Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مہاجر عوام سچے ، کھرے اورمحب وطن پاکستانی ہیں، الطاف حسین


مہاجر عوام سچے ، کھرے اورمحب وطن پاکستانی ہیں، الطاف حسین
 Posted on: 2/9/2014 1
مہاجر عوام سچے ، کھرے اورمحب وطن پاکستانی ہیں، الطاف حسین
پاکستان کی سلامتی وبقاء کیلئے ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان وعوام کو ریاستی مظالم کا نشانہ بنانے کا نوٹس لیں
مہاجروں کے خلاف ظلم وستم کا سلسلہ بند کرائیں، آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے اپیل
ہمارا عسکری اداروں سے انصاف کا مطالبہ کرنا کسی طور غیرجمہوری قرارنہیں دیا جاسکتا
ایم کیوایم کے مطالبے کے باوجود کراچی آپریشن کیلئے مانیٹرنگ ٹیم تشکیل نہیں دی گئی
اگر وزیراعظم اور وفاقی وزیرداخلہ مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دے دیتے تو ایم کیوایم کے کارکنان کا ماورائے عدالت قتل نہ ہوتا
میرا قصور یہ ہے کہ میں نے غریب اور متوسط طبقہ کے لوگوں کو اسمبلیوں میں بھجوایا
پاکستان اس وقت انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے اور اس وقت ملک اور صوبہ سندھ کو امن ویکجہتی کی ضرورت ہے
مہاجروں کو سندھی بننے کا مشورہ دینے اورسندھی کہنے کے باوجود ہمیں سندھی نہیں سمجھا جاتا
ماضی میں ایجنسیوں نے پراکسی وار کیلئے جوگروپ تشکیل دیئے وہ آج فوجی افسران وجوانوں کے گلے کاٹ رہے ہیں
پراکسی وارکے گروپ ہمیشہ مونسٹر بنتے ہیں لہٰذا ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے
قائد ایم کیوایم الطاف حسین کا عزیزآباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔9،فروری 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیرالاسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ مہاجروں اور فوج کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا عمل پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، مہاجر عوام سچے ، کھرے اورمحب وطن پاکستانی ہیں اورپاکستان کو کمزور دیکھنے کا تصورتک نہیں کرسکتے۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی سلامتی وبقاء کیلئے ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان وعوام کو ریاستی مظالم کا نشانہ بنانے کا نوٹس لیں اور مہاجروں کے خلاف ظلم وستم کا سلسلہ بند کرائیں۔یہ بات انہوں نے اتوار کے روز ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروعزیزآباد میں ہنگامی پریس کانفرنس سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہی۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج اور حساس اداروں کے سربراہوں سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل پر کچھ لوگ اعتراض کریں گے اور کہیں گے کہ جمہوری حکومت کے ہوتے عسکری اداروں سے اپیل کا کیا جواز ہے۔ اس اعتراض پر میں یہ کہوں گا کہ جو سلوک محب وطن مہاجروں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے وہ تو آمرانہ طرز حکومت سے بھی بدتر ہے۔جب ہمارے ساتھ غیرجمہوری ، غیرآئینی اورغیرقانونی سلوک روارکھا جارہا ہے تو ہمارا عسکری اداروں سے انصاف کا مطالبہ کرنا کسی طور غیرجمہوری قرارنہیں دیا جاسکتا ۔انہوں نے کہاکہ عسکری ادارے صرف بیرونی خطرات کا مقابلہ نہیں کرتے بلکہ اندرونی خطرات ، آزمائشوں ، سیلاب، زلزلے اوردیگرقدرتی آفات کے مواقع پر بھی اپنا کردار اداکرتے ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان ہجرت کرنے والے مہاجر ، محب وطن ہیں ۔ان کے خلاف اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے کی پاداش میں ظلم اور بے بنیاد ، جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا، ہمارے بزرگوں نے اس وطن کیلئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہم اس وطن کے خلاف بات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے جس کی مثال 1971ء ہے جب سابقہ مشرقی پاکستان میں اردو بولنے والوں نے پاکستان بچانے کیلئے فوج کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ انہوں نے فوج کا ساتھ اپنی یا فوجیوں کی جانیں بچانے کیلئے نہیں بلکہ پاکستان بچانے کیلئے دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا ساتھ دینے کے باوجود جب مہاجروں نے اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھائی تو ان پر جناح پور بنانے کی سازش کرنے کا جھوٹا الزام لگایاگیا۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں پر جھوٹا الزام لگانے کیلئے استعمال بھی جنرل آصف نواز جنجوعہ کو کیا گیاجنہوں نے 92ء میں فوجی آپریشن کا جواز پیش کرتے ہوئے یہ کہاکہ یہ آپریشن سندھ میں اغواء برائے تاوان اورڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف ہے لیکن بعد میں اس آپریشن کا رخ صرف اور صرف مہاجروں اور ان کی جماعت ایم کیوایم کے خلاف موڑ دیا گیا ۔ جنرل آصف نواز نے یہ کہا،اور یہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب کئی مسلم لیگ ہوسکتی ہیں تو کئی ایم کیوایم بھی ہوسکتی ہیں۔ آپریشن میں یہ بھی کہاگیا کہ یہ مہاجر ، بھارتی ایجنٹ ہیں، اندرا گاندھی کی اولادیں ہیں اور پھر مہاجروں کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو قابض افواج ، مفتوحہ شہریوں کے ساتھ کرتی ہیں۔ ہمارے ارکان داد فریاد کرتے رہے لیکن کسی نے ہماری فریاد نہیں سنی۔ پھرایم کیوایم کے دفتر سے جناح پور کا نقشہ نکلنے کاالزام بھی لگادیا گیا۔ اس الزام کے بعد ظاہرہے کہ صوبہ پنجاب اور باقی ملک میں ہماری بات کون سنے گا۔ بعد میں اس الزام کی بریگیڈئیر امتیاز احمد نے تردید کردی۔ بریگیڈئیر امتیاز آج بھی زندہ ہیں اور جنرل راحیل شریف ایک کمیشن بناکر اس الزام کی آج بھی تحقیق کرواسکتے ہیں۔میں نے اس وقت بھی صبراور امن کا درس دیا اور کہاکہ یہ فوج کا، صوبہ پنجاب کا یا سندھیوں اور بلوچوں کا ایجنڈا نہیں بلکہ چند افراد کا ذاتی انتقام اور انکی عصبیت تھی اور ان چند افراد نے معصوم سپاہیوں کو بہکادیا ہے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 92ء میں جب ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کا اغاز کیا گیا تو اس وقت بھی وزیراعظم نوازشریف اورچوہدری نثار وفاقی وزیرتھے۔ہم نے ان سے کہاکہ اگر یہ آپریشن ،سندھ کی 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف ہے تو پورے سندھ میں ہمارے کارکنوں اور دفاتر کی فہرستیں بنانے کا کیا مقصد ہے ؟ چوہدری نثار قوم کو بتائیں کہ کیا انہوں نے قومی اسمبلی میں دومرتبہ 72 بڑی مچھلیوں کی فہرست پیش نہیں کی تھی؟ میاں نواز شریف آپریشن کو نہ روک سکے اور انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم نے اپنے 14 دوستوں کو (ایم کیوایم کے 14 ارکان قومی اسمبلی) کھودیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب سندھ کارڈ استعمال کیا جارہا تھا اس وقت میں نے میاں نوازشریف کووزیراعظم بنانے کی بات کی اور کہاکہ آخر ایک پنجابی وزیراعظم کیوں نہیں ہوسکتا؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے رہنماؤں نے کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریشن کے حوالہ سے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان سے ملاقات کرکے اپنے خدشات سے آگاہ کیا کہ اس آپریشن کی آڑ میں ایم کیوایم کے کارکنوں کو ظلم کا نشانہ بنایاجارہا ہے لہٰذا ایک مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دیدی جائے جو کراچی آپریشن کی نگرانی کرے اور کسی کے بھی ساتھ ناانصافی اور زیادتی نہ ہونے دے ۔وزیراعلیٰ سندھ اور پیپلزپارٹی کے بعض صوبائی وزراء نے مانیٹرنگ ٹیم کی تشکیل کی مخالفت کی۔ اگر وزیراعظم نوازشریف اور وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دے دیتے تو ایم کیوایم کے کارکنان لاپتہ ہوتے اور نہ ان کا ماورائے عدالت قتل ہوتا۔
انہوں نے کہاکہ میرا قصور یہ ہے کہ میں نے غریب اور متوسط طبقہ کے لوگوں کو اسمبلیوں میں بھجوایا ۔ میراقصور یہ ہے کہ میں نے کبھی اپنے یا اپنے خاندان کیلئے کبھی پلاٹ پرمٹ نہیں مانگے۔ میں نے آصف علی زرداری صاحب کو صدربنانے کی حمایت کی اور پی پی پی کے دورحکومت میں ماورائے عدالت قتل کئے جانے والے اپنے بڑے بھائی اوربھتیجے سمیت ہزاروں ساتھیوں کا خون تک معاف 
کردیا لیکن آج ہمارے ساتھ کیا سلوک جارہا ہے ؟میں آصف زرداری صاحب سے درخواست کرتا ہوں وہ اپنا وعدہ یادکریں کہ ایم کیوایم اورپی پی پی کے درمیان نسلوں تک کا اتحاد قائم کریں گے ۔کیا ایم کیوایم کے کارکنان کو ظلم وستم کانشانہ بناکرنسلوں تک اتحاد قائم کیاجاسکتا ہے ۔پاکستان اس وقت انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے اور اس وقت ملک اور صوبہ سندھ کو امن ویکجہتی اور بھائی چارے کی اشدضرورت ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کو سندھی بننے کا مشورہ دینے اورسندھی کہنے کے باوجود ہمیں سندھی نہیں سمجھا جاتا۔سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور اس کے دورحکومت میں پولیس کے ہاتھوں ایم کیوایم کے کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل کیاجارہا ہے ، اگر یہ سفاکانہ عمل سندھ حکومت کی ایماء پر نہیں کیا جارہا تو کیا پولیس اپنی مرضی سے ایم کیوایم کے کارکنوں اور مہاجرہمدردوں کو ان کے گھروں میں گھس کرگرفتارکررہی ہے ، رہائی کے عوض بھاری رشوتیں مانگ رہی ہے، رشوت نہ ملنے پر انہیں تشدد کا نشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے یا جھوٹے مقدمے قائم کرکے انہیں جیل میں بھیج دیا جاتا ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا یہ آپریشن دہشت گردوں کے خلاف کیاجارہا ہے ۔اگرمہاجروں کے ماورائے عدالت قتل میں پیپلزپارٹی ملوث نہیں ہے تو ان واقعات پرآصف علی زرداری نے ایم کیوایم کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنسوں کا نوٹس کیوں نہیں لیا؟ اس طرح کا عمل کرکے ایم کیوایم ،سندھ کی تقسیم کی تبلیغ کررہی ہے یا پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ کی تقسیم کے بیج بورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں نے پانچ سال تک آصف علی زرداری صاحب کا دفاع کیا اور آخری وقت تک ان کا ساتھ دیا۔ آصف زرداری کی موجودگی میں ذوالفقار مرزا کو مہاجروں کے خلاف لایا گیااور مہاجروں کومغلظات بکی گئیں جس کا سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا جس کے بعد اسے ہٹایاگیا۔میں نے آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کا اتنا ساتھ دیا جتنا ان کے اپنے نہ دے سکے ۔لیکن اب نام نہاد قوم پرستوں کے ذریعہ مہاجروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرائی جارہی ہیں۔ میں آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماؤں سے صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ سندھ میں آپ کی حکومت ہے ، خدارا !! سندھ میں اتحاد ویکجہتی اور بھائی چارے کی فضاء کو پروان چڑھائیں، سندھ دھرتی میں آگ اور خون کا ماحول پیدا نہ کریں یہی سندھ دھرتی اور پاکستان کیلئے بہتر ہے ۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ طاقت یاسازشوں کے ذریعہ ایم کیوایم کوختم کردیا جائے گا تویہ اس کی بھول ہے ماضی میں جس نے بھی ایم کیوایم کو ختم کرنے کی کوشش کی وہ خود ختم ہوگیا اور ایم کیوایم ، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج بھی قائم ودائم ہے ۔ آج ایم کیوایم کا پیغام کراچی سے خیبر، صوبہ پنجاب ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان حتیٰ کہ فاٹا تک پہنچ چکا ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ روز ایم کیوایم کورنگی سیکٹر کے کارکن فہد عزیز کو ان کی شادی کے موقع پر گرفتارکربے پناہ تشددکانشانہ بنایا گیا، ان کے نازک حصوں پر کرنٹ لگایاگیا ، اس سے قبل 3فروری کو ایم کیوایم کورنگی سیکٹر کے کارکن محمد سلمان کو گرفتارکرکے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اگلے روز ان کی لاش لانڈھی میں پھینک دی مگر اس ظلم وبربریت کے واقعات کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ انہوں نے جنرل راحیل شریف اور چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس تصدق حسین جیلانی سے مطالبہ کیا کہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات کا نوٹس لیاجائے اور اس کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دلائی جائے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کا آخر کیا قصور ہے ۔ ماضی میں جنرل آصف نواز نے جو بھیانک غلطی کی اس پر نہ صرف میں نے صبر کیا بلکہ اپنے کارکنوں اورعوام کو بھی صبر کی تلقین کی اور فوج اور مہاجروں میں دوریوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتارہاجس کے نتیجے میں اتنی قربت پیدا ہوگئی کہ ہم اپنی شکایات سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کوبراہ راست آگاہ کردیتے تھے لیکن اب پھر فوج کو 
مہاجروں کے خلاف استعمال کیاجارہا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں اور فوج کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا عمل پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ہماری آرزو ہے کہ ہم پاک فو ج کے شانہ بشانہ بیرونی حملہ آروں کے ساتھ لڑ تے ہوئے شہادت حاصل کریں۔ مہاجرعوام نہ بھارت کے ایجنٹ ہیں ،نہ امریکہ اور برطانیہ کے ایجنٹ ہیں بلکہ ہم صرف پاکستان کے ایجنٹ ہیں اورصرف اللہ کی ذات سے ڈرتے ہیں۔مہاجر ،پاکستان کے وفادار ہیں اور پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور کسی سے لڑائی جھگڑانہیں چاہتے لیکن خدارا! ایک طبقہ آبادی جسے آج تک فرزند زمین نہیں سمجھا جاتا ان پرڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد قوم پر ست لفظ’’مہاجر‘‘ پر اعتراض کرتے تھے جس پر ہم نے خود کو اردوبولنے والا سندھی کہنا شروع کردیا لیکن جب سندھ کی وزارت اعلیٰ یا اعلیٰ ملازمتوں کا معاملہ آتا ہے تو کہاجاتا ہے کہ وزارت اعلیٰ کے منصب یا اعلیٰ ملازمتیں آپ کا حق نہیں ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو مہاجروں کے ساتھ اس کھلی ناانصافی اورمتعصبانہ طرزعمل کا نوٹس لینا چاہیے اور اس کے خلاف صدائے احتجاج 
بلند کرنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہرنفس کوموت کامزہ چکھنا ہے ، اگرمہاجروں کے خلاف ظلم وستم کا سلسلہ جاری رہا اورظلم وستم کے خلاف مہاجروں میں باغی پیدا ہوگئے تو انہیں کون روکے گا؟کیا یہ عمل ملک وقوم کے مفاد میں ہوگا؟
جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام سے مطالبہ کیا کہ ماضی میں ایجنسیوں نے پراکسی وار کیلئے جوگروپ تشکیل دیئے وہ آج فوجی افسران وجوانوں کے گلے کاٹ رہے ہیں ، مساجد ، امام بارگاہوں اور فوجی تنصیبات پر حملے کررہے ہیں،یہ پراکسی وارکے گروپ ہمیشہ مونسٹر بنتے ہیں لہٰذا ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ارباب اختیار واقتدار میری گزارشات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے اور ایم کیوایم کے کارکنان وعوام کے خلاف ظلم وستم کاسلسلہ بند کرانے میں اپنا بھرپورکردارادا کریں گے ۔



12/10/2016 10:03:49 PM