Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سیاسی جماعتیں اور تحریکیں


 Posted on: 12/13/2013
سیاسی جماعتیں اور تحریکیں
تحریکی کارکنان کی فکری اور نظریاتی پختگی کیلئے روحانی غذا
ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کا فکرانگیز لیکچر

روحانی غذا:۔
فکری نشستیں ، حقوق کی تحریک میں کام کرنے والوں کو فکری اور نظریاتی بنیادوں پختہ کرنے کیلئے روحانی غذا کا درجہ رکھتی ہیں ۔بشری کمزوریوں ، خامیوں ، انسانی جبلت( human instinct) ، نفسیاتی مسائل ، نفسیاتی ردعمل اور انسانی کیمسٹری پر میں نے سینکڑوں فکری نشستیں کی ہیں۔ 

حصول علم کیلئے طالبعلم کی پسند کی اہمیت:۔
جب کوئی طالبعلم ،تعلیم کے کسی شعبے مثلاً سائنس ، فزکس، کیمسٹری، سائیکالوجی، فزیالوجی، بوٹنی، زولوجی،ریاضی( mathematics )، شماریات ( accounting ، statstics )، پولیٹیکل سائنس، میڈیکل، انجینئرنگ، الیکٹرانکس، میٹافزکس یا دیگر کسی شعبہ میں داخلہ لیتا ہے، اس شعبہ کی کلاس اٹینڈ کرتا ہے اور وہ مذکورہ بالاکوئی بھی کورس سیکھتا ہے تو اس کلاس کے طلباء میں سے کچھ پہلی پوزیشن حاصل کرتے ہیں، کچھ دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہیں اورکچھ تیسری پوزیشن حاصل کرتے ہیں۔ عموماً کلاس کے تمام طلباء سیکھتے ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ کوئی زیادہ سیکھ لیتا ہے اورکوئی کم ۔زیادہ سیکھنے والا طالبعلم اپنے شعبہ اور فیلڈ میں فرسٹ کلاس آتا ہے اور کوئی اتنا سیکھتا ہے کہ وہ فرسٹ کلاس سے تھوڑا نیچے درجے پر آتا ہے۔۔۔کچھ اس سے نیچے درجے پر آتے ہیں اور کچھ اس سے نیچے درجے پرآتے ہیں لیکن سب ہی کچھ نہ کچھ سیکھتے ضرور ہیں ماسوائے ان طالبعلموں کے جو اپنے شعبہ میں قطعی دلچسپی نہیں رکھتے ہوں۔
اگرطلباء کی پسند کا شعبہ نہ ہوتو وہ جسمانی طور پرکلاس میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ذہنی طورپر غیرحاضر ہوتے ہیں اورایسی صورتحال میں وہ اس شعبہ یا فیلڈ کے امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں۔اس کی ایک وجہ والدین کی جانب سے اپنے بچوں پر زبردستی کاعمل بھی ہوتا ہے۔مثال کے طورپر والدین کا اصرارہوتا ہے کہ بھئی! تمہیں انجینئرنگ پڑھنی ہے جبکہ بچے کو انجینئرنگ کی تعلیم کا کوئی شوق نہیں ہوتایا ماں باپ کا دباؤ ہے کہ ان کے بچے کو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنی ہے جبکہ بچے کو میڈیکل کی تعلیم سے قطعی دلچسپی نہیں ہے لیکن چونکہ ماں باپ کا حکم ہے ۔۔۔ان کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے لہٰذا نہ چاہتے ہوئے بھی انجینئرنگ یا میڈیکل میں داخلہ لے لیتے ہیں اور کلاس میں بیٹھے رہتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کا سال ضائع ہوتا ہے اور ماں باپ کاپیسہ ۔۔۔اور بعد میں ماں باپ پچھتاتے ہیں کہ کاش بچے کی بات مان لیتے ۔۔۔وہ اپنی پسند کی فیلڈمیں جوبھی چاہتا بننے دیتے ۔۔۔چاہے وہ گلوکار بننا چاہتا تھا۔۔۔موسیقار بننا چاہتا تھا۔۔۔یامولوی بننا چاہتا تھا۔۔۔اگر اس کی بات مان لیتے توکم سے کم وہ اپنی پسند کی فیلڈ اختیارکرکے جوچاہتا وہ ہی بن جاتا ۔۔۔اب یہ نہ ادھر کا رہا نہ ادھرکا رہا۔ کہنے کامطلب یہ ہے کہ والدین کوچاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے رحجان اور پسند کو دیکھ کراسے تعلیم حاصل کرنے کی آزادی دیں اور طالبعلم جس شعبہ کی تعلیم حاصل کرتا ہے وہ اس شعبہ سے متعلق علم ضرور سیکھتا ہے۔۔۔فیل ہونے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ریاضی کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں کوئی ریاضی میں بہت ایکسپرٹ ہوگا تو دوسرا آدمی بالکل صفر( nill) نہیں ہوگا۔۔۔وہ اس سے کم جاننے والا ہوگا، دوسرا اس سے کم جاننے والا ہوگا۔۔۔ فزکس کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں کوئی فزکس کا ماسٹر بن جائے گا ۔۔۔کوئی فزکس کا تھوڑا کم جاننے والا ہوگا۔۔۔کوئی اس سے کم جاننے والا ہوگا۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ فزکس کی تعلیم حاصل کرنے والے سب کورے کے کورے ہوجائیں یا فزکس کی ’’الف‘‘ ، ’’ب‘‘ سے ناواقف ہوں۔ ایسا نہیں ہوسکتا ، اگر ایسا ہے توہمیں اس کی وجوہات تلاش کرنی ہوں گی کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ فزکس کی پہلی کلاس سے دسویں کلاس پاس کرنے والے طالبعلم سے پوچھاجائے کہ آئن اسٹائن کون تھا تو وہ کہنے لگے کہ آئن اسٹائن فلاں ملک کاوزیراعظم تھا۔اگر کلاس کا ہرطالبعلم یہی جواب دے تو اس کامطلب ہے کہ انہوں نے فزکس نہیں پڑھی۔۔۔اس میں پڑھانے والے کی غلطی تھی۔۔۔یاپڑھنے والوں کی غلطی تھی ۔۔۔کہیں نہ کہیں غلطی تھی جو تلاش کرنا ہوگی۔

سیاسی جماعتیں اور تحریکیں:۔
جس طرح مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے والے اپنے اپنے شعبوں کی تعلیم ضرور حاصل کرتے ہیں ۔۔۔فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ کوئی زیادہ جانتا ہے اور کوئی کم جانتا ہے لیکن اس شعبے کی کچھ نہ کچھ چیزیں ضرورسیکھتے ہیں۔ اسی طریقے سے تحریک ہوتی ہے ۔۔۔تحریک میں فکرہوتی ہے ۔۔۔فلسفہ ہوتا ہے ۔۔۔تربیت ہوتی ہے ۔۔۔قیادت ہوتی ہے ۔۔۔نظریہ ہوتا ہے ۔۔۔نظریہ دینے والا ہوتا ہے جو تبلیغ کرتا ہے ، کلاسیں لیتا ہے ، سمجھاتا ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ سمجھانے والا انسانی نفسیات کو بھی جانتا ہو ۔۔۔سائنس کو بھی جانتا ہو اور زندگی کے اسرارورموز کوبھی جانتا ہو تو وہ ہرزاویہ سے اورہرنکتے سے ۔۔۔باریک سے باریک مسائل کو بڑے بڑے اچھے انداز میں بیان کرکے سمجھاتا بھی ہوکہ تحریک کیاہوتی ہے ۔۔۔تحریک کے مقاصد کیا ہوتے ہیں۔۔۔تحریک کی ضرورتیں کیا ہوتی ہیں۔۔۔ تحریک کیلئے کیا کیا قربانیاں دی جاتی ہیں۔۔۔کس طرح اپنی امنگوں کی ۔۔۔اپنی سوچ کی ۔۔۔اوراپنی فکرکی قربانی دی جاتی ہے ، نظریہ دینے والااس بارے میں بھی تعلیم دیتا ہے۔
اسی طریقے سے دنیا بھر میں موجود سیاسی جماعتوں کا معاملہ ہے ۔۔۔ سیاسی جماعتوں میں انسان عمومی طور پر اپنی سوچ وفکر ۔۔۔اپنے خیالات ۔۔۔اپنی خواہشات اورپسندناپسند کی بنیاد پر عمل کرتا ہے ۔ یعنی اگر وہ کسی سیاسی پارٹی کے منشور، اغراض ومقاصد(aims and objectives ) سے متفق ہوتا ہے تو اس جماعت میں شامل ہوجاتا ہے ۔عمومی طورپر اس سیاسی پارٹی میں شامل ہوتا ہے جس کے منشور کو وہ اپنی سوچ وفکر اور خیالات کے مطابق سمجھتا ہے کہ وہ اس کے قریب ہے ۔پھر کسی جماعت میں شمولیت کادوسرا پہلو مفاد پرستی (opportunisim ) بھی ہوتا ہے ،کسی بھی جماعت میں اس کی شمولیت ایسے ہوتی ہے جیسے اسٹاک ایکسچینج کی منڈی میں قیمتوں کا اتارچڑھاؤ ہوتا ہے ۔ اس طریقے سے وہ یہ دیکھتا ہے کہ کونسی پارٹی انتخابات میں جیتے گی۔جس طرح مغربی ممالک میں betting shop پر جیتنے والے گھوڑوں کی پیش گوئی (prediction ) ہوتی ہے اور ان گھوڑوں پر زیادہ bet لگتی ہے جن کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں بالکل اسی طرح کچھ لوگ۔۔۔انسانوں کا ایک گروہ ۔۔۔یا ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے کہ فلاں پارٹی اقتدار میں آئے گی تو اس کا ساتھ دو ۔۔۔اورفلاں جماعت کے اقتدار میں آنے سے ہمیں فائدہ ہوگا۔ یہاں اس کا صرف اور صرف ذاتی مفاد( personal interest )، لالچ، مفادپرستی (opportunisim ) ہوتی ہے ۔لیکن تحریکوں کامعاملہ بڑا مختلف ہوتا ہے ، تحریکیں ، اقتدارکے حصول کیلئے نہیں بلکہ ایک بڑے مقصد کیلئے چلائی جاتی ہیں۔۔۔تحریکیں عام طورپر سیاسی منشور ومقاصد کے حصول کیلئے جنم نہیں لیتیں۔۔۔تحریکیں ، عام سیاسی جماعتوں کے سیاسی منشور اور اغراض ومقاصد کی بنیاد پر وجود میں نہیں آتیں بلکہ تحریکیں ہمیشہ محرومیوں اور ناانصافیوں کے مسلسل عمل کے نتیجے میں جنم لیتی ہیں ۔تحریکوں کے جنم کیلئے محرومیاں اور ناانصافیاں بنیادی چیزیں ہوتی ہیں پھر اس کے sub sections ہوسکتے ہیں جن میں عصبیت کا پہلو بھی آسکتا ہے ۔۔۔شاؤنزم کا پہلو بھی آسکتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر بھی لوگوں سے ناانصافیاں کی جاتی ہیں اور انہیں محروم کیا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ طبقاتی کشمکش بھی ایک پہلو ہے ۔ ایک struggle class بھی ہوتی ہے ۔عام طورپر معاشرہ میں ایک ruling class ہوتی ہے۔۔۔جبکہ ایک کلاس ماتحت ہوتی ہے۔۔۔محکوم ہوتی ہے ۔۔۔غلام ہوتی ہے جو رعایا کہلاتی ہے جبکہ جو اقتدار پر براجمان کلاس، خاندان یا طبقہ ہوتا ہے وہ حکمراں طبقہ کہلاتا ہے ۔ حکمراں طبقہ اپنے مفادات کیلئے ریاست کے تمام تر وسائل کو استعمال کرتا ہے ۔۔۔عوام یا رعایا کی فلاح اور بھلائی کیلئے کوئی کام نہیں کرتابلکہ اپنے اقتدار ۔۔۔اپنے خاندان۔۔۔اوراپنے طبقہ کے مفاد کیلئے عوام کی محنت اورخون پسینے سے حاصل ہونے والی کمائی کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتا ہے ۔ 
تحریک کی کامیابی کے وقت کا تعین نہیں ہوتا۔۔۔سیاسی جماعتوں کا ہم بھاؤ دیکھ سکتے ہیں کہ منڈی میں دو یا تین جماعتیں ہیں ، تینوں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں اور یہ صاف نظرآجاتا ہے کہ کون سی جماعت جیتے گی ۔۔۔لیکن تحریک، جبروستم کے خلاف چلائی جاتی ہے ۔۔۔اس کی کامیابی کے بارے 
میں کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ کب کامیاب ہوگی ۔۔۔تحریکوں کی کامیابی کے وقت کا تعین نہیں کیاجاسکتا۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ تحریک حقوق سے محروم ۔۔۔حکومت اور ریاست کے ظلم کا شکار مظلوموں کی ہوتی ہے ۔۔۔جب محروم ومظلوم عوام خود پر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف تحریک چلائیں گے تو ان پر مزید ظلم ہوگا۔۔۔ان پر اور زیادہ ستم کیاجائے گا۔۔۔یہ جانتے بوجھتے بھی جب آدمی تحریک میں شامل ہوتا ہے تو اپنی رضا سے ، اپنی مرضی اوراپنی خوشی سے شامل ہوتا ہے ۔۔۔اس جذبے کے تحت شامل ہوتا ہے جو اس کے دل میں ہوتا ہے ۔۔۔بسااوقات تحریک میں ایسی شمولیت بھی ہوتی ہے کہ اگر بھائی تحریک میں شامل ہے تو اسے دیکھ کر دوسرا بھائی بھی تحریک میں شامل ہوگیا۔۔۔اگر باپ تحریک میں شامل ہے تو والد کو دیکھ کر بیٹا بھی تحریک میں شامل ہوگیا۔ مثلاً اگر کسی کے والد کسی مذہبی جماعت میں ہیں تو ان کا بیٹا بھی اسی مذہبی جماعت میں شامل ہوجاتا ہے ۔۔۔اسی طریقے سے اگر کسی کے والد ایم کیوایم میں شامل ہیں تو بیٹا بھی ایم کیوایم میں شامل ہوجاتا ہے ۔۔۔اگر ایک گھر کا فرد نظریئے کی بنیاد پر تحریک میں آیا ہے تو دوسرافرد نظریہ کو سمجھے بغیرشامل ہوجاتا ہے اوریہیں سے گڑبڑ شروع ہوجاتی ہے ۔۔۔اگر کسی بھی تحریک کے نظریہ کوسمجھے بغیرکوئی اپنے باپ ، ماں ، بہن ، بھائی ، شوہر یا بیوی کو دیکھ کر تحریک میں شامل ہوتا ہے تو یہ محض ایک جسم کا اضافہ ہوتاہے ۔۔۔نظریہ کو سمجھے بغیر کی جانے والی شمولیت کسی بھی تحریک کیلئے ذہن، سوچ، فکراوراپنی مرضی سے شامل ہونے والے کااضافہ نہیں ہوتا ۔۔۔ ایسے لوگ عموماً تحریک پر بوجھ بن جایاکرتے ہیں اور تحریک کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
میں اس کلیہ کو جانتا تھا۔۔۔اس کلیہ کوسمجھتا تھا۔۔۔اورمیں جوبات کہتا ہوں اس پر خود بھی عمل کرتا ہوں۔۔۔میں نے آج تک اپنے بہن بھائیوں کو اپنے نام کی بنیاد پر تحریک میں نہیں آنے دیا۔۔۔اگر وہ تحریک میں میرے نام کی بنیاد پر آرہے ہیں تو ان کے آنے کا کیا فائدہ ؟اصل بات یہ ہے کہ وہ خود کیا محسوس کررہے ہیں۔ کیا وہ خود یہ محسوس کررہے ہیں کہ وہ جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس معاشرے میں رہنے والوں کے ساتھ کیاناانصافیاں کی جارہی ہیں؟۔۔۔اگر وہ یہ احساس کئے بغیراور تحریک کے نظریہ کو سمجھے بغیرمحض میری بنیادپر تحریک میں شامل ہورہے ہیں تو وہ میرے لئے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔۔۔فکرونظریہ کے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں اور کسی بھی طرح تحریک کیلئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتے ۔۔۔لہٰذا ہرتحریکی ساتھی کو تحریک میں اپنے بہن بھائیوں کو شامل کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ تحریک میں صرف ایک جسم کا اضافہ کررہے ہیں۔ 
’’ جسم کا اضافہ ، بغیرذہن کے ، تحریک پر پتھر کی مانند بوجھ ہوتا ہے ۔ایسا فرد نہ صرف تحریک پر پتھر کی مانند بوجھ ہوتا ہے بلکہ وہ جس کے کاندھے پر چل کرآتاہے اس کابھی بیڑا غرق کردیتا ہے ‘‘ لہٰذا تحریک میں جو جوبھی فرد والدین یا بہن بھائی کے رشتے سے آیا ہے وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرلے ۔

مظلومیت اور محرومی قسمت نہیں ہے:۔
محرومیوں کے اور بھی بہت سارے اسباب ہیں ۔۔۔اسی میںآمریت (dictatorship )آجائے گی۔۔۔اسی میں بادشاہت (monarchy ) بھی آجائے گی ۔ کسی بھی معاشرے میں کوئی بھی نظام ہووہاں کے عوام جہاں کہیں اور جب کہیں محروم ہوتے ہیں وہ اپنی طبیعت ، عادت اور انسانی رویہ( human behavior) کے تحت خاموش رہتے ہیں۔۔۔لوگ جبروستم ، ظلم وجبر، ناانصافیوں اور محرومیوں کے جس ماحول میں رہتے ہیں اسی ماحول کے اندر اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرلیتے ہیں۔۔۔اس ماحول کو اپنا مقدر سمجھ کر ظلم وجبر سہنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔۔۔ظلم وجبر کے عمل کو معمول کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ایسی صورت میں ظلم وجبر کا عمل ایک طرح سے سماج کا حصہ سمجھا جانے لگتا ہے اور کسی کے ذہن میں اس عمل کو برا سمجھنے کا تصور تک نہیں آتا۔۔۔۔ظلم وجبر کے ماحول میں رہنے والے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ بس جوہورہا ہے وہ ٹھیک ہے اور ایسے وقت میں ۔۔۔ہردورمیں ۔۔۔ عوام کو مزید ظلم وجبر کا شکار رکھنے اور انہیں ان کے حقوق سے مزید محروم رکھنے کیلئے اس معاشرے کے مذہبی رہنماء۔۔۔ ملا ۔۔۔اورمولوی (religious clerics ) بڑانمایاں 
کردار ادا کرتے ہیں۔ تقریباً تمام بڑے بڑے مذہبی رہنماء ۔۔۔آمروقت کی آمریت کو نہ صرف جائز قراردیتے ہیں بلکہ اس آمریت کو برقرار رکھنے کیلئے مظلوم ومحروم عوام کو مذہبی شعبدہ بازی (religious juglary )کا شکارکرکے ایسے مدہوش کردیتے ہیں کہ مظلوم عوام مذہبی شعبدہ بازی کے نشے میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ان پر ظلم ہورہا ہے ۔۔۔ان پرستم کیاجارہا ہے ۔۔۔ان پر جبرکیاجارہا ہے اورانہیں ان کے حقوق سے محروم کیاجارہا ہے ۔ مذہبی رہنماء ، مذہب کا سہارا لیکر ۔۔۔مذہب کی تعلیم کی غلط تشریح کرکے مظلوم عوام کے ذہنوں کو اتنا مفلوج کردیتے ہیں کہ انکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جاتی رہتی ہے او روہ اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم۔۔۔اپنے دکھوں۔۔۔اوراپنی محرومیوں کو قسمت کالکھاسمجھ کرخاموش رہتے ہیں اورصبرکرتے ہیں کہ جومل رہاہے اس پر شکرکرو۔۔۔ایک وقت کی روٹی مل رہی ہے اس پر شکرکرو۔۔۔اگر کچھ بھی نہیں مل رہا ہے توبھی اسے اللہ کی مرضی سمجھ کرصبرکرو۔۔۔خود پر ڈھائے جانے والے مظالم اورناانصافیوں پراپنے آپ کوتسلی دیتے ہیں کہ بس یہی اللہ کی مرضی ہے کہ اس نے کسی کو حاکم بنایا ہے ۔۔۔کسی کو محکوم بنایاہے۔۔۔کسی کوآقا بنایا ہے اورکسی کوغلام بنایا ہے ۔۔۔جبکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمادیا ہے کہ ’’اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جوقوم خود اپنی حالت بدلنے پرآمادہ نہ ہو‘‘۔۔۔اللہ تعالیٰ ،رازق ہے اور منصف ہے لیکن دنیا بھر میں ہردور میں ظالم وجابر حکمرانوں کی حاکمیت برقراررکھنے کیلئے نام نہاد مذہبی رہنما مذہب کا سہار ا لیکر محکوم۔۔۔مظلوم۔۔۔اورمحروم عوام کوگمراہ کرتے رہتے ہیں کہ جوکچھ بھی ان کے ساتھ ہورہا ہے وہی ان کی قسمت ہے تاکہ انکے ذہن میں کبھی یہ بات نہ آئے کہ حکمراں طبقہ کے پاس تمام تر وسائل ہیں۔۔۔ان کے پاس کھانے کیلئے اتنا کچھ ہے کہ وہ اور انکا پوراخاندان کھائے۔۔۔ان کے نوکر کھائیں۔۔۔ ان کے جانوربھی کھائیں تب بھی بچ جائے اور بچاکچا کھانا کوڑے میں پھینک دیا جائے جبکہ ہم محنت ومشقت کرنے کے باوجود ایک وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں۔۔۔آخر ان کے ساتھ یہ محرومی اور ناانصافی کیوں کی جارہی ہے؟
اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کارزق مقررکردیا ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ سب کا رازق ہے ۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اگر کسی بادشاہ کیلئے رزق کا بندوبست کیا ہے تو رعایا کیلئے بھی مقررکیا ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ نے سب کو دوہاتھ ، دوپیر اور دو آنکھیں دی ہیں۔۔۔زمین بنائی ہے ۔۔۔جس زمین پر ایک بادشاہ حکمرانی کررہا ہے اسی زمین پر عام انسانوں۔۔۔رعایا کو بھی پیدا کیا ہے اب یہ انسانوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنے لئے غلامی کی زندگی پسند کریں، حکمرانوں کے ظلم وجبر سے نجات کیلئے جدوجہد کریں۔۔۔وہ غربت ، بھوک اورافلاس کی زندگی گزاریں یا اپنے جائز حقوق اورباعزت زندگی کے حصول کیلئے جدوجہد کریں۔

قربت ، فاصلے بڑھاتی ہے :۔
انسان جہاں تحریک میں فکروفلسفہ کی بنیادپر آتا ہے وہاں اس کے ذہن میں ظلم وجبر کے خلاف جدوجہد کرنے کاجذبہ بھی موجود ہوتا ہے لیکن اس کے اندر اتنی ہمت وجرات نہیں ہوتی کہ وہ خودمیدان میں آئے لہٰذا لاشعوری طورپر وہ ایک ہیرو کی تلاش میں ہوتا ہے، وہ ہیرو اسے جب کہیں لینن کی شکل میں ۔۔۔ماؤ کی شکل میں ۔۔۔یا کارل مارکس کی شکل میں نظرآتا ہے تو وہ اس کو اپنا نجات دہندہ سمجھ کر اس سے عقیدت ومحبت کرتا ہے ۔۔۔اس کی تصویر پرجان دینے لگتا ہے ۔۔۔اس کے کہے پر جان دینے لگتا ہے ۔۔۔اس کی فلاسفی پر عمل کرتا ہے ۔۔۔یا پڑھ کر اس پر عمل کرنے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے لیکن جب اپنے ہیرو کی تلاش میں سرگرداں شخص یاافراد اپنے ہیرو کی قربت حاصل کرلیتے ہیں اور جسمانی طورپر(physically) ان کے قریب ہوجاتے ہیں تویہاں سے گڑ بڑ کاآغاز ہوجاتا ہے ۔۔۔یہ انسانی نفسیات ہے کہ وہ تصویر میں اپنے جس ہیرو کو مکا لہراتے ہوئے دیکھ رہا ہوتا ہے ۔۔۔اس ہیرو کی بہادری اورہمت کا قائل ہوجاتا ہے ، صبح شام اپنے ہیروکی تصویر دیکھے گا۔۔۔اس کافلسفہ پڑھے گا۔۔۔اس کی تقریر سنے گا تو اسے آنکھوں کے سامنے اپنے ہیرو کی بہادری کی علامت تصویرمیں نظرآئے گی اور وہ اپنے ہیرو سے عقیدت ومحبت کااظہار کرتا رہے گا اور اس کے ذہن میں اپنے ہیرو کا ایک ایساتصور قائم کرلیتا ہے جوکہ ہیرو کوعام انسانوں سے بالکل الگ تھلگ کردیتا ہے ۔۔۔وہ سوچتا ہے کہ اس کا ہیرو عام انسانوں سے بالکل مختلف ہے اور وہ عام انسانوں کی طرح روزمرہ کے امورانجام نہیں دیتا لیکن جب ہیروسے محبت کرنے والے کو اپنے ہیرو کی جسمانی قربت حاصل ہوجائے تو یہ عمل مزید قربت کے بجائے معاملہ کو بالکل الٹا کردیتا ہے اور یہ قربت ان کے درمیان فاصلے بڑھادیتی ہے۔یعنی کوئی شخص اپنے ہیرو کی قربت میں بیٹھے گا تو اپنے ہیرو کو صبح شام عام انسانوں کی طرح کھاتاپیتا ۔۔۔سوتاجاگتا۔۔۔چلتا پھرتا۔۔۔عام کپڑوں میں ملبوس اورروزمرہ کے ضروری امورانجام دیتا دیکھے گا۔۔۔ اپنے ہیرو کو عام انسان کی طرح مختلف حالتوں اور مختلف شکلوں میں دیکھے گا تو اس کے ذہن میں موجود اپنے ہیرو کا امیج چکناچور ہوجاتا ہے۔۔۔اس طرح وہ ہیرو اسے اپنے ہی جیسا عام انسان نظرآنے لگے گا۔ ہیروکی فکراور فلسفہ (idealogy ) سب پس پشت چلی جائے گی ۔۔۔ہیرو کا اٹھنا بیٹھنا۔۔۔کھانا پینا۔۔۔سونا جاگنایہ سب سامنے رہ جائے گا جوکہ بنیادی طور پر خرابی کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا قربت ، فاصلے بڑھاتی ہے ۔۔۔قربت حاصل کرنے کے بعد انسان کسی شخص کے نظریہ اور فکروفلسفہ کو نہیں بلکہ اس کی شکل، قد، جسامت ، اسکے بولنے کے اندازاور عام انسانوں کی طرح روزمرہ کے امورکو دیکھتا ہے اور فکروفلسفہ پیچھے چلاجاتا ہے ۔کوئی بھی فرد اپنے ہیرو کو عام انسانی روپ میں دیکھنا نہیں چاہتا اور عمومی طورپر انسان کا یہ ظرف نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہیرو کو عام انسانوں کی طرح روزمرہ کے امورانجام کرتا دیکھ کر پھر بھی اس سے اسی طرح پیارکرے جس طرح وہ اپنے ہیرو سے دوررہ کرکرتا تھا۔لہٰذا محبت کرنے والوں کوچاہئے کہ وہ صرف ہیرو سے ہی نہیں بلکہ اس کی فکر، سوچ اور نظریہ سے پیارکریں۔۔۔فکروفلسفہ اور نظریہ سے عقیدت ومحبت کریں اور ایساعمل کرنے والے نظریہ دینے والے کے ہی بن کے رہ جاتے ہیں۔

12/6/2016 4:22:00 AM