Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اگر پیپلزپارٹی والے سندھ بھر کے عوام کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ سندھ کو سندھ ہی رہنے دیں پیپلزپارٹی کے سندھی عوام کیلئے صوبہ سندھ ون اور جنہیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی انکے لئے صوبہ سندھ ٹو بنادیں، الطاف حسین


اگر پیپلزپارٹی والے سندھ بھر کے عوام کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ سندھ کو سندھ ہی رہنے دیں پیپلزپارٹی کے سندھی عوام کیلئے صوبہ سندھ ون اور جنہیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی انکے لئے صوبہ سندھ ٹو بنادیں، الطاف حسین
 Posted on: 1/5/2014 1
پیپلزپارٹی سندھی عوام کیلئے صوبہ سندھ ون اورجنہیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی ان کیلئےصوبہ سندھ ٹوبنادیں۔ الطاف حسین
سندھ ون اور سندھ ٹو، دونوں سندھ دھرتی کی خدمت کریں اور یہ فیصلہ دنیا پر چھوڑدیں کہ اپنے عوام کی ترقی وخوشحالی میں صوبہ سندھ ون آگے ہے یا صوبہ سندھ ٹو بازی لے گیا
جوآپ کاجائزحق بنتاہے وہ آپ لے لیں اورجوہماراجائز حق بنتاہے ہمیں دیدیاجائے اسی میں سب کی بھلائی ہے طاقت کے بل پر کسی کی جائزآوازکودبانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتابلکہ پیچیدہ ہوجاتاہے
گلشن اقبال کراچی میں عظیم الشان جلسہ عام سے ٹیلیفونک خطاب۔ جلسہ عام میں لاکھوں عوام کی شرکت 
لندن۔۔۔5، جنوری2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ اگر پیپلزپارٹی والے سندھ بھر کے عوام کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ سندھ کو سندھ ہی رہنے دیں پیپلزپارٹی کے سندھی عوام کیلئے صوبہ سندھ ون اور جنہیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی انکے لئے صوبہ سندھ ٹو بنادیں۔شہری سندھ کے عوام نمبر ٹو بننے کو تیارہیں ،سندھ ون اور سندھ ٹو، دونوں سندھ دھرتی کی خدمت کریں اور یہ فیصلہ دنیا پر چھوڑدیں کہ اپنے عوام کی ترقی وخوشحالی میں صوبہ سندھ ون آگے ہے یا صوبہ سندھ ٹو بازی لے گیا۔ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع الہٰ دین پارک سے متصل گراؤنڈ میں عظیم الشان جلسہ عام سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔جلسہ عام میں عوام نے لاکھوں کی تعدادمیں شرکت کی جن میں تمام ہی قومیتوں، برادریوں،فقہوں، مسلکوں اورمذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوان، بزرگ ،خواتین اور بچے شامل تھے ۔ جلسہ عام میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد کی شرکت کے باعث پنڈال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا جبکہ جلسہ گاہ کے اطراف کی سڑکوں پر بھی انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندردکھائی دے رہا تھا۔ اس موقع پر نیپاچورنگی اورراشد منہاس روڈسے جلسہ گاہ تک اور جوہر موڑ سے جلسہ گاہ تک کی سڑک پر لوگوں کے سرہی سرنظرآرہے تھے ۔ اس موقع پر جلسہ گاہ کے شرکاء بالخصوص خواتین اور بچوں کا جوش وخروش قابل دید تھا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے پرعزم کارکنان ماضی میں بھی حالات کے جبر کا بہادری سے سامنا کرتے رہے اور کوئی ظلم انہیں خوف زدہ نہیں کرسکا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج بھی یہ کارکنان پرعزم ہیں جنہوں نے اپنے شہید ساتھیوں کے جنازے اٹھائے اور ہرظلم کے باوجود ثابت قدمی سے جدوجہد کررہے ہیں اور آنے والے کڑے سے کڑے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیارہیں۔انہوں نے کہاکہ جب حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کیلئے چاروں جانب سے راستے بند کردیے جائیں تو وہ خواہ کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں باہر نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ بناہی لیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کسی سے بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ ماضی میں ایم کیوایم کے خلاف آرمی آپریشن کیا گیا تو بعض دفاترمیں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور خوشی کے شادیانے بجائے گئے لیکن جب ایم کیوایم نہ صرف قائم رہی بلکہ اس کی عوامی مقبولیت میں کئی گنا اضافہ بھی ہوا تو ایم کیوایم نے اپنے کارکنان وعوام کے خلاف مظالم پر خوشیاں منانے والوں سے کوئی بدلہ نہیں لیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض اینکرپرسنز اور تجزیہ نگار سیاق وسباق سے ہٹ کر بات پیش کرتے ہیں۔ ایم کیوایم ، پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب کرواکر اسمبلیوں میں جاگیرداروں اور وڈیروں کے برابر میں بٹھایا لیکن بعض دانشور ، تجزیہ نگار اور اینکرپرسنز ایم کیوایم کا یہ تاریخی کارنامہ بھول جاتے ہیں ۔ جبکہ جو اینکرپرسنز ایم کیوایم کی جائز بات پر سچائی پرمبنی تبصرہ کرتے ہیں ان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے پیسے لیے ہیں ، میں ایسے لوگوں کیلئے دعا ہی کرسکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کرے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ بات ازل سے چلی آرہی ہے کہ جس کسی گروہ یا قوم کو اس کی عددی تعداد کے لحاظ سے وسائل کا ایماندارانہ حصہ نہیں ملتا اس میں احساس محرومی جنم لیتا ہے جو بڑھ کر احتجاج میں تبدیل ہوجاتا ہے اور جب کسی کے پرامن احتجاج کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ پرامن احتجاج کوئی اور شکل اختیارکرلیتا ہے اور بات جنگ وجدل تک پہنچ جاتی ہے لیکن اس کے باوجود مسئلہ کے حل کیلئے بات چیت کا راستہ اختیارکیا جاتا ہے ۔ انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کا بھی یہی مؤقف ہے کہ لڑائی جھگڑے اور فساد کے بغیر مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر افہام وتفہیم سے معاملہ حل کیاجائے ۔ جو آپ کا جائز حق بنتا ہے وہ آپ لے لیں اور جو ہمارا جائز حق بنتا ہے ہمیں دیدیا جائے اسی میں سب کی بھلائی ہے ۔ طاقت کے بل پر کسی کی جائز آواز کو دبانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ پیچیدہ ہوجاتا ہے ۔آج کے جلسہ عام میں لاکھوں عوام کی شرکت سے ہوش کے ناخن لیے جائیں کہ عوام کی اتنی بڑی تعداد کو دنیا کی کوئی فوج ختم نہیں کرسکتی لہٰذابہتر ہے کہ ایسا راستہ اختیار نہ کیا جائے جومعاملات کو مزید پیچیدہ کردے ۔
جناب الطاف حسین نے بیوروکریسی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی وفاداری اور غداری کے فیصلے کرنے والے تاریخ میں محفوظ یہ بات نہ بھولیں کہ تحریک پاکستان کے وقت ان کے آبا واجداد یونینسٹ پارٹی کے ساتھ تھے جبکہ ہمارے آباواجداد تحریک پاکستان کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے تھے ۔اگرہمارے آباواجداد جانی ومالی قربانیاں نہ دیتے تو آج پاکستان میں ان بیوروکریٹس کاکوئی منصب یا پوزیشن نہیں ہوتی ۔
جناب الطاف حسین نے عسکری قیادت اور وفاق کے اہم شعبہ جات کے ذمہ داران کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ دوروزقبل میں نے حیدرآباد کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہاتھاکہ اگر پیپلزپارٹی ،سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کوقبول نہیں کرتی ، انہیں برابر کا سندھی شہری نہیں سمجھتی اور ان کے جائز حقوق اس لئے نہیں دینا چاہتی کہ وہ اپوزیشن میں ہیں تو ایسی صورت میں وہ شہری سندھ کے سندھیوں کا علیحدہ صوبہ بنادیں۔ میں نے یہ ہرگز نہیں کہا تھا کہ سندھ کو تقسیم کردیجئے ۔ سندھ دھرتی اور دھرتی ماں ہے اور کوئی ماں کی تقسیم گوارا نہیں کرتااور کسی کے دل میں سندھ کو توڑنے کی آرزو نہیں ہے ۔ اگر پیپلزپارٹی والے سندھ بھر کے عوام کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ سندھ کو سندھ ہی رہنے دیں پیپلزپارٹی کے سندھی عوام کیلئے صوبہ سندھ ون اور جنہیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی انکے لئے صوبہ سندھ ٹو بنادیں۔شہری سندھ کے عوام نمبر ٹو بننے کو تیارہیں ،سندھ ون اور سندھ ٹو، دونوں سندھ دھرتی کی خدمت کریں اور یہ فیصلہ دنیا پر چھوڑدیں کہ اپنے عوام کی ترقی وخوشحالی میں صوبہ سندھ ون آگے ہے یا صوبہ سندھ ٹو بازی لے گیا۔انہوں نے کہاکہ مجھے اپنے سندھی، بلوچ، پختون، پنجابی، سرائیکی ، کشمیری اور ہزاروال سے تعلق رکھنے والے بہن بھائیوں اور بزرگوں پر اتنا ہی یقین ہے جتنا کہ اپنے مہاجر بہن ،بھائیوں اور بزرگوں پر ہے اور مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے میرے ساتھیوں نے کٹھن اور کڑے حالات میں بھی ثابت قدمی کامظاہرہ کرکے ثابت کردیا ہے کہ ظلم وجبرکاکوئی بھی ہتھکنڈہ انہیں ایم کیوایم سے دورنہیں کرسکتا۔ جناب الطاف حسین نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے اپنے عمل سے اعلان کردیا ہے کہ آپ صوبہ سندھ نمبر ون کے مالک ہیں اور شہری سندھ میں بسنے والے غریب مہاجر، بلوچ، سندھی، پنجابی، پختون ، سرائیکی اور کشمیری عوام جنہیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی وہ سب مل کر صوبہ سندھ ٹو میں رہ لیں گے ۔ آپ صوبہ سندھ ون میں مزے اڑائیں لیکن خدارا ہمیں صوبہ سندھ ٹو میں جینے کا حق دیدیں۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ہرچیز کادہرامعیار ہے، دیگرلوگ ملک توڑنے کی بات کریں ، دھمکیاں دیں تواس پر کوئی شورنہیں اٹھتا لیکن ایم کیوایم شہری علاقوں کے جائز حقوق کی بات بھی کرے تواسے سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیاجاتاہے اورحقائق مسخ کرکے اس کی وفاداری کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے سربراہ منورحسن نے پاک فوج کے جوانوں، پولیس اہلکاروں اورپاکستانی شہریوں کے قاتل طالبان دہشت گرد کوشہیدقراردیاتو اس پر کوئی طوفان نہیں اٹھا، جب منورحسن نے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاکستانی فوج کے اہلکاروں کوشہیدماننے سے انکارکردیا تواس پر کچھ نہیں کہاگیا۔انہوں نے ماؤں بہنوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں میں فرشتوں کی آمدبندنہ کروائیں اوردرس قرآن کیلئے کسی جماعتی کو نہ بلوائیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جب میں نے اردوبولنے والوں کے حقوق کی بات کی تومخالفین نے سوچاکہ اب توایم کیوایم میں شامل تمام پنجابی ، پختون، سندھی، بلوچ،کشمیری،سرائیکی ، گلگتی بلتستانی ایم کیوایم چھوڑ جائیں گے لیکن اس پنڈال میں موجود صحافی دیکھ لیں کہ اس جلسہ میں لاکھوں پنجابی ،پختون،سندھی، بلوچ،کشمیری ، ہزارے وال ،سرائیکی ، گلگتی موجودہیں اورکوئی بھی ایم کیوایم چھوڑ کرنہیں گیا۔ اسلئے کہ وہ جانتے ہیں کہ الطاف حسین کسی قومیت کے خلاف نہیں بلکہ ظالم جاگیرداروں اوروڈیروں کے خلاف ہے، وہ تمام زبانیں بولنے والوں کے حقوق کیلئے جدوجہدکررہاہے ، وہ صرف مہاجروں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں،سرائیکیوں اوردیگرقومیتوں ہی کے حقوق کانہیں بلکہ تمام غیرمسلموں کے حقوق کابھی سب سے بڑا علمبردار ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں پاکستان کی غیرمسلم آبادی کیلئے ’’ اقلیت ‘‘ کے لفظ کے استعمال کاسخت مخالف ہوں اورجب بھی ایم کیوایم اقتدارمیں آئی تو اس لفظ کاخاتمہ کرکے پاکستان کے تمام شہریوں کوزبان ، رنگ اورمذہب کی تفریق کے بغیربرابرکے حقوق دے گی۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پی پی پی خودکوسندھ کے حقوق کاچیمپئن قراردیتی ہے لیکن یہ ایم کیوایم تھی جس نے سندھ کواین ایف سی ایوارڈ دلوادیا، کالاباغ ڈیم پر ایم کیوایم ہی نے سندھ کامقدمہ لڑااورکالاباغ ڈیم کی تعمیر کافیصلہ رکوایا۔ میں سندھ کے عوام سے کہتاہوں کہ اگرایم کیوایم درمیان سے ہٹ گئی توپی پی پی والے کالاباغ ڈیم کوبننے دیں گے اورذوالفقار علی بھٹو کی لاش کی طرح کالاباغ ڈیم کوبھی چھوڑکربھاگ جائیں گے۔ وہ شہید رانی بینظیربھٹو کی جماعت کوچھوڑ کردیگرجماعتوں میں شامل ہوجائیں گے ۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ حلقہ بندیوں کاتنازعہ اس وقت شروع ہوا جب پی پی پی کی حکومت سندھ نے صوبہ میں اپنی مرضی کی بلدیاتی حلقہ بندیاں کر ڈالیں۔ جب ہم نے اس پر اعتراض کیاتو پی پی پی والوں نے کہاکہ سندھ میں ہماری عددی اکثریت ہے اور بالآخر انہوں نے اپنی اس عددی اکثریت کوبے رحمی سے استعمال کرتے ہوئے ہمارے اعتراضات کومستردکردیا اوراپنی من مانی کی حلقہ بندیوں کاآرڈی ننس سندھ اسمبلی سے منظورکروادیا۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی اس من مانی پر ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ عدالت کادروازہ کھٹکھٹائیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جب ایم کیو ایم نے عدالت کادروازہ کھٹکھٹایا تو اس نے بھی ہمارے حق میں فیصلہ دیا۔ اس موقع پر جناب الطاف حسین نے حلقہ بندیوں کے معاملے پر 30دسمبر 2013ء کو دیے گئے سندھ ہائیکورٹ کے تاریخی فیصلہ سے چند اقتباسات بھی عوام کے سامنے پیش کئے ۔انہوں نے عدالتی فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے پیرا نمبر 40 کے مطابق الیکشن کمیشن کے نمائندے نے واضح طورپرفاضل جج کوبتایاکہ الیکشن کمیشن نے حکومت سندھ کوکسی قسم کاقانون یاضابطے تھوپنے کی کوئی ہدایت نہیں دی ہے اورمزیدکہاکہ حکومت سندھ نے حلقہ بندیاں اپنے طورپر کی ہیں۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کی کوئی ہدایت نہیں تھی۔فیصلے کے پیرا نمبر 41کے مطابق عدالت کے سامنے اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ تیسرا ترمیمی آرڈی ننس جو سندھ اسمبلی نے اکثریت کی بنیاد پر پاس کرلیا تھااس کی ابھی تک گورنرنے منظوری نہیں دی ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ عدالت نے قراردیاکہ حلقہ بندیاں نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ یہ ’’ جیری مینڈرنگ ‘‘ (Gerry Mandering)کے الزام کومضبوط کررہی ہیں۔ فیصلے کے پیرا نمبر 42کے مطابق ’’ جیری مینڈرنگ ‘‘ ( Gerry Mandering) کیا ہوتی ہے اسے بھی عدالت نے تفصیل سے تاریخی حوالوں سے بیان کیا ہے ۔ جبکہ پیرا نمبر 44میں کہاگیا ہے کہ  Unbalance or discreminatory delimitation is called Gerry Mandering. 
یعنی غیرمتوازن یاامتیازی حلقہ بندیاں ’’ جیری مینڈرنگ ‘‘ کہلاتی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ عدالتی فیصلے میں کئی بین الاقوامی تنظیموں کے حوا لوں سے کہاگیاہے کہ حلقے اس طرح بنائے جائیں کہ ووٹنگ پاور مساوی ہو اورنچلی سطح کے الیکشن ( یعنی بلدیاتی انتخابات ) کیلئے یہ مزید ضروری ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پیرا نمبر47 کے مطابق عدالت نے قرار دیاکہ حلقہ بندیاں کرنے والے افسران کو شفافیت قائم رکھنے کیلئے fool proof طریقہ کار نہیں دیا گیا۔جبکہ پیرا نمبر 48کے مطابق حلقہ بندیوں کے خلاف اپیلیں سننے کے حوالے سے کوئی ذکرنہیں کیاگیا جس کی وجہ سے ’’ جیری مینڈرنگ ‘‘ ( Gerry Mandering) کوتقویت ملی۔
انہوں نے کہاکہ پیرا نمبر49 کے مطابق عدالت نے اس بات کا بھی سختی سے نوٹس لیا کہ غیرقانونی طورپر دیہی حلقوں کوشہری حلقو ں میں شامل کردیاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ پیرا نمبر50 میں عدالت نے حلقہ بندی کرنے والے افسرکے اس اختیارکوغیرآئینی قرار دے دیاجس کے تحت اسے حکومت سندھ نے تیسرے ترمیمی آرڈی ننس کے تحت یہ اختیاردیاتھاکہ وہ افسر حلقہ بندی کرتے وقت اپنے طورپرکسی بھی دیہی علاقے کو شہری علاقہ قرار دے سکتا ہے ۔ جبکہ پیرا نمبر52 میں عدالت نے یہ بھی قراردیاکہ حلقہ بندی میں 10 ہزار سے 50 ہزار کی آبادی کافرق مکمل طورپر امتیازی، غیرحقیقی اوربلاجواز ہے۔ اورپیرا نمبر54 میں عدالت نے یہ بھی کہاہے کہ چونکہ ڈپٹی کمشنر ایک اکیلاآدمی ہوتاہے لہٰذا حلقہ بندیاں ڈپٹی کمشنرز سے کرانے کے بجائے ایک آزادکمیشن سے کرائی جائیں۔ 
جناب الطاف حسین نے پیرا نمبر60 کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ عدلیہ نے ان تمام وجوہات کی بنیادپر آئینی پٹیشن منظورکرتے ہوئے یہ فیصلہ دیاکہ ( a ) حلقہ بندیوں کاوہ تمام عمل جو حلقہ بندی افسران نے انجام دیا وہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی دفعات 10، 11، 12 اور13 اورحکومت کی جانب سے جاری کردہ رہنمااصولوں کے خلاف ہے۔ (b )صوبہ سندھ میں بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات 2013ء میں کی جانے والی حلقہ بندیوں سے پہلے موجود حلقہ بندیوں کی بنیاد پر 18جنوری 2014ء کو منعقدکروائے جاسکتے ہیں۔(c)اگرحکومت سندھ کایہ مؤقف ہے کہ صوبہ میں بلدیاتی انتخابات سے قبل حلقہ بندیاں کیا جاناضروری ہے تووہ اس بارے میں معززسپریم کورٹ اورالیکشن کمیشن آف پاکستان سے انتخابات کی تاریخ میں توسیع کی درخواست کرسکتی ہے۔ (d)اگرحلقہ بندیوں کی غرض سے فاضل سپریم کورٹ اورالیکشن کمیشن آف پاکستان ، صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں توسیع کردیتے ہیں تو (سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ) یہ تجویزکیاجاتاہے کہ حکومت سندھ متعلقہ قواعدوضوابط اورطریقہ ہائے کار کی پابندی کرتے ہوئے ایک آزادکمیشن یا باڈی تشکیل دے جوحلقہ بندیوں پر کیے جانے والے اعتراضات کی سماعت کرے۔ اس کے علاوہ اپیلیٹ اتھارٹی کی شکل میں ایک آزادانہ فورم بھی تشکیل دے جوحلقہ بندیوں کے مقدمات میں اپیلوں کی سماعت کرے اوران پر فیصلے صادرکرے۔ (e)سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی شق نمبر 3، 4 اور8 کے ذریعے کی جانے والی ترامیم (تیسراترمیمی آرڈی ننس ، 2013ء جسے سندھ اسمبلی نے حال ہی میں پاس کیا ہے ) جس کی شق 13 کی ذیلی شق 1اور ذیلی شق 12، 14 کااضافہ ذیلی شق 18میں کیاگیا ہے اور’’ میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں یونین کمیٹی ‘‘ کیلئے 40ہزارسے 50ہزار کی آبادی کوتبدیل کرکے 10ہزار سے 50ہزار کی تعداد کی گئی ہے ۔جوکہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کی دفعات 12، 13، 34، 35، 36، اور153-A کی خلاف ورذی ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ ترامیم پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 17، 25، 140-A، 218 اور219کی بھی خلاف ورذی ہیں ۔ اسلئے ان ترامیم کو کالعد م قرار دیاجاتا ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب ایم کیوایم ، سند ھ کے شہری علاقوں کی بات کرتی ہے اوروہاں رہنے والے عوام کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کی بات کرتی ہے تووہ صرف مہاجروں کے حقوق کی بات نہیں کرتی بلکہ شہری علاقوں میں مستقل آبادپنجابیوں، پختونوں ، بلوچوں ، سرائیکیوں اورسندھی عوام کے حقوق کی بات کرتی ہے۔ ایم کیوایم ،مہاجروں یعنی اردو بولنے والوں کی نمائندہ جماعت ضرور ہے لیکن وہ سندھ میں مستقل آبادتمام پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں، سرائیکیوں ،کشمیریوں اورگلگتی عوام کی بھی نمائندہ جماعت ہے ۔ وہ سندھ میں مستقل آبادان تمام لوگوں کوبھی سندھ کاحصہ سمجھتی ہے اوران کے حقوق کی ترجمان ہے ۔ آج ایم کیوایم کے منتخب اراکین اسمبلی میں صرف مہاجرہی نہیں بلکہ بلوچ، پنجابی، پختون، سندھی ،ہزاروال اورکشمیری بھی شامل ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ذوالفقارعلی بھٹو شہیدسے مراعاتیں لیکران کی لاش کوتنہا چھوڑ کربھاگنے والے آج سندھ کے وارث بنے بیٹھے ہیں،دراصل یہ لوگ بھٹوکے قاتل ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ کی تقسیم کی بات نہ تومہاجروں نے کی نہ ایم کیوایم نے ۔ سندھ کی تقسیم کی بنیاد تو پیپلزپارٹی نے 70ء کی دہائی میں اپنے پہلے ہی دور حکومت میں سندھ دیہی اورسندھ شہری کی بنیاد پر کوٹہ سسٹم نافذکرکے خودڈالی۔اس وقت نہ تو ایم کیوایم وجودمیں آئی تھی اورنہ ہی الطاف حسین میدان سیاست میں آئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اگر سندھ کے قوم پرست ہمیں سندھی سمجھتے ہیں توہمارا سوال ہے کہ دیہی اورشہری علاقے توپورے ملک میں ہیں لیکن کوٹہ سسٹم صرف صوبہ سندھ ہی میں کیوں نافذ کیاگیا؟انہوں نے کہاکہ آج سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی 70ء کی دہائی کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہے بلکہ شہری علاقوں کی آبادی دیہی علاقوں کی آبادی سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے لیکن سرکاری ملازمتوں اورتعلیمی اداروں میں شہری علاقوں کاکوٹہ آج بھی صرف 40فیصد جبکہ دیہی علاقوں کیلئے 60 فیصد کوٹہ مقررہے ۔ستم بالائے ستم یہ کہ شہری علاقوں کویہ 40فیصدکوٹہ بھی نہیں دیاجاتا۔ اگرپیپلزپارٹی، سندھ میں رہنے والے تمام شہریوں کو سندھی سمجھتی ہے، اگرقوم پرست سندھی ،مہاجروں کوواقعتا سندھ کامستقل باشندہ سمجھتے ہیں توآج ہی کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا اعلان کریں ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب، خیبرپختونخوا،بلوچستان ،سندھ کے جولوگ کہتے ہیں کہ سندھ میں احساس محرومی کاکوئی معاملہ نہیں ہے وہ سندھ سیکریٹریٹ میں جاکر دیکھ لیں ۔ وہاں چپراسی سے لیکر سیکریٹریز تک اردو بولنے والے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ملیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میراسلوگن ’’ جنگ نہیں امن ، ڈائیلاگ اور صرف امن ہے ‘‘ ۔ مجھے جنگ وجدل پسندنہیں ،میں امن پسند ہوں اورتمام معاملات جنگ یاتلواروں کے بجائے ڈائیلاگ کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کرناچاہتاہوں۔انہوں نے کہاکہ اب دھونس دھمکی کی زبان استعمال کرنے کازمانہ چلاگیاہے۔یہ جنگوں کازمانہ نہیں۔ہمیں جنگوں سے سبق حاصل کرناچاہیے اوردیکھناچاہیے کہ جنگ عظیم اول اوردوم کے تباہ کن اثرات آج تک موجود ہیں ۔ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کوتسلیم کریں،مل جل کر پاکستان کوترقی یافتہ بنائیں تاکہ ہم پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کران کامقابلہ کرسکیں۔اگرہم ایک ہوئے اور متحد ہوئے توانشاء اللہ کوئی پاکستان کوشکست نہیں دے سکتا۔انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کوایک کردے اورہمارے درمیان اتحادپیداکرے۔ اپنے خطاب کااختتام جناب الطاف حسین نے ’’ پاکستان پائندہ باد۔۔۔ایم کیوایم زندہ باد ‘‘ کے نعرے پرکیا۔ 



12/6/2016 12:00:30 PM