پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیرامریکہ اورایران کے درمیان ثالثی کا کردارادا کرتے ہوئے ان دنوں ایران کے دورے پر ہیں۔ وزیراعظم شہازشریف بھی ثالثی کے سلسلے میں دورہ کرچکے ہیں اورفیلڈمارشل عاصم منیر کے معتمد خاص وزیرداخلہ محسن نقوی بھی کئی بار ایران آجاچکے ہیں اوراس وقت بھی وہ وہاں موجود ہیں۔
دوملکوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لئے ثالثی اورمصالحت کی کوششیں کرنااچھاعمل ہوتاہے لیکن امریکہ -ایران کی جنگ کے خاتمے کیلئے ثالثی ایسا ملک کررہا ہے جس کے اپنے ملک میں جنگی صورتحال ہے، جس کی حکومت کی اپنے ملک میں سرے سے کوئی آئینی، قانونی اور اخلاقی عملی داری نہیں ہے۔ جواپنے ملک میں موجود داخلی سیاسی تنازعات کے خاتمے اوران کے منصفانہ حل کے لئے کسی بھی سطح پر کوئی عملی اقدام اٹھاتی نظرنہیں آتی بلکہ ہرمعاملے کوطاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
کہنے کوپاکستان ایک جمہوری ملک ہے اوریہاں پارلیمانی نظام حکومت ہے لیکن حقیقت میں دیکھیں تو پاکستان میں فوج کی حکومت ہے،ملک میں سویلین وزیراعظم توہے لیکن ملک میں اصل حکومت فوج کے جرنیلوں کی ہے، تمام سویلین اداروں کے سربراہان فوج کے جرنیل یااعلیٰ فوجی افسران ہیں، فوج کے جرنیل ہی ملک کی پالیسی تشکیل دے رہے ہیں۔ جوبھی رہنماان حقائق کوبیان کرتاہے یا ان کی غلط پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، اسے ملک دشمنی سے تعبیرکیا جاتا ہے۔ تنقیدوں کودبانے کے لئے طرح طرح کے قوانین اور ہتھکنڈے اختیارکئے جارہے ہیں۔
پاکستان میں الطاف حسین کی ایم کیوایم کی سیاسی سرگرمیوں پر اورمیری تحریرو تقریرکی نشرواشاعت حتیٰ کہ میڈیا پرمیرا نام لینے تک پر پابندی عائد ہے، ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروکوseal کردیا گیا، پھراسے آگ لگا کر مسمارکردیا گیا، باقی ایم کیوایم کے تمام زونل، سیکٹراوریونٹ کے دفاترپر آج تک تالے پڑے ہیں۔ دوسری طرف سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے کئی رہنما تین برسوں سے جھوٹے اورمن گھڑت مقدمات میں جیلوں میں قید ہیں۔اطلاعات کے مطابق عمران خان اوران کی زوجہ محترمہ بشریٰ بی بی کی ایک آنکھ بری طرح متاثر ہے اوردوسری آنکھ بھی خراب ہورہی ہے، دیگر ہنما بھی شدید علیل ہیں۔ عوام کوپرامن احتجاج تک کرنے کی آزاد ی نہیں ہے۔
فوج نے گزشتہ الیکشن میں فارم 47 کے تحت مسلم لیگ ن،زرداری کی پیپلزپارٹی اوردیگرمن پسند گروپوں کو کھلی دھاندلی کے ذریعے کامیاب ظاہر کرکے ان پر مشتمل حکومت قائم کی ہوئی ہے اور اپوزیشن ارکان کوان کے خلاف بولنے کی آزادی نہیں ہے، جوبولتے ہیں ان پر جھوٹے مقدمات قائم کردیے جاتے ہیں، ایم کیوایم کے وہ لوگ جنہوں نے الطاف حسین سے غداری کرکے عسکری اورجعلی ایم کیوایم قائم کی، انہیں بھی فوج نے نشستیں دیں جبکہ اصل ایم کیوایم پر پابندی ہے۔اسی لئے فوج کی تشکیل کردہ حکومت کے آئینی اورقانونی جواز پرلوگ سوال اٹھاتے ہیں۔
عوام خود بتائیں کہ جس ملک میں یہ صورتحال ہو، جس حکومت کی اپنی عملداری نہیں ہے، جہاں کی حکومت کے قانونی جوازپر بھی سوال اٹھتے ہوں، جس کے اپنے اندرایسے تنازعات ہوں، اسے بیرونی ممالک کے تنازعات اورجنگوں کے خاتمے کے لئے اوران کے درمیان ثالث کا کردارادا کرنا چاہیے یا پہلے اپنے ملک میں موجود سیاسی تنازعات کے خاتمے، عوامی مینڈیٹ کوتسلیم کرنے اورسیاسی جماعتوں اورقوموں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کے ازالے اورانصاف کے لئے مذاکرات کے ذریعے مفاہمت کی کوششیں کرناچاہیے؟
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 406 ویں فکری نشست سے خطاب
22مئی 2026ء