Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کودہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانے اورملک کی سلامتی کیلئے وزیراعظم اورآرمی چیف کوایک پیچ پر آجاناچاہیے، الطاف حسین


پاکستان کودہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانے اورملک کی سلامتی کیلئے وزیراعظم اورآرمی چیف کوایک پیچ پر آجاناچاہیے، الطاف حسین
 Posted on: 2/25/2014
پاکستان کودہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانے اورملک کی سلامتی کیلئے وزیراعظم اورآرمی چیف کوایک پیچ پر آجاناچاہیے، الطاف حسین
اگرحکومت اورفوج دہشت گردوں کے خلاف ایک پیج پرنہیں آتے توپھر ریاست کی رٹ قائم کرنے ،ملک کودہشت گردوں سے نجات دلانے اورملک کوبچانے کیلئے فوج آگے بڑھے اورٹیک اوورکرلے
میں آمریت پسندنہیں ،میں فوج کودعوت نہیں دے رہالیکن آج ملک کی سلامتی کو جس قسم کے خطرات لاحق ہیں تو ہمیں فیصلہ کرناہوگاکہ ملک کوبچایاجائے یاجمہوریت کو ۔
اگر پاکستان میں طالبان کی شریعت یا ان کی مرضی کا اسلام قائم کیا گیا تو پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی 
جس طرح طالبان اورپاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے اسی طرح فیوڈل ازم اورپاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے
سماء ٹی وی کے ممتاز اینکرندیم ملک کوانٹرویو
لندن۔۔۔25 فروری 2014ء
ایم کیوایم کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان کودہشت گردی کے لعنت سے نجات دلانے اورملک کی سلامتی کیلئے وزیراعظم اورآرمی چیف کوایک پیچ پر آجاناچاہیے، اگرحکومت اورفوج دہشت گردوں کے خلاف ایک پیج پرنہیں آتے توپھرمیں فوج سے کہوں گاکہ وہ ریاست کی رٹ قائم کرنے ، ملک کودہشت گردوں سے نجات دلانے اورملک کوبچانے کیلئے آگے بڑھیں اورٹیک اوورکرلے۔ میں آمریت پسندنہیں ،میں فوج کودعوت نہیں دے رہالیکن آج ملک کی سلامتی کو جس قسم کے خطرات لاحق ہیں تو ہمیں فیصلہ کرناہوگاکہ ملک کوبچایاجائے یاجمہوریت کو ۔ملک ہوگاتوجمہوریت ہوگی۔آج ملک میں طالبان کی دہشت گردی، بدامنی اورقتل وغارتگری ہماری ماضی کی غلطیوں کا ہی نتیجہ ہے ۔ اگر پاکستان میں طالبان کی شریعت یا ان کی مرضی کا اسلام قائم کیا گیا تو پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی ۔ جس طرح طالبان اورپاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے اسی طرح فیوڈل ازم اورپاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔جنا ب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہار آج سماء ٹی وی کے ممتازاینکرندیم ملک کوخصوصی انٹرویومیں کیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنایا تھا اور انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ پاکستان ایک تھیوکریٹک ریاست ہوگی بلکہ انہوں نے واضح کردیا تھا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگوں کو ان کے عقیدے کے مطابق اپنی اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کی آزادی ہوگی اور ریاست کے معاملات میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ پاکستان کاآئین ،قرآن وسنت کے مطابق ہے اور اس پر تمام جید علمائے کرام کے دستخط موجود ہیں آئین میں واضح ہے کہ کوئی کسی پر جبر کے ذریعہ اپناعقیدہ مسلط نہیں کرے گا اور ایسا عمل کرنا نہ صرف آئین بلکہ قرآن اور رسول اللہ ؐ کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قرآن مجید میں واضح ارشاد ہے کہ’’ میرا دین میرے ساتھ اور تمہارا دین تمہارے ساتھ‘‘ اسی طرح قرآن میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے ‘‘ نبی کریم ؐ نے صحابہ کرامؓ کوباربارتاکید فرمائی کہ غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کا احترام کیا جائے اورانہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے کیونکہ اگر مسلمان ایسا عمل کریں گے توجواب میں غیرمسلم بھی مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر کنکر ماریں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ بات باربارکہی جاتی ہے کہ یہ جنگ امریکہ نے ہم پر مسلط کردی ہے جبکہ یہ قطعی غلط بات ہے کوئی کسی پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتا۔ ماضی کے حکمرانوں نے ڈالرزکے عوض امریکہ کو اجازت دی کہ وہ ہم پر اپنی مرضی مسلط کردے اور آج ملک میں طالبان کی دہشت گردی، بدامنی اورقتل وغارتگری ہماری ماضی کی غلطیوں کا ہی نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان میں طالبان کی شریعت یا ان کی مرضی کا اسلام قائم کیا گیا تو پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی ۔ لہٰذا اگر سول حکمرانوں نے جراتمندانہ قدم نہ اٹھائے تو طالبان دہشت گردوں کی بربریت کا سلسلہ مزید دراز ہوتا چلاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ طالبان دہشت گرد مساجد، امام بارگاہوں، اسکولوں، بزرگان دین کے مزارات اور بازاروں میں خودکش حملے اوربم دھماکے کررہے ہیں ، فوج، رینجرز، ایف سی اور پولیس کے اہلکاروں کی گردنیں کاٹ کران کی لاشوں کی بے حرمتی کررہے ہیں اورمعصوم بچیوں کو کوڑے ماررہے ہیں، ان سفاک طالبان کی حمایت کرنا قطعی غیراسلامی ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ عجیب بات ہے کہ طالبان کی دہشت گردیوں پر میری طرح دیگر سیاسی رہنماؤں کا خون نہیں کھولتا ، اگر حکمرانوں کی بہن بیٹی کو سرعام کوڑے مارے جائیں اور ان کے پیاروں کی گردنیں کاٹ کرلاشوں کی بے حرمتی کی جائے تو ان کے دل پر کیا گزرے گی۔ جناب الطاف حسین نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے فوج اور دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران واہلکار ہمارے ملک کے سپاہی تھے ، مسلح افواج کے جوان سیلاب ، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات کے موقع پر عوام کی مدد کرتے ہیں اور وطن عزیزکادفاع کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم نے پراکسی وار کیلئے جتھے تشکیل دیے کہ اگرامریکہ ، افغانستان سے چلاگیا اوروہاں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو ہم ان جتھوں کے ذریعہ اپنا کنٹرول قائم کرلیں گے جبکہ وہ یہ حقیقت فراموش کرگئے کہ پراکسی وار کیلئے جو جتھے بنائے جاتے ہیں وہ مونسٹر بن جایاکرتے ہیں۔ ماضی میں ہم یہ غلطی کرچکے ہیں اب اگر مسلح افواج ، پاکستان کو بچاناچاہتی ہے تو وہ کسی بھی ملک کے خلاف پراکسی وار کیلئے جتھے نہ بنائے اگر ایسا کیاجائے گا تو پھر بھارت، چائنا ، ایران یا دیگر ممالک بھی ہمارے خلاف یہی عمل کرسکتے ہیں۔ ۔ ایک سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ، پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے غریب ومتوسط طبقہ سے جنم لیا۔ بدقسمتی سے بیشتر صحافیوں ، اینکر پرسنز اورکالم نگاروں نے غریب ومتوسط طبقہ کی جماعت کے بجائے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی حکومت کو سپورٹ کیااور ایم کیوایم کی مخالفت کی ۔ایم کیوایم کو پاکستان دشمن، فوج دشمن، پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں اورپختونوں کی دشمن قراردیکر ملک بھرمیں ایم کیوایم کے خلاف نفرت کے بیج بوئے لیکن آج وقت نے ثابت کردیا ہے کہ بانیان پاکستان کی اولادیں جواپنے حقوق کیلئے جدوجہد کررہی ہیں، نے کڑے اورمشکل وقت میں طالبان دہشت گردوں کو للکارا ، مسلح افواج اور پاکستان کا ساتھ دیا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس طرح طالبان اورپاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے اسی طرح فیوڈل ازم اورپاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔سونے کے چمچے منہ میں لیکرپیداہونے والے ملک کے غریب عوام کے مسائل حل نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہاکہ بسوں میں سفرکرنے والے اورفاقہ کرنے والے غریب ومتوسط طبقہ کے لوگ جنہوں نے مسائل کاسامناکیاو ہی مسائل حل کرسکتے ہیں لہٰذا انہیں سامنے لانا ہوگاجس طرح ایم کیوایم غریب ومتوسط طبقہ کے افرادکو سامنے لائی ۔ اگر جاگیرداروں اوروڈیروں کوسپورٹ کرتے رہیں گے تومسائل حل نہیں ہوسکتے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں خاندانوں کی حکومت برسراقتدارآتی ہے۔ نوازشریف خودوزیراعظم ہیں توان کے بھائی وزیراعلیٰ ہیں اوربھانجے بھتیجے بھی حکومت میں ہیں، اسی طرح بینظیر بھٹوشہید جب حکومت میں آئیں توان کے پورے خاندان نے حکومت سنبھالی۔ اسی طرح اے این پی میں بھی ایک خاندان ہی چھایا ہواہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم واحد جماعت ہے جس میں کسی خاندان کاتسلط نہیں۔ الطاف حسین کے خاندان کاکوئی فرد ایم این اے ،ایم پی اے یاسینیٹرنہیں ، الطاف حسین کواپنے لئے یااپنے خاندان کیلئے کچھ حاصل نہیں کرنا، الطاف حسین کوملک میں انصاف کی حکمرانی اورایسانظام چاہیے جس میں امیروں کے ساتھ ساتھ غریبوں کوبھی انکے حقوق میسرہوں اورکسی کے ساتھ کوئی زیادتی یاحق تلفی نہ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس طرح میں رات دن اپنے ساتھیوں سے رابطے میں رہتاہوں اگر دیگر سیاستداں اس کا پانچ فیصد بھی رہتے ہوں تومسائل حل ہوجائیں۔ وطن واپسی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں وطن واپس آنا چاہتاہوں مگرمیرے ساتھی پاکستان کے حالات کے باعث مجھے وطن واپس نہیں آنے دیتے ، میں وطن واپسی کیلئے تڑپ رہاہوں، میں وطن واپس آناچاہتاہوں اوروطن واپسی کیلئے تڑپ رہاہوں کیونکہ کوئی بھی اپنے لوگوں سے دور نہیں رہناچاہتا۔ انہوں نے کہاکہ مجھے امیدہے کہ انشاء اللہ فوج اورانٹیلی جنس ایجنسیوں میں میرے لئے پائی جانے والی ماضی کی غلط فہمیاں دورہوں گی اورحالات بہترہوں گے۔جناب الطاف حسین نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ میں نے ایک فلسفیانہ بات کہی تھی کہ برصغیرکی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہے کیونکہ اس سے برصغیرکے مسلمانوں کی طاقت تین حصوں میں تقسیم ہوگئی اورتینوں حصوں میں آبادمسلمان مشکل حالات میں زندگی گزاررہے ہیں۔اگریہ تمام مسلمان آج ہوتے تو اندازہ کیجئے کہ وہ کتنی بڑی سیاسی قوت ہوتے ۔انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ میری اس فلاسفی کوبھی غلط اندازمیں سمجھا گیا اورمجھے پاکستان مخالف بناکرپیش کیاگیا ۔ پاکستان توڑنے والوں نے مجھے ایک سازش کے تحت پنجاب سے دوررکھا تاکہ پنجاب کے عوام میرے ساتھ نہ آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پنجاب کے نواجوانوں خصوصاًطلبہ وطالبات کاساتھ چاہیے، اگر پنجاب کے عوام خصوصاً نوجوان میرے ساتھ آجائیں تومیں ملک کے نظام کوبدل کررکھ دوں گا۔ انہوں نے پنجاب کے نوجوانوں خصوصاًطلبہ وطالبات سے کہاکہ وہ ایک بارایم کیوایم اورالطاف حسین کوآزمائیں، الطاف حسین کولیڈرکی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بھائی کی حیثیت سے آزمائیں ۔ میرا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے، میں پاکستان کوایک آزاد، خودمختار، خوشحال اورترقی یافتہ ملک دیکھناچاہتاہوں۔میں پاکستان کوایسامضبوط ملک دیکھنا چاہتاہوں کہ جس پرکسی بھی طاقت کاکوئی دباؤ نہ ہو۔طالبان اورحکومت مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جناب الطا ف حسین نے کہاکہ تمام اختلافات اورغلط فہمیوں کے خاتمے کیلئے مذاکرات ہونے چاہئیں لیکن ہرکسی کو ریاست کی رٹ کوتسلیم کرناہوگا، ریاست کے آئین کوتسلیم کرناہوگا،طالبان دہشت گردوں کوہتھیار پھینک کراورآئین پاکستان کوتسلیم کرتے ہوئے غیرمشروط طورپرمذاکرات کرنے ہوں گے ،اگرطالبان ہتھیارنہیں پھینکتے توپھرمذاکرات نہیں ہوسکتے۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کودہشت گردی کے لعنت سے نجات دلانے اورملک کی سلامتی کیلئے وزیراعظم اورآرمی چیف کوایک پیچ پر آجاناچاہیے، اگر حکومت اورفوج دہشت گردوں کے خلاف ایک پیج پرنہیں آتے توپھرمیں فوج سے کہوں گاکہ وہ ریاست کی رٹ قائم کرنے ، ملک کودہشت گردوں سے نجات دلانے اورملک کوبچانے کیلئے آگے بڑھیں اورٹیک اوورکرلے۔ جناب الطا ف حسین نے واضح کرتے ہوئے کہاکہ میں آمریت پسند نہیں ،میں فوج کودعوت نہیں دے رہالیکن آج ملک کی سلامتی کو جس قسم کے خطرات لاحق ہیں تو ہمیں فیصلہ کرنا ہوگاکہ ملک کوبچایا جائے یاجمہوریت کو ۔ملک ہوگاتوجمہوریت ہوگی۔انہوں نے کہاکہ اگرمیری اس بات پرکوئی یہ کہتاہے کہ میں نے فوج کودعوت دی ہے تووہ کہتارہے ، مجھے اس کی پرواہ نہیں، مجھے وطن عزیزہے اورمیں جھوٹ نہیں بولتا۔ اس موقع پر جناب الطا ف حسین نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہیدہونے والے فوجیوں، ایف سی اورپولیس کے اہلکاروں کے لواحقین کی امداد کے لئے ایک شہداء فنڈقائم کیاجائے اورملک بھرکے مخیرحضرات اپنے شہیدوں کے لواحقین کے لئے اس فنڈمیں بڑھ چڑھ کرعطیات دیں۔ ایم کیو ایم حسب توفیق اس فنڈمیں عطیات جمع کرائے گی۔ 



12/10/2016 2:25:33 PM