Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

شرجیل میمن نے مجھ پر بھارتی شہری ہونے کا جو گھناؤنا اور جھوٹا الزام لگایا ہے اس سے مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ محمد انور رکن رابطہ کمیٹی ایم کیوایم


شرجیل میمن نے مجھ پر بھارتی شہری ہونے کا جو گھناؤنا اور جھوٹا الزام لگایا ہے اس سے مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ محمد انور رکن رابطہ کمیٹی ایم کیوایم
 Posted on: 1/4/2014 1
شرجیل میمن نے مجھ پر بھارتی شہری ہونے کا جو گھناؤنا اور جھوٹا الزام لگایا ہے اس سے مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ محمد انور رکن رابطہ کمیٹی ایم کیوایم
میں نہ تو کبھی بھارتی شہری رہا ہوں اور نہ ہی اب ہوں، شرجیل میمن اپنے بیان کو واپس لیں۔ محمد انور 
میرے والدین نے قیام پاکستان کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، سابقہ مشرقی پاکستان ہجرت کی
سقوط ڈھاکہ سے قبل حالات خراب ہوئے تو میرے والد اور میرے خاندان نے کھل کر پاکستان اور پاکستانی فوج کا ساتھ دیا
سابقہ مشرقی پاکستان میں جب تمام کمپنیوں نے پاکستانی فوج کو فوڈ سپلائی بند کردی تھی تو میرے والد نے پاکستانی فوج کو غذائی اجناس فراہم کرنے کیلئے ایک کمپنی تشکیل دی 
افواج پاکستان کی مدد و اعانت کرنے کے جرم میں نو قائم شدہ بنگلہ دیش کی حکومت نے میرے والد مغنی انصاری کو گرفتارکرکے ان پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا اور انہیں سزا دی 
پاکستان اور افواج پاکستان کیلئے گراں قدر خدمات انجام دینے پر میرے والد کو 14 اگست 1967ء کو حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہء خدمت سے بھی نوازا گیا
لندن ۔۔۔4 جنوری 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر رکن محمد انور نے کہا ہے کہ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے مجھ پر بھارتی شہری ہونے کا جو گھناؤنا اور جھوٹا الزام لگایا ہے اس سے مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے اور میں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے بیان کوواپس لیں۔ اپنے ایک بیان میں محمدانورنے کہاکہ شرجیل انعام میمن کا یہ الزام حقائق کے سراسر منافی ہے اور اصل حقیقت یہ ہے کہ میں نہ تو کبھی بھارتی شہری رہا ہوں اور نہ ہی اب ہوں۔ محمد انور نے کہا کہ میں مشرقی پاکستان میں پیدا ہوا اور میں 1970ء میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے تعلیم کے حصول کیلئے برطانیہ آیا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی میں نے کبھی اپنی پاکستانی شہریت ترک نہیں کی اوربرطانیہ کے ساتھ ساتھ اپنی پاکستانی شہریت بھی ہمیشہ برقرار رکھی۔ محمد انور نے کہا کہ میرے والد ین نے قیام پاکستان کی تحریک میں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیا اور1947 ء میں قیام پاکستان کے بعد مشرقی پاکستان ہجرت کی جہاں میرے والدمحمدمغنی انصاری مرحوم نے انتھک جدوجہد کے بعد ایک کامیاب کاروبار قائم کیا۔ جب سقوط ڈھاکہ سے قبل غیربنگالیوں کیلئے حالات خراب ہونے شروع ہوئے تب بھی میرے والد اور میرے خاندان نے کھل کر پاکستان اور پاکستانی فوج کاساتھ دیا۔ میرے والد نے تمام ترمشکلات کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج کے اعلیٰ حکام سے رابطہ میں رہ کر فوج کا ہرممکنہ طریقہ سے ساتھ دیا۔ محمد انور نے کہاکہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جب سابقہ مشرقی پاکستان میں غذائی اجناس فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں نے پاکستانی فوج کوفوڈسپلائی بندکردی تھی تومیرے والد نے پاکستانی فوج کوغذائی اجناس فراہم کرنے کیلئے ایک کمپنی تشکیل دی جو سقوط ڈھاکہ کے دن تک پاک فوج کی مغربی بنگال رجمنٹ کوغذائی اجناس فراہم کرتی رہی اورمحض اس ذمہ داری کی وجہ سے میرے والد مغربی پاکستان ہجرت نہ کرسکے۔محمدانور نے کہاکہ افواج پاکستان کی مددواعانت کرنے کے جرم میں نئے قائم شدہ بنگلہ دیش کی حکومت نے میرے والد مغنی انصاری کو گرفتار کرکے war collaborator کا الزام لگا کر ان پر نہ صرف جنگی جرائم کامقدمہ چلایا بلکہ انہیں سزابھی دی گئی۔ میرے والد نے اپنی سزا پوری کی اور رہائی کے بعد انہوں نے بنگلہ دیش میں رہنے سے انکارکرکے اپنامکان اورکاروبارسب کچھ چھوڑ کر مغربی پاکستان ہجرت کی۔محمدانور نے کہاکہ پاکستان اور افواج پاکستان کیلئے گراں قدر خدمات انجام دینے پر میرے والد کو14 اگست 1967ء کو حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہء خدمت سے بھی نوازاگیا۔محمدانور نے کہاکہ میں یہ مختصر تفصیل بتانا اسلئے ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھ پر بھارتی شہری ہونے کا گھناؤنا الزام لگایا گیا اور بھاری شہری یا بھارتی ایجنٹ ہونے کی ناپاک سازش کی گئی ہے۔ میں شرجیل میمن کے اس انتہائی لغو اور جھوٹے الزام کی مذمت کرتاہوں اوران سے مطالبہ کرتاہوں کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں ورنہ انہیں عدالت کے روبرو اپنے الزام کی سچائی ثابت کرنے کیلئے پیش ہونا پڑے گا۔ 

12/2/2016 10:39:30 PM