Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جناب الطاف حسین کے خطاب کے سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے مطلب کے چند جملوں کو اچک کر سیاسی بونے سیاسی یتیم سندھی قوم پرستوں نے واویلا مچانے کی کوشش کی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی


جناب الطاف حسین کے خطاب کے سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے مطلب کے چند جملوں کو اچک کر سیاسی بونے سیاسی یتیم سندھی قوم پرستوں نے واویلا مچانے کی کوشش کی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
 Posted on: 1/4/2014 1
جناب الطاف حسین کے خطاب کے سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے مطلب کے چند جملوں کو اچک کر سیاسی بونے سیاسی یتیم سندھی قوم پرستوں نے واویلا مچانے کی کوشش کی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
سیاسی بونے اور یتیم بات کو وہاں تک نہ لے جائیں جہاں سے واپس پلٹ نہ سکیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
اسفند یار ولی ملک توڑنے کا کہہ چکے ہیں اور جماعت اسلامی کے وزیر سراج الحق سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہونے کی نوید دے چکے ہیں
جناب الطاف حسین کے خطاب پر سندھ کی آدھی آبادی کو دھمکانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
سندھ انتظامیہ اور وسائل میں سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی غیر منصفانہ عمل کرکے سندھ کی تقسیم کی سازش کررہی ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور وزیراعلیٰ ہے، اب گیند ان کے کورٹ میں ہے اور سندھ کی تقسیم کو روکنا ان کی ذمہ داری ہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
قوم پرست جس طرح کی زبان اختیار کررہے ہیں وہ اپنی زبان کو لگام دیں، ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھی، عامر خان
الہ دین پارک میں 5 جنوری کو ہونے والے جلسہ عام کی تیاریوں اور انتظامات کے موقع صحافیوں کو پریس بریفنگ
کراچی ۔۔۔4، جنوری 2014ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر اور حق پرست رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ لطیف آباد نمبر 8حیدرآباد میں میں جلسہ عام سے جناب الطاف حسین کے خطاب کوسیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے مطلب کے چند جملوں کو اچک کر سیاسی بونے اور سیاسی یتیم سندھی قوم پرستوں نے واویلا مچانے کی کوشش کی ہے ،ہم ایسے عناصر کو متنبہ کرتے ہیں کہ بات وہاں تک نہ لے جائیں جہاں سے واپس پلٹ نہ سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کالا باغ ڈیم کے معاملے پر کہا کہ ملک ٹوٹ جائے گا، جماعت اسلامی کے وزیر سراج الحق کہہ چکے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے حقوق وفاق نے نہیں دیئے تو سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوسکتا ہے لیکن جناب الطاف حسین کے خطاب پر ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں اور سندھ کی آدھی سے زیادہ آبادی وکو ڈرانے اوردھمکانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اورجناب الطا ف حسین کی جمہوریت اور سندھ دوستی کو کمزوری سمجھ لیا گیا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کی شب ایم کیوایم کے زیر اہتمام 5جنوری اتوار کو الہ دین گراؤنڈ میں ہونے والے جلسہ عام کی تیاریوں کے موقع پر صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ پریس بریفنگ سے رابطہ کمیٹی کے رکن وقومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستا ر اوررابطہ کمیٹی کے رکن عامر خان گفتگو کی۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین احمد سلیم صدیقی ، امین الحق ، کنور نوید جمیل ، خالد سلطان اور محترمہ نسرین جلیل بھی موجود تھیں ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین نے سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی بلکہ وسائل کی تقسیم کی بات کی ہے اور انہوں نے ’’اگر ‘‘کہہ کر کہا ہے کہ آپ کو ہم قبول نہیں اور برداشت نہیں تو حل بتایئے ورنہ فطری حل وہی ہے جو بتایا گیا ہے۔ 
انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم سے پہلے سندھ میں سیاست کرنے والوں نے شہری اور دیہی تقسیم کوواضح کیا جبکہ جناب الطاف حسین کا یہ اعزاز ہے کہ انہوں نے ہمیشہ خلیج کو ختم اور محبت کو فروغ دیا ۔ انہوں نے ہمیشہ خلیج کو پاٹا اور محبت کو فروغ دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جناب الطاف حسین سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے لیکن جو ناسمجھ لوگ سندھ کے وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ رکھ رہے ہیں وہ ایسے حالات پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی سندھ کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تو بہت سارے لوگ اپنے احسانات گنوانا شروع کردیتے ہیں ہم واضح کردیں کہ ہم بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ہجرت کرکے آئے تھے یہاں پہلے ہندو آباد تھے جو وہاں ہجرت کرگئے اور ہمارے ساتھ انصار مدینہ کا کردار ادا کرنے بات غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور گیند اب ان کے کورٹ میں ہے لہٰذا سندھ کی تقسیم کو روکنا ان کی ذمہ داری ہے ۔ صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ سندھ کے عوام کے ساتھ مسلسل ناانصافیوں اور امتیاز کا سلسلہ سندھ حکومت نے روا رکھا ہواہے ، ہمارے مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی کوشش کی گئی ، من مانی اور غیر آئینی و غیر جمہوری حلقہ بندیوں کے ذریعے سندھ کے شہروں میں ایم کیوایم کے مینڈیٹ کو ہائی جیک کرنے اوربلدیاتی انتخابات کے حوالے سے قبل از انتخابات دھاندلی کرکے کونسل میں اپنے میئر لانے کی سازش کی گئی تھی لیکن اللہ کے فضل و کرم سے یہ سازش ناکام ہوئی اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پیپلزپارٹی اردو بولنے والے سندھیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے دشمنی کے رویئے پر نظر ثانی کے بجائے مسلسل ایسے اقدامات کررہی ہے جس سے سندھ کی بڑی اکائیوں کے درمیان منافرت کو ہوا دی جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین نے ہمیشہ سندھ دھرتی کی تقسیم کی کھل کر مخالفت کی اور کہا کہ ہم سندھ کے بیٹے ہیں ، جب ہم باربار کہتے ہیں ہم سندھ کے بیٹے ہیں اس کی باربار وضاحت کیوں کرنی پڑتی ہے اس کا مطلب یہ ہے سندھ کی عملی زندگی میں آدھی سے زائد آبادی کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ انتظامیہ اور وسائل میں سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی غیر منصفانہ عمل کررہی ہے اور سندھ کی تقسیم کی سازش کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پروونشل سروسز اور امتحانات میں امتیازی سلوک ہور ہا ہے ، مرضی سے انتظامیہ پر قبضہ کیاجارہا ہے اور پو لیس عہدیدار تعینات کئے جارہے ہیں ۔لیکن ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود لوگوں کے دلوں پر قبضہ نہیں کیاجاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین نے جلسہ میں جو بات کہی ہم اس کی وضاحت کرنے نہیں آئے بلکہ اس پر قائم ہیں ، سندھی بولنے والے دانشوروں کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ ا ردو بولنے والے سندھیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر آواز اٹھانی چاہئے ،پاکستان بننے کے بعد سندھ کی 65سالہ تاریخ میں جتنے وزرائے اعلیٰ آئے ان میں ایک بھی اردو بولنے والا سندھی شامل نہیں ہے اور یہ عمل غیر تحریری دستور ہے اور سندھ کا رواج ہے کہ کوئی اردو بولنے والا سندھی سندھ کا وزیراعلیٰ نہیں بن سکتا اس سارے سلوک کو سندھی دانشور کس طریقے سے دیکھیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی سندھ کی شہری آبادی کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے لیکن ایک سندھی دانشور نے یہ نہیں کہا کہ یہ رویہ سندھ تقسیم کردیگا ۔ انہوں نے سندھی قوم پرستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ون وے ٹریفک نہیں چلے گی اور ہمارے زخموں کا مدوا کرنا ہوگا ۔ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن عامر خان نے صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ جناب الطاف حسین کے خطاب کے بعد سندھ میں بھونچال آیا ہوا ہے، قوم پرست جس طرح کی زبان اختیار کررہے ہیں وہ اپنی زبان کو لگام دیں ، ہم نے پاکستان کیلئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی تھی ۔ انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا سے آنے والے کراچی کے دعویدار بن چکے ہیں، یہ شہر، ملک اور صوبہ ہمارا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بارے میں ایسی تنقید نہ کی جائے کہ اس کا جواب دیاجائے ، ایاز پلیجو کی اوقات یہ ہے کہ وہ ایک سیٹ نہیں جیت سکتا اگر کسی کو طاقت استعمال کرنے کا شوق ہے تو وہ پورا کرلے ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نفرتوں کاانجام درست نہیں نکلے گا، پیپلزپارٹی اور سندھی قوم پرستوں کو اپنی پالیسیوں کو درست اور ملک کے مفاد میں کرنا ہوگا۔ 

12/9/2016 11:01:54 PM