Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کو نقصان پہچانے کیلئے بین الاقوامی سطح پر میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، بی بی سی کی دستاویزی فلم بد دیانتی پر مبنی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی


جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کو نقصان پہچانے کیلئے بین الاقوامی سطح پر میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، بی بی سی کی دستاویزی فلم بد دیانتی پر مبنی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
 Posted on: 1/30/2014
جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کو نقصان پہچانے کیلئے بین الاقوامی سطح پر میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، بی بی سی کی دستاویزی فلم بد دیانتی پر مبنی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
ایم کیوایم کو ملکی سلامتی کے حوالے سے کرادر ادا کرنے سے روکا جارہا ہے، کروڑوں عوام جناب الطاف حسین سے اظہار یکجہتی کا ثبوت جلد دیں گے
شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل اور تحقیقات کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
ڈاکٹر عمران فاورق شہید کے قتل کے پیچھے جو کوئی بھی ہو اس کو پکڑا جائے اور سزا دی جائے یہ حکومت برطانیہ کی ذمہ داری ہے
ڈاکٹر عمران فاروق کیس میں جن دو افراد کا نام لیا جارہا ہے ان کا ایم کیوایم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی عاطف صدیقی نامی شخص کوایم کیوایم جانتی ہے 
بی بی سی کی دستاویزی فلم کا مقصد پاکستان اور دنیا بھر میں قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے، فاروق ستار
بے بی افضاء کے لیپ ٹاپ اور جناب الطاف حسین کے جمع کردہ کوائن کو منی لانڈرنگ اور تحقیقات کا حصہ بنایا جارہا ہے 
پاکستان میں غریب و متوسط طبقے کا انقلاب ایم کیوایم ہی لاسکتی ہے اسی لئے اس کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے
ایم کیوایم کے مخالفین کی جھوٹی اطلاعات پر عمل کرنے کے بجائے برٹش پولیس اور اتھارٹیز خود اپنی معلومات اکھٹی کریں، بیرسٹر فروغ نسیم
بی بی سی کی ایم کیوایم کے خلاف چلنے والی ڈاکومنٹری فلم میں میرے دلائل کو جان بوجھ کر حذف کیا گیا
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ناصر جمال و دیگر اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر محمد فاروق ستار اور بیرسٹر فروغ نسیم کا خطاب
کراچی ۔۔۔30، جنوری 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کو نقصان پہچانے کیلئے بین الاقوامی سطح پر میڈیا ٹرائل کیاجارہا ہے ، بی بی سی نے قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کے خلاف جو دستاویزی فلم پیش کی ہے وہ بد دیانتی پر مبنی ہے ، اس میں ایم کیوایم پر سوالات اٹھائے گئے ہیں لیکن جواب نہیں نشر کئے گئے اور ایم کیوایم کے سینیٹربیرسٹر فروغ نسیم کی وضاحتوں کو جسے خود بی بی سی کے اینکر پرسن نے سراہا تھا انہیں حذف کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تاریخ کے انتہائی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ ایم کیوایم ملک کی سلامتی ، بقاء،سیاسی اورجمہوری جدوجہد اور خوشحالی کیلئے اپنا کردار کریں لیکن ایم کیوایم کو ملک میں سیاسی ، جمہوری اور ملک کی سلامتی کے حوالے سے کردار ادا کرنے سے روکاجارہا ہے اور ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں ایم کیوایم ملک کی سلامتی کیلئے پوری صلاحیتوں کے ساتھ اپنا کردار ادا نہ کرسکے ۔ انہوں نے کہاکہ برطانوی میڈیا بی بی سی کی یہ دوسری دستاویزی فلم ہے جس میں حقائق کے برخلاف بات کی گئی اور حقائق کے برخلاف بات کرنے سے پاکستان میں جناب الطاف حسین کے کروڑوں چاہنے والوں کے نہ صرف جذبات مجروح ہوتے ہیں بلکہ ان کی دل آزاری بھی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کروڑوں عوام ، الطاف حسین سے پنی اظہار یکجہتی کا ثبوت جلد دیں گے اور دنیا دیکھ لے گی کہ عوام ، آج بھی جناب الطاف حسین کے ساتھ ہیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر انجینئر ناصر جمال ، اراکین رابطہ کمیٹی ڈاکٹر فارو ق ستار ، نسرین جلیل ، امین الحق ، خالد سلطان ، ڈاکٹر صغیر احمد ، اشفاق منگی ، اسلم آفریدی ، سیف یارخان ، عادل خان ، شاکر علی ، وسیم اختر اور ایم کیوایم کے سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ ایم کیوایم کے قیام کے پہلے روز سے سازشیں شروع ہیں اور اس کے راستے میں رکاوٹیں اور مشکلات کھڑی کی جاتی رہی ہیں اور اب یہی حالات ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پیدا کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بی بی سی کی دستاویزی فلم میں جہاں کئی بے بنیاد الزام لگائے گئے وہیں ایک بات یہ بھی کہی گئی کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین پر قتل کے 30مقدمات ہیں جو کھلی بددیانتی ہے اور اس لئے کھلی بددیانتی ہے کہ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین پر قتل کے جن مقدمات کی بات کی گئی ہے وہ عدالت سے ان سب میں باعزت طورپر بری ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے سابق کنوینر شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل اور تحقیقات کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس حوالے سے کہا گیا کہ کراچی میں دو افراد گرفتار ہیں جبکہ پولیس انہیں کنفرم نہیں کررہی ہے اب سوال یہ ہے کہ یہ دعویٰ کیوں کیاجارہا ہے ؟ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عمران فاورق شہید کے قتل کے پیچھے جو کوئی بھی ہو اس کو پکڑا جائے اور سزا دی جائے یہ حکومت برطانیہ کی ذمہ داری ہے کہ جن پر الزام ہے ان پر کیس چلایاجائے جن دو افرادکا نام لیاجارہا ہے ان کا ایم کیوایم سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ان دو افراد نے جس عاطف صدیقی نامی شخص کے ذریعے ویزے لگوائے تھے اسے بھی ایم کیوایم نہیں جانتی ۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب جو دو افراد قتل کی واردات میں مبینہ طور پر ملوث تھے تو برطانوی حکام ، پولیس نے انہیں برطانیہ سے جانے کیسے دیدیا کیا یہ ان کی ذمہ داری نہیں بنتی تھی ؟ ۔ انہوں نے کہاکہ برطانوی پولیس جناب الطاف حسین کے کوائن اور بے بی افضا کا لیپ ٹاپ تک اٹھا کر لے گئی ہے جس کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین ہر اس طاقت کے خلاف سر نہیں جھکائیں گے جو انہیں اصولی موقف سے ہٹانا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے تھے کہ برطانیہ میں انسانی جان و مال محفوظ ہے لیکن جب ایم کیوایم کے کنوینر ڈاکٹر عمران فاورق کو قتل کیا جاسکتا ہے تو قائد تحریک جناب الطاف حسین کے بارے میں ہماری تشویش سو فیصد درست ہے ۔ 
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن اورقومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں کہ ایم کیوایم پاکستان کو لاحق چیلنجز کا مقابلہ کرنے ، اسے بحران سے نکالنے میں اپنا جو روایتی کردار ادا کرتی ہے اسے روکاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ بی بی سی کی دستاویزی فلم کا مقصد پاکستان اور دنیا بھر میں قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے اس میں جو بتایا گیا ہے وہ نہ صرف حقائق کے قطعی منافی ہے ، جھوٹ اور پروپیگنڈے پر مبنی اور سراسر بہتان تراشی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمل جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کا میدیا ٹرائل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے ، میڈیا فریڈم اور میڈیا ٹرائل میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قتل کیس میں صرف الزام ہے ، ایم کیوایم کو کسی مقدمے میں باقاعدہ نامزد نہیں کیا گیا اور اس طرح کی فلم بی بی سی نے برٹش کورٹ پرا ثر انداز ہونے کیلئے بنائی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ برطانیہ میں اعلیٰ روایت ، انسانی حقوق کے مسلمہ قوانین ہیں لیکن اسکے باوجود ایک برطانوی شہری کے حقوق کو پامال کیاجارہا ہے ، ہم برطانوی نشریاتی ادارے کی ہی مذمت نہیں کررہے ہیں بلکہ جو رپورٹ اس نے دکھائی ہے اس دستاویزی فلم کو بھی مسترد کررہے ہیں بلکہ اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو پولیٹن پولیس اب تک اندھیرے میں کوشش کررہی ہے کہ کسی طرح اس کا تیر نشانے پر لگ جائے ، ایم کیوایم بھی آئینی وقانونی جنگ لڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بے بی افضاء کے لیپ ٹاپ اور جناب الطاف حسین کے جمع کردہ کوائن کو منی لانڈرنگ اور تحقیقات کا حصہ بنایاجارہا ہے ، منی لانڈرنگ کا سلسلہ اب کیوں اٹھایا گیا ہے ، پاکستان کے بڑے بڑے لوگوں کے برطانوی بنک میں اثاثے ہیں اور وہ پیسہ بغیر بزنس کے موجود ہے مگر اس پر کوئی سوال نہیں کیا جارہا ہے اور ایم کیوایم کو دیوار سے لگایاجارہا ہے ۔ انہوں نے میڈیا بھی منصف بن کر ٹرائل کررہا ہے اور ایم کیوایم کو سزا بھی سنا رہا ہے 
ایم کیوایم کے سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سی کے پروگرام میں جب منی لانڈرنگ کی بات کی گئی تو میں نے اس کا جواب دیا لیکن اسے ایڈٹ کردیا گیا ، افتخار حسین پر 90ء کے دور میں بد ترین ٹارچر ہوا تھا اور کوئی بھی ان سے ملے تو وہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان کی کنڈیشن صحیح نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بی بی سی نے ہر چیز قیاس آرائی پر کہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم ، قائد تحریک جناب الطاف حسین کے بغیر مائنس ہے اور جناب الطاف حسین کو مائنس نہیں کیا جاسکتا یہ خیال تو ہوسکتا ہے حقیقت نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ فیکٹ اور فکشن فلم میں ٖفرق ہوتا ہے ، بی بی سی کے خلاف دنیا میں کہیں بھی قانونی چارہ جوئی کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ لیمپس کے کالج میں قتل کیس میں مطلوب جو دو افرا د آئے تھے تو ان کا ایم کیوایم سے کیا تعلق بنتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ایم کیوایم کے مخالفین بی بی سی کو استعمال کررہے ہیں اور غلط معلومات برٹش حکام اور میٹر پولیٹن پولیس کو پہچا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے مخالفین کی جھوٹی اطلاعات پر عمل کرنے کے بجائے برٹش پولیس اور اتھارٹیز خود اپنی معلومات اکھٹی کریں ، بی بی سی کی ایم کیوا یم کے خلاف چلنے والی ڈاکو منٹری فلم میں میرے دلائل کو جان بچھ کر حذف کیا گیا ۔، بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ بی بی سی دستاویزی فلم کے اینکر اوون بینٹ جانز( OWEN BENNETT JONES)نے وعدے کرنے کے باوجود جان بوجھ کر میرے جملوں کو حذف کیا گیا سرا سر صحافی بددیانتی ہے ۔

12/10/2017 11:42:27 PM