Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بی بی سی پر گزشتہ دنوں نشر کی جانے والی قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم مخالفت پر مبنی دستاویزی فلم کے حوالے سے ناظرین اور قارئین تک اصل حقائق پہچانے کیلئے ایم کیوایم کے سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کے میزبان بینٹ جونز کے نام خط


بی بی سی پر گزشتہ دنوں نشر کی جانے والی قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم مخالفت پر مبنی دستاویزی فلم کے حوالے سے ناظرین اور قارئین تک اصل حقائق پہچانے کیلئے ایم کیوایم کے سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کے میزبان بینٹ جونز کے نام خط
 Posted on: 1/31/2014
محترم نیوز ایڈیٹر صاحب ! 
السلام علیکم 
بی بی سی پر گزشتہ دنوں نشر کی جانے والی قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم مخالفت پر مبنی دستاویزی فلم کے حوالے سے ناظرین اور قارئین تک اصل حقائق پہچانے کیلئے ایم کیوایم کے سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کے میزبان بینٹ جونز کے نام خط تحریر کیا ہے ۔ اس خط میں بیرسٹر فروغ نسیم نے حالیہ پروگرام اور اس سے قبل نشر کئے جانے والے پروگرام میں میزبان کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کے مدلل جوابات دیئے ہیں جو پروگرام سے حذف کردیئے گئے تھے ۔ 
یہ خط ہم آپ کو ارسال کررہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ اسے قارئین تک اصل حقائق پہچانے کیلئے اپنے موقر روزنامے میں من و عن اور مناسب جگہ شائع کرکے شکریہ کا موقع دیں ۔ 

والسلام 

انجینئر ناصر جمال 
ڈپٹی کنوینر و انچارج شعبہ اطلاعات 
متحدہ قومی موومنٹ 




محترم اوون بینٹ جونز،
میزبان نیوز نائٹ ،
بی بی سی 
لندن
31جنوری2014ء

محترم جناب جونز
امید کرتا ہوں کہ آپ بہ خیرو عافیت ہوں گے۔گزشتہ روز مجھے آپ کے پروگرام جو آپ نے متحدہ قومی موومنٹ کے متعلق کیا تھا دیکھنے کا اتفاق ہوا اور اسی سلسلے میں آپ کو اپنی رائے اور مشاہدے سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔
1۔آپ کے پروگرام میں کہا گیا کہ الطاف حسین پر پاکستان میں قتل کے کئی مقدمات ہیں ،جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ان پر کسی بھی قتل کا کوئی الزام نہیں ہے اور نہ ہی وہ پاکستان میں کسی فوجداری مقدمے میں مطلوب ہیں بلکہ اپنے خلاف تمام مقدمات میں وہ پاکستانی عدالتوں سے با عزت بری ہیں۔ اگر آپ نے دوران گفتگو مجھ سے یہ دریافت کیا ہوتا تو میں یقیناًآپ کو اطمینان بخش جواب دے پاتا،لیکن آپ کے اس متعصبانہ رویے پر میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ مجھے الطاف حسین کے خلاف کسی بھی فوجداری مقدمے کی تفصیلات سے آگاہ کریں تاکہ آپ کو با ضابطہ جواب دیا جاسکے اور آپ کے ادارے بی بی سی کو بھی مطلع کیا جائے۔
2۔آپ کے پروگرام میں کہا گیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سیاسی مخالفین کے مطابق ایم کیو ایم کی ساکھ کراچی میں کمزور پڑھ رہی ہے۔ میں پھر آپ کی توجہ اس امر پر مبذول کروانا چاہوں گا کہ اگر آپ مجھ سے یہ سوال کرتے تو یقیناًمیں آپ کو آگاہ کرتا کہ 2013ء کے جنرل الیکشن اور پھر ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم کی شاندار کامیابی کس طرح اس دعوے کو غلط ثابت کرتی ہے جو آپ کے مطابق ہمارے سیاسی مخالفین کرتے ہیں نیز آپ کو ان سیاسی مخالفین کو آشکار بھی کرنا چاہیے تھا تاکہ اس کا آپ کو مناسب جواب دیا جاتا اور ثبوت بھی پیش کئے جاتے تاکہ آپ کا ادارہ بی بی سی اور آپ کے ناظرین حقائق جان سکتے۔ہمارے کچھ سیاسی مخالفین نے الیکشن کے نتائج کو نہ مانا اور کراچی کے الیکشن ٹریبونل کی توجہ حاصل کی اس کے باوجود ایم کیو ایم کے خلاف کوئی فیصلہ نہ آسکا اور اس قسم کے دوسرے مقدمات بھی خارج ہوچکے ہیں۔ اس متعلق بھی آپ کو دستاویزی ثبوت فراہم کئے جاسکتے تھے بلکہ آپ خود بھی 2008ء کے الیکشن نتائج کا موازنہ 2013ء کے الیکشن سے کرکے اس نتیجے پر پہنچ سکتے تھے کہ ایم کیو ایم نے سندھ کے شہری علاقوں میں اپنی سیاسی پوزیشن کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا ہے۔یقیناًیہ افواہ ہمارے سیاسی مخالفین کی پھیلائی ہوئی ہے او ر جس طرح میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کو غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں اور آپ کی ذمہ داری بنتی ہے اس معاملے میں پیشہ ورانہ ذمہ داری کو نبھانا آپ کا آپ کے ادارے بی بی سی اور برٹش پولیس کا فرض ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ آپ اپنے پروگرام سے کس طرح میرا یہ جملہ حز ف کرسکتے ہیں؟
3۔آپ کے پروگرام میں الطاف حسین کی تقاریر کے کچھ حصے دکھائے گئے اور ان کے متعلق بھی آپ نے مجھ سے نہیں دریافت کیا اور نہ ہی مجھے موقع دیا کہ میں آپ کو حقیقت بتا سکوں۔مثال کے طور پر آپ نے لندن میں مقیم ایک صحافی اظہر جاوید کو دکھایا جس میں الطاف حسین نے ازراہ مذاق ان کو بوری کی بات کی اس طرح وہ تین تلوار والی تقاریر جو کہ حقیقتاً پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی کارکنان کے اس جملے کے جواب میں کہی گئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا 

کہ اب الطاف حسین کے خون سے تبدیلی کا آغاز ہوگا۔یہ بہت ہی متعصبانہ اور شر انگیز بات تھی اور اسی کے جواب میں الطاف حسین نے تنبیہ دی تھی کہ ایم کیو ایم کے کارکنان اس شر انگیز ی کا ردِ عمل ظاہر کرسکتے ہیں لہٰذا ایسی باتیں نہ کی جائیں دراصل ایسا کہہ کر الطاف حسین نے شرانگیزی روکنے کی کوشش کی تھی جو پی ٹی آئی کے کارکنان کی طرف سے کی جارہی تھی۔حقائق کو جانے بغیر تناظر اور سیاق و سباق سے ہٹ کر چیزوں کا تجزیہ کرنا مناسب عمل نہیں ہے۔
4۔میں نے آ پ کو یہ بھی بتانا تھا کہ جب پولیس نے طارق میر صاحب کے گھر پر صبح ساڑھے چھے سے سات بجے کے درمیان چھا پہ مارا اور مطلوبہ اسلحہ نہ ملنے کی صورت میں وہ گیارہ سو پاؤنڈ یہ کہہ کر لے گئے کہ یہ رقم گھر کے اخراجات سے زیادہ ہے اور یہ ہنڈی کے پیسوں کا معاملہ ہے۔75سالہ شادی شدہ جوڑے کو ذہنی طور پر اذیت دی گئی میں نے آپ کو یہ بھی بتایا تھا کہ پولیس اپنے ساتھ الطاف حسین کی دس سالہ بیٹی کا لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور سکے جمع کرنے کا ڈبہ تک لے گئی،ان چیزوں کا ہنڈی سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟
ْ5۔میں نے آپ کو مطلع کیا تھا کہ ایم کیو ایم ہمیشہ برٹش پولیس کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی آپ کو بتایا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے پاس موجود رقم کی تمام دستاویزات موجود ہیں اور وہ سب قا نونی ہیں اور پولیس خود اس معاملے میں تاریخیں لے رہی ہے اور ایم کیو ا یم کا تعاون جاری ہے ۔
6۔میں نے آ پ کو یہ بھی بتایا تھا کہ دنیا بھر کے سیاست دانوں کے اثاثے برطانیہ میں موجود ہیں اور مجھے اس مشاہدے پر حیرت ہوئی کہ صرف ایم کیو ایم کے پارٹی فنڈز کو ہی کیوں ہنڈی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے؟
7۔ جب میں نے آ پ سے یہ کہا تھا مجھے برطانیہ کی عدالتوں اور سول سوسائٹی پر پورا اعتماد ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو بھر پور نبھائیں اور ہمارے سیاسی مخالفین جوکہ برطانیہ میں موجود ہیں ان سے معلومات لینے کے بجائے خودسے ہمیں جاننے کی کوشش کریں تو جواباً آپ نے میری اس بات کو بہت سراہا اور فرمایا تھا کہ میر ے اس جملے کو آپ اپنے پروگرام کی سرخی بنائیں گے۔سرخی بنانا تو درکنار آپ نے تو میری پوری بات ہی پروگرام سے حدف کردی ۔
8۔میں نے آپ کے پروگرام میں یہ بھی کہا تھاایم کیو ایم کی برطانوی قیادت یہاں کی شہریت رکھتے ہیں اور وہ یہیں قیام پذیر رہیں گے۔
میں آپ سے مل کر بہت متاثر ہوا آپ کا ایماندارانہ بر تاؤ اور نرم خو طبیعت ویسے ہی برطانویوں کا طر ۃ امتیاز ہے۔ آپ ہی لوگوں کے درمیان میں نے زندگی گزاری ہے اور آپ ہی کے بہترین اداروں سے ایمانداری اور سچائی کی تعلیمات لیں ہیں ۔آپ کے اس پروگرام نے پاکستان میں ایم کیو ایم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔
میں چاہوں گا کہ آپ میرے اٹھائے گئے تمام سوالوں پر اپنے نشریاتی اداے بی بی سی کی جانب سے وضاحت دیں اور میری پوری گفتگو دوبارہ نشر کردیں۔

میں اپنے حقوق محفوظ رکھتا ہوں۔       
شکریہ
سینیٹر فروغ نسیم

12/8/2016 5:58:26 PM