Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حکوت لنڈی کوتل اور اسلام آباد میں دہشتگردی کے واقعات کی فوری تحقیقات کروائے۔الطاف حسین


حکوت لنڈی کوتل اور اسلام آباد میں دہشتگردی کے واقعات کی فوری تحقیقات کروائے۔الطاف حسین
 Posted on: 3/4/2014 1
حکوت لنڈی کوتل اور اسلام آباد میں دہشتگردی کے واقعات کی فوری تحقیقات کروائے۔ الطاف حسین
حکومت ان واقعات کی تحقیقات کی روشنی میں فیصلہ کرے کہ آیا مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے یا مذاکرات کی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے
پاکستانی عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ دونوں واقعات کے پیچھے طالبان کا ہی ہاتھ ہے
ٹی ٹی پی کے یکطرفہ بیانات اور دعووں پر یقین نہ کیا جائے
''احرار الہند'' نامی تنظیم کے دعوے پر یقین کرنا کسی بھی طرح دانشمندی نہیں ہے
حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو اس امر پر بھی غور کرنا ہوگا کہ کیا اسلام آباد کے قلب میں اتنی منظم کاروائی ایک ایسی غیر معروف تنظیم کرسکتی ہے کہ جس کا نام بھی چند روز پہلے تک لوگوں کے لئے اجنبی تھا
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ہم طالبان کے ہاتھوں اتنا بڑا دھوکہ کھا جائیں کہ خدانخواستہ پاکستان کا وجود ہی خطرہ میں پڑ جائے
وزیر اعظم نواز شریف کے اس موقف کی تائید کرتے ہیں کہ مذاکرات اور حملے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ الطاف حسین
لندن۔۔۔04 مارچ 2014 ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے وزیر اعظم پاکستان میا ں محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخواہ کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے سیدو خیل میں ایف سی اہلکاروں پر حملے اور اسلام آباد میں ایف ایٹ کچہری کے واقعات کی بھرپور تحقیقات کرواکر اس بات کا پتہ چلائیں کہ کیا ان واقعات میں دراصل طالبان ہی تو ملوث نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گوکہ'' احرار الہند'' نامی ایک غیر معروف گروپ نے اسلام آباد ایف ایٹ کچہری کے واقعہ کی ذمہ داری قبول تو کر لی ہے تاہم پاکستانی عوام کی اکثریت کا خیال یہ ہے کہ احرار الہند نامی یہ گروپ محض کاغذی تنظیم ہے اور ان حملوں کے پیچھے بھی دراصل طالبان کا ہاتھ ہے جو ایک کاغذی گروپ پر ان حملوں کی ذمہ داری ڈال کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ پیر کے روز پاکستان میں دہشتگردی کے دو بڑے اور انتہائی سنگین نوعیت کے واقعات ہوئے۔ پہلا واقعہ خیبر پختونخواہ کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے سیدو خیل میں ہوا جہاں دہشتگردوں نے فرنٹیئر کانسٹبلری کی گاڑیوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جس میں دو ایف سی اہلکار شہید اور سات شدید زخمی ہوئے جبکہ کئی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔دہشتگردی کا دوسرا ہولناک ،سفاکانہ اور اعصاب شکن واقعہ اسلام آباد ،سیکٹر ایف ایٹ کچہری میں ہوا جہاں چھ سے آٹھ مسلح دہشتگردوں نے عدالت میں گھس کر گرینیڈ برسائے، اندھا دھند فائرنگ کی اور بعد ازاں دو حملہ آوروں نے خود کو وھماکہ سے اڑا کر مزید تباہی مچائی۔اس حملہ میں ایک جج اور وکلاء سمیت 13افراد شہید جبکہ 26 زخمی ہوئے ۔ان شہداء میں 23 سالہ فضاء ملک ایڈوکیٹ بھی شامل تھیں جنہوں نے حال ہی میں برطانیہ سے قانون کی ڈگری حاصل کر کے دو روز قبل ہی اپنی وکالت کی پریکٹس کا آغاز کیا تھا۔
جب پاکستان کے باضمیر لوگوں نے اس واقعہ کی بھر پور طریقہ سے مذمت کی تو تحریک طالبان پاکستان نے ان دونوں واقعات سے لاتعلقی کا اعلان کردیا اور چند گھنٹوں کے بعد ''احرار الہند'' نامی ایک غیر معروف تنظیم نے اسلام آباد حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں پاکستان کے اہل قلم و دانش کے علم میں میں بعض ضروری حقائق لانا چاہتا ہوں تاکہ وہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہونے والے دہشتگردی کے ان تازہ ترین واقعات کے بارے میں کسی سچے اور ایماندارانہ تجزیہ پر پہنچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ احرار الہند نامی جس تنظیم نے اسلام آباد ایف ایٹ کچہری کے واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے اس کے نام اور وجود سے چند روز تک عوام تو کجا میڈیا حتی کہ عسکری ادارے تک واقف نہیں تھے۔ اس تنظیم نے اپنے وجود کا اعلان 9 فروری 2014 کواپنے لیٹر پیڈ پر جاریکردہ ایک پریس ریلیز کے ذریعہ کیا جس میں اس نے کہا کہ وہ اب تک طالبان کے ساتھ مل کر \'\' فدائی کارؤائیاں\'\' کررہی تھی لیکن اگر طالبان نے قبائلی علاقوں کے لئے حکومت پاکستان سے کوئی معاہدہ کرلیا تو وہ اپنے طور پر پاکستان کے شہری علاقوں میں فدائی کاروائیاں کرے گی کیونکہ اس کا تعلق پاکستان کے شہری علاقوں سے ہے۔ اس پریس ریلیز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان میں شریعت کے مکمل نفاذ تک اپنی فدائی کاروائیاں کرتی رہے گی اور اگر طالبان نے جنگ بندی کا کا معاہدہ کیا تو اس کا اطلاق احرار الہند کی کاروائیوں پر نہیں ہو گا۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ احرار الہند نے اپنے 9 فروری کے پریس ریلیز میں یہ دعوی کیا کہ وہ اب تک طالبان کے ساتھ مل کر کام کرتی رہی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر اس تنظیم کے نام اور وجودسے 9 فروری سے قبل تک کوئی بھی واقف نہیں تھا۔آخر یہ کیا وجہ ہے کہ ماہ فروری میں عین اس وقت جبکہ حکومت اور طالبان کے مذاکرات شروع ہورہے تھے انہی دنوں احرار الہند نامی گروپ نہ صرف خود سامنے آگیا بلکہ اس نے قبل از وقت ہی یہ اعلان کردیا کہ وہ جنگ بندی کے کسی فیصلہ کا پابند نہیں ہو گا۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ ان حقائق کے پیش نظر سوشل میڈیا کے ذریعہ سامنے آنے والی پاکستانی عوام کی اکثریت کی یہ رائے درست نظر آتی ہے کہ اسلام آبادمیں ہونے والی اس دہشتگردی کے پیچھے بھی دراصل TTP ہی ملوث ہے جو اس حملے کی ذمہ داری ایک ایسے گروپ پر ڈال رہی ہے جس کا درحقیقت کوئی وجود نہیں ہے اور اسے کاغذ پرمحض اس لئے تشکیل دیا گیا ہے کہ TTP مذاکرات بھی کرتی رہے، حملے بھی کرتی رہے اور ان حملوں سے لاتعلقی کا اعلان بھی کرتی رہے۔ 
انہوں نے کہا کہ احرار الہند نامی تنظیم کی جانب سے اسلام آباد واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے کے بیان پر یقین کرنا کسی بھی طرح دانش مندی کا تقاضہ نہیں ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو اس امر پربھی غور کرنا ہوگا کہ کیا اسلام آباد کے قلب میں اتنی منظم کاروائی ایک ایسی غیر معروف تنظیم کرسکتی ہے کہ جس کا نام بھی چند روز پہلے تک لوگوں کے لئے اجنبی تھا اور جس کے وجود سے پاکستان کے عوام تو کجا سیکیورٹی اور عسکری ادارے تک لا علم تھے۔
جناب الطاف حسین نے کہا میں اس سنگین صورتحال کی روشنی میں وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے پر زور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ لنڈی کوتل اور اسلام آباد میں دہشتگردی کے واقعات پر طالبان کی جانب سے لاتعلقی کے اعلان پر فوری یقین کرنے کے بجائے ان واقعات کی مکمل غیر جانبدارانہ پر تحقیقات کروائیں۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں اور اس کی بھر پور تائید کرتا ہوں کہ مذاکرات اور دہشتگردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ میں ان سے اور وفاقی وزیر داخلہ سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا حقائق کا سنجیدگی اور باریک بینی سے جائزہ لئے بغیر طالبان کے یکطرفہ بیانات پر یقین نہ کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ہم طالبان کے ہاتھوں اتنا بڑا دھوکہ کھا جائیں کہ خدانخواستہ پاکستان کا وجود ہی خطرہ میں پڑ جائے۔انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ ان واقعات کی تحقیقات کی روشنی میں فیصلہ کرے کہ آیامذاکرات کو آگے بڑھانا ہے یا مذاکرات کی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔


12/11/2016 3:54:14 AM