Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کو اندرونی وبیرونی سازشوں کا سامنا ہے اوراس کی سلامتی خطرے میں ہے، الطاف حسین


پاکستان کو اندرونی وبیرونی سازشوں کا سامنا ہے اوراس کی سلامتی خطرے میں ہے، الطاف حسین
 Posted on: 2/23/2014
مسلح افواج ، حکومت اور عوام ایک صفحہ پر نہ آئے تو خدانخواستہ پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا
یہ عظیم الشان ریلی مسلح افواج، رینجرز، ایف سی، لیویز اور پولیس سے یکجہتی کااظہارہے 
محب وطن پاکستانی تمام تر اختلافات کے باوجودملک کی سلامتی ودفاع کیلئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہیں
ساؤتھ ایشیا بالخصوص پاکستان کو درپیش خطرات اوربین الاقوامی سازشوں سے قوم کوآگاہ کیا تو میرا مذاق اڑایاگیا
کراچی میں طالبانائزیشن کی بات کی تو میری باتوں کو پختونو ں اور سندھ کے خلاف قراردیا گیا
پاکستان پوری دنیا میں تنہائی کا شکار ہے جبکہ ہرملک اپنے اپنے مفادات کے تحت نئے نئے دوست تلاش کررہا ہے 
پراکسی وار کیلئے ہم نے جن طالبان کو بنایا تھا آج وہی ہمارے اداروں کے افسران اورجوانوں کو ذبح کرکے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کررہے ہیں
پاکستانی قوم نے تہیہ کرلیا ہے کہ ہم کسی بھی کلاشنکوف بردار، ڈنڈا بردار اور بارود بردار شریعت کو تسلیم نہیں کرتے
مسلح افواج، سفاک دہشت گردوں کے خلاف قدم بڑھائے ،ایک ایک پاکستانی ان کے ساتھ ہے 
مصر، لیبیا ، لبنان اور ملک شام میں آمریت ختم کرکے جمہوریت لانے کے نام پر آمروں کوراستے سے ہٹادیا
اب سعودی عرب ،مڈل ایسٹ کے ممالک ، بحرین اورمسقط میں بھی شیعہ سنی بنیاد پرعوام کو تقسیم کیاجارہا ہے
بین الاقوامی دنیا بھارت کو خطہ میں بڑا مقام دینا چاہتی ہے لہٰذاانہیں کمزور اور ٹوٹا ہوا پاکستان درکار ہے
اگر پاکستان داخلی طور پر مضبوط ومستحکم ہوگا تو کوئی بھی بیرونی طاقت اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گی
شاہراہ قائدین کراچی میں عظیم الشان اور تاریخ ساز’’یکجہتی ریلی‘‘سے ٹیلی فون پر خطاب

لندن ۔۔۔23، فروری2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان کو اندرونی وبیرونی سازشوں کا سامنا ہے ، پاکستان کی سلامتی خطرے میں ہے اگرملک کی سلامتی وبقاء کیلئے پاکستان کی مسلح افواج ، حکومت اور عوام ایک صفحہ پرنہ آئے تو خدانخواستہ پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے طالبان دہشت گردوں سے نبردآزما پاک فوج، رینجرز، ایف سی ،لیویز،پولیس اوردیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں سے اظہاریکجہتی کیلئے اتوار کے روز شاہراہ قائدین کراچی میں عظیم الشان اور تاریخ ساز’’یکجہتی ریلی‘‘سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی میں مختلف قومیتوں ، مسالک ،مذاہب اوربرادریوں سے تعلق 

رکھنے والے بزرگوں ، خواتین ، نوجوانوں اور بچوں نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی ۔ ریلی میں تاحد نگاہ انسانوں کے سرہی سر دکھائی دے رہے تھے ۔ اس موقع پر ریلی کے شرکاء کا جوش وخروش قابل دید تھا، ریلی کے شرکاء مسلح افواج ،رینجرز،پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں ، پاکستان ، ایم کیوایم اور جناب الطاف حسین کے حق میں فلک شگاف نعرے لگاتے رہے اورمسلح افواج اورپولیس ورینجرزکے شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کرتے رہے۔جناب الطاف حسین نے یکجہتی ریلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور کارکنان کی شرکت پر انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کیا۔ یکجہتی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج کی یہ عظیم الشان ریلی مسلح افواج، رینجرز، ایف سی، لیویز اور پولیس کے تمام محکموں کے افسران اوراہلکاروں سے یکجہتی کااظہارہے جو ملک کو بچانے کے لئے کوشاں ہیں اوراس جدوجہد میں طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے ۔اس ریلی میں تاحدنگاہ تک شریک عوام کی شرکت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ محب وطن پاکستانی تمام تر اختلافات کے باوجودملک کی سلامتی ودفاع کیلئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح مضبوط ومتحد ہیں۔
جناب الطاف حسین نے ساؤتھ ایشیا، مڈل ایسٹ اوردیگرخطہ میں پیش آنے والے حالات وواقعات کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ تین سال قبل میں نے ایک طویل پریس کانفرنس کے ذریعہ ساؤتھ ایشیا بالخصوص پاکستان کو درپیش خطرات اوربین الاقوامی سازشوں سے قوم کوآگاہ کیا تو ملک کے بعض دانشوروں اور سیاسی ومذہبی رہنماؤں نے میرا مذاق اڑاتے ہوئے کہاکہ میں نے قوم کے پانچ گھنٹے برباد کردیے۔ میں نے نائن الیون کے واقعہ سے قبل اور بعد میں ، عراق پر امریکی حملے سے قبل اور بعدمیں قوم کو حقائق سے آگاہ کیا تو میری باتوں کا مذاق اڑایا گیا، کراچی میں کئی سال قبل طالبانائزیشن کے خطرے سے آگاہ کیاتو میرا تمسخراڑایا گیا،کبھی میری باتوں کو پختونو ں کے خلاف اور کبھی سندھ کے خلاف قراردیا گیا اور کبھی میری باتوں کو بیرونی پروپیگنڈہ قراردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ تمام تر باتوں الزامات اورطعنوں کے باوجود میں گزشتہ 35 برسوں سے قوم کو حقائق بتارہا ہوں، کام کرکرکے درجنوں بیماریوں کا شکار ہوگیا ہوں، لیکن میں قوم کوسچ بتاتا رہوں گا کیونکہ میرا کام قوم کو سچ بتانا ہے ، الطاف حسین قوم کوگمراہ کرنے کیلئے نہیں بلکہ سچ اور حق بتانے کیلئے پیدا ہوا ہے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1970ء کی دہائی میں خطہ کی دو سپرپاورز سوویت یونین اور امریکہ کے مابین سردجنگ بالآخر گرم جنگ میں تبدیل ہوئی تو امریکہ نے پاکستان اور عرب ممالک سمیت پوری دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کی برین واشنگ کرکے انہیں روس کے خلاف افغان جنگ میں بھیجا۔ پاکستان میں ہماری حکومتوں اوراداروں کوفنڈز،خیرات، قرضے اور مالی امداد کے نام پر استعمال کیا گیا اور پاکستان میں جگہ جگہ جہادی تنظیموں کیلئے ٹریننگ کیمپس بنوائے گئے ۔ آج ہماری انہی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان پوری دنیا میں بدنام ہے اورتنہائی کا شکار ہے جبکہ ہرملک اپنے اپنے مفادات کے تحت نئے نئے دوست تلاش کررہا ہے ۔ پراکسی وار کیلئے ہم نے جن عسکری تنظیموں اورطالبان کو بنایا تھا آج وہی مونسٹر بن کر مسلح افواج، رینجرز، ایف سی ،لیویز اورپولیس کے افسران اور جوانوں کو ذبح کررہے ہیں اورانکے سرتن سے جدا کرکے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کررہے ہیں۔ یہ طالبان دہشت گرد ،پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہماری شرائط پر بات کرواور ہماری شریعت کومانو۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اورہمیں طالبان نے مسلمان نہیں بنایا۔ ہمارے ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے طالبان دہشت گردوں نے جنم لیاہے لیکن پاکستانی قوم نے تہیہ کرلیا ہے کہ ہم کسی بھی کلاشنکوف بردار، ڈنڈا بردار اور بارود بردار شریعت کو تسلیم نہیں کرتے اورمساجد، امام 

بارگاہوں، غیرمسلموں کی عبادت گاہوں، بزرگان دین کے مزارات، بازاروں ، اسکولوں اوردفاعی تنصیبات پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف پوری قوم کا بچہ بچہ مسلح افواج کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے مسلح افواج کے سربراہان کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مسلح افواج، سفاک دہشت گردوں کے خلاف قدم بڑھائے ،ایک ایک پاکستانی ان کے ساتھ ہے ۔ جناب الطاف حسین نے عراق ، مصر، لیبیا، لبنان، شام اور سعودی عرب کی صورتحال کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا میں کہیں بھی آمریت کو پسند نہیں کیاجاتا لیکن عراق میں آمریت کے دور میں لوگوں کو کھاناملتاتھا،انہیں جان ومال کا تحفظ حاصل تھا ۔ عراق میں weapons of mass destruction (WMD) کابہانہ کرکے چڑھائی کی گئی لیکن صدام حسین کی حکومت کے خاتمہ کے بعدسے وہاں تواتر کے ساتھ شیعہ سنی فسادات جاری ہیں۔اسی طرح مصر، لیبیا ، لبنان اور شام میں آمریت ختم کرکے جمہوریت لانے کے نام پرمسلح بغاوت کروائی گئی،کئی ملکوں میں وہاں کے حکمرانوں کوراستے سے ہٹادیاگیا، پراکسی وار کیلئے ان ممالک میں کرائے کے مسلح لوگ بھیجے گئے جہاں آج تک جنگ جاری ہے ۔دنیابھرمیں آمریت کے نام پر مداخلت کی جاتی ہے لیکن سعودی عرب میں بادشاہت آج تک قائم ہے، سعودی عرب بھی کمزورصورتحال سے دوچار ہے اور وہاں بھی شیعہ سنی تقسیم تیزی سے پھیلتی جارہی ہے اوراب مڈل ایسٹ کے ممالک ، بحرین اورمسقط میں بھی شیعہ سنی بنیاد پرعوام کو تقسیم کیاجارہا ہے اوردنیا میں جہاں جہاں حکومتیں ختم کی گئی وہاں انتہاء پسندوں کاقبضہ ہوتاجارہا ہے اوران ممالک کی جغرافیائی سرحدیں خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت پوری دنیا میں نئی نئی ریاستیں وجودمیں آنے والی ہیں ۔ اگر ملت اسلامیہ نہ جاگی تو وہ اتنے حصوں میں تقسیم ہوجائے گی کہ کبھی انسانی تاریخ میں نہ ہوئی ہوگی۔
جناب الطاف حسین نے مزیدکہاکہ ہم صبح شام ایران پر امریکی حملے کی باتیں سن رہے تھے کہ اچانک مغربی ممالک اور ایران کے مابین معاہدہ ہوگیااورمغربی ممالک نے ایران کو یورینیم کی افزودگی کی اجازت بھی دیدی۔ بھارت کے پہلے ہی امریکہ اوردیگرممالک سے اچھے تعلقات استوارہیں اوربین الاقوامی دنیا بھارت کو خطہ میں بڑا مقام دینا چاہتی ہے لہٰذاانہیں مضبوط نہیں بلکہ کمزور اور ٹوٹا ہوا پاکستان درکار ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایران سے امریکہ کے تعلقات بہتر ہورہے ہیں ، انڈیا سے امریکہ کے تعلقات پہلے ہی خوشگوار ہیں ۔دوسری طرف افغانستان میں انڈیا کا اثرورسوخ بہت بڑھ چکا ہے ۔ ان حالات میں ہمیں خطہ میں پاکستان کے مستقبل کا بغورجائزہ لیکر اپنی خارجہ پالیسی ترتیب دینی ہوگی ۔ انہوں نے پاکستان کے ارباب اختیار کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدارا اب ’’پراکسیز‘‘ (Proxies) کی پالیسی ترک کردیں اور ان لوگوں سے تعلقات ختم کردیں جن کے بارے میں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان سے امریکہ کے نکل جانے کے بعد وہ ہمارے دوست ہوں گے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بین الاقوامی سطح پر پیش آنے والے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی سلامتی انتہائی خطرے میں ہے اور پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کیلئے ہی طالبان کو آگے لایا جارہا ہے، اگرپاکستان کی سلامتی وبقاء کیلئے مسلح افواج ، حکومت اور عوام ایک صفحہ پر نہ آئے اورمتحدہوکر باہر نہ نکلے تو خدانخواستہ پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا۔انہوں نے کہاکہ طالبان کے حامی منافق اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ جناب الطاف حسین نے ریلی کے شرکاء سے دریافت کیاکہ طالبان دہشت گردہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران واہلکاروں کو ذبح کرکے ان کی گردنیں کاٹ رہے ہیں، بچیوں پر سرعام کوڑے برسا رہے ہیں، گاڑی چلانے کی پاداش میں خواتین کو تشدد کانشانہ بنارہے ہیں اورخواتین کیلئے تعلیم کو ناجائز قراردیکر بچیوں کے اسکولوں کو بموں سے اڑارہے ہیں، مساجد ، امام بارگاہوں،بزرگان دین کے مزارات دیگرعبادت گاہوں کو نشانہ بنارہے ہیں کیا آپ ایسے دہشت گردوں 

کی حمایت کریں گے ؟ جس پر ریلی کے لاکھوں شرکاء نے یک زبان ہوکر کہا’’ہرگز نہیں ‘‘انہوں نے کہاکہ بعض سیاسی ومذہبی رہنماء ان سفاک طالبان دہشت گردوں کو’’شہید‘‘جبکہ وطن کیلئے جانوں کی قربانی دینے والے مسلح افواج کے شہداء کو ہلاک قراردیتے ہیں ، یہ عناصر ملک دشمنوں کے ایجنٹ ہیں۔انہوں نے ایسی تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ بھی سوچیں کہ کیا آپ پاکستان کے دشمنوں کا مزید ساتھ دیں گے ؟ اگرآپ کو ایم کیوایم پسند نہیں ہے تو بے شک ایم کیوایم میں شامل نہ ہوں لیکن اپنی اپنی جماعتوں کے رہنماؤں سے یہ سوال ضرورکریں کہ آپ سفاک طالبان دہشت گردوں کی حمایت کیوں کررہے ہیں ؟ اگر وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکیں تو پھرآپ ایسے رہنماؤں کاساتھ چھوڑ دیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس وقت پورے ملک میں ایم کیوایم واحد جماعت ہے جس نے دہشت گردوں سے نبردآزما فوج، رینجرز، ایف سی ، لیویز اورپولیس اہلکاروں کی حمایت میں اتنی بڑی ریلی نکالی ہے ۔ تجزیہ نگار اور صحافی خود آکر مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ یہ ایشیا کی سب سے بڑی ریلی ہے ۔ انہوں نے طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے فوج، رینجرز،ایف سی، لیویز اور پولیس اہلکاروں کوزبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کا ایک ایک کارکن اورہمدرد ان شہیدوں کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہے ۔ میں اللہ کے حضور دعا گو ہوں کہ وہ ان شہداء کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اپنی جوار رحمت میں بلند مرتبہ عطا کرے ۔ میں دہشت گردوں کے خلاف نبردآزما تمام اہلکاروں کو اپنے بھرپورتعاون کا یقین دلاتے ہوئے ان سے کہتا ہوں کہ کوئی اوران کے ساتھ ہو نہ ہو، ایم کیوایم کا ایک ایک کارکن اورہمدرد انکے ساتھ ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ماضی میں بھی ان تمام تر خطرات سے ارباب اختیار اور عوام کو آگاہ کرتا رہا ہوں لیکن بدقسمتی سے میری باتوں پر دھیان نہیں دیا گیا ۔ ہمارے قومی سلامتی کے اداروں نے اگر اب بھی ان حقائق پر دھیان نہیں دیا اور صحیح اقدامات نہیں اٹھائے توپاکستان کو خدانخواستہ ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ ہمیں ، پاکستان کو اندرسے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔ اگر پاکستان داخلی طور پر مضبوط ومستحکم ہوگا تو خدا کی قسم کوئی بھی بیرونی طاقت اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گی ۔جناب الطاف حسین نے طالبان کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف مذہبی اقلیتوں اوراسماعیلیوں، بوہریوں، اوردیگربرادریوں کو دھمکیاں دیئے جانے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان تمام مذاہب اورمسالک سے تعلق رکھنے والوں کا وطن ہے اور اس میں بسنے والے ہرفرد کو اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرنے کا حق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں جو مختلف برادریاں ہیں انہیں دھمکیاں دینے اور انکے گھروں پر حملے کرنا کون سااسلام ہے ؟ یہ کون سا اسلام پھیلایا جارہا ہے ؟ جناب الطاف حسین نے کراچی کے ڈیفنس، کلفٹن اوردیگر پوش علاقوں میں آباد صاحب ثروت افراد سے کہاکہ آپ کو بھی اب بیدار ہونے کی ضرورت ہے ورنہ آپ لوگ خواب غفلت میں رہیں گے اورطالبان دہشت گرد آپ کو خدانخواستہ نقصان پہنچادیں گے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ماضی میں سینکڑوں دفعہ یہ احکامات الہٰی دہراچکا ہوں کہ ’’لکم دین کم ولی الدین‘‘ اور ’’لااکراہ فی الدین‘‘ یعنی تمہارا دین تمہارے ساتھ اور دین میں کوئی جبر نہیں ہے ۔ آپ کسی کی گردن پر تلوار رکھ کر اسے مسلمان نہیں کرسکتے ۔ رسول اللہ ؐ نے کہاکہ علم کا حاصل کرنا ہرمسلمان مرد اورعورت پر فرض ہے لیکن آج طالبان ، بچیوں کے اسکولوں کو دھماکوں سے اڑارہے ہیں اوران پر پابندیاں عائد کررہے ہیں ۔ یہ لوگ ہراس بات کی نفی کررہے ہیں جو اللہ ، اس کے رسولؐ اور صحابہ کرامؓ نے بتائی ۔ جناب الطاف حسین نے اہل پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں جانتا ہوں کہ میرے خلاف پنجاب میں بے پناہ منفی پروپیگندہ کیا گیا ہے لیکن میں اہل پنجاب سے کہتا ہوں کہ خداراالطاف حسین 

اور ایم کیوایم کو اپنا دشمن نہ سمجھیں ، ہم کسی لسانی یاثقافتی اکائی کے دشمن نہیں،ہمیں سب سے پیار ہے ،ہمیں ہرزبان بولنے والے سے پیار ہے ،ہم سب لوگوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں، ہم نے کوئی جرم نہیں کیا ،ہمارا واحد قصور ، واحد جرم یہ ہے کہ ہم ملک سے کرپٹ جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ کرکے اس ملک پر اس کے 98 فیصد عوام کی حکمرانی قائم کر نا چاہتے ہیں اور عدل وانصاف کاایسانظام قائم کرناچاہتے ہیں جہاں ایک عام مجرم کو اس کے جرم کی سزا ملے تو چیف جسٹس کے بیٹے کوبھی اس کے جرم کی سزا ملے ۔ جناب الطاف حسین نے اہل پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اے پنجاب کے لوگو !آپ کب باہر آؤ گے اورآخر کب تک سبز باغ دکھانے والے لیڈروں کے پیچھے بھاگتے رہیں گے ؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم واحد جماعت ہے جس نے غریب ومتوسط طبقہ سے جنم لیا، میں نے ٹیوشن پڑھاکرتعلیم حاصل کی ،سائیکل چلائی، بسوں میں سفرکیا،مجھے معلوم ہے کہ غریبوں کے مسائل کیاہیں، ایم کیوایم گراس روٹ کی جماعت ہے، ایم کیوایم ہی وہ واحدجماعت ہے جو ملک کوترقی دے سکتی ہے۔آپ نے سب کوآزمایاخداراایک بارایم کیوایم کوبھی آزمائیں۔جناب الطاف حسین نے سندھ حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ سندھی بولنے والے اور اردوبولنے والے سندھیوں میں تفریق ختم کرے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں مستقل آباد اردوبولنے والے اور دیگرزبانیں بولنے والے سندھیوں جن کا جینا مرنا سندھ دھرتی سے وابستہ ہے ، انکا بھی سندھ دھرتی پر اتناہی حق ہے جتنا کہ ہزاروں سال سے آبادسندھی بولنے والے سندھیوں کا حق ہے ۔جناب الطا ف حسین نے انٹرنیشنل کمیونٹی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے حال ہی میں طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں ایف سی کے 23اہلکاروں کے سفاکانہ قتل کے واقعہ کودیکھاہوگاجس میں طالبان نے ان ایف سی اہلکاروں کونہ صرف ذبح کیابلکہ انکی سربریدہ لاشوں کوجانوروں کی طرح سڑک پر گھسیٹا۔ یہ وحشت وبربریت کابدترین واقعہ ہے۔ بربریت کایہ مظاہرہ کرنے والے یہ طالبان پاکستان اورانسانیت کے لئے کینسرہیں،طالبان دورجہالت اور پتھرکے دورمیں رہنے والے ہیں اور بربریت پریقین رکھتے ہیں،ہم ان طالبان کے خلاف ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ان انسانیت دشمن عناصرکومستردکیاجاناچاہیے اوران کا خاتمہ ہوناچاہیے۔ انہوں نے عوام کے تمام طبقوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آگے آئیے،جرات وہمت کامظاہرہ کیجئے ، اپنے بچوں اوراہل خانہ کی بقاء کیلئے تمام سیاسی ومذہبی اختلافات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گردی اورقتل وغارتگری کرنے والے طالبان کے خلاف متحدہوجائیں اوراپنے بچوں اورہم وطنوں کے لئے بہترزندگی کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔ جناب الطاف حسین نے عوام سے کہاکہ اگرآپ خوشی ومسرت، آزادی اور امن وسکون چاہتے ہیں، اپنے بچوں کے لئے اچھی تعلیم اور محفوظ اورر وشن مستقبل چاہتے ہیں اورترقی یافتہ دنیاکی صف میں آناچاہتے ہیں توان لوگوں کے ساتھ شامل ہوجائیے جو قوم کوتاریکیوں میں دھکیلنے والے ان سفاک طالبان دہشت گردوں کومستردکررہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں آپ کی آوازہوں، ایم کیوایم آپ کی آوازہے، ہم امن چاہتے ہیں، ہم اپنے بچوں کی تعلیم اورمحفوظ مستقبل چاہتے ہیں اورطالبان ہمیں زیادہ دیرتک اپنے مقصد سے دورنہیں کرسکتے ۔جناب الطا ف حسین نے آخر میں دعاکی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے، پاکستان پر اپنارحم وکرم فرمائے، پاکستان کوطالبان سے نجات دلائے،پاکستان کوبین الاقوامی سطح پر آئسولیشن سے نکالے اورپاکستان کی غیب سے مددفرمائے۔اپنے خطاب کااختتام انہوں نے پاکستان زندہ باد،ایم کیوایم پائندہ باد اورعوام کااتحادزندہ باد کے نعرے سے کیا۔جناب الطاف حسین نے انتہائی مختصر نوٹس پر کامیاب اور تاریخ ساز ’’یکجہتی ریلی ‘‘ کے انتظامات کرنے پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی ،منتخب نمائندوں اورتمام شعبہ جات کے ذمہ داران اورکارکنان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور ان کیلئے دعا ئیں کیں۔

12/6/2016 3:43:37 PM