Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جنگوں کا فیصلہ عوا م نہیں حکمراں اشرافیہ یا طاقتور ادارے کرتے ہیں۔الطاف حسین


جنگوں کا فیصلہ عوا م نہیں حکمراں اشرافیہ یا طاقتور ادارے کرتے ہیں۔الطاف حسین
 Posted on: 4/19/2026


جنگوں کا فیصلہ عوا م نہیں حکمراں اشرافیہ یا طاقتور ادارے کرتے ہیں۔الطاف حسین
انسان امن و محبت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں،آپس میں جنگ وجدل نہیں چاہتے

جنگوں کا تعلق عوامی خواہشات کی بنیادپر نہیں ہوتا بلکہ کسی بھی ملک کی حکمراں اشرافیہ یا طاقت کے منبع ادارے ہی ملک کے مستقبل کیلئے بنائی جانے والی پالیسی پر نہ صرف اثرانداز ہوتے ہیں بلکہ اپنی برتری اور اجارہ داری کو برقرار بھی رکھتے ہیں۔ یہی اشرافیہ اور پالیسی ساز ادارے جنگیں شروع کرانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ عوام کی خواہش پر نہ توکہیں جنگیں شروع ہوتی ہیں اورنہ ہی بند ہوتی ہیں۔ عمومی طورپر کسی بھی ملک کے عوام ہمیشہ جنگ وجدل کے خلاف ہوتے ہیں۔ بنیادی طورپر انسان کا جینیٹک میک اپ اسے پرسکون اور آرام دہ ماحول میں رہنے کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ امن وآشتی اور پیارومحبت سے رہنے پر زور دیتا ہے۔ 
یہ بات شاید ہی دنیا کا کوئی مرخ لکھے گا یانہیں کہ ہرملک کی حکمراں اشرافیہ ہی صحیح یاغلط طریقے سے جنگیں شروع کرتی ہے جبکہ عوام جنگیں پسند نہیں کرتے۔ ہرملک کی حکمراں اشرافیہ اپنے ملک کے عوام کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ایسے پروگرام ترتیب دیتی ہے جس کے ذریعے عوام کی ذہن سازی کی جاسکے۔ حکمراں اشرافیہ اپنی سوچ وفکر اورخواہشات کے مطابق اپنے ملک کے عوام کی ذہن سازی کرتی ہے۔ 
عام انسان کی انسانی جبلت (Human Instinct) امن پسند ہوتی ہے اگرایسا نہ ہوتا اور دنیا بھرمیں عوام جنگوں کو پسند کرتے تو آج دنیا کی آبادی 8 ارب نہ ہوتی،اگر انسانوں کی اجتماعی جبلت فساد پسند ہوتی تو انسان ایک دوسرے کے وجود کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے، ایک دوسرے کے وجود کوتسلیم کرنے کا مطلب یہی ہے کہ انسان امن و محبت کے ساتھ مل کر رہنا چاہتے ہیں آپس میں جنگ وجدل نہیں چاہتے۔ 
دیکھنے میں آتاہے کہ پاکستان میں انڈیا کے خلاف عوامی سطح پرایک جنگی جنون پایاجاتا ہے اس کے برعکس اگر انڈیا کا عوامی سروے کرایاجائے تو معلوم ہوگا کہ انڈیاکے عوام کی اکثریت پاکستان سے جنگ کی مخالفت کرے گی۔ پاکستان میں انڈیاکے خلاف جنگی سوچ وفکرکرکٹ کے کھیل میں بھی دکھائی دیتی ہے۔جنگی جنون کاہی اثر ہے کہ کرکٹ میچ کے دوران بھی میڈیا پرایسے تبصرے کئے جاتے ہیں جیسے انڈیاسے کرکٹ میچ نہیں جنگ ہورہی ہے۔ 
کسی بھی ملک کی حکمراں اشرافیہ اپنی خواہشات کے مطابق عوام کی ذہن سازی کیلئے ذرائع ابلاغ کااستعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے مذہب کے مولویوں اورمفتیوں کو بھی استعمال کرتی ہے جواپنے ملک کی اشرافیہ کے عزائم کی تکمیل میں سب سے بڑے معاون ومددگارہوتے ہیں۔انہیں اشرافیہ کی جانب سے ہرطرح کی سرپرستی اورحمایت ومعاونت حاصل ہوتی ہے اوروہ اپنے خطبات کے ذریعے اشرافیہ کے مقاصد کے لئے عوام کی ذہن سازی کرتے ہیں اورمذہبی انتہاپسندی کوفروغ دیتے ہیں۔ عوام کوچاہیے کہ وہ ایسے مذہبی عناصر کی پیروی نہ کریں۔

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 397ویں فکری نشست سے خطاب
18، اپریل2026ضرورت اس بات کی ہے اسلام میں اجتہاد کے ذریعے وقت کے جدید تقاضوں کے مطابق اصول و ضوابط بنائے جائیں تاکہ دنیا پر اسلام کی تعلیمات کاغلط تاثر پڑنے کے بجائے اسلام کی اصل روح اجاگر ہو جو قتل و غارتگری کا نہیں بلکہ امن ، سلامتی اور احترامِ انسانیت کا درس دیتی ہے۔7 جون 2005



4/19/2026 5:18:23 PM