Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حکومت، فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا خاتمہ کرے اور پاکستان کو بچائے ، الطاف حسین


حکومت، فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا خاتمہ کرے اور پاکستان کو بچائے ، الطاف حسین
 Posted on: 2/28/2014
حکومت، فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا خاتمہ کرے اور پاکستان کو بچائے ، الطاف حسین
اس سے قبل کہ طالبان ریاست پر قبضہ کرلیں ، حکومت ، ان دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے واضح حکمت عملی بنائے
اگر یہ دہشت گرد پورے ملک پر قابض ہوگئے تو کیا تب بھی ہم یہی ڈھول پیٹیں گے کہ جمہوریت بچاؤ؟
ایسے ایسے لوگ ڈیموکریسی کے علمبردار بن گئے ہیں جنہیں ڈیموکریسی کی ’’ڈی ‘‘ بھی معلوم نہیں 
میڈیا پرآکر بڑی بڑی باتیں کرنا آسان ہے لیکن اگر خدانخواستہ طالبان ان میں سے کسی کے اہل خانہ کو
بربریت کا نشانہ بنائیں تو تب انکو حالات کی سنگینی کااندازہ ہوگا
پاکستان ہوگاتو سب کچھ ہوگا، اگر خدانخواستہ پاکستان ہی نہ رہا تو نہ کوئی حکومت ہوگی اورنہ ہی ٹی وی پرگرامز۔
مارشل لاء کا نہ صرف مخالف ہوں بلکہ میں نے مارشل لاء عدالت سے 9،ماہ قید بامشقت اور 5 کوڑوں کی سزا بھگتی ہے
ہم بھاگنے والے نہیں ،جب تک ایم کیوایم موجود ہے ہم پاکستان کو طالبان کے حوالہ کرنے نہیں دیں گے
لیبرڈویژن سمیت ایم کیوایم کے دیگر کارکنوں اورہمدردوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی
شہداء کی قربانیوں سے ملک بھرمیں حق پرستی کا انقلاب آکر رہے گا
پنجاب کے طلبا وطالبات ،محنت کشوں، مزدوروں، قلمکاروں، صحافیوں ، دانشوروں ، فنکاروں ، تاجروں ،علمائے کرام اورمشائخ عظام9، مارچ کو لاہور کی صوفی کانفرنس میں بھرپورشرکت کریں
لال قلعہ گراؤنڈ کراچی میں لیبرڈویژن کے 27 ویں سالانہ کنونشن سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن۔۔۔28،فروری2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ اس سے قبل کہ طالبان دہشت گرد ،پوری ریاست ، دفاعی اداروں، دفاعی تنصیبات اور دفاعی ہتھیاروں پر قبضہ کرلیں ، حکومت ، ان دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے واضح حکمت عملی بنائے اور ملک کوطالبان دہشت گردوں سے نجات دلائے ۔ اگر حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف ایکشن کی پالیسی بنالی ہے تو حکومت، فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا خاتمہ کرے اور پاکستان کو بچائے ۔انہوں نے کہاکہ میں مارشل لاء کا نہ صرف مخالف ہوں بلکہ میں نے خودمارشل لاء عدالت سے 9،ماہ قید بامشقت اور 5 کوڑوں کی سزا بھگتی ہے۔ 
یہ بات انہوں نے لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں ایم کیوایم لیبرڈویژن کے 27 ویں سالانہ کنونشن سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان، لیبرڈویژن کی مرکزی کمیٹی کے اراکین، مختلف محنت کش تنظیموں کے ذمہ داران ، سرکاری ، نیم سرکاری اور نجی اداروں سے تعلق رکھنے والے ایم کیوایم کے ذمہ داروں ، کارکنوں اورہمدردوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی جس میں خواتین بھی بڑی تعدادمیں شامل تھیں ۔ اس موقع پر پنڈال کے شرکاء کا جوش وخروش قابل دید تھا ، پنڈال کے شرکاء نے ایم کیوایم اور جناب الطاف حسین کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے جس کا سلسلہ کافی دیرتک جاری رہا۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم لیبرڈویژن کے ذمہ داروں ، کارکنوں ، ہمدردوں اور مزدوریونین کے رہنماؤں کو لیبرڈویژن کے 27 ویں سالانہ کنونشن کی دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ کئی برسوں سے نماز جمعہ کی ادائیگی 
کے بعد ایم کیوایم کے ذمہ داران ، منتخب نمائندوں ،سینئرترین کارکنان اور ہمدردوں کو تاک تاک کر شہید کیا جاتارہا ہے ۔خاص طور پر جب بھی ایم کیوایم لیبرڈویژن کے ذمہ داران ایک نئے عزم اور حوصلے سے تحریک کا پیغام ملک کے گوشے گوشے میں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تو ایم کیوایم دشمنوں کی سازشیں تیز ہوجاتی ہیں۔1992ء میں لیبرڈویژن کے انچارج اورتحریک کے محنتی ، ایماندار اور مخلص ساتھی شہزادمرزا کو روزے کی حالت میں اس وقت شہید کردیا گیا جب وہ لیاقت آباد کی مسجد شہداء سے جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد باہر نکل رہے تھے ، اس وقت شہزاد مرزادیگر ساتھیوں کے ساتھ تحریک کاپیغام پھیلانے میں فعال کرداراداکررہے تھے ۔ اس سے قبل اسٹیل ملز میں سرکاری اہلکاروں نے فائرنگ کرکے ایم کیوایم لیبرڈویژن کے انچارج خالدمرتضیٰ کوفائرنگ کرکے شدیدزخمی کردیا ۔ فائرنگ کے باعث خالدمرتضیٰ زندگی بھرکے لئے معذورہوگئے لیکن ان کے حوصلے اورہمت آج بھی جواں ہے ۔ اسی طرح چند برس قبل ایم کیوایم لیبرڈویژن کے انچارج انورسلیم جوکہ بڑی محنت سے لیبرڈویژن کومنظم کرنے میں مصروف تھے انہیں بھی دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے عمر بھرکیلئے معذورکردیا لیکن وہ ہمت وحوصلے کے ساتھ آج بھی تحریک سے وابستہ ہیں۔ ایم کیوایم دشمن قوتیں آج بھی متحرک ہیں اور آج بھی ایم کیوایم لیبرڈویژن کے سالانہ کنونشن کو ناکام بنانے کیلئے مسلح دہشت گردوں نے ایم کیوایم ناظم آباد گلبہارسیکٹر ،یونٹ 183 کے دوسینئر کارکنان حامد خان ولد محمد ایوب اور محمد خالد ولد محمد متین کو جدید ترین ہتھیاروں سے فائرنگ کرکے اس وقت شہید کردیا جب وہ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکل رہے تھے ۔ جناب الطاف حسین نے قربانیاں دینے والے ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ لیبرڈویژن سمیت ایم کیوایم کے دیگر کارکنوں اورہمدردوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ،تحریک کے تمام شہداء کی قربانیوں سے ملک بھرمیں حق پرستی کا انقلاب آکر رہے گا، ملک سے اسٹیٹس کو، چند خاندانوں کی حکمرانی ،اقتدارکی میوزیکل چیئرز کے کھیل، ملک سے موروثی ،خاندانی اور لوٹ مارکی سیاست کا خاتمہ ہوکررہے گا۔ حق پرست شہداء کی قربانیوں سے ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت کا نفاذ اور ملک پر غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی ضرورقائم ہوگی۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ حق پرستی کے پیغام اور فکروفلسفہ کو ملک بھر کے مظلوم عوام تک پہنچانے کیلئے ایم کیوایم کے دیگر شعبہ جات کی طرح27 سال قبل لیبرڈویژن قائم کی گئی تھی اورآج لیبرڈویژن ملک بھرکے محنت کشوں کے حقوق کی عملی جدوجہد میں مصروف ہے جس پر لیبرڈویژن کے تمام ذمہ داران اورکارکنان زبردست خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حقوق کی تحریکوں میں نشیب وفراز آتے رہتے ہیں ، ایم کیوایم بھی آگ اورخون کے دریاعبور کرکے اس مقام پر پہنچی ہے اورآج بھی ہمارا عزم ہے کہ ہم پاکستان کی سلامتی وبقاء ، ترقی وخوشحالی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے جدوجہدکرتے رہیں گے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ طالبان دہشت گرد،لوگوں کو ذبح کرکے انکے سروں سے فٹ بال کھیل رہے ہیں، لاشوں کی بے حرمتی کررہے ہیں، مساجد، امام بارگاہوں میں نمازیوں، اسکولوں میں بچوں بچیوں، بازاروں میں عام شہریوں کو دہشت گردی اوربم دھماکوں کا نشانہ بنارہے ہیں، قومی ودفاعی تنصیبات پر حملے کررہے ہیں اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔ طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں پانچ ہزار سے زائد مسلح افواج ، رینجرز، ایف سی ، لیویز ، پولیس کے افسران واہلکاروں اور60 ہزار سے زائد شہری شہید کیے جاچکے ہیں۔میں نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں مشروط بات کی تھی کہ اگرموجودہ حکومت، ان طالبان دہشت گردوں سے نجات کیلئے جو کراچی سمیت بیشترعلاقوں پرقبضہ کرچکے ہیں،کے خلاف کوئی واضح پالیسی نہیں دیتی تو پھرمیں پاک فوج سے یہ کہنے پر مجبورہوں گا کہ 
وہ ریاست کو ٹیک اوورکرکے پاکستان کو طالبان دہشت گردوں سے نجات دلائے ۔انہوں نے سوال کیاکہ اگر یہ دہشت گرد پورے ملک پر قابض ہوگئے تو کیا تب بھی ہم یہی ڈھول پیٹیں گے کہ جمہوریت بچاؤ اورریاست کے دفاعی ادارے ، دفاعی تنصیبات اور دفاعی ہتھیار طالبان کے حوالہ کردیں؟جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میڈیا پرآکر بڑی بڑی باتیں کرنا آسان ہے لیکن اگر خدانخواستہ کسی کے گھرمیں سربریدہ لاش آئے، جب طالبان ان میں سے کسی کے اہل خانہ کوبربریت کا نشانہ بنائیں تو تب انکو حالات کی سنگینی کااندازہ ہوگا۔ اب اگر حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف ایکشن کی پالیسی بنالی ہے تو حکومت، فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا خاتمہ کرے اور پاکستان کو بچائے ۔ پاکستان ہوگاتو سب ہوگا۔ اگر خدانخواستہ پاکستان ہی نہ رہا تو نہ تو حکومت ہوگی اورنہ ہی ٹی وی پرگرامز۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جمہوریت کی عالمی تعریف یہ ہے کہ ’’ عوام کی حکومت، عوام میں سے اور عوام کیلئے ہے ‘‘ لیکن ہمارے ہاں معاملہ الٹا ہے ۔ ہمارے یہاں جاگیرداروں وڈیروں چندخاندانوں کی حکمرانی ہے اورپاکستان میں جمہوریت کامطلب یہ ہے کہ ’’جاگیرداروں کی حکومت، جاگیرداروں میں سے اور جاگیرداروں کیلئے ‘‘ آج ایسے ایسے لوگ ڈیموکریسی کے علمبردار بن گئے ہیں جنہیں ڈیموکریسی کی ’’ڈی ‘‘ بھی معلوم نہیں ۔ یہ لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں مارشل لاء کا نہ صرف مخالف ہوں بلکہ میں نے خودمارشل لاء عدالت سے 9،ماہ قید بامشقت اور 5 کوڑوں کی سزا بھگتی ہے ۔ جب مجھے سمری فوجی عدالت سے سزا سنائی گئی تو حکام رات 2، 2 بجے جیل کے سیل میں آکر مجھے پیشکشیں کرتے تھے کہ میں معافی نامہ لکھ کر دے دوں۔ صرف یہ لکھ دوں کہ مجھ سے خطا ہوگئی اور میںآئندہ احتیاط سے کام لوں گا۔ لیکن میں نے صاف انکار کردیا اور اپنی پوری سزا بھگتی ۔ آج جولوگ بڑی بڑی بیش قیمت گاڑیوں میں آکرآئیرکنڈیشنڈاسٹوڈیوز میں بیٹھ کر جمہوریت کے بارے میں درس دے رہے ہیں ۔ سزا بھگتنا تو درکنا اگر انہیں کسی سمری فوجی عدالت میں پیش کیاجائے تو وہاں کا ماحول دیکھتے ہی ان کاپیشاب خطا ہوجائے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ9، ماہ قید بامشقت بھگتنے کے بعد بھی مجھے دو مرتبہ سینکڑوں ساتھیوں سمیت گرفتارکیا گیا اور پھر رہائی کی پیشکشیں کی گئیں لیکن میں نے صاف صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ جب تک میرا ایک ایک ساتھی رہا نہیں کیا جاتا تب تک میں جیل سے باہر قدم نہیں رکھوں گا۔ الحمد اللہ میں اپنے مؤقف پر قائم رہا اور حکومت نے نہ صرف میرے خلاف مقدمات واپس لیے بلکہ مجھ سے پہلے میرے ایک ایک کارکن کو بھی مقدمات واپس لیکر باعزت طورپر رہا کیا۔ میں آخرفرد تھا جس نے جیل سے باہر قدم رکھا۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں مختلف نظام آتے ہیں اورجاتے ہیں ۔ وقت اورحالات کے تحت ان نظاموں میں تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں۔ یہ سب تاریخ ، عمرانیات اور سیاسیات کی باتیں ہیں تو کیا اب میں ان لوگوں کو عمرانیات،سیاسیات اور تاریخ بھی پڑھاؤں؟ ہم دیوانے لوگ ہیں ، ڈٹ کرحق وسچ کی بات کرتے ہیں۔ جن میں سچ بات سننے کا حوصلہ نہیں ہے وہ ہمارے منہ نہ لگیں تو بہترہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم میدان چھوڑ کرنہیں بھاگیں گے اور جب تک ایم کیوایم موجود ہے ہم پاکستان کو طالبان کے حوالہ کرنے نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ آج پاکستان کن حالات سے گزر رہا ہے ، پاکستان آج دنیامیںآئیسولیشن کا شکار ہے، ایسے میں ہمیں اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے۔انہوں نے کراچی کے علاقے ناگن چورنگی میں میاں بیوی پررینجرز کے اہلکاروں کی فائرنگ کے واقعہ پر شدیدافسوس کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہم نے مطالبہ کیا تھا اس واقعہ میں ملوث رینجرز اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں،اس واقعہ میں ملوث رینجرز کے 
ان اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور واقعہ کی تحقیقات شروع ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فوج اوررینجرز کے لوگوں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں لیکن اس کی بنیاد پر ہمیں پوری فوج یارینجرز کو برا نہیں کہنا چاہیے ۔فوج اوررینجرز ملک کودہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے جوکوششیں کررہی ہیں اورقربانیاں دے رہی ہیں ہمیں ان قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
جناب الطاف حسین نے 9،مارچ کو پنجاب کے دارالحکومت لاہورمیں ہونے والے صوفی کانفرنس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں پنجاب کے طلبا وطالبات ،محنت کشوں، مزدوروں، قلمکاروں، صحافیوں ، دانشوروں ، فنکاروں ، تاجروں ،علمائے کرام اورمشائخ عظام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پنجاب کے دل لاہور میں ہونے والے اس تاریخی اجتماع میں بھرپورشرکت کریں ۔ انشاء اللہ میں اس اجتماع میں تاریخ کے حوالہ سے اہم باتیں کروں گا جبکہ علمائے کرام اور مشائخ عظام بھی دین اسلام کے فروغ میں بزرگان دین اور صوفیائے کرام کے کردار کے حوالہ سے اہم باتیں کریں گے ۔جناب الطاف حسین نے صوفی کانفرنس کیلئے فنڈ میں خطیررقم دینے پر ایم کیوایم لیبرڈویژن کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے پنجاب کے تاجروں، صنعتکاروں اوردیگرمخیرحضرات سے بھی اپیل کی کہ وہ اس صوفی کانفرنس کوکامیاب بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ عطیات جمع کرائیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج لیبرڈویژن کایہ کنونشن صرف اردوبولنے والوں کا اجتماع نہیں بلکہ اس میں ہرقومیت اور مذہب کے لوگ شریک ہیں، اس میں ملک کے چاروں صوبوں اور ایک ایک علاقے میں آباد اکائیوں سے تعلق رکھنے والے افرادشامل ہیں۔ یہ لیبرڈویژن کا کنونشن نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا ایسا گلدستہ ہے جس میں ہرقومیت کے پھول ہیں۔ یہ یکجہتی کا جلسہ ہے اور جس کو صحیح پاکستان دیکھنا ہے وہ آکر اس اجتماع کو دیکھ لے ۔ جناب الطاف حسین نے اجتماع کے تمام انتظامات کرنے والے لیبرڈویژن کے تمام کارکنوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ میں ایک ایک کارکن کو تصور میں گلے لگاکر شاباش پیش کرتا ہوں۔
*****

12/8/2016 12:07:51 PM