Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

الطاف بھائی بات تو سچ ہے مگر۔۔۔۔۔۔ ذوالفقار راحت


الطاف بھائی بات تو سچ ہے مگر۔۔۔۔۔۔ ذوالفقار راحت
 Posted on: 2/20/2014
پانچ چھ سال پہلے جب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے یہ انکشاف کیا کہ کراچی میں تیزی کے ساتھ طالبانائزیشن ہو رہی ہے تو اس بیان پر اس قدر شور مچا اور ہر طرف سے الطاف حسین پر تیر برسائے جانے لگے ان تیر برسانے والوں میں طالبان کے حامی مذہبی رہنما بھی شامل تھے۔ پیپلزپارٹی، اے این پی سمیت تمام بالغ اور نابالغ قسم کے تمام سیاستدان بھی شامل تھے اور اس حوالے سے رہی سہی کسر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نالائق اور نکمے قسم کے بے خبر افسران نے پوری کر دی جنہوں نے کراچی میں طالبانائزیشن کے حوالے سے الطاف حسین کے بیان کی نہ صرف سختی سے تردید کر دی بلکہ الطاف حسین کے بیان کا بھرپور طریقے سے مذاق بھی اڑایا گیا لیکن الطاف حسین اور اس کی ٹیم تسلسل کے ساتھ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے روزانہ کی بنیاد پر واویلا کرتی رہی لیکن اسی تسلسل کے ساتھ وزیراعلیٰ سندھ اور ریاستی مشینری اس حقیقت کو جھٹلاتی رہی جبکہ میڈیا اور پوری قوم یہ تماشا خاموشی کے ساتھ دیکھتی رہی اس لاتعلقی اور بے حسی کے سیاسی موسم میں بھی کچھ غیر جانبدار حلقے اور میڈیا کے کچھ لوگ اور تجزیہ کار الطاف حسین کے طالبان کے حوالے سے بیانات پر وقتاً فوقتاً سنجیدگی سے غور کرتے رہے

 لیکن اس وقت حکومت پاکستان قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی میڈیا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی جب ایک غیر ملکی صحافتی ادارے نے یہ رپورٹ شائع کی کہ کراچی کے تیس فیصدحصے پر باقاعدہ طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے اور کراچی کے اس حصے پر سرکاری انتظامیہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عملاً رٹ ختم ہو کر رہ گئی ہے اور ان علاقوں پر باقاعدہ طالبان کا حکم چلتا ہے۔ اس خوفناک رپورٹ کے بعد بھی ریاست اور ریاستی اداروں کی سطح پر بیک وقت بے چینی اور بے حِسی موجود ہے الطاف بھائی کے بیانات کا مذاق اڑانے والے حضرات کو اب حالات کی سنگینی کا اندازہ تو خوب ہو چکا ہے مگر کارروائی کرنے کا حوصلہ نہیں ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی سیاسی اکابرین کی طرف دیکھتے ہوئے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اپنا رکھی ہے۔ کراچی پولیس اور رینجرز نے لگتا ہے طے کر رکھا ہے کہ صرف دہشت گردوں اور لیاری گینگ وار کے ملزمان کے خلاف 24 گھٹوں میں صرف اتنی ہی کارروائی کرنی ہے جس سے اگلے روز ایک پریس کانفرنس ہو سکے پکڑے جانے والے ملزمان اور اسلحہ کی میڈیا پر خبر اور ٹکر چل سکیں اور ساتھ ہی ساتھ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایم کیو ایم کے کسی ورکر کو ہلاک، راضی کر کے یا پھر گرفتار کر کے اپنے بڑوں کو خوش کر کے نوکری پکی کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں کراچی آپریشن کی حالت یہ ہے کہ کراچی میں آپریشن کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی معاشی حالت میں خوشگوار تبدیلی نظر آ رہی ہے۔

 لگتا ہے کراچی آپریشن قانون نافذ کرنے والوں کے لئے کمائی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ سندھ حکومت اور ریاست کو اس بات کا بھی نوٹس لینا چاہئے کراچی آپریشن ویسے تو 12 مہینے سال کے 365 دن کسی نہ کسی شکل میں جاری و ساری رہتا ہے۔ اور ہر آپریشن کی تان گھما پھرا کر نائن زیرو اور ایم کیو ایم کی کردار کشی پر ٹوٹتی ہے کراچی اپریشن کے بارے میں ایک دوست نے لطیفہ بھیجا ہے جو کراچی کے اپریشن پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے ایک مریض کا ڈاکٹر آپریشن کر رہا تھا مریض نے ڈرتے ڈرتے کہاکہ ڈاکٹر صاحب ذرا خیال کرنا میرا پہلا پہلا آپریشن ہے مریض نے جب ڈاکٹر کی منت سماجت کرتے ہوئے ڈاکٹر کی طرف دیکھا تو ڈاکٹر مریض سے بھی زیادہ ڈرا ہوا تھا اس نے رونے والا منہ بنا کر مریض کو کہا کہ آپ بے فکر رہیں میرا بھی یہ پہلا پہلا آپریشن ہے۔ کراچی کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے ایک بدقسمتی اور بھی ہے کہ پاکستانی میڈیا بے شک شور مچاتا رہے مگر جب کسی ایشو پر غیر ملکی میڈیا پر رپورٹ چلتی ہے تو ریاست کے تمام اداروں کے فوراً کان کھڑے ہو جاتے ہیں یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے گزشتہ 5/6 سال سے الطاف حسین جو کراچی کی اکثریتی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ تمام اداروں کے سربراہوں اور حکمرانوں کو مخاطب کر کے شور مچاتے رہے کہ کراچی پر طالبان کا کنٹرول ہو رہا ہے خدارا اپنی آنکھیں کھولو مگر کسی نے شائد اس لئے توجہ نہ دی کیونکہ یہ بات الطاف حسین کہہ رہا ہے لیکن یہ کسی نے نہ سوچا کہ الطاف حسین اور اس کے فلسفہ سے نفرت اور بغض اپنی جگہ اس کی بات تو سنی جائے اس کی بات کی تصدیق کی جائے اس کی بھی کسی کو توفیق نہ ہوئی اس حقیقت سے ایک اور بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ الطاف حسین کا تنظیمی نیٹ ورک قانون نافذکرنے والے اداروں سے بھی زیادہ موثر ہے۔

 جس کی رپورٹ کی روشنی میں الطاف حسین نے لندن میں بیٹھ کر 5/6 سال پہلے حکمرانوں کو متنبہ کرنا شروع کر دیا تھا میرے خیال میں یہ شاید اس لئے تھا کہ الطاف حسین کراچی اور سندھ کا سیاسی اعتبار سے نیچرل لیڈر اورسب سے بڑا اسٹیک ہولڈر ہے وہ بے شک لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے مگر وہ آج بھی کراچی کو اپنا گھر سمجھتا ہے وہ لندن کے ٹائم ٹیبل کے مطابق زندگی نہیں گزارتا وہ کراچی اور اہل کراچی کے ٹائم ٹیبل کے مطابق سوتا، جاگتا اور زندگی گزارتا ہے اسی لئے الطاف حسین کا شائد کراچی اور اہل کراچی کے بارے قابض سیاسی گروپوں سے زیادہ نالج ہے۔ کراچی مہاجروں کے لئے اس لئے بھی مقدس شہر کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ یہی وہ شہر ہے جس نے مہاجر بھائیوں کے لئے اپنے بازو کھول دیئے اپنی سرزمین پیش کی اب یہ شہر مہاجروں کا آخری پڑاؤ ہے یہ ایم کیو ایم نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں بڑی مچھلیوں کو پکڑنے کے نام پر 92 کا آپریشن ہو یا پھر ٹارگٹڈ آپریشن کسی بھی طرح ایم کیو ایم کی سیاسی پوزیشن کو تبدیل یا کمزور نہیں کیا جا سکتا حکمرانوں نے حلقہ بندیوں کو تبدیل کر کے بھی دیکھ لیا فوج اور رینجرز کی نگرانی میں الیکشن کروا کر بھی دیکھ لئے مگر نتائج ایم کیوایم کے حق میں رہے مگر پھر بھی ایم کیو ایم کو دل سے تسلیم کرنے سے گریز کی پالیسی اپنائی گئی آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ایم کیو ایم اگر متحدہ قومی موومنٹ کی شکل میں تبدیل ہو کر کراچی اور سندھ سے نکل کر کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب تک پہنچ چکی ہے۔ توایم کیو ایم کو ایک سیاسی حقیقت تسلیم کرنے میں ہی سب کا بھلا ہے ایم کیو ایم کو قومی دھارے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت کھلِ دل سے دینی ہو گی پہلے ہی بلوچستان سے لے کر پنجاب تک اور خیبر سے لے کر کراچی تک آگ لگی ہوئی ہے ریاست کو اِن حالات میں ایم کیو ایم کو دیوار کے ساتھ لگانے کی پالیسی کو ترک کرنا ہو گا۔ پیپلزپارٹی جو کبھی چاروں صوبوں کی زنحیر بے نظیر بے نظیر کا نعرہ لگایا کرتی تھی آج صرف سندھ تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔
اور پیپلزپارٹی کے نومولود لیڈرز مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں کے نعرے لگا کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں ایک ہفتہ پاکستان میں نعرے لگا کر پیپلزپارٹی کی یہ بچہ پارٹی 5 ہفتے کے لئے دبئی اور لندن چلی جاتی ہے میں تو حیران ہو گیا ہوں جب سے کراچی کے 30 فیصد حصے پر طالبان کے کنٹرول کی رپورٹ سامنے آئی ہے تو پیپلزپارٹی کی یہ نوجوان قیادت جس میں آصفہ بھٹو زرداری سرفہرست ہیں سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر ان کی پوسٹیں دیکھنے کے قابل ہیں آصفہ بھٹو زرداری کی آئی ڈی سے روزانہ کے حساب سے 50 سے زائد مذہبی پوسٹیں پوسٹ کی جا رہی ہیں۔ جس میں دعائے قنوت اور آیت الکرسی کیا ہوتی ہے‘ 5 وقت کی نماز فرض ہے۔ نماز پڑھنے سے ثواب ملتا ہے وغیرہ وغیرہ یقین نہ آئے تو سوشل میڈیا پر دیکھ لیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے اینٹی طالبان اور لبرل سوچ اپنا رکھی ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں بھی آصف علی زرداری کی سیاسی مینجمنٹ ہے ایک بچہ مذہبی ہو گا دوسرا لبرل ہو گا۔ خیر بات ہو رہی تھی پیپلزپارٹی کی جو چاروں صوبوں کی سب سے بڑی پارٹی تھی وہ صوبہ سندھ کی پارٹی بن کر رہ گئی پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صرف سندھ کے کلچر کی بات کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف سندھ کا لیڈر ہے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ اور کراچی سے ایم کیو ایم کو اپنے لئے سیاسی خطرہ سمجھتی ہے اس لئے تو سیلاب کے دنوں میں اندرون سندھ سے سینکڑوں خاندانوں کو لا کر کراچی آباد کیا گیا تھا مگر پھر ان خاندانوں کے پاؤں نہ جم سکے اور جلد ہی ان کو واپس لوٹنا پڑا پیپلزپارٹی ہو یا کوئی اور آج الطاف حسین کی طالبان کے حوالے سے پیش گوئی کو بند کمرے میں سب سچ مانتے ہیں مگر عوام میں ایم کیو ایم کے قائد کو یہ کریڈٹ دینے کو تیار نہیں بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی، اب سیاست میں وسعت قلب کا مظاہرہ کرنا ہو گا جس کا جو کریڈٹ ہے اس کو دینا ہو گا ورنہ نفرتیں ختم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جائیں گی اہل سیاست کو یہ بات سمجھنی ہو گی۔

الطاف حسین کی گزشتہ شب ٹیلی فون کال آئی ادھر اُدھر کی گپ شپ کے بعد انہوں نے گلے کے انداز میں کہا کہ آخر کیا وجہ ہے میری سچ بات بھی پنجاب کے دوست ماننے سے گریز کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب تک پنجاب نہیں جاگے گا تبدیلی نہیں آئے گی پنجاب اور اہل پنجاب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ پنجاب کے بھائیوں کو آخر میری بات سمجھ کیوں نہیں آتی میرا جرم یہ ہے کہ میری پارٹی وڈیرہ ازم، جاگیر داری، کرپشن، کمیشن اور سٹیٹس کو کے خلاف ہے دوسری پارٹیوں کی طرح میری پارٹی میں جعلی سند رکھنے والا کوئی رکن نہیں ہے۔الطاف حسین طالبان کے ہاتھوں فوجی اور ایف سی کے جوانوں کی ہلاکت کا ذکر کر کے آبدیدہ ہو گئے انہوں نے کہا کہ اگرمیرا جرم یہ ہے کہ میری جماعت بھارت کی عام آدمی پارٹی کی طرح غریبوں اور عام آدمی کی پارٹی ہے کیا جس طرح بھارت میں عام آدمی پارٹی کا راستہ سرمایہ دار مکیش امبانی نے روکا ہے بالکل اسی طرح پاکستان میں چھوٹے چھوٹے مکیش امبانی ایم کیو ایم کا راستہ اس طرح روکتے رہیں گے تو میں غریب آدمی کی سیاست کا جرم تو کرتا رہوں گا۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں جس ملک میں ہوں یہاں لینن اور مارکس بھی آئے تھے۔ میں نے آ کر کیا جرم کر دیاہے مجھے حیلے بہانوں سے کیوں تنگ کیا جا رہا ہے میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں ہر طرح کی پیشکش اور دھونس دھاندلی کے باوجود آئی جی آئی بنانے والوں کے سامنے نہیں جھکا تھا میں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے سامنے بھی نہیں جھکوں گا اس طویل گفتگو کے جواب میں میں نے کہا آپ کی بات تو سچ ہے مگر ۔۔۔

12/11/2016 3:52:15 AM