Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حکمرانوں کو ماضی کی غلطیاں دہرانے سے گریز کرنا چاہیے اور دوسروں کے مفادات کی جنگ میں پاکستان کو نہیں جھونکنا چاہیے۔ الطاف حسین


حکمرانوں کو ماضی کی غلطیاں دہرانے سے گریز کرنا چاہیے اور دوسروں کے مفادات کی جنگ میں پاکستان کو نہیں جھونکنا چاہیے۔ الطاف حسین
 Posted on: 3/19/2014
حکمرانوں کو ماضی کی غلطیاں دہرانے سے گریز کرنا چاہیے اور دوسروں کے مفادات کی جنگ میں پاکستان کو نہیں جھونکنا چاہیے۔ الطاف حسین
ملک اور مسلح افواج کا پہلے ہی بہت نقصان ہوچکا ہے، ایک محب وطن کی حیثیت سے میں یہ قطعی نہیں چاہوں گا کہ ہم آج کسی بھی ایسے معاملے میں شامل ہوں جس کے نتائج ملک نسل در نسل بھگتتا رہے
سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں صاف اور واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازم اپنے حکام بالا کے غیر قانونی احکامات ہرگز نہ مانیں
اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو صدر پاکستان کے غیر قانونی احکامات تسلیم نہیں کرنے چاہیے تھے
پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو میاں نواز شریف نے خود جلسہ سے خطاب میں پنجاب کی پولیس اور سیکورٹی فورسز سے کہا تھا کہ وہ وفاقی حکومت کے غیر قانونی احکامات نہ مانیں
میں بار بار منع کرتا رہا ہوں کہ مالی مفادات کے عوض پاکستان کی مسلح افواج کو کرائے کی فوج نہ بنایا جائے
اگر پاک فوج کو دوسرے ممالک کیلئے استعمال کرنے کی روش ختم نہ کی گئی تو غیروں کی جنگ میں کودنے کا عمل خدانخواستہ پاکستان کی تباہی پر منتج ہوگا
رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن اور مختلف شعبہ جات کے مشترکہ اجلاس سے خطاب
لندن۔۔۔19، مارچ2014ء


Rulers in Pakistan should not repeat past... by MQMOfficial
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں نے گزشتہ روز اپنی تقریر میں کہاتھا کہ حکمرانوں کو ماضی کی غلطیاں دہرانے سے گریز کرنا چاہیے اوردوسروں کے مفادات کی جنگ میں پاکستان کونہیں جھونکناچاہیے۔ ملک اورمسلح افواج کاپہلے ہی بہت نقصان ہوچکا ہے اور ایک محب وطن کی حیثیت سے میں یہ قطعی نہیں چاہوں گا کہ ہم آج کسی بھی ایسے معاملے میں شامل ہوں جس کے نتائج ملک نسل در نسل بھگتتا رہے ۔یہ بات انہوں نے آج رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن اورمختلف شعبہ جات کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں ایم کیوایم کے مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران بھی شریک تھے ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب کسی تباہ حال معاشرے میں پائی جانے والی خرابیوں اوربرائیوں کے خلاف کوئی صدائے حق بلند کرتا ہے اورمعاشرے کوگندگی سے پاک کرکے ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل کی جدوجہد کرتا ہے تواسٹیٹس کو، کوبرقراررکھنے والے ظالم وجابر حکمراں اس آوازحق کو کچلنے کیلئے ہرقسم کاحربہ استعما ل کرتے ہیں، ہرجانب سے آواز حق کی مخالفت کی جاتی ہے اور صدائے حق بلند کرنے والی کی راہ میں رکاؤٹیں کھڑی کی جاتی ہیں حتیٰ کہ مکر و فریب اور سازشوں کے جال بچھاکر اس آواز حق کو باطل ثابت کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ان مخالفتوں اور سازشوں کے باوجود صدائے حق بلند کرنے والے جواپنے نظریہ میں سچے ہوتے ہیں اوراعلیٰ کردار کے مالک ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں حق پرستی کی جدوجہد میں توانائی ، حوصلہ اور ثابت قدمی عطا کرتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ اپنی راہ میں آنے والی تمام رکاؤٹوں کو عبور کرتے ہوئے اپنے پیغام حق کو فروغ دینے میں مصروف رہتے ہیں اورپیغام حق آگے بڑھتا رہتا ہے ۔ اس کاثبوت یہ ہے کہ گزشتہ روز ایم کیوایم کا 30 واں یوم تاسیس آزادکشمیر، گلگت اور بلتستان سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں کے 37 شہروں میں منایا گیا۔انہوں نے کہاکہ اس کنونشن میں، میں نے بعض حقائق بیان کیے تھے جس پر باطل قوتیں یکجا ہوکر میرے بیان کردہ سچ کے خلاف متحد ہوگئیں۔ بعض شرپسند عناصر میرے خطاب میں سے اپنے مطلب کے جملے نکال کر عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں اورآج پاکستان کے ٹی وی ٹاک شوز کے شرکاء کی اکثریت یک زبان ہوکر ایم کیوایم پر تبریٰ بھیج رہی ہے ۔ ان کی جانب سے مجھ پر الزام عائد کیاجارہا ہے کہ الطاف حسین نے فوج کو بغاوت کرنے کی دعوت دی ہے جوکہ ایک بہتان سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ میری تقریر ریکارڈ پر موجود ہے اس کا ایک ایک جملہ اور ایک ایک لفظ اگر غورسے سنا جائے تو ہرفرد اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کہی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ماضی میں پاکستان ، سپرطاقتوں کی جنگوں میں استعمال ہوتا رہا ہے ، امریکہ اور روس کی جنگ میں پاکستان کو بہت استعمال کیا گیااوراس دور کے ارباب اختیار سب کے سب اس سرد جنگ میں بلواسطہ یا بلاواسطہ حصہ لیتے رہے جس کے سبب ایسی آگ لگی کہ امریکہ اور نیٹو افواج تو 2014ء میں افغانستان سے واپس جارہی ہیں لیکن پاکستان آج بھی دہشت گردی کی نہ ختم ہونے والی دلدل میں دھنستا چلاجارہا ہے ۔ ابھی پاکستان ، دہشت گردی کی اس پرانی دلدل سے نہیں نکل پایا تھا کہ ہمارے حکمراں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے دوبارہ پراکسی وار کیلئے اپنے فوجی کبھی اردن، کبھی صومالیہ اور کبھی کسی اور ملک میں بھیجتے رہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں باربار منع کرتا رہا ہوں کہ مالی مفادات کے عوض پاکستان کی مسلح افواج کو کرائے کی فوج نہ بنایا جائے اور اگر پاک فوج کو اسی طرح دوسرے ممالک کیلئے استعمال کرنے کی روش ختم نہ کی گئی توغیروں کی جنگ میں کودنے کا عمل خدانخواستہ پاکستان کی تباہی پر منتج ہوگا۔
جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ میں نے گزشتہ روز اپنی تقریر میں کہاتھا کہ ماضی کی غلطیاں دہرانے سے گریز کرنا چاہیے اوردوسروں کے مفادات کی جنگ میں پاکستان کونہیں جھونکناچاہیے اور اگر حکمراں کسی بھی ملک میں مسلمانوں کے قتل کیلئے جنگی سازو سامان اور مسلح لشکر بھیجنے کے احکامات دیں تو ایسی صورت میں مسلح افواج کو حکومت کے ایسے احکامات ماننے سے انکار کر دینا چاہئے ، میر ی اس بات پر بعض عناصر کی جانب سے واویلا مچا یا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں عوام خصوصاً تاریخ ، پولیٹکل سائنس ،سوشیا لوجی اور قانون کے طالبعلموں کو تاریخ کی روشنی میں چند حقائق بتانا چاہتا ہوں ،میں نے نہ غیر آئینی با ت کی ہے اور نہ ہی غیر قانونی بات کی ہے ، میں نے صاف اور واضح الفاظ میں یہ کہا ہے کہ گورنمنٹ کا کوئی بھی ایسا حکم جو آئین ،قانون ، تہذیب اور ملک کے مفاد کے خلاف ہو تو فوج کو ایسے احکامات نہیں ماننے چاہئیں اور ماضی میں متعدد بار ایسا ہوچکا ہے جس کی مثالیں موجو د ہیں ۔انہوں نے مثالیں پیش کر تے ہوئے کہا کہ زاہد اختر بنام حکومت پنجاب کے کیس میں سپر یم کورٹ کے فیصلے PLD 1995میں کہا گیا ہے کہ قانو ن کا یہ بنیادی اصول ہے کہ ایک سرکاری ملازم کو اپنے حکام بالا کے غیر قانونی احکامات کو نہیں ماننا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اصغر خان بنا م جنرل اسلم بیگ (پی ایل ڈی 2013ء سپریم کورٹ نمبر 1)مقدمہ میں واضح طو رپر تسلیم کیا گیا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو صرف قانونی احکامات ماننے چاہئے تھے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہاگیاہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو صدر پاکستان کے غیر قانی احکامات تسلیم نہیں کرنے چاہئیں ، باوجود اس کہ صدر پاکستان مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں ،بصورت دیگر غیر قانونی احکامات بجالانے والے افسران اپنے فعل کے ذاتی طورپر ذمہ دار ہوں گے ۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ دورحکومت میں جب پنجاب میں گورنرراج نافذ کیاگیاتو میاں نوازشریف صاحب نے خودایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے پنجاب کی پولیس اورسیکورٹی فورسز سے کہاتھا کہ وہ وفاقی حکومت کے غیرقانونی احکامات نہ مانیں جس پر ایک پولیس اہلکارنے بھرے جلسے میں اسٹیج پر آکر اپنی بیلٹ اتارکرنوازشریف صاحب کودیدی تھی اور نوازشریف صاحب نے اس پولیس اہلکار کوخراج تحسین پیش کیاتھا۔اسی طرح1977ء میں PNA کی تحریک کے دوران پنجاب اسمبلی کے سامنے قومی اتحاد کا جلسہ ہورہا تھا، فوج کو حکم ملا کہ مجمع پر گولی چلائیں لیکن فوج نے لوگوں پر گولی چلانے کے حکم کو ماننے سے انکار کردیاتھااور کئی فوجی افسران جن میں کرنل اور بر یگیڈئر بھی شامل تھے نے اپنی بیلٹیں اتار کر پیش کردی تھیں۔اور احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کے دور میں کیری لوگر بل کے معاملہ پر بھی فوج کی قیادت نے کورکمانڈر ز کا اجلاس کرکے باقاعدہ بیان کے ذریعہ اپنی تشویش کا اظہار کیا جس پر حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی پڑی ۔اسی طرح جب سابقہ حکومت نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا تو فوج نے اس کی مخالفت کی جس پر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ملک اورمسلح افواج کاپہلے ہی بہت نقصان ہوچکا اور ایک محب وطن کی حیثیت سے میں یہ قطعی نہیں چاہوں گا کہ ہم آج کسی بھی ایسے معاملے میں شامل ہوں جس کے نتائج ملک نسل در نسل بھگتتا رہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک ٹی وی ٹاک شو میں میری اس بات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس میں میں نے کہا تھا کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جس جس معاشرے میں کرپشن اور ناانصافی عروج پر پہنچ گئی وہاں اس ملک کی فوج کے کسی فرد نے اس ظلم و جبر کے خلاف انقلاب بر پا کیا ۔ میں نے تاریخ سے صرف ایک مثال دی تھی ،فوج کو دعوت نہیں دی تھی ،تاریخ کے حوالے سے ایک مثال دینے پر یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ میں فوج کی مداخلت کی حمایت کر رہا ہوں ؟ انہوں نے کہا کہ تاریخ صرف شیریں ہی نہیں بلکہ تلخ بھی ہوتی ہے ، یہ کہا ں لکھا ہے کہ آپ تاریخ کے میٹھے میٹھے حصوں کو تو سامنے لائیں لیکن کڑوے حصوں کو تھوک دیں ؟ ’’میٹھا میٹھاہپ ہپ ، کڑوا کڑوا تھو تھو ‘‘۔انہوں نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ استحصالی طبقہ کو تو میر ی باتیں بر ی لگ رہی ہیں لیکن مجھے یہ بھی علم ہے کہ ملک کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام اور محب وطن طبقات کو میری باتیں پسند آرہی ہیں ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی پاکستان کو ان امتحانات میں سرخ رو کرے جن سے وہ گزر رہا ہے اور اسے قائم و دائم رکھے ۔ 

12/2/2016 8:30:39 PM