Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اگر اردو بولنے والے پسند نہیں ہیں تو پھر اردو بولنے والوں کا الگ صوبہ بنا دیا جائے۔ الطاف حسین


اگر اردو بولنے والے پسند نہیں ہیں تو پھر اردو بولنے والوں کا الگ صوبہ بنا دیا جائے۔ الطاف حسین
 Posted on: 1/3/2014 1
اگر اردو بولنے والے پسند نہیں ہیں تو پھر اردو بولنے والوں کا الگ صوبہ بنا دیا جائے۔ الطاف حسین
اگر ایک خاندان کے بیٹے الگ الگ رہ سکتے ہیں تو پھر ایک صوبے کے بیٹے بھی علیحدہ زندگی گزار سکتے ہیں
حکومت سندھ نے سندھ کی آدھی آبادی کو کاٹ کرپھینک دیاہے،اردوبولنے والوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے ، وزیراعظم نوازشریف فوری مداخلت کریں اورخدارا پاکستان کوبچانے کیلئے سندھ آئیں
جنرل پرویزمشرف کے اقدام کاساتھ دینے والوں میں جنرل کیانی بھی شریک تھے اورجنرل پرویزمشرف کے اقدامات کو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اوردیگرججز نے جائز قرار دے کران کاساتھ دیا
اگر آپ جنرل پرویز مشرف کو لٹکاناچاہتے ہیں تو ان کا ساتھ دینے والوں کوبھی لٹکائیے
حیدرآبادکے علاقے لطیف آباد میں واقع باغ مصطفی گراؤنڈمیں عظیم الشان جلسہ عام سے ٹیلی فونک خطاب
حیدرآباد: ۔۔۔۔3 جنوری2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ اردو بولنے والے سندھ دھرتی کے بیٹے ہیں اور اپنا جائز حق چاہتے ہیں ، انہیں انکے حقوق سے محروم رکھاجارہاہے،ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالاجارہاہے۔اگراردوبولنے والے پسندنہیں ہیں توپھر اردو بولنے والوں کاالگ صوبہ بنادیاجائے۔ اگر ایک خاندان کے بیٹے الگ الگ رہ سکتے ہیں تو پھر ایک صوبے کے بیٹے بھی علیحدہ علیحدہ زندگی گزار سکتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ نے سندھ کی آدھی آبادی کو کاٹ کرپھینک دیاہے اورانہیں دیوار سے لگایاجارہاہے ، لہٰذا وزیراعظم نوازشریف اس سلسلے میں فوری مداخلت کریں اورخدارا پاکستان کوبچانے کیلئے سندھ آئیں۔سابق صدرجنرل پرویزمشرف کے اقدام کاساتھ دینے والوں میں جنرل کیانی بھی شریک تھے اورجنرل پرویزمشرف کے اقدامات کو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اوردیگرججز نے جائز قرار دے کران کاساتھ دیااورانہیں تین سال کی توسیع بھی دی تھی لہٰذااگر آپ جنرل پرویز مشرف کو لٹکاناچاہتے ہیں تو ان کا ساتھ دینے والوں کوبھی لٹکائیے۔ان خیالات کااظہارجناب الطاف حسین نے حیدرآبادکے علاقے لطیف آباد میں واقع باغ مصطفی گراؤنڈمیں عظیم الشان جلسہ عام سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسہ عام میں ایم کیو ایم کے ذمہ داران ،کارکنوں اورہمدردوں کے علاوہ مختلف قومیتوں،مسالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے بزرگوں ، خواتین ، نوجوانوں اور بچوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔حاضرین کی ریکارڈتعدادکے باعث پنڈال اوراس کے اطراف کی سڑکوں پر تاحدنگاہ انسانوں کے سرہی سر دکھائی دے رہے تھے۔ اس موقع پرپنڈال کے شرکاء بالخصوص خواتین کا جوش وخروش قابل دیدتھا ۔ پنڈال کے شرکاء وقفے وقفے سے فلک شگاف نعرے لگاکرجناب الطاف حسین سے اپنی والہانہ عقیدت ومحبت کا اظہارکررہے تھے ۔ اپنے خطاب کے آغاز میں جناب الطاف حسین نے حیدرآبادکے عوام کوماہ ربیع الاول کے آغاز کی مبارکبادپیش کی۔ 
اپنے خطاب میں انہوں نے کہاکہ مہذب معاشرے میں مقامی حکومتوں کے نظام کوترجیح دی جاتی ہے اورمقامی حکومتوں کے نظام کو جمہوریت کی نرسری تسلیم کیا جاتا ہے اورمقامی حکومتوں کے نظام کے بغیرجمہوریت ادھوری اوربے معنی تصورکی جاتی ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں 67 برسوں سے ہرجمہوری حکومت نے جمہوریت کی نرسری کے بغیرجمہوری نظام چلانے کی کوشش کی ،ملک میں مختلف ادوارمیں مارشل لاء نافذ ہوئے مگرمارشل لاء دور میں ہی مقامی حکومتوں کانظام نافذکیاگیاجبکہ جمہوریت کی دعویدارکسی بھی جماعت نے اپنے دورمیں بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے۔ یہ جمہوری جماعتیں مختلف حیلے بہانے بناکربلدیاتی الیکشن سے راہ فراراختیارکرتی رہیں اوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ موجودہ حکومت سندھ نے بلدیاتی الیکشن سے راہ فرارکیلئے خودساختہ اور من پسند حلقہ بندیاں کیں جس کاواحدمقصدیہ تھاکہ حکمراں جماعت کے نمائندے ہرجگہ سے کامیاب ہوجائیں اورسندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کے عوامی مینڈیٹ پرڈاکہ ڈال کراسے ہرجگہ سے ناکام کرایاجاسکے۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ پیپلزپارٹی اپنی عددی اکثریت کے تحت سندھ میں دیہی اورشہری تفریق کوبڑھاکرصوبے میں اتحادویکجہتی کی فضاء کوسبوتاژ کرناچاہتی ہے اورسندھ کی شہری آبادی کواس کے جائز حقوق سے محروم کرناچاہتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگراقوام متحدہ کے تحت سندھ میں مردم شماری کرائی جائے توسندھ کی شہری آبادی کاتناسب دیہی آبادی سے کہیں زیادہ ہوگالہٰذا میں پیپلزپارٹی کی قیادت اورسندھی قوم پرستوں سے کہتاہوں کہ اگرآپ شہری سندھ کی آبادی یعنی اردوبولنے والے سندھیوں کے حقوق تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں تو پھرسندھ کی شہری آبادی کا علیحدہ صوبہ بنادیاجائے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1973ء میں پیپلزپارٹی نے صوبہ سندھ میں لسانی فسادات کراکرسندھ کے شہری عوام کے حقوق پرڈاکہ ڈالا اورریاستی طاقت کاناجائز استعمال کرتے ہوئے من مانے فیصلے کئے ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح آج میں نے ہمت وجرات کے ساتھ سندھ کے شہری عوام کے حقوق کامطالبہ کیاہے اسی طرح حکومت سندھ بھی سامنے آکربات کرے اورعددی اکثریت کے بل پرشہری سندھ کے حقوق پرڈاکہ ڈالنے کاعمل بند کرے۔انہوں نے سندھ کے حکمرانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں پیشگی بتارہاہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ سازشیں کرنے کے بجائے بات چیت سے مسئلہ کاحل تلاش کرلواورسندھ کے شہری عوام کے حقوق کیلئے افہام وتفہیم کاراستہ اختیارکروورنہ آج الطاف حسین بات چیت کیلئے تیارہے کل خدانخواستہ میرے بعدکوئی بات چیت کیلئے تیارنہ ہواتواس کے نتائج صوبہ سندھ اوراس کے عوام کیلئے بہترنہیں ہوں گے۔ انہوں نے سندھ کے دانشوروں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ سندھ میں اتحادویکجہتی کی فضاء کیلئے میدان عمل میں آکراپنا کردار ادا کریں،کہیں خوانخواستہ ایسانہ ہو کہ صوبہ سندھ کے شہری اوردیہی علاقوں میں1973ء جیسی صورتحال پیداہوجائے۔جناب الطاف حسین نے پیپلزپارٹی اوراس کی قیادت کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ صوبے کے ہرشعبے میں شہری اوردیہی آبادی کے مساوی حقوق کامعاہدہ کریں اور سب کو برابری کے بنیاد پر حقوق فراہم کیے جائیں۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کی جارہی ہے ، اگر سندھ حکومت ، حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان نہیں کرتی تو ہم یونیورسٹی کے قیام کیلئے خود جھولی بھرو مہم کا آغاز کردیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ اردو بولنے والے سندھی اور سندھی بولنے والے سندھی صوبے میں اتفاق اور محبت سے رہنا چاہتے ہیں ، اردو بولنے والے سندھ دھرتی کے بیٹے ہیں اور اپنا جائز حق چاہتے ہیں ، تاہم اگر ایک خاندان کے بیٹے الگ الگ رہ سکتے ہیں تو پھر ایک صوبے کے بیٹے بھی علیحدہ علیحدہ زندگی گزار سکتے ہیں ۔ انہوں نے سندھ کے شہری علاقوں کی زبوں حالی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے شہری علاقے ہڑپہ اور موئن جودڑو کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور سندھ کے شہری علاقوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ، سندھ کے شہری عوام کو سول سروس کی ملازمتوں میں نہیں لیا جاتا اور ان کیلئے کوئی ترقیاتی اسکمیں نہیں بنائی جاتیں ، ایسی صورت میں سندھ کی شہری آبادی میں احساس محرومی شدت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے معاملے پر ایم کیو ایم نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے کہ سندھ حکومت ناجائز عمل کررہی ہے۔ اب اگر طاقت کے بل پر اس فیصلے کو نہیں مانا گیا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا تو اسکے مثبت نتائج نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے آگ اور خون کے دریا عبور کرکے پاکستان بنایا ہے ، ہم انہی کی اولادیں ہیں جو چھوٹے بڑے ریاستی آپریشنوں سے گزر کر آج بھی زندہ ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی رہیں گے ۔ ہم پاکستان میں کسی سمندر میں غرق ہونے نہیں آئے،ہم نہ کسی کے غلام بنناچاہتے ہیں اور نہ ہی کسی کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں ، ہم برابری کی عزت اور یکساں حقوق چاہتے ہیں ۔ سندھ حکومت کو چاہئے کہ وہ سندھ کے شہری عوام کے جائز حقوق کو کھلے دل سے تسلیم کرے ۔ اگر حکومت ہمارے حقوق دینے کے بجائے جبر و ستم کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے تو وہ جان لے کہ سندھ کے شہری عوام نے تہیہ کرلیا ہے کہ وہ اپنی جانیں قربان کردیں گے لیکن اپنے جائز حقوق اور اصولوں کا سودا ہر گز نہیں کریں گے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ میری دھرتی ہے، میں سندھ دھرتی کابیٹاہوں،سندھ کومتحددیکھناچاہتاہوں،سندھ کو توڑنا نہیں چاہتا ،سندھ کے دوست دانشوروں،سندھ کے سچے بیٹوں کوچاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اورمیراساتھ دیں۔انہوں نے کہاکہ ذوالفقارعلی بھٹو 1950ء میںآئے تھے جب وہ سندھ کے بیٹے بن سکتے ہیں توہم کیوں نہیں بن سکتے ؟ویسے ہمیں کہاجاتاہے سندھی بنیں لیکن جب حق دینے کاوقت آتا ہے توکہاجاتاہے کہ آپ سندھی نہیں بلکہ اردوبولنے والے ہیں۔انہوں نے اسٹیبلشمنٹ، فوج اوروفاقی حکومت سے کہاکہ آپ کیاسمجھتے ہیں کہ سندھ کی آدھی آبادی کوکھڈے لائن لگاکرسمندرمیں پھینک دیں گے؟ کیاآپ مہاجروں میں علیحدگی کے جراثیم پیداکرناچاہتے ہیں؟آپ کب مداخلت کریں گے؟کیا آپ اس وقت مداخلت کریں گے جب مہاجر علیحدہ ریاست کامطالبہ کریں؟میں نے علیحدہ ریاست کامطالبہ نہیں کیا ، میں عوام کے حقوق چاہتاہوں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آپ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ کیاسلوک کررہے ہیں،آپ انکے ساتھ کیا کررہے ہیں؟پرویزمشرف کے خلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ میراسوال یہ ہے کہ ملک میں مارشل لاء جنرل پرویزمشرف نے نہیں لگایا،وہ تواس وقت ہوامیں تھے ،مارشل لاء توانہوں نے لگایا جو زمین پر تھے لیکن ان میں سے آج کوئی بھی جیل میں نہیں ہے ، جن فوجی افسروں نے 12 اکتوبر 1999ء کواس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کاتختہ الٹا، جنہوں نے نوازشریف کواسپیچ روم سے نکالااورانہیں حراست میں لیاانکے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟جنرل پرویزمشرف کے اقدام کاساتھ دینے والوں میں جنرل کیانی بھی شریک تھے،جنرل پرویزمشرف کے اقدامات کو اس وقت کے چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری اوردیگرججز نے جائز قرار دے کران کاساتھ دیا ۔ جنرل پرویزمشرف کوتین سال کی توسیع میں نے نہیں سپریم کورٹ کے چیف ججزنے دی تھی۔اگر آپ جنرل پرویزمشرف کولٹکاناچاہتے ہیں تو لٹکائیے لیکن ان کا ساتھ دینے والوں کوبھی لٹکائیے۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پاکستان معاشی طورپرتباہ ہے، ملک آئی ایم ایف کا کشکول ہاتھوں میں لئے کھڑا ہے، ہم کس کی سوچیں،ہمیں توجینے کاحق بھی نہیں دیاجارہاہے۔لوگ کہتے ہیں کہ میں وطن واپس کیوں نہیں آتا،وہ چاہتے ہیں کہ میں واپس آؤں اورمجھے ماردیاجائے ۔یہ مجھے جہاں چاہیں قیدکریں لیکن جہاں مجھے قیدکریں وہاں میرے بھائی ،بھتیجے اورمیرے ہزاروں شہیدساتھیوں کے قاتلوں کوبھی بندکریں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں طالبان کی کھل کرمخالفت کرتارہا اورفوج اورارباب اختیارکوپیشکش کرتارہاکہ ایم کیوایم کے ایک لاکھ کارکن طالبان کے خلاف جنگ کیلئے حاظرہیں ۔ انہوں نے فوج کو پیشکش کی کہ اگر انڈیانے پاکستا ن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو پاکستان کیلئے دولاکھ کارکنان حاظر ہیں ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جولوگ کہتے ہیں کہ جنرل پرویزمشرف کے اقدامات غیرآئینی تھے تووہ بتائیں کہ پارلیمنٹ اوروزراء نے کس کا حلف اٹھایاتھا؟آدھاصحیح ، آدھاغلط نہیں چلے گا، ملک کوچوں چوں کامربہ نہ بنایاجائے اورپاکستان کومزیدتقسیم نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہسابق صدرپرویزمشرف کے وکلاء شریف الدین پیرزادہ،منصورعلی خان اوردیگروکلاء کودھمکیاں دی گئی، آخروفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارکہاں ہیں؟دھمکیاں دینے والے عناصر کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟انہوں نے کہاکہ میں پاکستان کا حامی ہوں اور پاکستان کے حوالے سے بہت سخت آدمی ہوں۔میں کرپشن فری پاکستان دیکھناچاہتاہوں۔میرے ہاتھ میں اختیار ہوتو میں پاکستان کاخزانہ لوٹنے والوں کوپکڑکرسلاخوں کے پیچھے کروں اورقانون کے تحت سزادلاؤں۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کی حکومت آئی توقومی دولت لوٹنے والوں سے تمام لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے گی اور ان کی جائیدادیں فروخت کرکے کالج ، اسپتال بنائے جائیں گے۔جناب الطا ف حسین نے وزیراعظم نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ نے سندھ کی آدھی آبادی کو کاٹ کرپھینک دیاہے اورانہیں دیوار سے لگایاجارہاہے ، لہٰذا وزیراعظم نوازشریف اس سلسلے میں فوری مداخلت کریں اورخدارا پاکستان کوبچانے کیلئے سندھ آئیں۔انہوں نے کارکنوں اورحیدرآبادکے عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں نے آج ساری باتیں کھل کربیان کردی ہیں، اگرمیں نہ رہوں توآپ محروم عوام کے حقوق اورپاکستان کو مستحکم بنانے کاجومیرامشن ہے اسے جاری رکھیں۔




























































12/10/2016 6:19:22 PM