Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

لاہور میں ’’فلسفہ ء محبت ‘‘ کی تقریب پذیرائی سے ایم کیوایم کے قائد الطا ف حسین کا خطاب


لاہور میں ’’فلسفہ ء محبت ‘‘ کی تقریب پذیرائی سے ایم کیوایم کے قائد الطا ف حسین کا خطاب
 Posted on: 12/13/2013
لاہور میں ’’فلسفہ ء محبت ‘‘ کی تقریب پذیرائی سے ایم کیوایم کے قائد الطا ف حسین کا خطاب
لندن۔۔۔13 دسمبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ اگرہم بھرپورقومی یکجہتی اوراتحاد کامظاہرہ کریں توامریکہ ہم سے بھی ہمارے جائز مطالبات ومعاملات پر بات کرے گا لیکن اگر ہم ایک طرف امریکہ سے امداد کی بھیک مانگیں اوردوسری جانب اسے آنکھیں دکھائیں تواس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور ڈرون حملے جاری رہیں گے۔ جماعت اسلامی والے بنگلہ دیشن میں اپنے ایک رہنماکو1971ء میں جنگی جرائم کے مقدمہ میں پھانسی کی سز ا ہونے پر پاکستان میں احتجاج کررہے ہیں لیکن ان ڈھائی لاکھ محب وطن پاکستانیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا جو آج بھی بنگلہ دیشن میں ریڈکراس کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔میراجرام اورگناہ یہی ہے کہ میں سچ کوسچ اورجھوٹ کو جھوٹ کہتاہوں، میں ظلم کوظلم کہتاہوں۔اسی حق پرستی کی پاداش میں میرے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔میں نے جب پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی ناجائز باتوں کے آگے سرنہیں جھکایا تو باہر کی قوتوں کے آگے کیسے سر جھکا سکتا ہوں۔انہوں نے ان خیالات کااظہار آج اپنی کتاب ’’ فلسفہ محبت ‘‘ کی پذیرائی کے سلسلے میں لاہورکے اواری ہوٹل کے خورشیدمحل میں منعقدہ تقریب سے ٹیلیفونک خطاب میں کیا۔ تقریب میں پنجاب کے دانشوروں، ادیبوں، شاعروں، کالم نگاروں، صحافیوں، سیاسی ومذہبی رہنماؤں، وکلاء، ججوں، سفارتکاروں، تاجروں اوردیگرشعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکی بڑی تعدادمیں شرکت کی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان کے ممتاز دانشور،قلم کار، شاعراورکالم نگارحسن نثار تھے جبکہ تقریب کی صدارت بزرگ صحافی اوردانشورمجیب الرحمن شامی نے کی ۔ تقریب سے پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما جہانگیر بدر، منوبھائی، ڈاکٹر اجمل نیازی، خواجہ جمشیدامام بٹ، ذوالفقارراحت سندھو، افتخاربخاری، رابطہ کمیٹی کے رکن میاں عتیق، سینٹرل ایگزیکٹوکونسل کی رکن محترمہ طاہرہ آصف اورایم کیوایم سینٹرل پنجاب کی صدر محترمہ بسمہ سکھیرا نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ تقریب میں ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی، دیگر اراکین رابطہ کمیٹی ،ارکان اسمبلی اوردیگرعہدیداربھی موجود تھے۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں فلسفہ ء محبت کے بارے میں کہاکہ آج جسے دیکھو وہ ’’ آئی لو یو ‘‘ کہتاہے ۔ ’’ Love ‘‘ پر میں نے بہت غوروفکرکیاتومیں اس نتیجے پر پہنچا کہ ’’ محبت خدا ہے ، خدا محبت ہے ‘‘ ۔ اگرانسان کی محبت میں صفات الہیہ کی جھلک نظر نہیں آتی توپھر وہ محبت، محبت کہلانے کی مستحق نہیں۔صفات الہٰی یہ ہے کہ خدااپنے بندوں سے بے لوث محبت کرتاہے، اللہ تعالیٰ نہ صرف اسے رزق دیتاہے جواسے مانتا ہے بلکہ وہ اسے بھی رزق دیتا ہے جواسے نہیں مانتا۔اللہ اپنے بندوں سے محبت کرتاہے وہ یہ نہیں دیکھتاکہ کون اس کی عبادت کررہاہے کون نہیں۔ اللہ اس بات کاطالب نہیں ہوتاکہ وہ بندے کورزق دے توبندہ اس کے جواب میں خدا کوسجدہ کرے،اس کی عبادت کرے۔ اللہ کوبندے سے کسی صلے کی طلب نہیں ہوتی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب انسان کی پیدائش ہوئی تو اللہ نے لاکھوں سالوں سے موجود جنات وملائکہ کوحکم دیاکہ میں مٹی سے انسان کوبنارہا ہوں، اسے سجدہ کرو۔سب نے سجدہ کیالیکن اللہ کے سب سے برگزیدہ فرشتے ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکارکردیا۔اس نے کہاکہ میں آگ سے بناہواہوں میں اس مٹی کے پتلے کوکیسے سجدہ کروں۔ابلیس کے اندرانا آگئی اورجہاں اناآتی ہے وہ برگزیدہ فرشتے کوبھی شیطان بنادیتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بعض لوگ انا کو عزت نفس سے تعبیرکرتے ہیں جبکہ انا اورعزت نفس الگ الگ چیزیں ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اللہ تعالیٰ انسانوں سے جو محبت کرتا ہے وہ ہرقسم کی طلب سے پاک ہوتی ہے لیکن انسان، انسان سے جومحبت کرتاہے اس میں وہ صلے کی طلب رکھتاہے جبکہ سچی محبت بے لوث ہوتی ہے اوراسے کسی صلے کی تمنا نہیں ہوتی۔
جناب الطا ف حسین نے کہا کہ اکثرلوگ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ایم کیوایم جنرل ضیاء الحق نے بنائی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب 11جون 1978ء کو آل پاکستان مہاجراسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کے قیام کے بعد میں نے 14 اگست 1979ء کو قائداعظم کے مزار کے سامنے بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لئے مظاہرہ کیاتومجھے گرفتارکرلیاگیا۔ اس وقت ملک میں جنرل ضیاء الحق کامارشل لاء نافذ تھا۔مجھ پرمقدمہ بنایا گیا کہ میں نے پول پر چڑھ کر پاکستانی پرچم اتارکرسیاہ پرچم لگایا جبکہ وہ سراسرجھوٹامقدمہ تھا، حقیقت یہ ہے کہ مجھے پول پر چڑھناتک نہیں آتا۔ مجھے جنرل ضیاء الحق کی سمری ملٹری کورٹ نے 9 ماہ قید کی سزاسنائی ۔ میں نے 9 ماہ تک اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹی لیکن معافی نہیں مانگی۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ کوجیل بلاکرکہا کہ اگر انتظامیہ کے لوگ آپ کے پاس آئیں تو آپ کسی بھی صورت میں میری رہائی کے لئے ان سے معافی نہ مانگیں۔جناب الطا ف حسین نے حاظرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں قرآن پر حلفیہ کہتاہوں کہ میں نہ اسٹیبلشمنٹ کی پیدا وار تھا ،نہ ہوں ۔جنرل حمیدگل، بریگیڈیئرامتیاز اورجنرل اسلم بیگ زندہ ہیں ، آپ ان کے ہاتھ پر قرآن پر ہاتھ رکھ کرپوچھیں کہ انہوں نے الطاف حسین کے پاس بریف کیس بھرکے پیسے بھیجے تھے یانہیں اورالطاف حسین نے یہ پیسے لے لئے تھا یاپیسے لینے سے صاف انکارکردیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ میں پاکستان کاواحدسیاسی لیڈرہوں جس نے فوج اورسرکاری ایجنسیوں سے پیسے نہیں لئے، میرے علاوہ کوئی سیاسی رہنما ایسانہیں ہے جس نے فوج اورایجنسیوں سے پیسے نہ لیئے ہوں۔ میں نے فوج اورآئی ایس آئی والوں سے کہاکہ میں پاکستان کے لئے جان دینے کے لئے تیارہوں لیکن میرے اورپاکستان کے درمیان پیسے کی دیوارنہ کھڑی کریں، میں پیسے لئے بغیروطن سے بے لوث محبت کرنے والاہوں ۔ 
جناب الطا ف حسین نے شرکاء سے کہاکہ محبت بے لوث اوربے غرض ہونی چاہیے، خدا اپنے بندوں سے بے غرض محبت کرتاہے ، ہمیں بھی اللہ اوراس کے بندوں سے بے لوث محبت کرنی چاہیے۔ اس موقع پرانہوں نے حضرت رابعہ بصری ؒ کی حکایت بھی بیان کی کہ ایک روزلوگوں نے انہیں اس طرح دیکھاکہ وہ جلال کے عالم میں تھیں ،انکے ایک ہاتھ میں آگ اوردوسرے ہاتھ میں پانی تھا۔ لوگوں نے ان سے دریافت کیاکہ آپ آگ اورپانی لئے کہاں جارہی ہیں؟ توانہوں نے جواب دیاکہ میں آگ سے جنت کو جلانے اورپانی سے دوزخ کی آگ بجھانے جارہی ہوں تاکہ لوگ جنت کی لالچ اوردوزخ کے خوف سے بے نیاز ہوکراللہ تعالیٰ سے بے لوث محبت کریں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ عصبیت، پرخلوص محبت کی نفی ہے، ہم پنجابی ہوںیاپختون، سندھی ہوں یا بلوچ، مہاجرہوں یاسرائیکی، گلگتی ہوں یا بلتستانی یاکشمیری۔ ہم سب کوتمام تر لسانی وعلاقائی تعصبات سے بالاترہوکرسوچ لیناچاہیے کہ ہم سب ایک جغرافیہ میں رہتے ہیں،ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ہمیں یہ سوچناچاہیے کہ ہم سب اب سندھی بلوچ ازم یاپختون ازم مہاجرازم یاپنجابی ازم نہیں بلکہ صرف پاکستان ازم کی بات کریں گے۔ اگرہم نے اپنے دلوں سے نفرتیں نکال دیں تو ہم انشاء اللہ باقی ماندہ پاکستان کوبھی بچالیں گے۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے ، جب امریکہ ایران سے بات کرسکتاہے تواگرہم بھرپورقومی یکجہتی اوراتحاد کامظاہرہ کریں توامریکہ ہم سے بھی ہمارے جائزمطالبات ومعاملات پر بات کرے گا لیکن اگر ہم ایک طرف امریکہ سے امداد کی بھیک مانگیں اوردوسری جانب اسے آنکھیں دکھائیں تواس کاکوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور ڈرون حملے جاری رہیں گے۔ بعض سیاستداں ڈرون حملوں پرنیٹوسپلائی روک کراپنی سیاسی دکانیں چمکاتے ہیں۔ اگر وہ بہادر ہیں تو قوم کوبیوقوف بنانے کے بجائے ڈرون گراکردکھائیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جولوگ لال قلعہ پر جھنڈا لگانے کی باتیں کرتے ہیں توجب ہم ملک بھرمیں مضبوط ہوجائیں گے توان لوگوں سے کہیں گے کہ جاؤ تم جاکرلال قلعہ پر جھنڈا لگاؤ، ہم پاکستان کومضبوط وخوشحال بنائیں گے۔انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیشی حکومت نے جماعت اسلامی کے ایک رہنماکو1971ء میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر پھانسی کی سزادی ہے جس پر جماعت اسلامی والے پاکستان میں بھی احتجاج کررہے ہیں لیکن ان ڈھائی لاکھ محب وطن پاکستانیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتاجوآج بھی بنگلہ دیشن میں ریڈکراس کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ جن کی بیٹیاں غربت وتنگدستی ،بھوک وافلاس اورپریشانیوں کے ہاتھوں مجبورہوکر عصمت فروشی تک کرنے پر مجبور ہیں۔آخران پاکستانیوں کا کیا قصور تھا؟ انہوں نے بھی توپاکستان ہی کی حمایت کی تھی ۔ انہوں نے کہاکہ جب میں نے ان محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے مظاہرہ کیا تومجھے جھوٹا الزام لگا کر 9ماہ قید کی سزاسنادی گئی۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں فرقہ واریت کے خلاف ہوں، میں شیعہ سنی یافقہ ومسلک کے بنیادپر ایک دوسرے کو کافراورواجب القتل قراردینے کے خلاف ہوں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری پاکستانی ہیں۔ پاکستان کے بانی قائداعظم ؒ بھی خوجہ اثناء عشری شیعہ تھے۔ اگرشیعہ ہوناجرم ہے توقائداعظم کابنایاہواپاکستان بھی اس جرم میں شریک سمجھاجائے گا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میرے علاوہ پاکستان میں کوئی اور سیاستداں ایسانہیں ہے جوکھل کر ایسی باتیں کرے،میراجرام اورگناہ یہی ہے کہ میں سچ کوسچ اورجھوٹ کوجھوٹ کہتاہوں، میں ظلم کوظلم کہتاہوں۔اسی حق پرستی کی پاداش میں قومی اوربین الاقوامی سطح پر میرے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ میرادامن صاف اورضمیرمطمئن ہے، میں نے جب پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی ناجائزباتوں کے آگے سرنہیں جھکایا توملک سے باہر کی قوتوں کے آگے کیسے سرجھکاسکتاہوں ،میں ہر چیز کے لئے تیارہوں، میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا،میں موت کوقبول کرلوں گالیکن اللہ کے سواکسی کے آگے نہیں جھکوں گا۔ جناب الطا ف حسین نے کہا کہ میں اہلیان پنجاب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میری گزارشات کوسنجیدگی سے لیں، ماضی میں لوگ مجھے ’’ کل کالونڈا ‘‘ قراردے کر میری باتوں پر دھیان نہیں دیتے تھے لیکن اب تومیں 60سال کاہوچکاہوں۔اگرمیں نہ رہوں توخدارا میری باتیں یادرکھنا اورفرقہ واریت اورصوبائی اورعلاقائی تعصبات کے عفریت پر قابوپاکرپاکستان کوبچالینا۔جناب الطا ف حسین نے بزرگ صحافی اورتقریب کے صدر مجیب الرحمن شامی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ شامی صاحب آپ نے فرمایاکہ الطاف بھائی ہزاروں میل دوربیٹھے ہیں لیکن لوگ تب بھی ان کوچاہتے ہیں ، آخراس کے پیچھے کونساراز اورکونسی طاقت کارفرماہے؟۔ انہوں نے کہاکہ یہ کوئی رازنہیں بلکہ محبت ہے اور اب تک توصرف سندھ کے عوام ہی الطاف حسین کوچاہتے تھے لیکن اب یہ محبت پنجاب اوردیگرعلاقوں تک بھی پھیل رہی ہے۔ جلد ہی پنجاب میں بھی ایم کیوایم کے لئے محبتیں ہی محبتیں ہوں گی اورہم پنجاب کوجاگیرداروں کے تسلط سے نجات دلائیں گے اورپاکستان کوایک مضبوط ومستحکم ملک بنائیں گے۔جناب الطاف حسین نے’’ فلسفہ محبت ‘‘ کی تقریب پذیرائی میں شرکت پر پنجاب کے دانشوروں، ادیبوں، شاعروں، کالم نگاروں، صحافیوں، سیاسی ومذہبی رہنماؤں، وکلاء، ججوں، سفارتکاروں، تاجروں اوردیگرشعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کاشکریہ اداکیا۔ اپنے خطاب کااختتام انہوں نے اس شعر پرکیا۔
ان کاجوکام ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

12/6/2016 1:47:24 PM