Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان بین الاقوامی سطح پر تیزی سے تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔الطاف حسین


پاکستان بین الاقوامی سطح پر تیزی سے تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 12/17/2013
پاکستان بین الاقوامی سطح پر تیزی سے تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔الطاف حسین
آج ایران اورامریکہ ہی کے تعلقات بہترنہیں ہورہے ہیں بلکہ بھارت ، افغانستان اورایران کے باہمی تعلقات بھی تیزی سے بہتر ہورہے ہیں
ہمیں گومگوں کی کیفیت سے نکل کرملک کے مستقبل کے بارے میں کوئی ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ہمیں ملک کو ایک لبرل اور پروگریسو ریاست بنانا ہے یامذہبی ریاست
سانحہ سقوط ڈھاکہ سے قبل بھی ہم پراجتماعی غفلت طاری تھی۔ ارباب اقتدارکی سوچ نفرت وتعصب سے بھری ہوئی تھی
زندہ قومیں ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتی ہیں، ارباب اختیار واقتدار نے سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا 
آج بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے ، خیبرپختونخوا میں ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ہے۔
اندرون سندھ سندھودیش کی تحریک کے حمایتی موجود ہیں۔ ماضی میں گریٹر پنجاب کے منصوبے کا انکشاف ہوچکا ہے
اردو بولنے والوں میں یہ احساس جنم لے رہاہے کہ اگر خدانخواستہ ان منصوبوں پر عمل درآمد ہوا تو ہمارا مستقبل کیا ہوگا
پاکستان کو بچانے کیلئے ہمیں ایک فیصلہ کرنا ہوگا۔ یوم سقوط ڈھاکہ کے موقع پر ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں خطاب
لندن ۔۔۔17 دسمبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر تیزی سے تنہائی کاشکارہوتاجارہاہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے بے شمار اندرونی خطرات کابھی سامنا ہے ۔ موجود ہ حالات کاتقاضہ ہے کہ اب ہم کسی اورسے مدد کی توقع کرنے کے بجائے اپنے ملک کے بارے میں سوچیں ۔ ہمیں اب گومگوں کی کیفیت سے نکل کرملک کے مستقبل کے بارے میں کوئی ٹھوس فیصلہ کرناہوگاکہ آیاہمیں ملک کوایک لبرل اور پروگریسو ریاست بنانا ہے یامذہبی ریاست۔ہمیں طالبان سے مقابلہ کرنا ہے یا ملک کوان کے حوالے کردیناہے۔انہوں نے ان خیالات کااظہارگزشتہ روزیوم سقوط ڈھاکہ کے موقع پر ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ایک اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں اراکین رابطہ کمیٹی، پاکستان سے آئے ہوئے سینیٹرز،ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور سیکریٹریٹ کے ارکا ن شریک تھے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سانحہ سقوط ڈھاکہ سے قبل بھی ہم پراجتماعی غفلت طاری تھی۔ ملک کے ارباب اقتدارکی سوچ تعصب اورنفرت سے بھری ہوئی تھی اوروہ ذاتی ، علاقائی اورگروہی سیاست میں اس قدرالجھے ہوئے تھے کہ انہیں اس بات کااحساس ہی نہیں ہواکہ ملک کس سمت جارہاہے۔ اس غفلت کانتیجہ یہ نکلاکہ 16دسمبر1971ء کا وہ منحوس دن آگیا جب دنیاکے نقشے سے مشرقی پاکستان کاوجودہی مٹ گیا اوراس کی جگہ ایک نئی ریاست بنگلہ دیش کی صورت میں نمودار ہوگئی۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سانحہ مشرقی پاکستان اوراس کے اسباب پر لاتعدادکتابیں لکھی گئی ہیں لیکن افسوس کہ اس تاریخ کوبھی تعصب کی بھینٹ چڑھادیا گیا،قوم کواصل حقائق نہیں بتائے گئے اورمجرموں کومظلوم اورمظلوموں وبیکسوں کو مجرم بناکرپیش کیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی سانحہ سقوط ڈھاکہ کی برسی آئی اورچلی گئی۔میں نے ٹی وی پر اس امیدپر خبریں دیکھیں کہ کہیں تو کوئی اس سانحہ کے پس پشت اصل حقائق بتائے گا لیکن بدقسمتی سے ایسانہ ہوا۔ ٹی وی ٹاک شوزپر ماہرین ودانشوروں نے باتیں توبہت کیں لیکن نہ تو اس سانحہ کی اصل وجوہات بتائیں اورنہ ہی قوم کویہ بتایاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے سنگین سانحات سے ملک وقوم کوکیسے بچایا جاسکتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ زندہ قومیں اپنے ماضی خصوصاً ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتی ہیں اور ان کااعادہ کرنے سے بچتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیاپاکستان کے ارباب اختیار واقتدار نے اس سانحہ سے کوئی سبق سیکھا یانہیں ؟۔ انہوں نے کہاکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے قبل ہمارے حکمراں یہ کہتے نہ تھکتے تھے کہ مغربی ممالک ہمارے دوست ہیں اوروہ بھارت کے مقابلہ میں ہماری مدد کوآئیں گے لیکن کیا ایساہوا؟آج بھی خطہ میں اہم تبدیلیاں ہوتی نظرآرہی ہیں۔ میں ادب کے ساتھ اپنے ہم وطنوں سے سوال کروں گاکہ کیاوہ کل تک یہ سوچ بھی سکتے تھے کہ کل کے دشمن ایران اورامریکہ کسی وقت ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے اوراپنے معاملات درست کرلیں گے؟کل تک بین الاقوامی امورکاہرماہر یہ پیش گوئی کرتاتھا کہ ایران پر امریکی حملہ آج کل کی بات ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔میں کبھی یہ نہیں چاہوں گاکہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک پر حملہ کرے۔اگرایران اورامریکہ کے معاملات درست ہورہے ہیں تویہ عالمی امن کیلئے ایک نیک شگون ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج ایران اورامریکہ ہی کے تعلقات بہترنہیں ہورہے ہیں بلکہ بھارت ، افغانستان اورایران کے باہمی تعلقات بھی تیزی سے بہترہورہے ہیں ۔ چین اوربھارت تک ماضی کی غلطیاں بھلاکر اب تجارتی اورسفارتی مراسم بڑھارہے ہیں جبکہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر تیزی سے ’’ سفارتی تنہائی ‘‘ کا شکا رہوتاجارہاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس وقت پاکستان کوجہاں بیرونی سطح پر تنہائی (Isolation) کا سامناہے وہاں اسے بے شمار اندرونی خطرات کابھی سامنا ہے ۔بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے ، صوبہ خیبرپختونخوا میں پاکستان کے قیام کے دن سے ڈیورنڈ لائن کاتنازعہ ہے۔اندرون سندھ طویل عرصہ تک سندھودیش کی تحریک چلتی رہی ہے اورآج بھی اس کے حمایتی موجود ہیں۔ ماضی میں گریٹر پنجاب کے منصوبے کاجوانکشاف کیاگیا ہے اوراس کے بارے میں خودمیری بھی ایک تحریرموجود ہے۔ ان حالات میں اردو بولنے والوں میں بھی یہ احساس تیزی سے جنم لے رہاہے کہ اگرخدانخواستہ ان منصوبوں پر عمل درآمدہواتو ہمارامستقبل کیاہوگا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ موجود ہ حالات کاتقاضہ ہے کہ اب ہم کسی اورسے مدد کی توقع کرنے کے بجائے اپنے ملک کے بارے میں سوچیں ۔ ہمیں اب گومگوں کی کیفیت سے نکلناہوگا اورملک کے مستقبل کے بارے میں کوئی ٹھوس فیصلہ کرناہوگاکہ ہمیں ملک کوایک لبرل اور پروگریسو ریاست بنانا ہے یامذہبی ریاست ۔ ہمیں فرقہ واریت کاخاتمہ کرنا ہے یااس کامقابلہ کرناہے۔ ہمیں طالبان سے مقابلہ کرنا ہے یا ملک کوان کے حوالے کردیناہے خواہ کچھ بھی صحیح لیکن ہمیں کوئی ایک فیصلہ تواب کرلیناہوگا اورپھرڈٹ کر اس پر قائم رہناہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرلیناچاہیے کہ ہم پاکستان کوبیک وقت لبرل اورمذہبی ریاست نہیں بناسکتے۔ پاکستان کوبچانے کیلئے ہمیں ایک فیصلہ کرناہوگا اور یہی میرایوم سقوط ڈھاکہ کے حواسے سے قوم کوپیغام ہے ۔ 

12/8/2016 3:53:29 AM