Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

متحد نہیں ’’متحد ہ‘‘ہونا پڑے گا - تحریر:۔ خواجہ جمشید امام


متحد نہیں ’’متحد ہ‘‘ہونا پڑے گا - تحریر:۔ خواجہ جمشید امام
 Posted on: 2/28/2014
تحریر:۔ خواجہ جمشید امام
وہ مذہب اورمسلک سے بالاتر ہو کر انسانوں سے محبت کرتا ہے لیکن وہ محبت کے اُس عالمگیر فلسفے کامخالف ہے کہ دنیا کے تمام انسانوں سے محبت کی جائے اور میں اسے درست اور جائز بھی سمجھتا ہوں ۔آپ قاتل اور مقتول سے بیک وقت محبت نہیں کرسکتے ٗ حقیقت میں مظلوموں سے محبت اور قاتلوں سے شدید نفرت ہی عالمگیر محبت کا حقیقی فلسفہ ہے ۔وہ پاکستان کا پہلا سٹوڈنٹ لیڈر ہے جس نے کسی سیاسی جماعت کا طفیلی بن کر نہ تو سیاست کا آغاز کیا اورنہ ہی کسی سیاسی جماعت سے الگ ہو کر اپنا گروپ بنایا ٗ وہ پہلے دن سے اپنے جماعت کا سربراہ ہے اور متفقہ علیہ سربراہ ہے ٗ آپ اورمیں اُس سے لاکھوں اختلاف کرسکتے ہیں لیکن لاکھوں انسان نہ صرف اُس سے محبت کرتے ہیں بلکہ و ہ اُس کے ایک اشارے پر سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں ۔میں نے وہ ’’پرامن‘‘ کراچی بھی دیکھی ہے جب لاہور سے ایک موٹا تازہ بیماری کا مارا ’’پہلوان‘‘ جسے لاہورمیں کوئی اپنی دکان کے آگے چھابڑی نہیں لگانے دیتا تھا لیکن کراچی جا کر وہ سینما گھروں کی ٹکٹیں بلیک کرنے کے علاوہ آسانی سے جواء بھی کروا لیتا تھا اور اُس کی چرس کی خرید و فروخت کے رستے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی تھی ۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر پہلوان مقامی لوگوں کی ٹھکائی بھی کردیتا تھا اور لاہور آ کر مزے لے لے کر کراچی کے ’’بھیاؤں‘‘کی بزدلی کے واقعات سناتا تھا ۔کراچی کے اورد بولنے والوں کو بزدل اورکمزور سمجھا جاتا تھا لیکن یہ بات بھی ہمیں تاریخ نے بتائی ہے کہ ہر کمزور ہمیشہ کمزور نہیں رہتا اور ہر طاقتور کو آخر کار انہیں کمزورو ں کے سامنے جھکنا پڑتا ہے جن پر وہ حکومت کرتا رہا ہوتا ہے ۔
بکھرے ہوے مہاجروں نے الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم کے پرچم تلے پناہ لی ٗالطاف حسین نے افواجِ پاکستان میں نیشنل سروس کیڈٹ سکیم سے لے کر بلوچ رجمنٹ آف پاکستان تک میں خدمات سرانجام دیں لیکن اُس کا امتیاز یہ ہے کہ اُس نے اپنی سیاسی جماعت کی بنیاد حقیقت پسندی اورعملیت کے کامیاب ترین فلسفے پر رکھی۔اُس نے جو کہا کر دکھایا ٗ اُس نے نائن زیرو کے ٹیلیفون آپریٹرکو کراچی جیسے بڑے شہر کا میئر بنایا ٗ اُس نے عام آدمی کو ایم۔پی ۔اے ٗ ایم ۔این۔اے اور سینیٹر بنایا ۔ایم ۔کیو ۔ایم تنظیمی حوالے سے اتنی مضبوط جماعت بن کر سامنے آئی کہ جماعت اسلامی جیسی مضبوط تنظیم رکھنے والی جماعت بھی اُس کے سامنے نہ ٹھہر سکی اور دیکھتے ہی دیکھتے کراچی سے جماعت اسلامی کی بساط لپیٹ دی گئی ۔آصف علی زرداری اس حوالے سے ایک بدقسمت انسان تھا کہ اُس کی طفیل بننے والے ’’لیڈر‘‘اس کا دفاع کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے تھے حالانکہ آصف علی زرداری کے دور حکومت میں بھی بہت سے ایسے کام ہوئے جو قابلِ تحسین ہیں لیکن الطاف حسین اس حوالے سے انتہائی خوش قسمت ہیں کہ اُس کی جماعت کے ’’چھوٹے لیڈر‘‘اُس کا دفاع دل و جا ن سے کرتے ہیں ۔ پنجاب کے حکمرانوں اورنوحکمرانوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ یہ دوسرے صوبوں کی قیادتوں کی کردار کشی کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے جس کا نتیجہ سے نکلتا ہے کہ بھٹو کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں اور سب کچھ تاراج کرتے ہوئے نکل جاتے ہیں ۔
و ہ پاکستا ن کا پہلا لیڈر ہے جو کراچی میں ہونے والی طالبانئزیشن کے حوالے سے چیختا چلاتا رہا لیکن افسوس کے پنجاب کے حکمرانوں کی الطاف حسین بارے کی گئی کردار کشی کی وجہ سے پنجاب کے عام شہری نے طالبان کے نا سور کو سنجیدہ نہیں لیا ۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جنرل ضٗیاء الحق کے دور حکومت میں وہ تین بار گرفتار ہوا جس میں ایک بار تو وہ اپنی سزا مکمل کرکے گھرلوٹا تھا ۔اُس پر 1991 ء میں دہشتگردوں نے حملہ کیا لیکن ایک دہشتگرد کے ہاتھ میں گرنیڈ پھٹ گیا جب کے دوسرا پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو گیا ٗ اُس نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور برطانیہ کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیا ٗاس جدوجہدمیں اُس کا 66 سالہ بڑا بھائی ناصرحسین اور 28 سالہ بھتیجا بھی شہید ہوگیا ۔
وہ مفتیِ اعظم آگرہ جناب مفتی محمد رمضان کا پوتا اور آگرہ کے نامور مذہبی سکالرحاجی حافظ رحیم کا نواسہ ہے ۔یعنی اُس کی پرورش ایک مذہبی گھرانے میں ہوئی اور وہ دینِ اسلامی بارے انتہائی باخبر ہے ۔میں نے باخبر اس لیے لکھا ہے کہ اُس نے کبھی یذیر کو صحابی رسولؐ کہنے کی حماقت نہیں کی اور نہ ہی واقعہ کربلاکودو صحابیوں کی جنگ قرار دیا ہے ۔ہم ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے ہیں جہاں غدار اور کافر بنانے کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں ٗ ہر عہد کا اپنا اپنا غدار اورکافر ہوتا ہے ٗ ابتدائی غدار تو یقیناًبنگالی تھے جن پر ہم نے ماں بولی کا مطالبہ کرنے پر گولیاں چلا دیں ٗ جگتو فرنٹ بنانے والے قائد اعظم کے قریبی ساتھی حسین شہید سہرودی ٗ قرار دار پاکستان پیش کرنے والے اے ۔کے فضل حق اور مشرقی پاکستان مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن کے صدر شیخ مجیب الرحمن بھی’’ غدار ‘‘ ہی ٹھہرے تھے ٗ کبھی عظیم باچا خان اور اُس کی آل اولاد’’ غدار‘‘ تھی لیکن آج وہ محب وطن ہیں ٗ کبھی مولانا مودودی غدارتھے لیکن بعد میں سارا پاکستان انہیں کے سپرد کردیا گیا ۔ چلیں چھوڑیں اس ملک میں تو محترمہ بے نظیر بھٹو شہیدہ بھی سیکورٹی رسک رہی ہیں سو غداروں کی اس فہرست میں اگر الطاف حسین کا نام بھی آ گیا توکیا عجب تھا ۔
الطاف حسین کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ انتہائی پڑھی لکھی بات جو تاریخی سچ ہوتا ہے اُن لوگوں کے سامنے رکھ دیتا ہے جن کا پاکستان پر قبضہ تو ہے لیکن پاکستان اور اس کی بنیادوں میں چپھی تلخ حقیقتوں سے وہ مکمل نا آشنا ہیں ۔اسی لیے اُس کی درست تاریخ دانی کو بھی ان پڑھ اور جاہل ’’غداری ‘‘ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ الطاف حسین نے میاں محمد صاحب کا کلام نہیں پڑھا جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ 
خاصاں دی گل عاماں اگے نہیں مناسب کرنی 
مٹھی کھیر پکا محمدد ا کتیاں آگے دھرنی 
طالبانی عفریت کے حوالے سے کراچی میں افواجِ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کیلئے منعقد ہونے والا عظیم الشان جلسہ عام نے الطاف حسین کے حقیقت اورعملیت پسند ہونے کے دعوی کو سچ ثابت کردیا ہے ۔یہی وہ خب الوطنی ہے جس کی ضرورت آج پاکستان کو ہے ٗ یہی فوج ہے جس نے ایم کیو ایم کے خلاف انتہائی گھناونا آپریشن کیا لیکن آج جب سرحدوں کے محافظوں نے قوم کو پکارا ٗ تو سب سے پہلی اٹھنے والی آواز الطاف حسین کی تھی ۔مجھے پنجاب کے حکمرانوں پر یہ افسوس ہمیشہ رہے گا کہ اگر و ہ پاکستانی پرچم بنانے کے بجائے اسے بچانے کیلئے لوگوں کو اکھٹا کرتے تو کیا ہے اچھا ہوتا! لیکن افسوس کہ ایسے خیالات ضرب تقسیم کرنے والے دماغوں میں نہیں آتے ۔الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے تمام ورکز جنہوں نے اس پروگرام کو ترتیب دینے میں شب و روز ایک کیا یقیناًخراج تحسین کے مستحق ہیں ۔نپولین نے کہاتھا کہ میرے مخالف جتنا وقت ضائع کرتے ہیں مجھے اپنی کامیابی کیلئے اتنا ہی وقت درکار ہوتا ہے ۔فوج اور میاں محمد نواز شریف کے درمیان جو تھوڑا سا فاصلہ نظر آ رہا تھا الطاف حسین نے اُس کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اورجو کام آخرکارمیاں برادران اور تحریک انصا ف نے کرنا ہے اُس نے سب سے پہلے کرکے ٗ سب پر سبقت لے گیااور پاکستانیوں اور بالخصوص پنجاب کے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں ۔میں نے اس جلسہ کے بعد پنجاب کے مختلف شہروں میں فون کرکے ردعمل لیا تو وہ انتہائی خوشگوار اورحیران کن تھا ۔پاکستان کے بیٹے اپنے اندرونی دشمنوں کو نابو د کرنے کیلئے تیار ہو چکے ہیں ٗ اب انہیں صرف قوم کا ساتھ چاہیے اور سیاسی جماعتوں میں تقسیم شدہ یہ قوم اپنے ’’لیڈروں‘‘ کے حکم کا انتظار کر رہی ہے جبکہ وہ ’’لیڈرز‘‘تذبذب اور گو مگو کا شکار ہیں ۔عمران خان واپس آتا دکھائی دے رہا ہے اُس کے موقف میں تبدیلی آنا شروع ہو چکی ہے کیونکہ جس وقت آئی ۔ایس ۔ایف لاہور میں ’’امن مارچ ‘‘کر رہی تھی دوسری طرف جاوید ہاشمی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کی وعید سنا رہا تھا ۔آئی ۔ایس۔ایف کے اس ’’امن مارچ ‘‘کی قیادت کرنے والوں میں پنجاب کے اپوزیشن لیڈر میا ں محمود الرشید ٗ تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری اور جنرل سیکرٹری پنجاب کے علاوہ عندلیب عباس اور کافی ٹکٹ ہولڈز بھی دکھائی دیئے لیکن تعداد انتہائی مایوس کن تھی ۔میں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز طلباء سیاست سے کیااور اس کے اسرار و رموز سے واقف بھی ہوں لیکن یہ آئی ۔ایس ۔ایف کے سفید ہاتھی کو میں آج بھی سمجھنے سے قاصر ہوں ۔لاہور کے کسی کالج یایونیورسٹی میں اس تنظیم کا نام و نشان تک نہیں۔میں نے حال ہی میں ایم ۔اے ابلاغیات ایم ۔اے ۔او کالج لاہور سے پاس کیا ہے ٗ وہی کالج جو کبھی میری راجہ دہانی ہوا کرتی تھی لیکن دو سالوں میں مجھے پی ۔ایس ۔ایف ٗاے ۔ٹی ۔آئی ٗ ایم ۔ایس ۔ایف اور اسلامی جمعیت طلباء تک نظر آئی لیکن آئی ۔ایس ۔ایف کا نام و نشان تک نہیں ملاجبکہ وہاں موجود طلبا ء عمران خان سے محبت بھی رکھتے تھے اور آئی ۔ایس ۔ایف کا حصہ بھی بننا چاہتے تھے ۔لاہو ر کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کالم رائٹنگ اور لینگوئج کی کلاسیں بھی لینے جاتا ہوں لیکن ڈھونڈے سے بھی کبھی آئی ۔ایس ۔ایف نظر نہیں آئی ۔بہرحال الطاف حسین کے بہت بڑے اجتماع نے اُس دن ساری کوریج نگل لی ۔اُس نے ثابت کردیا کہ محبت کی عظیم نشانی تاج محل سے شروع ہونے والا سفر پاکستان میں موجود نفرت اور منافرت کی تمام گندگی عنقریب کراچی کے سمندر میں دفن کردے گا ۔دیکھنا یہ ہے کہ ابھی ایم ۔کیو ۔ایم کے نقشِ قدم پرچلتا ہوا کون کون افواجِ پاکستان سے وفادار ی کا ثبوت دیتا ہے ۔الطاف حسین جیسا بول رہا ہے پاکستان میں کروڑوں لوگ ویسا ہی سوچ رہے ہیں ۔میں بھی اُسی محنت سے سوچتا ہوں اور اُسی جرات سے لکھ دیتا ہوں ۔الطاف بھائی جرات مند اور بہادر انسان ہیں البتہ بیوقوف نہیں ۔الطاف بھائی کے حالات زندگی پڑھتے ہوئے یہ خوبصورت انکشاف ہواکہ اُن کی والدہ ماجدہ کا نام خورشید بیگم ہے ٗ میری ماں کا بھی یہی نام ہے شاید خیالات اورجرات یکساں ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو ۔اس عظیم الشان پروگرام نے پنجاب میں ایم ۔کیو ۔ایم بارے میں زہریلا پروپیگنڈا کافی حد تک زائل کردیا ہے ۔ 


12/4/2016 6:17:35 AM