Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

’’حامد میر آپ عوام کو کنفیوژ نہ کریں ‘‘....تحریر ۔۔طارق جاوید


 Posted on: 3/2/2014 1
’’حامد میر ! آپ عوام کو کنفیوژ نہ کریں ‘‘....تحریر ۔۔طارق جاوید 
’’ پاکستان بچانا ہے یا جمہوریت ‘‘ کے عنوان سے روز نامہ جنگ مورخہ 27فروری کی اشاعت میں حامد میر کا کالم میری نظر وں سے گزرا جس میں موصوف نے ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کے ایک نجی ٹی وی کے انٹر ویو کو تو ڑ مروڑ کر اور سیا ق و سباق کے بغیر پیش کر کے اپنے دل کی بھڑا س نکالی ہے ۔اپنے اس کالم کے ذریعے حامد میر صاحب نے ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کی کاوشوں، جن کے ذریعے پاکستان کی عوام کو فوج کے شانہ بشانہ متحد ہو کر طالبان دہشت گردوں کے خلاف نبر ز آرماہونے کی تیاریاں کر رہے ہیں، ان پر پانی پھیر نے کی کوشش کی ہے ۔ اس طرح کی کوششیں کرنے والے طالبان کے حامی تو کہلائے جاسکتے ہیں مگر محب وطن نہیں ہوسکتے ۔
حامد میر صاحب سے گزارش ہے کہ تعصب کی عینک اتار کر الطاف بھائی کے بیان کو غور سے پڑھیں تو آپ کو نظر آجائے گا کہ الطاف بھائی نے فوج کو ٹیک اوور کرنے کی دعوت نہیں دی ہے بلکہ انہوں نے حکومتِ وقت کو دعو تِ فکر دی ہے او ر کہا ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیچ پر آجائیں اور’’ اگر‘‘ ایسا نہیں ہوتا تو ریاست کو بچانے کیلئے فوج کو آگے آنا چاہئے تاکہ طالبان کی عفریت سے ملک کو بچایا جاسکے ۔اگر خدا نخواستہ ملک ہی نہ ہو ا تو جمہوریت آپ کہاں نافذ کریں گے؟ اگر حکومت اور فوج ایک پیچ پر آجائیں تو دوسرا optionخود بخود ختم ہوجاتا ہے ۔حامد میر صاحب ! آپ کو پو ر ا حق ہے کہ آپ کسی کی رائے سے اختلاف رکھیں اور اس کا پر چار بھی کریں لیکن چونکہ آپ کالم نویس بھی ہیں اور لوگ آپ کے کالم پڑھتے ہیں لہٰذا اس بات کو مد نظر رکھنا چاہئے کے آپ اختلاف رائے کرنے کیلئے جو دلا ئل دیں اس سے لوگ کنفیوژ نہ ہوں ۔ آپ نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن اور طالبان کے خلاف فوجی آپر یشن کو متوازی کر دیا اور کہا کہ ’’ افسوس کہ آج ایم کیوایم وہ کر دار ادا کرنے کی کوشش میں ہے جو 1971ء میں جماعت اسلامی نے ادا کیا تھا ‘‘ مشرقی پاکستان کے بنگالی، پاکستان بنانے والوں کے صف میں شامل تھے انکے خلاف فوجی آپر یشن نہ صرف غلط تھا بلکہ ناجائز تھا جبکہ طالبان سرے سے آئین اور جمہوری نظام کو مانتے ہی نہیں ہیں وہ ڈنڈا بردار شر یعت لانا چاہتے ہیں جس میں انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔جبکہ مشرقی پاکستان کے لو گ نہ صرف پاکستان کے حامی تھے بلکہ جمہوی نظام کا حصہ بھی بنے ہوئے تھے جس کی بنیاد پر 1970ء کے الیکشن میں انکی عوامی لیگ اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی جو پورے پاکستان پر حکومت کرنے کی حق دار تھی لیکن ایک جمہوری جماعت نے انہیں انکا حق نہیں دیا ۔1971ء میں جماعت اسلامی نے فوج کا ساتھ دیکر انکے حق پر ڈاکہ ڈالا ۔میر صاحب ! جناب الطاف حسین تو اس موجودہ باقی ماندہ پاکستان کو بچانے کی بات کر رہے ہیں ۔آپ انکی آواز کو دبانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔اگر آج حکومت، طالبان اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کارروائی کا اعلان کر دے اور فوج کو حکم دے کہ ان دہشت گردوں کا صفایا کر دیا جائے چاہے وہ وزیر ستان میں ہو ں یا پاکستان کے کسی شہر میں ہوں تو آپ دیکھئے گا کہ عوام کس طرح اس حکومت اور فوج کے حق میں جو ق در جوق نکلیں گے بس ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت گوں مگوں کی کیفیت سے باہر آجائے ۔ 


12/5/2016 11:47:49 PM