Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

علمائے کرام، مشائخ عظام اور مفتیان کرام اپنے فتووں کے ذریعے عوام کو بتائیں کہ فوجیوں کے گلے کاٹنے اور ہزاروں معصوم انسانوں کی جان لینے والے حکیم اللہ محسود اور اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا کیا اسلامی تعلیمات کی رو یا شریعت کے لحاظ سے جائز ہے۔ الطاف حسین


علمائے کرام، مشائخ عظام اور مفتیان کرام اپنے فتووں کے ذریعے عوام کو بتائیں کہ فوجیوں کے گلے کاٹنے اور ہزاروں معصوم انسانوں کی جان لینے والے حکیم اللہ محسود اور اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا کیا اسلامی تعلیمات کی رو یا شریعت کے لحاظ سے جائز ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 12/4/2013
علمائے کرام، مشائخ عظام اور مفتیان کرام اپنے فتووں کے ذریعے عوام کو بتائیں کہ فوجیوں کے گلے کاٹنے اور ہزاروں معصوم انسانوں کی جان لینے والے حکیم اللہ محسود اور اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا کیا اسلامی تعلیمات کی رو یا شریعت کے لحاظ سے جائز ہے۔ الطاف حسین
پہلے امیر جماعت اسلامی منور حسن صاحب نے جنرل ثناء اللہ نیازی سمیت دیگر پاکستانی شہریوں اور فوجیوں کی شہادت میں ملوث حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کو شہادت قرار دیا
جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل فرید پراچہ صاحب نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن تک کو شہید قرار دیکر نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا
رابطہ کمیٹی کے ارکان، منتخب نمائندے اور علماء کمیٹی علمائے کرام، ذاکرین اور مشائخ عظام سے ملاقاتیں کریں اور جماعت اسلامی کی جانب سے دہشت گردوں کو شہید قرار دیئے جانے پر ان کا نقطہء نظر دریافت کریں
کالجز اور جامعات کے اساتذہ طلبہ و طالبات کو موجودہ حالات اور تبدیلیوں سے باخبر رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے اجلاس سے فون پر خطاب
کراچی ۔۔۔4 دسمبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ملک کے تمام مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے جیدعلمائے کرام،مشائخ عظام اورمفتیان کرام کافرض ہے کہ وہ مصلحت سے کام لینے کے بجائے اپنے فتووں کے ذریعے عوام کوبتائیں کہ فوجیوں کے گلے کاٹنے اور ہزاروں معصوم انسانوں کی جان لینے والے حکیم اللہ محسود اوراسامہ بن لادن کوشہیدقراردیناکیا اسلامی تعلیمات کی رو یا شریعت لحاظ سے جائز ہے یانہیں۔انہوں نے یہ بات آج ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان اورلندن کے ایک اجلاس سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ان فوری اورطویل المدتی خطرات اور چیلنجز پر تفصیلی تبادلہء خیال کیاگیا جن کاپاکستان کو سامنا ہے ۔ اجلا س میں تیزی سے ہوتی ہوئی بین الاقوامی تبدیلیوں خصوصاً جنوبی ایشیا کی صورتحال،ہندوستان اورافغانستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے تعاون وتعلقات ،امریکہ اورنیٹوممالک اورایران کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری سردجنگ کے خاتمہ کے بعد ان کے مابین بہتر ہوتے ہوئے تعلقات سمیت دیگرامورپربھی تبادلہ خیال کیاگیا۔ اجلاس میں متفقہ طورپرطے پایاکہ عوام کوموجودہ حالات سے باخبر رکھنے کی اشدضرورت ہے۔اجلاس میں کالجز اورجامعات کے اساتذہ ،خصوصاً سیاسیات اوربین الاقوامی تعلقات عامہ کے اساتذہ سے اپیل کی گئی کہ وہ طلبہ وطالبات کوموجودہ حالات اورتبدیلیوں سے باخبررکھنے کیلئے اپنا کرداراداکریں۔اجلاس میں جماعت
اسلامی کے رہنماؤں کی جانب سے طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود اورالقاعد ہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کوشہیدقراردیئے جانے پر بھی انتہائی افسوس کااظہارکیاگیا جوتسلسل کے ساتھ معصوم وبے گناہ پاکستانی شہریوں اورفوجیوں کے گلے کاٹنے، مساجد،امام بارگاہوں ،بزرگان دین کے مزارات، بچیوں کے اسکولوں ، بازاروں، جمعہ،عیدین اورنمازجنازہ کے اجتماعات کوخودکش دھماکوں سے اڑانے میں ملوث ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطا ف حسین نے رابطہ کمیٹی کے ارکان ، منتخب نمائندوں اورعلماء کمیٹی سے کہاکہ وہ علمائے کرام، ذاکرین اورمستند مشائخ عظام سے ملاقاتیں کریں اورجماعت اسلامی کی جانب سے دہشت گردوں کوشہیدقراردیئے جانے پر ان کانقطہ ء نظر دریافت کریں۔انہوں نے کہاکہ پہلے امیرجماعت اسلامی منورحسن صاحب نے پاک فوج کے جنرل ثناء اللہ نیازی سمیت دیگر پاکستانی شہریوں اورفوجیوں کی شہادت میں ملوث حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کوشہادت قرار دیا اورگزشتہ روزایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل فریدپراچہ صاحب نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن تک کو شہید قراردیکر نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس صورتحال میں جید علمائے کرام، زاکرین اورمستند مشائخ عظام کا فرض ہے کہ وہ مصلحت سے کام لینے کے بجائے واضح الفاظ میں بتائیں کہ کیا حکیم اللہ محسود اور اسامہ بن لادن کی ہلاکتوں کو شہادت قرار دینا اسلام اورشریعت کی روح اورتعلیمات کے مطابق جائز ہے یانہیں؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کروڑوں عوام کے ساتھ دنیا بھر کے عوام علمائے کرام، ذاکرین اورمشائخ وعظام کے جواب کابے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں شیعہ وسنی مکاتب فکرکے علمائے کرام سے ایک مرتبہ پھردردمندانہ اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات ، درس ،ذکر اورمجالس میں اتحاد بین المسلمین کادرس دیں اوران عناصر کی سختی سے مذمت کریں جوشیعہ سنی عوام کولڑانے کی سازشیں کررہے ہیں۔ 

12/10/2016 8:06:45 PM