Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حکمراں خدارا پاکستان کو شیعہ سنی جنگ میں نہ الجھائیں اور پاکستان کی غیرت وحمیت کاسودانہ کریں۔الطاف حسین


حکمراں خدارا پاکستان کو شیعہ سنی جنگ میں نہ الجھائیں اور پاکستان کی غیرت وحمیت کاسودانہ کریں۔الطاف حسین
 Posted on: 3/18/2014
حکمراں خدارا پاکستان کو شیعہ سنی جنگ میں نہ الجھائیں اور پاکستان کی غیرت وحمیت کاسودا نہ کریں۔الطاف حسین
اگرحکمراں کہیں کہ دوڈویژن فوج یاتین بریگیڈ فوج بحرین، اردن ، شام یافلاں فلاں جگہ بھیج دو تو میری فوج کے حکام سے التجاہے کہ وہ ایساحکم ماننے سے انکارکردیں
بدقسمتی سے پاکستان کی بقاء،خودداری اورغیرت وحمیت کوچندٹکوں کیلئے دیگرممالک کے ہاتھوں نیلام کردیاگیا ہے
ایم کیوایم کے 30 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ملک بھر میں منعقد اجتماعات سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن۔۔۔18،مارچ2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ آج پوری دنیامیں شیعہ اورسنی کی بنیادپر تصادم کرایاجارہاہے اورہم سے کہاجارہاہے کہ اس لڑائی میں شریک ہونے کیلئے مسلح لشکر عراق بھیجو، بحرین بھیجو، شام بھیجو، سعودی عرب بھیجو۔ حکمراں خدارا پاکستان کو اس شیعہ سنی جنگ میں نہ الجھائیں اور پاکستان کی غیرت وحمیت کاسودانہ کریں۔ انہوں نے مسلح افواج کے حکام سے کہاکہ اگرحکمراں آپ سے یہ کہیں کہ دوڈویژن فوج یاتین بریگیڈ فوج بحرین، اردن ، شام یافلاں فلاں جگہ بھیج دو تو میر ی آپ سے التجاہے کہ ا آپ اللہ رسول ؐ کے واسطے حکمرانوں کاایساحکم ماننے سے انکارکردیں اورصاف کہہ دیں کہ ہم مسلمانوں کاقتل عام کرنے کہیں نہیں جائیں گے، ہم شیعہ سنی کی اس جنگ میں پاکستان کونہیں جھونکیں گے۔ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے 30 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ملک بھر میں منعقد اجتماعات سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یوم تاسیس کامرکزی اجتماع جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں منعقد ہوا جبکہ جناب الطاف حسین کا خطاب صوبہ سندھ ، صوبہ پنجاب، صوبہ خیبرپختونخوا اور صوبہ بلوچستان کے 37 سے زائد شہروں میں بھی براہ راست سنا گیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ انقلاب راتوں رات نہیں آیاکرتے بلکہ کسی بھی ملک کے بگڑے ہوئے نظام کو درست کرنے کیلئے ایک طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے ۔ ایسی تحریکیں اور رہنما ء جو نادیدہ قوتوں کے ذریعہ کسی طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت راتوں رات ابھارے جاتے ہیں وہ اتنی ہی تیزی سے زوال پذیربھی ہوجاتے ہیں۔معاشرے میں ظلم کی چکی میں پسنے والے محروم طبقہ کے افراد ہی سچی تحریک کو جنم دیتے ہیں ، اپنے لہوسے تحریک کی آبیاری کرتے ہیں اور حق پرستی کے پیغام کے فروغ کیلئے بڑی سے بڑی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 30 سال پہلے لگایا گیا پودا آج ایم کیوایم کی شکل میں ایک تناور درخت بن چکا ہے جس کی شاخیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں پھیل چکی ہیں اور اس درخت کی چھاؤں سے ملک بھرکے مظلوم عوام فیضیاب ہورہے ہیں اور انشاء اللہ یہ شاخیں پھلتی پھولتی رہیں گی ۔انہوں نے مزید کہاکہ سچی انقلابی تحریکوں کی آبیاری کیلئے قربانیاں دی جاتی ہیں، حقوق کی تحریکیں جس جس دور میں اپنا سفرکرتی ہیں انہیں وقت کے حکمرانوں اور آمروں کی مخالفتوں کاسامنا کرناپڑتا ہے لیکن وہ تمام ترمخالفتوں کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھتی ہیں اور پھرآہستہ آہستہ لوگوں میں شعوری بیداری پھیلانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج ایم کیوایم پریہ الزام عائد کیاجاتا ہے کہ اسے فوج نے بنایا لیکن مجھے مجبوراً یہ بات اپنے منہ سے کہنی پڑرہی ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں مجھے تین مرتبہ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، میں جامعہ کراچی کا واحد طالبعلم تھا جسے جھوٹے اور من گھڑت الزام میں 9، ماہ قیداور5 کوڑوں کی سزا دی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے نوجوان نسل کو گمراہ کیاجاتا ہے، ان سے حقیقی تاریخ چھپائی جاتی ہے اور وہ تاریخ پڑھائی جاتی ہے جو حکمرانوں اور ایلیٹ کلاس کو جچتی ہے ۔ انہوں نے نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انہیں صحیح تاریخ سمجھنے کیلئے کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے اور لائبریریوں میں جاکر خود تحقیق کرنی چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ کیا صحیح ہے اور کیاغلط ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان میں کرپشن کی لعنت سے پاک اور انصاف پر مبنی جمہوری نظام قائم کرنے کی جدوجہد کررہی ہے ، لوگ کہتے ہیں کہ باربار حکومتوں میں آنے والی جماعتوں کے ساتھ ملکر آپ حکومت میں کیوں چلے جاتے ہیں تو انہیں معلوم ہوناچاہیے کہ ایم کیوایم ، عوامی مفادات کے حصول کیلئے ان جماعتوں کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل رہی ہے ۔ اگر مخلوط حکومت میں شمولیت کا مقصد ذاتی یاخاندانی مفادات کا حصول ہوتا تو الطاف حسین کسی بھی آمر کے پیر پکڑ کرپاکستان کا صدر یا وزیراعظم بن چکا ہوتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ایسی صدارت اور وزارت عظمیٰ یا کسی بھی بڑی پوزیشن پر ہزاربار لعنت بھیجتا ہوں جس کی بنیاد غریب عوام کے خون پر رکھی گئی ہو۔میری رگوں میں حلال خون دوڑرہا ہے اور میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ 30 برسوں کے دوران کوئی بھی ظلم وستم ، دولت یا لالچ الطاف حسین کو اس کے مشن ومقصد سے زرہ برابر پیچھے نہیں ہٹاسکی ۔حق پرستی کی اس جدوجہد میں میراپوراخاندان دربدرہوگیا، پاکستان میں محنت مزدوری کرکے رزق حلال کمانے والے میرے بھائیوں کا ملک میں رہنا محال بنادیا گیا، تحریک کے دیگر ساتھیوں کی طرح میرے بڑے بھائی اور جواں سال بھتیجے کو سفاکی سے شہید کردیا گیا، میں 22 برسوں سے اپنے لوگوں سے دورہوں لیکن میں نے اپنے مشن ومقصد کو نہیں چھوڑا اور نہ میرے چاہنے والے ساتھیوں نے مجھے چھوڑا ہے ۔ آج 30 برس گزرجانے کے باوجود حق پرستی کا یہ قافلہ آگے ہی آگے بڑھتا جارہا ہے اور حق پرستی کا یہ سفر جاری ہے جو بڑھتے بڑھتے ایک دن اسلام آباد کے بڑے بڑے ایوانوں تک پہنچ جائے گا۔پھرمظفرگڑھ کی فرسٹ ائیر کی طالبہ آمنہ کواجتماعی زیادتی کا نشانہ بناکر خودسوزی پر مجبور کرنے اور اسلام آباد کی جواں سال خاتون وکیل فضاء ملک گولیاں مارکرشہیدکرنے والے قانون کی گرفت سے ہرگز محفوظ نہیں رہیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ظلم پر وکلاء برادری ، انسانی حقوق اور خواتین کی تنظیموں کی جانب سے کوئی ٹھوس احتجاج نہیں کیاگیا، ایک وقت تھا جب وکلاء برادری سڑکوں پر اس طرح جلسے جلوس کیاکرتی تھی جیسے پاکستان میں ان سے زیادہ بیدار طبقہ کوئی نہیں ہے لیکن آج قوم کی بیٹیوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنائے جانے پر یہ سب خاموش ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ماضی میں یہ وکلاء سڑکوں پر خود نہیں نکلے تھے بلکہ نکالے گئے تھے اور انہیں سڑکوں پرنکلنے کیلئے مال بھی دیا گیا تھا۔ اگر یہ وکلاء اپنے مشن اور کاز میں سچے ہوتے تو مظفرگڑھ کی طالبہ، اسلام آباد کی خاتون وکیل ، آئے دن کاروکاری، ونی اور غیرت کے نام پر قتل ہونے والی بچیوں کے تحفظ کیلئے بھی میدان عمل میں آتے ۔ ان وکلاء نے عدلیہ کی آزادی کے نام پر ایسی تحریک چلائی کہ عدلیہ کاتھوڑا بہت وقار بھی پامال کردیا۔ میری بات پر وکلاء برادری ناراض ہوتی ہے تو ہوجائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسی عدلیہ کیلئے سراپا احتجاج تھے جو کسی جرم میں ایک کو سزا اور اس سے بڑاجرم کرنے والے کو معاف کردے اورجو اپنوں کو معاف اور غیروں کو سزا دے۔ جناب الطاف حسین نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ جس ملک میں جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام ہوگا وہاں انصاف کا نہیں بلکہ ظلم کا نظام ہوگا، اس ملک میں سچی جمہوریت کبھی آہی نہیں سکتی کیونکہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اور قبائلی نظام جمہوریت کی ضد ہیں۔کرپٹ جاگیردارانہ نظام اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، جاگیردارانہ اوروڈیرانہ ذہنیت کو مارشل لاء کا نظام جچتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیامیں جہاں جہاں جاگیردارانہ اور کرپٹ حکومتیں رہی ہیں وہیں مارشل لاء نظام آئے ہیں جبکہ جوممالک فرسودہ جاگیردارانہ نظام سے آزادہوچکے ہیں ان ممالک میں آمریت یا مارشل لاء قسم کی حکومتیں نہیں آیاکرتیں۔انہوں نے کہاکہ جاگیردارانہ نظام کواگرکوئی چیز سوٹ کرتی ہے تووہ مارشل لاء نظام سوٹ کرتاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ تاریخ کی تلخ حقیقت ہے کہ دنیامیں کرپٹ پولیٹیکل سسٹم کواگرکسی نے بدلاہے توبدلنے والا فوج سے ہی نکل کرسامنے آیاہے۔ چاہے وہ بریگیڈیئرہو یاکرنل ہو۔ انہوں نے کہاکہ لوگ کہتے ہیں کہ الطاف حسین فوج کاحامی اورمارشل لاء پرست ہے، آپ مجھے کچھ بھی کہیں، کتناہی خراب کہیں، میں ملک کی بقاء اورمفادمیں بات کرتارہوں گا۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان کی بقاء،خودداری اورغیرت وحمیت کوچندٹکوں کیلئے دیگرممالک کے ہاتھوں نیلام کردیاگیا ہے، ہم بے غیرت ہوچکے ہیں، ہم ہمیشہ دوسروں کے مفاد کے لئے استعمال ہوتے آئے ہیں،چندٹکوں کی خاطرہم دوسروں کے مفاد کے لئے اپنی فوجیں ہرجگہ بھیجتے رہے ہیں، یہ دیکھے بغیرکہ ہم کافروں کومارنے جارہے ہیں یامسلمانوں کومارنے جارہے ہیں اور کہاں اپنی فوج بھیج رہے ہیں،کعبہ پرگولی چلاناہو، اردن میں مسلمانوں کومارناہوہم دوسروں کے مفادمیں ہرجگہ گئے۔پہلے ہم اسلام اورکمیونزم کے چکرمیں الجھائے گئے، امریکہ اورروس کی آپس کی لڑائی میں جھونکے گئے، اسلام اورکمیونزم کافرق بتاکر ہمیں جہادی بنایاگیا اورآج پھرہم سے وہی کچھ کرایاجارہاہے۔آج پوری دنیامیں شیعہ اورسنی کی بنیادپر تصادم کرایاجارہاہے اورہم سے کہاجارہاہے کہ اس لڑائی میں شریک ہونے کے لئے مسلح لشکر عراق بھیجو، بحرین بھیجو، شام بھیجو، سعودی عرب بھیجو۔انہوں نے انتہائی کرب اوردردمندی کے لہجے میں حکمرانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خدارا پاکستان کو اس شیعہ سنی جنگ میں نہ الجھاؤ، پاکستان کی غیرت وحمیت کاسودانہ کرو۔ انہوں نے مسلح افواج کے حکام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرحکمراں آپ سے یہ کہیں کہ دوڈویژن فوج یاتین بریگیڈ فوج بحرین، اردن ، شام یافلاں فلاں جگہ بھیج دو تو میر ی آپ سے التجاہے کہ ا آپ اللہ رسول ؐ کے واسطے حکمرانوں کاایساحکم ماننے سے انکارکردیں اورصاف کہہ دیں کہ ہم مسلمانوں کاقتل عام کرنے کہیں نہیں جائیں گے، ہم شیعہ سنی کی اس جنگ میں پاکستان کونہیں جھونکیں گے۔اگر یہ بغاوت ہے توپاکستان کی بقاء ،سلامتی ،قومی غیرت وحمیت اورعزت وآبرو بچانے کی خاطر اس بغاوت سے بھی گریز نہ کریں۔اگریہ بغاوت کی بات ہے تومجھ پر بغاوت کامقدمہ بنائیں ،مجھے ملک کی عزت ، غیرت وحمیت کی خاطریہ بھی قبول ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک وقوم کی عزت اورغیرت وحمیت بہن بیٹی کی عزت وغیرت کی طرح ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کرہوتی ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج امت مسلمہ کوشیعہ سنی کی جس جنگ میں الجھایاجارہاہے وہ کسی بھی طرح اسلام اورمسلمانوں کے مفادمیں نہیں، خدا کے واسطے شیعہ سنی کی اس جنگ سے دوررہاجائے ، شیعہ سنی 14سوسال سے ساتھ رہ رہے ہیں ،اللہ تعالیٰ قرآن مجیدمیں فرماتاہے ’’ آپس میں تفرقہ بازی میں نہ پڑو اوراللہ کی رسی کومضبوطی سے تھامے رکھو ‘‘ ۔ اگرکوئی یہ سمجھتاہے کہ میں کسی مالی فائدے کے لئے یہ بات کہہ رہاہوں تومیں ایسے پیسے پرلعنت بھیجتاہوں، مجھے ایسی رقم نہیں اللہ تعالیٰ کی رضااورخوشنودی چاہیے، مجھے یزیدیت کاپیروکارنہیں بلکہ حسینیت کے قدموں کی دھول میں لیٹناہے، میں کہتاہوں کہ پاکستان میں ہرفقہ اورمسلک کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے اور آزادی کے ساتھ رہنے کاحق حاصل ہوناچاہیے، سب کااحترام کیاجاناچاہیے، کسی بھی فقہ یامسلک کو یہ حق نہ دیاجائے کہ وہ کلاشنکوف اورڈنڈے کے ذورپر اپنافقہ یامسلک دوسروں پرمسلط کرے۔میں تونبی آخرالزماں سرکاردوعالمؐ کے اس درس پر یقین رکھتاہوں کہ غیرمسلموں کی عبادتگاہوں کابھی احترام کرو اورانہیں نقصان نہ پہنچاؤ کہ کہیں وہ پلٹ کرتمہاری عبادت گاہوں کونقصان نہ پہنچائیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج جب بڑے بڑے ماہرین تعلیم یہ سوال کرتے ہیں کہ تعلیمی نصاب میں فلاں فلاں فقہ سے متاثر نصاب کیوں پڑھایا جارہا ہے اورایسانصاب کیوں تشکیل دیاجارہاہے توجواب دیاجاتاہے کہ چونکہ فلاں فلاں اسلامی ملک زیادہ فنڈیاامداددیتاہے لہٰذا اسی لئے فلاں فلاں نصاب پڑھایاجارہاہے۔ انہوں نے سوال کیاکہ پاکستان ایک آزاداورخودمختارملک ہے یاکوئی کرائے کی ٹیکسی ہے کہ جس کادل چاہے وہ پیسے دیکر اس ٹیکسی میں بیٹھ جائے اوراپنی مرضی سے جہاں تک چاہے اس ٹیکسی میں سفرکرے اوراس کاکرایہ اداکردے؟انہوں نے کہاکہ پاکستان کوئی کرائے کی ٹیکسی نہیں بلکہ ایک آزاداورخودمختار ملک ہے۔ خود دار اورخودمختار قوم وہ ہوتی ہے جس میں ایمان ہوتاہے، جس میں شرافت، دیانت اورامانت ہوتی ہے ، جوخیانت اورمکروفریب سے پاک ہوتی ہے، جوشرافت کامجسمہ اورشرم وحیاکاپیکرہوتی ہے۔جس کے حکمرانوں کاکردار صحابہ کرامؓ کی طرح ہوتاہے کہ راتوں کو نکل کرگلیوں کے چکرلگائیں اورجس گھرسے بھوک اورفاقہ کی وجہ سے رونے کی آوازیں آئیں تواپنی کمرپر گندم کی بوری لیجاکراس گھرمیں پہنچائیں مگرجن کے لئے مال ودولت کاحصول اوراپنے اوراپنے خاندان کامفادہی سب سے بڑھکر ہو ان کے لئے عوام کی فاقہ کشی ، مشکلات اورتکالیف کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ انقلابی صرف سویلین ہی میں جنم نہیں لیتے بلکہ فوجیوں میں بھی انقلابی پیداہوتے ہیں جوا پنے ملک کوبچانے اورقوم کی غیرت وحمیت کے لئے سامنے آتے ہیں۔انہوں نے اسلام آبادکی ایف ایٹ کچہری میں خاتون وکیل کی شہادت اورمظفرگڑھ میں ایک جواں سال لڑکی کی اجتماعی آبروریزی اورخودسوزی کے واقعہ کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ ایف ایٹ میں عدالت میں حملہ کیاگیا،فضاء ملک کوشہیدکیاگیا، مظفرگڑھ میں ایک معصوم لڑکی کو اجتماعی زیادتی کانشانہ بنایاگیالیکن نہ توپولیس نے اس گھناؤنے واقعہ میں ملوث افراد کوگرفتارکیااورنہ ہی کہیں اورسے اسے انصاف ملا جس کی وجہ سے اس نے خودسوزی کرلی ۔ انہوں نے قوم کی تمام ماؤں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ذاراسوچیں کہ وہ بھی کسی کی بیٹی تھی،اللہ کسی کویہ دن نہ دکھائے اورسب کی بیٹیوں کی عزت کومحفوظ رکھے لیکن ذراسوچیں کہ اگرخدانخواستہ یہ گھناؤناعمل آپ کی بیٹی کے ساتھ ہوتاتوکیاہوتا؟ انہوں نے کہاکہ اگر مجھے ایک مہینے کا اقتدار ملے تواورایسے گھناؤناعمل کرنے والے قاتلوں کو سرعام نہ لٹکایاجائے توپھرمجھے لٹکادیاجائے۔انہوں نے کہاکہ جوحکمراں اپنے ملک کی عزت و آبروکوچند ٹکوں کے لئے نیلام کردیتے ہوں وہ قوم کی بہن بیٹیوں کاتحفظ کیسے کریں گے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے تحریکی جدوجہد کرتے ہوئے 30سال ہوگئے لیکن کیاکوئی کہہ سکتاہے کہ میں نے ڈیفنس،کلفٹن، مری اسلام آباد اورلاہورمیں بنگلے اورجائیدادیں بنائے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ اگرمیں نے قومی دولت کولوٹاہوتومیرابھی احتساب کیاجائے اورکسی اورنے ملک کولوٹاہے توان کابھی احتساب کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ ملک کے لوگوں کوجاگناہوگا اوریہ سوچناہوگاکہ جولوگ سونے کے چمچے منہ میں لیکر پیداہوئے ہیں وہ کیسے بارباراقتدارمیں آتے رہے ہیں۔اگرعوام یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ عوام کے مسائل حل کرسکتے ہیں تویہ اپنے آپ کودھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ بڑے بڑے جاگیردارغریبوں کے مسائل حل کرنے میں مخلص نہیں ہوسکتے جب تک غریب ومتوسط طبقہ کے لوگ اپنی صفوں میں سے قیادتیں ایوانوں میں نہیں بھیجیں گے اس وقت تک ملک پر رائج فرسودہ جاگیردارانہ نظام ختم نہیں ہوگا۔ 
جناب الطاف حسین نے ایک اسلامی جماعت کے امیرکی جانب سے حضرت امام حسینؓ اوریزیدکوایک صف میں کھڑاکرنے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایک رہنمانے امام حسینؓ اوریزید کوایک ہی صف میں کھڑاکردیا لیکن اس پر مذہبی رہنمااورعلماء کیوں نہیں بولے؟ عدالتیں کیوں خاموش رہیں؟ اس شخص پر مقدمہ کیوں نہیں بنا؟ وکلاء کیوں نہیں بولے؟علماء نے ایسے مذہبی رہنماکواپنی صفوں سے باہرکیوں نہیں نکالا؟انہوں نے اس عمل پر صدائے احتجاج بلندکرنے والے علمائے حق کوخراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ واقعہ کربلامیں اہل بیتؓ پر جو ظلم کیاگیا، انہیں جس طرح شہیدکیاگیا، آل رسول ؐ کی بیٹیوں کی بے حرمتی کی گئی، معصوم سکینہ کے منہ پر طمانچے مارے گئے اورجوکچھ کیاگیااس سے آج کوئی انکارنہیں کرسکتا، ظالم کون اورمظلوم کون ہے سب جانتے ہیں لیکن ایک نام نہاد مذہبی رہنما نے امام حسینؓ اوریزیدکوایک ہی صف میں کھڑاکردیا۔انہوں نے کہاکہ جسے حسینیت اوریزیدیت کافرق معلوم نہ ہواسے اسلام کا کیاخاک پتہ ہوگا۔انہوں نے علمائے کرام سے کہاکہ آپ میدان میں آئیے اوریسے نام نہاد مذہبی جماعتوں کابائیکاٹ کیجئے۔جناب الطاف حسین نے حکومت اورطالبان سے مذاکرات کے حوالے سے کہاکہ یہ مذاکرات ایسے ہورہے ہیں جیسے دوممالک کے درمیان مذاکرات ہورہے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی اورپاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ پاکستان کی بقاء وسلامتی کے لئے دہشت گردی کاخاتمہ کرناوقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیویم پرچاہے کتنے ہی الزامات لگائے جائیں ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں مذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی ہو اورملک میں ایسا نظام ہو جہاں تمام لوگوں کوبرابرکاپاکستانی تسلیم کیاجائے ۔ جناب الطاف حسین نے یوم تاسیس کے شانداراجتماع کے انعقاد کے سلسلے میں محنت وجانفشانی سے کام کرنے والے کارکنوں کوزبردست خراج تحسین پیش کیا۔ 



12/4/2016 2:12:07 AM