Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائد تحریک الطاف حسین کی صدارت میں رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان کامشترکہ اجلاس


قائد تحریک الطاف حسین کی صدارت میں رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان کامشترکہ اجلاس
 Posted on: 2/13/2014
قائد تحریک الطاف حسین کی صدارت میں رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان کامشترکہ اجلاس
پولیس بس پر حملے کی شدید مذمت اور شہید اہلکاروں کے لواحقین سے اظہار تعزیت
حکومت اورآرمی چیف ،دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کیلئے ٹھوس فیصلہ کریں، الطاف حسین
ورنہ قوم کو آگاہ کیاجائے کہ فوج، داخلی سرحدوں کی حفاظت اورعوام کادفاع کرنے سے کیوں قاصرہے، الطاف حسین
جب ہر ادارے شہریوں کی جان ومال کاتحفظ میں ناکام ہوجائے تو ہم اپنی فریاد لیکر کہاں جائیں؟الطاف حسین
آرمی چیف سے اپیل پر اعتراض والوں کا کوئی عزیز یارشتہ دار خدانخواستہ دہشت گردحملوں کا نشانہ بنتا تو انکے جذبات بھی ہم سے مختلف نہیں ہوتے، الطاف حسین
مذاکرات کے آغاز سے آج تک دہشت گردوں کے حملے اور شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے الطاف حسین
مساجد ، امام بارگاہوں پر بم دھماکے ، فوجی افسران وجوانوں کی گردنیں کاٹنا سفاکیت کی انتہاء ہے، الطاف حسین
ایم کیوایم نے دل پر پتھر رکھ کر اے پی سی میں طالبان سے مذاکرات کی حمایت کی، الطاف حسین
دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے محکمہ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے، الطاف حسین
پولیس بس پر حملے کی ذمہ داری طالبان دہشت گردوں نے قبول کرلی ہے، الطاف حسین
طالبان دہشت گردوں کا نام لیتے ہوئے سندھ حکومت کے ترجمان اور پولیس افسران ٹانگیں کانپتی ہیں، الطاف حسین
طالبان نے چوہدری اسلم کے قتل کی جس طرح ذمہ داری قبول کی وہ حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے، الطاف حسین
لندن۔۔۔13 ، فروری 2014 ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین کی صدارت میں رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان کے ارکان کا مشترکہ اجلاس ہواجس میں متفقہ طورپر رزاق آبادمیں پولیس ٹریننگ سینٹرکے قریب پولیس اہلکاروں کی بس پر حملے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی گئی اوردہشت گردی کے اس واقعہ میں متعددپولیس اہلکاروں کے شہید وزخمی ہونے پر دلی افسوس کااظہارکیاگیا ۔اجلاس میں شہید پولیس اہلکاروں کے سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہارکیا گیا اور زخمی اہلکاروں کی جلدومکمل صحت یابی کیلئے دعا کی گئی۔
رابطہ کمیٹی کے مشترکہ اورطویل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس دن سے طالبان سے مذاکرات کاآغاز ہوا ہے اس دن سے بم دھماکوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سمیت بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور کراچی میں پولیس کی بس پر دہشت گردی کاواقعہ بھی پاکستان میں جاری دہشت گردی کے بڑے واقعات میں سے ایک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج دہشت گردی کے واقعہ میں وردی میں ملبوس جو سرکاری اہلکار ملک کا دفاع اور عوام کا تحفظ کرتے ہوئے اپنی جانوں سے گزر گئے ان میں سے بیشتر اپنے خاندان کے واحد کفیل ہونگے ، کسی کے بھائی، بیٹے ،شوہر،والد اور بہنوں کے رکھوالے ہوں گے ۔ ان متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور کرب کی شدت کو ایم کیوایم کے علاوہ کوئی جماعت محسوس نہیں کرسکتی ہے اورہم انکے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ ہم سالہا سال سے ریاستی طاقتوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ایم کیوایم
کے کارکنوں کے جنازے اٹھاتے رہے ہیں، حراست کے دوران انہیں جس طرح سفاکانہ اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ ریاستی ظلم وتشدد کا نشانہ بننے والے ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنان اپنی جانوں سے گزرگئے ، وہ بھی اپنے خاندان کے کفیل، کسی کے بھائی، بیٹے ، والد ، شوہراور بہنوں کے سہارے تھے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بے گناہ انسانوں کاقتل، مساجد ، امام بارگاہوں پر بم دھماکے ، حساس فوجی تنصیبات کو بموں سے اڑانے ، فوج اور دیگرقانون نافذ کرنے والے ادار وں کے افسران وجوانوں کی گردنیں کاٹ کر فٹ بال کھیلنا دہشت گردی اور سفاکیت کی انتہاء ہے اس کے باوجودجب تمام جماعتوں نے دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کی تو ایم کیوایم نے دل پر پتھر رکھ کر اے پی سی میں طالبان سے مذاکرات کی حمایت کی تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ایم کیوایم مذاکراتی عمل کو خراب کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کا واضح مؤقف ہے کہ ریاست کی عزت ووقار اور حکومت کی رٹ برقراررکھتے طالبان سے مذاکرات کیے جائیں لیکن مذاکرات کے آغاز سے آج کے دن تک دہشت گردوں کے حملے اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک جانب مذاکرات کے شادیانے بجائے جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب دہشت گرد اپنی سفاکانہ کارروائیوں کے ذریعہ ہرگھر میں ماتم بپا کررہے ہیں۔ گزشتہ روز بھی طالبان کے نمائندہ کا بیان سامنے آیا ہے کہ طالبان پاک فوج کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے اور اور موقع ملاتو فوج کے جرنیلوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پولیس اہلکاروں کے شہید وزخمی ہونے پر ہمارے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں لیکن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ایم کیوایم کو ریاستی دہشت گردی کانشانہ بنایا جارہا ہے ، آج بھی ایم کیوایم کے تین سیکٹرممبرز سمیت 45 کارکنان لاپتہ ہیں۔ ان لاپتہ کارکنان کی بازیابی کیلئے پٹیشن دائر کیے جانے کے باوجود عدلیہ،پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان لاپتہ کارکنوں کو بازیاب کرانے میں ناکام ہیں ، جب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ہی امن کے قیام اور دہشت گردوں سے نمٹنے اور شہریوں کی جان ومال کاتحفظ کرنے میں ناکام ہوجائیں تو ہم اپنی فریاد کس کے پاس لیکر جائیں؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ان حقائق کی روشنی میں جب میں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے اپیل کی کہ وہ ملک میں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیں اور بے گناہ شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنائیں تومیرے بیان پر اعتراضات کیے گئے کہ آرمی چیف سے اپیل کیوں کی گئی۔ میں ان معترضین سے کہتا ہوں کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ ان کاکوئی عزیزکسی دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنا ۔اگرخدانخواستہ ان کا کوئی عزیز رشتہ داردہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بنتا تو انکے جذبات بھی ہم سے مختلف نہیں ہوتے۔
جناب الطاف حسین نے ایک مرتبہ پھرحکومت بالخصوص مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ متحدہ قومی موومنٹ اور ایک ایک دردمندپاکستانی کا مطالبہ ہے کہ وہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے ، قیام امن اور بے گنا ہ شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے کوئی ٹھوس فیصلہ کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو پھر قوم کو حقائق سے آگاہ کیاجائے کہ فوج ،پاکستان کی داخلی سرحدوں کی حفاظت کرنے اور ملک کے عوام کادفاع کرنے سے کیوں قاصرہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے محکمہ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے ۔
جناب الطاف حسین نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دہشت گردی کے واقعہ میں شہیدہونے والے پولیس اہلکاروں کو اپنی جواررحمت میں جگہ
دے ، انکے سوگوارلواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے ،زخمی پولیس اہلکاروں کو صحت یاب کرے ،پاکستان کو دہشت گردوں سے نجات دلائے ، پاکستان کے حکمرانوں کواتنی ہمت دے کہ وہ ملک وقوم کے مفادمیں جراتمندانہ فیصلے کرنے میں کامیاب ہوسکیں اور پاکستان اور اس کے عوام کی جان ومال کاتحفظ کرسکیں۔
جناب الطاف حسین نے سندھ حکومت کے ترجمان کے اس بیان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا جس میں کہاگیا ہے کہ پولیس بس پر حملہ کراچی میں پولیس کی کارروائیوں کا ردعمل ہے جبکہ طالبان کی جانب سے رزاق آباد کے قریب پولیس بس پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی گئی ہے لیکن سندھ حکومت کے ترجمان اور ایم کیوایم کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے المناک واقعات پر انعامات دینے والے پولیس افسران کی جانب سے ان ماورائے عدالت قتل کے واقعات پرتو پولیس کادفاع کیا جاتا ہے لیکن پولیس اہلکاروں کے وحشیانہ قتل عام میں ملوث طالبان دہشت گردوں کا نام لیتے ہوئے انکی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کہ سندھ حکومت اور اس کے کارندے پولیس بس پر طالبان دہشت گردوں کے حملے پرجس قسم کے اونگے بونگے بیانات دے رہے ہیں جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ کراچی آپریشن کے حوالہ سے موجودہ سندھ حکومت کی نیت قطعی ٹھیک نہیں اور سندھ حکومت نے بھاری مال اور اثرورسوخ استعمال کرکے اس آپریشن کارخ ایم کیوایم کی جانب موڑدیا ہے ۔ اب یہ آپریشن طالبان دہشت گردوں اور بقول سپریم کورٹ کہ ہرجماعت میں عسکری ونگ موجود ہیں ، ان کی سرکوبی کیلئے یہ آپریشن نہیں کیاجارہا ہے بلکہ اس کا دائرہ 19، جون 1992ء کی طرح ایک مرتبہ پھرایم کیوایم اور مہاجروں کوکچلنے کیلئے صرف اور صرف ایم کیوایم کی طرف موڑدیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ میں،عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ آپریشن طالبان دہشت گردوں ، دیگرانتہاء پسند مذہبی تنظیموں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کیلئے ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کا رخ ایم کیوایم کی جانب موڑدیا گیا ہے اورکراچی آپریشن کے حوالہ سے سندھ حکومت کی جانب سے سوفیصد غلط بیانی سے کام لیکر وفاقی حکومت کو گمراہ کیاجارہا ہے ۔ وگرنہ سندھ حکومت کے لوگ عوام کو جواب دیں کہ طالبان اور دیگرانتہاء پسند مذہبی تنظیموں کے دہشت گردوں کو کہاں کہاں گرفتار کیا گیا اور کہاں کہاں ان دہشت گردوں کو حراست کے دوران قتل کیا گیا؟انہوں نے کہاکہ طالبان نے سی آئی ڈی کے افسر چوہدری اسلم کو جس دیدہ دلیری کے ساتھ دن دہاڑے قتل کیا اور اس کی ذمہ داری قبول کی وہ حکومت اور انتظامیہ کے منہ پر طمانچے کے مترادف ہے ۔ اس واقعہ کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اور انتظامیہ ، کراچی میں طالبان کے اڈوں اور طالبان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ایکشن لیتیں لیکن اس کے برعکس پولیس اور رینجرز کو صر ف اور صرف ایم کیوایم کو کچلنے اور مہاجروں پر ظلم ڈھانے پر لگادیا گیا جبکہ طالبان دہشت گردوں کو کھلی آزادی دے دی گئی جس کا نتیجہ آج کے المناک سانحہ میں درجنوں پولیس اہلکاروں کے شہید وزخمی ہونے کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔

12/10/2016 6:47:02 AM