Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے کارکنان کو لاپتہ کرنے کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، حق پرست اراکین قومی اسمبلی


 Posted on: 12/12/2013
ایم کیوایم کے کارکنان کو لاپتہ کرنے کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، حق پرست اراکین قومی اسمبلی
1992ء کے آپریشن میں 28 اور 2013 کے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 39 کارکنان گرفتاری کے بعد لاپتہ کیے گئے
قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے کارکنان کی گرفتاری کے بعد لاپتہ کیے جانے سے کارکنان کے اہل خانہ شدید ذہنی کرب کا شکار ہیں
اگر کارکنان پر کوئی مقدمات ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے
کارکنان کی بازیابی کیلئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ انصاف سے محروم ہیں
چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس تصدق حسین جیلانی ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کی بازیابی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں، حق پرست اراکین کی اپیل
کراچی:۔۔۔12؍دسمبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے حق پرست اراکین قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس تصدق حسین جیلانی سے اپیل کی ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنان کو گرفتار کرنے کے بعدلاپتہ کرنے کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اورلاپتہ کارکنان کی بازیابی اورانکے اہل خانہ کوانصاف کی فراہمی کیلئے ٹھوس بنیادوں پراقدامات کریں۔ اپنے مشترکہ بیان میں حق پرست اراکین قومی اسمبلی نے کہا کہ19 ،جون1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں نے ایم کیو ایم کے 28کارکنوں کو گھروں سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد سے یہ کارکنان تاحال لاپتہ ہیں اور کئی سال گزرنے کے باوجودبھی آج تک ان کے اہل خانہ ان کی آمدکے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسی طرح کراچی میں حالیہ ٹارگٹڈآپریشن 2013ء کے دوران بھی قانون نافذکرنیوالے اداروں کے اہلکاروں نے ایم کیوایم کے39کارکنان کوان کے گھروں سے گرفتارکرچکے ہیں جوتاحال لاپتہ ہیں اوران کی گرفتاری ظاہرنہیں کی جارہی ہے جس کے باعث ان کارکنان کے اہل خانہ شدیدذہنی قرب اورپریشانیوں کاشکارہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم ملک کی تیسری اورسندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے جس کے منتخب نمائندے ملک کے ایوانوں میں موجودہیں اس جماعت کے کارکنان کے ساتھ قانون نافذکرنیوالے اداروں کی جانب سے امتیازی سلوک سراسرظلم و زیادتی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہاکہ گرفتاری کے بعدلاپتہ کیے گئے کارکنان اگرکسی مقدمے میں مطلوب ہیں توانہیں پاکستان کاآئین وقانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیاجاناچاہئے تھاتاہم نہ ہی لاپتہ کارکنان کی گرفتاری ظاہرکی جارہی ہے اورنہ ہی بتایا جارہا ہے کہ وہ کہاں ہیں اورانہیں کس جرم میں گرفتارکیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ کی جانب سے پیاروں کی بازیابی کیلئے عدالتوں پیٹش دائرکرنے کے باوجودان کے کیس کی سماعت نہیں کی جارہی ہے جس کے باعث ان کے اہل خانہ انصاف کے حصول سے محروم ہیں۔انہوں نے کہاکہ سابق چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی جانب سے لاپتہ افرادکے مقدمے کی سماعت اوردوٹوک فیصلوں سے ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ میں امیدکی کرن پیداہوئی تھی کہ اب ان کے پیارے بھی بازیاب کیے جاسکیں گے اوران کی گرفتاریاں ظاہرکی جائیں گی۔انہوں نے کہاکہ سابق چیف جسٹس کی ریٹارڈمنٹ کے بعد ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ کی تمام ترامیدیں نئے چیف جسٹس سے وابستہ ہیں اوروہ انصاف کی فراہمی کیلئے تصدق حسین جیلانی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

12/2/2016 10:44:05 PM