Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تشدد اور جبر ، دین اسلام کی ضد ہیں ،کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ،الطاف حسین


تشدد اور جبر ، دین اسلام کی ضد ہیں ،کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ،الطاف حسین
 Posted on: 3/9/2014 1
تشدد اور جبر ، دین اسلام کی ضد ہیں ،کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ،الطاف حسین
مذہب کے نام پر انتہاء پسندی اور دہشت گردی ، پاکستان کی بقاء وسلامتی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کیلئے ایک سنگین چیلنج ہے
اگر آج ہم نے صحیح راستہ اختیارنہ کیا ، صحیح فیصلے نہ کیے اور اپنی روش کو تبدیل نہ کیا توخدانخواستہ ہمیں مزید نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے
مجھے اپنے یااپنے خاندان کیلئے کچھ نہیں چاہیے بلکہ میں پاکستان میں سب کو خوشحال دیکھنا چاہتا ہوں
پاکستان انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے، جب عوام الناس کی اکثریت یہ بات کہنے لگے توزبانِ خلق کونقارہ خدا سمجھنا چاہیے
بدقسمتی سے ماضی میں ہم نے زبان خلق پر توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوگیا
دین اسلام اور سرکاردوعالم ؐ کی تعلیمات میں غیرمسلموں کی عبادت گاہوں تک کونقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے
پاکستان ، تمام مذاہب ، مسالک اور عقائد کے ماننے والوں کا ملک ہے
کوئی بھی مسلمان پاکستانی یہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کے آئین کی کوئی بھی شق قرآن وسنت سے متصادم ہو
نوجوان طبقہ ،اللہ کی عبادت کسی لالچ یا خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اللہ کی بے لوث محبت کی خاطرکرے
ڈونگی گراؤنڈ لاہور میں ایم کیوایم کے تحت صوفیائے کرام کانفرنس کے شرکاء سے ٹیلی فون پر خطاب
لاہور۔۔۔9، مارچ2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ تشدداور جبر ، دین اسلام کی ضد ہیں اوراللہ تعالیٰ کافرمان ہے کہ کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ،مذہب کے نام پر انتہاء پسندی اور دہشت گردی ، پاکستان کی بقاء وسلامتی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کیلئے ایک سنگین چیلنج ہے ، اگر آج ہم نے صحیح راستہ اختیارنہ کیا ، صحیح فیصلے نہ کیے اور اپنی روش کو تبدیل نہ کیا توخدانخواستہ ہمیں مزید نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے نہ پاکستان کا صدربننا ہے ، نہ وزیراعظم ۔الطاف حسین اور اس کے بہن بھائیوں نے کبھی کوئی الیکشن نہیں لڑا، مجھے اپنے یااپنے خاندان کیلئے کچھ نہیں چاہیے بلکہ میں پاکستان میں سب کو خوشحال دیکھنا چاہتا ہوں۔ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے ڈونگی گراؤنڈ لاہور میں ایم کیوایم کے تحت صوفیائے کرام کانفرنس کے شرکاء سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں تمام مکاتب فکرکے جیدعلمائے کرام ،مشائخ عظام، بزرگان دین کے مزارات کے سجادہ اور گدی نشینوں، سیاسی ومذہبی جماعتوں کے نمائندوں، دانشوروں، کالم نگاروں ، صحافیوں ، طلبا وطالبات اورزندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ مذہب کے نام پر انتہاء پسندی اور دہشت گردی ، پاکستان کی بقاء وسلامتی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے سنگین چیلنج ہے ۔ اگر آج ہم نے صحیح راستہ اختیارنہ کیا ، صحیح فیصلے نہ کیے اور اپنی روش کو تبدیل نہ کیا توخدانخواستہ ہمیں مزید نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے ۔ ہمیں معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے پہلے خود میں تبدیلی لانی ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات کئی مرتبہ کہی جاچکی ہے کہ’’ پاکستان انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے‘‘ لیکن جب عوام الناس کی اکثریت یہ بات کہنے لگے توزبانِ خلق کونقارہ خدا سمجھنا چاہیے۔ بدقسمتی سے ماضی میں ہم نے زبان خلق پر توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوگیا۔ آج پاکستان کی نازک صورتحال سے آپ کا بھائی الطاف حسین ، ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی دکھی اور پریشان ہے اورمیرادل ہروقت روتا رہتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے رندھی ہوئی آواز میں کہاکہ میں جلاوطنی میں رہتے ہوئے پاکستان کے حالات پر تڑپتا رہتا ہوں، مجھے نہ پاکستان کا صدربننا ہے ، نہ وزیراعظم ، الطاف حسین اور اس کے بہن بھائیوں نے کبھی کوئی الیکشن نہیں لڑا۔ مجھے اپنے یااپنے خاندان کیلئے کچھ نہیں چاہیے بلکہ میں پاکستان میں سب کو خوشحال دیکھنا چاہتا ہوں، سب کیلئے انصاف کاحصول چاہتا ہوں اور گڑگڑاکریہ دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کردے کہ میں اپنے لوگوں کے درمیان رہ کرملک وقوم کی خدمت کرسکوں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ امرانتہائی افسوسناک ہے کہ پاکستان میں بزرگانِ دین کے مزارات کودہشت گردی کا نشانہ بنایاجارہا ہے جبکہ دین اسلام اور سرکاردوعالم ؐ کی تعلیمات میں غیرمسلموں کی عبادت گاہوں تک کونقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے اوریہی درس دیا گیا ہے کہ ’’تمہارادین تمہارے ساتھ اورمیرادین میرے ساتھ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ، تمام مذاہب ، مسالک اور عقائد کے ماننے والوں کا ملک ہے اور کوئی بھی مسلمان پاکستانی یہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کے آئین کی کوئی بھی شق قرآن وسنت سے متصادم ہو۔انہوں نے کہاکہ جو عناصر بزرگان دین کے مزارات، مساجد ، امام بارگاہوں اورغیرمسلموں کی عبادت گاہوں کو بم دھماکے کرکے اڑارہے ہیں وہ اسلامی تعلیمات کی نفی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کے معنی امن وسلامتی کے ہیں لہٰذامذہب کا نام لیکر فوجیوں اوردیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران واہلکاروں کی گردنیں کاٹ کران کی لاشوں کی بے حرمتی کرنا، بزرگ ہستیوں کی لاشوں کوقبروں سے نکال کر چوراہوں پر لٹکانا ، مساجداورامام بارگاہوں میں نمازیوں کو خودکش حملوں اوربم دھماکوں میں شہید کرنا قطعی غیراسلامی اورغیرانسانی فعل ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ چند روز قبل سفاک دہشت گردوں نے ایک 23 سالہ نوجوان خاتون وکیل کو اسلام آباد ایف ایٹ عدالت میں گولیوں کا نشانہ بناکر شہید کردیاجو چند ماہ قبل ہی برطانیہ سے قانون کی ڈگری لیکرآئی تھی اور اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی ۔ سفاک دہشت گردوں نے ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کیااورسوات میں معصوم بچیوں کوجھوٹے الزام میں سرعام کوڑے مارے ۔ انہوں نے کانفرنس کے شرکاء اور تمام ناظرین سے اپیل کی کہ وہ اپنی آنکھیں بندکرکے ایک لمحہ کیلئے تصورکریں کہ اگر ان کے بیٹے یا بیٹی کے ساتھ یہ ظلم کیا جائے تو ان پر کیا قیامت گزرے گی ؟ جس پر کانفرنس کے شرکاء نے جواب دیا کہ ’’اس بات کا تصورکرنے سے ہی ہمارا کلیجہ کانپ گیا اور ہماری آنکھوں سے آنسو رواں ہیں‘‘انہوں نے کہاکہ 14 سوسال قبل یزیدیوں نے بی بی سکینہ کے چہرہ مبارک پرطمانچے مارے اور معصوم علی اصغر کو درندگی کا نشانہ بنایا جس پر ہم آج تک روتے رہتے ہیں اور آج بھی مذہب کے نام پر معصوم بچوں تک پر ظلم وستم ڈھایاجارہا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تشدداور جبر ، دین اسلام کی ضد ہیں اوراللہ تعالیٰ کافرمان ہے کہ کسی بھی بے گناہ کاقتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشت گردی اور قتل وغارتگری پر ملک کے حکمراں اورسیاسی رہنماؤں کی اکثریت خاموش ہیں جبکہ الطاف حسین جس پر ہزاروں جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں اپنی بساط سے بڑھ کر ملک اور قوم کے بہترمستقبل کیلئے جدوجہد کررہا ہے ۔
جناب الطاف حسین نے حکومت اورطالبان کے مابین مذاکرات کے حوالے سے کہاکہ اللہ تعالیٰ حکمرانوں کونیک ہدایت دے کہ وہ ملک کے مفادمیں بہتر فیصلے کریں۔انہوں نے اس حوالے سے قرآن مجید کی آیات اوران کاترجمہ پیش کیا۔ انہوں نے صلح کے حوالے سے قرآن کی ایک آیت ترجمہ کے ساتھ پیش کی کہ ’’ اگرمومنوں کے دوفریق آپس میں لڑپڑیں تو ان میں صلح کرادو، اگرکوئی فریق صلح کے بعد بھی زیادتی کرے تواس سے لڑویہاں تک کہ وہ اللہ کے آگے دوبارہ رجوع کرے، جب وہ رجوع کرلے تواللہ کے احکامات کے مطابق ان کے درمیان انصاف کروکیونکہ اللہ انصاف کرنے والوں کوپسندکرتاہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ اس آیت کی روشنی میں سوچ لیں کہ حکومت کوکیاکرناہے۔حکومت کافرض ہے کہ وہ ملک کے مفادمیں بہترفیصلہ کرے اورفیصلے کرتے وقت سب کوشریک کرے اورسب کواعتماد میں لے۔ انہوں نے دعاکی کہ اللہ کرے ملک سے دہشت گردی کاخاتمہ ہو، لوگوں کوامن وسکون میسرآئے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ صوفیائے کرام کانفرنس سیاست اورلوگوں سے ووٹ لینے کے لئے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت وبرکت طلب کرنے کیلئے ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج کااجتماع امن وسلامتی چاہنے والوں کااجتماع ہے۔ یہ پیارمحبت کااجتماع ہے، ایک دوسرے کے احترام کرنے کادرس دینے والوں کااجتماع ہے، یہاں نفرت کی بات نہیں ہوگی بلکہ بات ہوگی توصرف محبت کی بات ہوگی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ بزرگان دین کے کردار سے پھیلا۔انہوں نے نبی اکرم حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کی سیرت طیبہ پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ آپ ؐ سب کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے اورکسی کے لئے برانہیں چاہتے تھے۔کفار آپ ؐ پر پتھرپھینکتے، جملے کستے لیکن آپؐ کسی سے نفرت نہیں کرتے،طائف میں کفار نے بچوں کے ذریعے آپ ؐ پر اتناپتھراؤ کیاکہ آپؐ لہولہان ہوگئے۔ایسے میں حضرت جبرائیل تشریف لائے اورآپؐ سے کہاکہ اگرآپؐ کہیں توہم پہاڑوں کوآپس میں اس طرح ملادیں کہ یہ لوگ ختم ہوجائیں۔ اس پر آپ ؐ نے کفار سے بدلہ لینے کی بات نہیں کی بلکہ یہ جواب دیا ’’ نہیں ،یہ لوگ نادان ہیں ‘‘ ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمیں شرم آنی چاہیے کہ ہم نبی کریم ؐ کانام لیتے ہیں مگرکام شیطانوں والے کرتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں فوجی، ایف سی،رینجرزاور پولیس کے افسران اورجوانوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں معصوم شہری شہیدہوچکے ہیں ۔انہوں نے تمام شہداکو خراج عقیدت پیش کیااوران کے لئے دعاکی ۔ جناب الطاف حسین نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ فوج اورعوام کوایک کردے تاکہ ملک پر کڑاوقت آئے تو عوام کے ہاتھ میں فوجیوں کاہاتھ ہواورعوام کاہاتھ فوجیوں کے ہاتھ میں ہو۔ انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ طالبان کوبھی نیک ہدایت دے یاپھر عوام کواتنی ہمت دیدے کہ وہ فوج کے ساتھ ملکر ان سے دودوہاتھ کرسکیں۔ 
جناب الطاف حسین نے خاص طورپر نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ اللہ کی عبادت کسی لالچ یا خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اللہ کی بے لوث محبت کی خاطرکریں۔ انہوں نے کہاکہ بزرگان دین کا کہنا ہے کہ دنیا میں ڈھائی قلندر گزرے ہیں ۔ ایک حضرت لعل شہباز قلندرؒ ، ایک بوعلی شاہ قلندرؒ جبکہ حضرت رابعہ بصری ؒ کو نصف قلندر کہاجاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک دن بصرہ کے لوگوں نے حضرت رابعہ بصری ؒ کو بازارمیں انتہائی جلال کے عالم میں اس کیفیت میں دیکھا کہ ان کے ایک ہاتھ میں جلتی مشعل اور دوسرے ہاتھ میں پانی کابرتن تھا اور وہ چلی جارہی تھیں۔ لوگوں نے بڑے ادب سے دریافت کیا کہ یاحضرت رابعہ بصری ، آپ کہاں جارہی ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اس مشعل سے جنت کوآگ لگانے اور پانی سے دوزخ کی آگ بجھانے جارہی ہوں تاکہ لوگ اللہ کی عبادت، جنت کے حصول کی لالچ اور دوزخ کے خوف سے آزاد ہوکر کریں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہاکہ وہ بھی اپنی عبادات میں خلوص اور بے غرضی پیدا کریں ۔ جناب الطا ف حسین نے اس موقع پر معروف صوفی شعرا ئے کرام حضرت سلطان باہو ؒ اورحضرت بابابلھے شاہ ؒ کے کلام سے چنداشعاربھی سنائے۔جناب الطاف حسین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی قریبی درگاہوں اور مزارات پر جاکر اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ان کی جانب سے چادرچڑھائیں اور ان کے حق میں دعا بھی کریں ۔انہوں نے کہاکہ میں ایک انتہائی کمزور اور گناہ گار انسان ہوں اور اللہ کے رحم اور آپ کی دعاؤں کا طالب ہوں۔جناب الطاف حسین نے حکومت، عوام اورمزارات کی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ مزارات کااحترام کریں اور ان کا تقدس بحال کریں۔ انہوں نے حکومت سے مزارات کو تحفظ فراہم کرنے کی بھی اپیل کی ۔ 
جناب الطاف حسین نے صوفیائے کرام کانفرنس میں دوردراز علاقوں سے شرکت کیلئے آنے والے تمام علمائے کرام ، مشائخ عظام ، درگاہوں اور مزارات کے سجادہ وگدی نشینوں، نعت خواں اورقوال حضرات ، صوفیانہ کلام پڑھنے والے فنکاروں، سیاسی ومذہبی رہنماؤں،میڈیا کے تمام نمائندوں اور اہل قل ودانش کاتہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ آپ تمام افراد اور عوام نے جس طرح اس کانفرنس کو کامیاب کیا ہے اس پر میں آپ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ جناب الطاف حسین نے کانفرنس کے شاندارانتظامات پر ایم کیوایم پنجاب اور سندھ کے تمام ذمہ داران وکارکنوں ، رابطہ کمیٹی اوردیگر شعبہ جات کے ذمہ داروں اور کارکنوں کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ جناب الطاف حسین نے شرکاء سے کہاکہ آپ گواہ رہئے گا کہ میں نے اپنے آج کے خطاب میں صرف پیار اور محبت کی باتیں کی ہیں، میں نے کسی کے خلاف باتیں نہیں کیں اور میں یہی چاہتا ہوں کہ ہرطرف پیار پھیلے ، محبتیں بڑھیں اورپاکستان میں انصاف کا نظام قائم ہوجہاں ہرکسی کو اس کا جائز حق ملے ۔جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب کااختتام ’’اسلام پائندہ باد‘‘ ، ’’صوفی ازم زندہ باد‘‘ اور’’پاکستان پائندہ باد ‘‘ کے نعرے پر کیا۔

12/6/2016 2:14:15 AM