Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

9، مارچ کو ڈونگی گراؤنڈ لاہور میں منعقد ہونے والی عظیم الشان صوفیائے کرام کانفرنس پاکستان کے 18 کروڑ عوام کے مسائل، مسالک اور عقائد کی ترجمانی کرے گی، ڈاکٹر فاروق ستار


9، مارچ کو ڈونگی گراؤنڈ لاہور میں منعقد ہونے والی عظیم الشان صوفیائے کرام کانفرنس پاکستان کے 18 کروڑ عوام کے مسائل، مسالک اور عقائد کی ترجمانی کرے گی، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 3/7/2014 1
9، مارچ کو ڈونگی گراؤنڈ لاہور میں منعقد ہونے والی عظیم الشان صوفیائے کرام کانفرنس پاکستان کے 18 کروڑ عوام کے مسائل، مسالک اور عقائد کی ترجمانی کرے گی، ڈاکٹر فاروق ستار 
لاہور پریس کلب میں صوفیائے کرام کانفرنس کے سلسلے میں منعقدہ میٹ دی پریس سے خطاب
ڈاکٹر فاروق ستار نے میٹ دی پریس سے خطاب کے بعد صحافیوں کے سوالات کے مدلل جوابات بھی دیئے
لاہور ۔۔۔7، مارچ2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کے زیر اہتمام 9مارچ اتوار کو لاہور کے ڈونگی گراؤنڈ میں ہونے والی عظیم الشان ’’صوفیائے کرام ‘‘ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد محض ایم کیوایم یا کسی اور سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کا ایجنڈا ہے، یہ پاکستان کے 18کروڑ عوام کے مسائل ، مسالک اور عقائد کی ترجمانی کرے گی ، آج پاکستان کے آئین کی چند شقوں پر حکومت اور ریاست کھڑی ہوئی ہے باقی کا آئین عضوئے معطل بنا ہوا ہے ،پاکستان کے کئی علاقے دہشت گردوں کے زیر قبضہ ہیں اور ملک میں ریاست کے اندر ریاست قائم ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بے شک ایم کیوایم مذہبی جماعت نہیں ہے لیکن ایم کیوایم یہ اپنا فریضہ سمجھتی ہے کہ اگر مذہب کے نام پر استحصال اور مذہب میں من مانی کرکے پاکستان پر قبضے کی سازش ہورہی ہے ، یہ مذہب کا ہی استحصال نہیں ہے بلکہ اس کی آڑ میں ریاست پاکستان کو بھی فارغ کیاجار ہا ہے اور جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم نے اپنی اس بنیادی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور صوفیائے کرام کانفرنس کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کے روز صوفیائے کرام کانفرنس کے سلسلے میں لاہور پریس کلب میں منعقدہ میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین ،امین الحق ، احمد سلیم صدیقی ،واسع جلیل ، رشید گوڈیل ، وسیم اختر ، سیف یار خان ، حق پرست اراکین قومی اسمبلی ریحان ہاشمی ، عبدالوسیم ، محترمہ طاہرہ آصف ، سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے قائد حزب اختلاف فیصل سبزواری ، رکن سندھ اسمبلی سلیم بندھانی ، ایم کیوایم سی ای سی کی رکن محترمہ بسمہ آصف سکھیرا ، پنجاب کمیٹی کے جنرل سیکریٹری رانا اشرف ایڈووکیٹ، سیکریٹری اطلاعات عمر پیرزادہ ، جوائنٹ انچارج سوشل فورم عدنان انیس اور جوائنٹ انچارج نازیہ امام اور دیگر بھی موجود تھے۔میٹ دی پریس سے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری ، نائب صدر محمد شہبا زمیاں نے خیر مقدمی خطاب جبکہ اس مو قع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے صحافیوں کے سوالات کے مدلل جوابات بھی دیئے ۔میٹ دی پریس سے اپنے خطاب میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں اور اس کے مکمل حامی ہیں کہ اسلام پیار محبت اور امن کا مذہب ہے اور دہشت گردی ، فرقہ واریت کے مخالف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں کوئی ایسی تحریک نہیں ہے کہ جس میں پاکستان کے عوام کی اکثریت اپنے گھروں سے باہر ، متحرک اور اس بات کا پرچار کرتی ہوئی نظر آئے کہ اسلام تلوار سے نہیں تبلیغ اور محبت سے پھیلا ہے اگر کچھ لوگ اس مغالطے میں ہیں کہ ایسی کوئی تحریک پاکستان میں موجود نہیں ہے اور وہ جبر اور طاقت کے ذریعے اپنی مرضی کا کسی بھی برانڈ کا اسلام پاکستان میں نافذ کردیں گے توایم کیوایم کی صوفیائے کرام کانفرنس اس کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج قائداعظم ؒ کے مہذب فلاحی اورجمہوری پاکستان کو منوں ٹنوں مٹی میں دبانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایسی صورتحال میں صوفیائے کرام کانفرنس تمام پاکستانیوں کو اس بات کی دعوت دے رہی ہے کہ پاکستان کو بچایاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے قومی ایوانوں میں دہشت گردی کے مسئلے پر بحث ہورہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قومی سلامتی کو مذہب کے ٹھیکیداروں کی طرف سے مذہب کے نام پر استحصال کرنے والوں کی طرف سے خطرہ ہے اور پاکستان کی بقاء کو سنگین خطرات سے دورچار کرکے ریاست پاکستان کو فارغ کیاجارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کو صرف معیشت ، معاشرت یا بسا اوقات جمہوریت کا خطرہ ہوتا تھا لیکن آج پاکستان کی ریاست کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔انہوں نے کہاکہ قائد تحریک الطاف حسین اور ایم کیوایم دہشت گردی کے معاملے پر کم از کم نظریاتی طو رپر مصلحت پسندی ، بزدلی اور خوف کا مظاہرہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور منافقت ایم کیوایم کاہرگز شعار نہیں رہا ہے ،ہم میدان عمل میں آگئے ہیں اوردیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں سے دست بدستہ گزار ش کرتے ہیں کہ وہ بھی مصلحت پسندی کی چادر کو اتار دیں ، خوف اور بزدلی کو ایک طرف رکھیں ،یہ فیصلے کی گھڑی ہے اور وقت گزرا جارہا ہے ورنہ مورخ اور آنے والی نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی ۔ انہون نے کہا کہ پاکستان کی بقاء و سلامتی کی جنگ سیاست ، معیشت ، معاشرت کے محاذ پر لڑنی ہے ، اگر مذہب کے نام پر استحصال کیاجارہا ہے تو مذہب کے نام پر یہ جنگ لڑنا ہوگی اور صوفیائے کرام کانفرنس کا انعقاد اسی لئے کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور اکابرین دہشت گردی کے معاملے پر کنفیوژن کے لفظ کا استعمال اپنی سہولت کیلئے کررہے ہیں ، وہ مذہبی ووٹ بنک کے ہاتھوں مجبور ہیں جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ ملکی بقاء و سلامتی کے معاملے پر ایسے ووٹ بنک کی رہنمائی کی جاتی ہے ، علماء کو بلا کر غلط فہمیوں کو دورہ کیا جاتا ، اجتہاد کا راستہ اختیار کیاجاتا لیکن آج بد قسمتی یہ ہے کہ ریاست اور اسے چیلنج کرنے والوں کو آمنے سامنے بیٹھا دیا گیا ہے اور بہانہ عذر کنفیوژن کا پیش کیاجارہا ہے سب کچھ اسی کی آڑ میں ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم ؒ کو قیام پاکستان کے بعد مذہب کی بنیاد پر پاکستان کی تقسیم کا خطرہ تھا اور مسلک کی بنیاد پر تقسیم کا اس وقت سوچا تک نہیں جاسکتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی مسئلے کی جڑ اور اصل کینسر ہے ، فیصلہ کرنا ہے کہ طالبانائزیشن اور پاکستان کیا ایک ساتھ چل سکتے ہیں ۔ یہ خیال بھی اب آیا ہے کہ صوبوں کو مذاکرات میں شامل کرلیں ، اس لئے انہیں پوری قومی پالیسی میں شامل کرنا ہوگا ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے صوفیائے کرام کانفرنس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم الشان کانفرنس 9مارچ کو دوپہر 2بجے ڈونگی گراؤنڈ وحدت کالونی لاہور میں منعقد ہورہی ہے جس میں شرکت کیلئے میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کی جانب سے تمام اہل پاکستان خاص طور پر اہلیان پنجاب اور زندہ دلان لاہور کی ماؤں ،بہنوں ، بیٹیوں ، نوجوانوں،بھائیوں اور بزرگوں سے اپیل کروں گا کہ وہ صوفیائے کرام کانفرنس کی اہمیت اور ضروررت کو سمجھتے ہوئے اس میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں ۔ قبل ازیں لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور نائب صدر محمد شہباز میاں نے میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی کے ماحول میں ایم کیوایم کی صوفیائے کرام کانفرنس یونیک ہے اوریہ کانفرنس دہشت گردی کے خلاف اچھی روایت ہے، کراچی میں بھی ایم کیوایم نے بہت بڑی ریلی کا اہتمام کیا گیا اور اسے ملک میں بڑی پذیرائی ملی ،ایم کیوایم واحد جماعت ہے جو دہشت گردوں کے خلاف کھڑی ہے اور منظم طریقے سے دہشت گردی کے خلاف قومی وصوبائی اسمبلی اور سینیٹ میںآواز بلند کررہی ہے ۔ انہوں نے لاہور پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرنے پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین اور ذمہ داران کا شکریہ بھی ادا کیا۔ 
















12/7/2016 6:26:49 AM