ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ ایمان مزاری اوران کے شوہرہادی علی چٹھہ کو فی الفور رہا کیاجائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ہومن رائٹس ایکٹویسٹ محترمہ ایمان مزاری اوران کے شوہرہادی علی چٹھہ ایڈوکیٹ کوجھوٹے مقدمے میں سزادینے اورقیدرکھنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
میں نے ہمیشہ ظلم کو ظلم کہاہے،ظلم کسی پر بھی ہومیں نے اس کے خلاف آوازاٹھائی ہے، جب میاں نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم نوازکوسیاسی انتقام کانشانہ بنا یاگیا تو میں نے کھل کر اس کی مذمت کی ،بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ اور دیگررہنماؤں کوگرفتارکیاگیا تو میں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی، اسی طرح پشتون تحفظ موومنٹ اورکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف ظالمانہ اقدامات کیے گئے تو میں نے اس عمل کے خلاف نہ صرف آوازاٹھائی بلکہ کھل کر مذمت بھی کی۔
ایمان مزاری ایڈوکیٹ اوران کے شوہر ہادی علی چٹھہ ایڈوکیٹ مظلوموں کے ساتھ کی جانے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف قانونی جدوجہد کررہے تھے، انہیں اس کی سزادینے کے لئے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے ظالمانہ سزا سناکرپابند سلاسل کردیاگیاہے۔
حکومت کا یہ عمل سراسرظلم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے،میں اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ ایمان مزاری اوران کے شوہر ہادی علی چٹھہ ایڈوکیٹ کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں اور انہیں فی الفور رہا کیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 452ویں فکری نشست سے خطاب
21، اگست2026ء