کے آنسوپونچھنے کی فرصت نہ ہو ایسے میں اس قسم کی ادبی محفل کا انعقاد کرکے علم وفن کی باتیں کرنا ، پیار ومحبت اور امن و آشتی کا درس دینا، ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑے کی بات کرنے بجائے اتحاد ویکجہتی اور ملاپ کی بات کرنا کسی معجز ے سے کم نہیں ۔انہوں نے کہا کہ جن ساتھیوں نے اس محفل کے انعقاد کے لئے محنت مشقت کی اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر عطا کرے ۔ جناب الطا ف حسین نے عالمی مشاعرے میں شرکت کرنے والے تمام شعراء اور ادیبوں کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔

12/8/2016 12:05:18 PM