کشمیرصرف کشمیری عوام کا ہے، کشمیری عوام کو ان کے حقوق اورحق حاکمیت سے محروم رکھا گیا۔ جذباتی نعرے کسی بھوکے کاپیٹ نہیں بھرسکتے۔ الطاف حسین
برصغیر کی تقسیم سے قبل کشمیرایک پرنسلے اسٹیٹ تھی۔ گلگت اور بلتستان کے علاقے ریاست کشمیرکاحصہ تھے اور ریاست کشمیرپر ڈوگرہ راج قائم تھا۔ قیام پاکستان کے بعد27، اکتوبر1947ء کو ریاست کشمیرکے مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیاسے الحاق کے معاہدے پر دستخط کیے تو پاکستان نے قبائلی اورافغانی عوام کے فوجی دستے تشکیل دیکر کشمیرپر حملہ کردیا۔ انڈیا کے ردعمل کے بعد گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی اورانڈین فوج نے پیش قدمی کرتے کرتے آدھے سے زائد کشمیرواپس اپنے کنٹرول میں لے لیاجبکہ دیگرکشمیرپرپاکستان کا کنٹرول قائم ہوگیاجسے ختم کرنے کیلئے انڈین فوج کی پیش قدمی جاری تھی کہ اسی دوران انگریزوں نے جنگ بندی کرادی اور لائن آف کنٹرول بنادی کہ جب تک اقوام متحدہ یہ فیصلہ نہیں کردیتی کہ پورا کشمیر کس کے ساتھ جائے گا اس وقت تک کشمیر کا جوحصہ انڈیاکے کنٹرول میں وہ انڈیاکے پاس رہے گااورجوحصہ پاکستان کے پاس ہے وہ پاکستان کے کنٹرول میں رہے گا۔ اس طرح ریاست کشمیرIndian Occupied Kashmir اورPakistan Occupied Kashmir بن گئی۔ اقوام متحدہ نے حکم دیا کہ اس مسئلہ کے حل کیلئے کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا آزاد خودمختار کشمیر چاہتے ہیں۔ 78 برس گزرگئے لیکن آج تک اقوام متحدہ مسئلہ کشمیرکاحل نہیں نکال سکی اورکشمیرکامسئلہ پاکستان اورانڈیا کے درمیان فٹبال بن گیا۔ میں 48 برس سے یہ کہتاآرہا ہوں کہ کشمیرصرف کشمیری عوام کا ہے اور کشمیرکے مستقبل کے فیصلے کا حق صرف کشمیری عوام کو حاصل ہے مگر انڈیا اورپاکستان کشمیرکو فٹبال کی طرح کھیلتے رہے، اس کھیل میں دونوں طرف کے کشمیریوں کا بے پناہ جانی نقصان ہوتا رہا، ہجرتیں ہوتی رہیں اور خاندان تقسیم ہوتے رہے۔
اگست2019میں انڈیا نے اپنے آئین کی شق 370 کوختم کرکے اپنے زیرکنٹرول کشمیرکو انڈین یونین کا حصہ بنالیالیکن پاکستان کی جانب سے اس پر کچھ نہیں کیا گیا اورانڈیا کے زیرانتظام کشمیرانڈیا کا حصہ بن گیا۔
گزشتہ 78برسوں میں اسٹیبلشمنٹ نے کشمیری عوام کوبے وقوف بنانے کیلئے ” کشمیربنے گا پاکستان“ کے نعرے دیئے،جہادی تنظیمیں بنائیں اور کشمیری نوجوانوں کو کشمیر جہاد کی آگ میں جھونک دیا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس مقصد کے لئے مذہبی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی کواستعمال کیا، جماعت اسلامی نے فوج کی بی ٹیم کاکردار ادا کیا، وہ ہمیشہ فوج کے منصوبوں کی حمایت کرتی رہی، کشمیرکے نام پر جگہ جگہ کیمپ اور اسٹال لگاکرنہ صرف عطیات جمع کرتی رہی بلکہ کشمیرکی آزادی کے لئے جہاد کے نام پرنوجوانوں کی بھرتی کرتی رہی۔ جماعت اسلامی نوجوانوں کو جہاد کا درس دیکر ہزاروں ماؤں کی گودیں اجاڑدیں لیکن جماعت اسلامی کے کسی لیڈرنے اپنے بچوں کو کشمیرکے جہاد پر نہیں بھیجا بلکہ وہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے رہے۔
کشمیری عوام کی تمام ترہمدردیاں ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ رہیں، پاکستان کے زیرکنٹرول کشمیرمیں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوتے رہے، وہاں صدر اوروزیراعظم بھی منتخب ہوتے ہیں مگر وہ سب پاکستان کی فوج، جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے تحت کنٹرول کیے جاتے رہے۔ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کشمیرکے نظام حکومت پر جس طرح اثرانداز ہوتی رہیں اس حساب سے کشمیرمیں بہت ترقی وخوشحالی ہونی چاہیے تھی اورکشمیرکوگل وگلزار بن جانا چاہیے تھا مگرپاکستان آزادکشمیرکے وسائل، پانی، بجلی، گیس اور دیگر معدنیات کو تو استعمال کرتا رہا لیکن کشمیری عوام کو ان کے حقوق اورحق حاکمیت سے محروم رکھا گیا۔
کشمیری بزرگ مذہبی جنون اورخوشنما نعروں میں اتنے غرق تھے کہ وہ بنیادی وسائل سے محرومی اوربھوک وافلاس کے باوجود جذباتی نعرے لگاتے رہے لیکن جذباتی نعرے کبھی کسی بھوکےکا پیٹ نہیں بھرسکتے۔ میرا سوال ہے کہ اگرپاکستان کی فوج اور مذہبی جماعتیں عوام کو یہ ٹاسک دیں کہ ملک کے 25 کروڑ عوام 40 دن تک اللہ اکبر کا وظیفہ پڑھتے رہیں تو کیااس سے کشمیرآزاد ہوجائے گا اورپاکستان کا حصہ بن جائے گا؟اگرصرف نعرے لگانے سے فتوحات مل سکتیں تونبیوں کے نبی،حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کبھی تلوار ہاتھ میں لیکرجنگوں میں میں شریک نہیں ہوتے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب
6، جون 2026ء