Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ پر دہشت گردوں کی اعانت کرنے اور ملک دشمنوں سے تعلق رکھنے پر فی الفور پابندی عائد کی جائے۔ الطاف حسین


جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ پر دہشت گردوں کی اعانت کرنے اور ملک دشمنوں سے تعلق رکھنے پر فی الفور پابندی عائد کی جائے۔ الطاف حسین
 Posted on: 12/3/2013
جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ پر دہشت گردوں کی اعانت کرنے اور ملک دشمنوں سے تعلق رکھنے پر فی الفور پابندی عائد کی جائے۔ الطاف حسین
جماعت اسلامی اور جمعیت کی قیادت کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے
کراچی کے پوش علاقوں ڈیفنس کلفٹن، گلشن اقبال، سوسائٹی، نارتھ ناظم آباد میں طالبان تیزی سے بڑھ رہے ہیں
فرقہ واریت کی بنیاد پر شہریوں کا قتل کرنیوالوں کو پکڑنے والا کوئی نہیں جبکہ ایم کیوایم کے کارکنان پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے
ارباب اختیار اور اقتدار سے مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ماضی کی طرح دوہرا معیار اپنا کر عوام میں نفرتوں کو فروغ نہ دیں 
حکومت اور عسکری ادار ے خدارا مہاجروں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کریں اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے
فوج اور عسکری قیادت سے کہتا ہوں کہ ہم ہرگز ہرگز ملک دشمن نہیں ہیں، ہم غیر نہیں، ہم آپ کے اور ملک کے دوست اور خیر خواہ ہیں خدار اہمیں گلے لگالو اور تمام غلط فہمیوں کا خاتمہ کرلو، گلے شکوے دور کرکے ہمیں اپنا بنالیں 
ہمیں ایک جانب تو سندھی قرار دیا جاتا ہے لیکن جب بھی وزارت اعلیٰ کی بات آتی ہے تو کبھی بھی کسی اردو بولنے والے کو سندھ کا وزیر اعلیٰ نہیں بنایا جاتا
لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں ایم کیوایم کے تنظیمی اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب۔ اجلاس میں ہزاروں کارکنوں اور ذمہ داروں کی شرکت
لندن۔۔۔3، دسمبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ جماعت اسلامی نے طالبان ، القاعدہ اوردیگرملک دشمن تنظیموں سے گٹھ جوڑ قائم کیاہوا ہے لہٰذا جماعت اسلامی اور اس کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ پر دہشت گردوں کی اعانت کرنے اورملک دشمنوں سے تعلق رکھنے پر فی الفورپابندی عائد کی جائے اور اس کی قیادت کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے پوش علاقوں ڈیفنس کلفٹن،گلشن اقبال، سوسائٹی، نارتھ ناظم آباد میں طالبان تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ جوعناصرکراچی میں فرقہ واریت کی بنیاد پر بے گناہ شہریوں کاقتل کررہے ہیں انہیں پکڑنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان کے گھروں پرغیرقانونی چھاپوں اور گرفتاریوں کا عمل کیاجارہا ہے ۔میں پاکستان کے ارباب اختیار اور اقتدار سے مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ ماضی کی طرح دوہرا معیاراپنا کرعوام میں نفرتوں کوفروغ دیں گے تواس کے اچھے نتائج نہیں نکلیں گے ۔ ہمارے آباو اجداد نے پاکستان بنایا تھا اور ان کی اولادیں پاکستان کو مضبوط ومستحکم بناناچاہتی ہیں۔انہوں نے حکومت اورعسکری اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے التجا کی کہ خدارامہاجروں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیاجائے اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کیاجائے۔انہوں نے فوج اورعسکری قیادت کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہرگز ہرگز ملک دشمن نہیں ہیں ، ہم غیرنہیں ، ہم آپ کے اور ملک کے دوست اور خیرخواہ ہیں ۔ خداراہمیں گلے لگالو اور تمام غلط فہمیوں کاخاتمہ کرلو۔خدارا گلے شکوے دور کرکے ہمیں اپنا بنالیں ۔جناب الطا ف حسین نے ان خیالات کا اظہار منگل کی شام لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں ایم کیوایم کے ایک اہم تنظیمی اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایم کیوایم کی تنظیمی کمیٹیوں،تمام شعبہ جات اورونگز کے عہدیداروں اورہزاروں نوجوانوں، بزرگوں اورخواتین کارکنوں اورارکان قومی وصوبائی اسمبلی، سینیٹرز اورسابق ناظمین نے شرکت کی۔ جناب الطا ف حسین کا یہ خطاب پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ امریکہ کے 22 شہروں، کینیڈا کے 6 شہروں اور برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھی براہ راست سنا گیا۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے امریکی ڈرون حملوں میں مارے جانے والے جماعت اسلامی اور جمعیت کے سرگرم کارکنان کے نام کے ساتھ ساتھ القائدہ اورطالبان سے جماعت اسلامی کے دیرینہ روابط کی تفصیلات بھی بیان کیں۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک جانب پاکستان کی ترقی وخوشحالی اور بقاء وسلامتی کیلئے جدوجہد کرنے والی جماعت کے کارکنان کا اپنے گھروں پر رہنا مشکل کردیا گیا، انہیں گرفتارکیاجارہا ہے اور حراست میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کی سلامتی وبقاء کے خلاف سازشیں کرنے اوربین الاقوامی دہشت گردوں سے روابط رکھنے والی جماعت کے دہشت گردوں کو کھلے عام شہریوں کی جان ومال سے کھیلنے کی چھوٹ دی جارہی ہے ۔ یہ دہشت گرد عناصر یونیورسٹی کے اساتذہ کو کمروں میں بند کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنائیں ، سڑکوں پر مسافر بسوں کو نذرآتش کریں لیکن جب انہیں گرفتارکیا جائے تو عدالت سب کو باعزت بری کردے یہ کہاں کاانصاف ہے؟اسٹیبلشمنٹ، حکومت، انتظامیہ اور عدلیہ کا یہ امتیازی سلوک ملک میں اتحاد ویکجہتی اور اتفاق کا نہیں بلکہ انتشار اور نفرت کا سبب بن سکتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس جماعت نے پاکستان کی مخالفت کی ،جس کے اکابرین نے اپنی کتاب ’’سیاسی کشمکش‘‘ کے حصہ اول ودوئم میں پاکستان کو ناپاکستان اور قائداعظم کو کافراعظم قراردیا اور الیکشن میں حصہ لینے کے عمل کوکتوں کی دوڑ میں حصہ لینے کے مترادف قراردیا ، بدقسمتی سے ملک کے عسکری اداروں نے اسی جماعت اسلامی کو اپنی بی ٹیم بنائے رکھا ۔ آج تک یہ جماعت اندرونی وبیرونی سازشی عناصر کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے ۔جناب الطاف حسین نے اپنے تفصیلی خطاب میں وزیرستان میں مختلف ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے جماعت اسلامی اور جمعیت کے کارکنان کے نام اورجماعت اسلامی کے القاعدہ اورطالبان سے روابط کی تفصیلات بھی مکمل حوالوں کے ساتھ پیش کیں۔جناب الطا ف حسین نے کہا کہ جماعت اسلامی اور اس کی طلبہ تنظیم جمعیت کے جو لوگ افغانستان یا پاکستان میں فوجیوں کو قتل کرتے رہے ، مسلح افواج ، آئی ایس آئی، فوجی اورسرکاری تنصیبات پر حملے کرتے رہے ان دہشت گردوں کو نجانے کیوں ارباب اختیار اپنے بچوں کی طرح گود میں کھلاتے ہیں ۔ حکیم اللہ محسود نے جنرل ثناء اللہ نیازی اور دیگر فوجی افسران کو قتل کیا لیکن جماعت اسلامی کے امیرمنورحسن فوجیوں کے گلے کاٹنے والے حکیم اللہ محسود کو نعوذباللہ ’’شہید‘‘ قراردے رہے ہیں جبکہ ملک کی سلامتی وبقاء کیلئے قربانیاں دینے والے مسلح افواج کے افسروں اورجوانوں کی شہادت کو وہ شہادت تسلیم نہیں کرتے۔اس سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جماعت اسلامی ، القائدہ اور طالبان کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی اور قتل وغارتگری میں ملوث ہے ۔جناب الطاف حسین نے ارباب اختیار واقتدارسے سوال کیاکہ جوجماعتیں اوران کے ذیلی گروپس پاکستانی فوجیوں کے گلے کاٹنے والوں کاساتھ دے رہے ہیں اوران کے ساتھ ملکرپاکستان کونقصان پہنچارہے ہیں آخران پر اب تک پابندی کیوں نہیں لگائی گئی ہے؟ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیاکہ جماعت اسلامی اور اس کی طلبہ تنظیم پر دہشت گردوں کی اعانت کرنے اورملک دشمنوں سے تعلق رکھنے پر فی الفورپابندی عائد کی جائے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جماعت اسلامی نے سابقہ مشرقی پاکستان میں البدراورالشمس نامی دہشت گرد تنظیمیں بناکربنگالیوں کاقتل عام کیاجس کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا ۔ جماعت اسلامی نے ہی جنرل ضیاء کے دورمیں مارشل لاء میں کراچی سمیت ملک بھرکے تعلیمی اداروں میں کلاشنکوف کلچرمتعارف کرایا اورتعلیمی اداروں میں دہشت گردی کیلئے تھنڈراسکواڈ قائم کیا۔ افغانستان اورکشمیرمیں جہاد کے نام پر جماعت نے پاکستان کے ہزاروں نوجوانوں کو سرحدپار بھیج کراپنی انتہاپسندانہ سیاست کی بھینٹ چڑھایااورملک میں انتہاپسندی کوفروغ دیا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے 13 اگست2004 ء کو نیشنل اسمبلی میں انکشاف کیا کہ جماعت اسلامی القائدہ کی مدد و معاونت کررہی ہے۔ 16 اگست2004 ء کو فیصل صالح حیات نے ایک پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے ان لوگوں کی لسٹ پیش کی جنکا القائدہ سے تعلق ہے اور جماعت اسلامی کی لیڈر شپ سے اس کی وضاحت کرنے کو کہا اور کہا کہ انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے فعال افراد کے القائدہ سے روابط ہیں اور القائدہ کے دہشت گرد جماعت اسلامی کے لوگوں کے گھروں کو روپوشی یا پناہ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ رپورٹس کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے امیرحکیم اللہ محسود نے پی پی پی حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے امیر جماعت اسلامی منور حسن کو ضامن بنانے کا کہا تھا جبکہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر امیر جماعت اسلامی منور حسن اسے شہید اور پاکستانی فوجیوں کو قاتل کہتے ہیں۔ اس سے جماعت اسلامی اور طالبان کے گٹھ جوڑ کا پتہ چلتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ بین الاقوامی دہشت گرد وں کی حمایت کرنے پرجماعت اسلامی پر پابندی لگائی جائے اوراس کی قیادت کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔
جناب الطا ف حسین نے کراچی میں طالبان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ حالیہ اخباری رپورٹس کھل کربتارہی ہیں کہ کراچی کے پوش علاقوں ڈیفنس کلفٹن،گلشن اقبال،سوسائٹی،نارتھ ناظم آباد میں طالبان تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اب یہ جگہ بھی محفوظ نہیں رہی ہے۔طالبان کی اکثر لیڈر شپ اب کراچی کے پوش علاقوں میں چھپی ہوئی ہے۔ پچھلے مہینے قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ڈیفنس کلفٹن سے ایک موٹر سائیکل پکڑی جس میں 16کلو گرام وھماکہ خیز مواد چھپایا ہوا تھا۔ کیا اب کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اب ڈیفنس پر امن علاقہ رہا ہے؟انہوں نے کہاکہ جہادی تنظیموں کے دہشت گردکراچی کے دیگرعلاقوں کے ساتھ ساتھ اب ڈیفنس کلفٹن اوردیگرپوش علاقوں سے اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی مصروف ہیں۔جناب الطاف حسین نے ایک حالیہ اخباری رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے مطابق علاقے میں 42 مساجد ہیں ۔ ان میں سے 5مساجد کو ڈی ایچ اے اور11 کو لوکل کمیٹی مانیٹر کرتی ہے جبکہ باقی 28 مساجد کو کوئی بھی اتھارٹی مانیٹر نہیں کرتی۔مقامی حکام کے مطابق ان میں سے اکثر مساجد رہائشی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہی ہیں اوران مساجد کوخطوط بھی بھیجے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو مساجد میں رہائش کی اجازت نہ دیں ۔ انہی رپورٹس کے مطابق ستمبر2002 ء میں اسی علاقہ سے القائدہ کے پانچ اہم مفرور دہشت گردوں کو گرفتارکیا گیا تھا۔
جناب الطاف حسین نے فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل وغارتگری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میں گزشتہ روزدہشت گردوں نے فائرنگ کرکے سنی علماء کوقتل کردیا تھا اور آج ایک شیعہ رہنما اوران کے محافظ کو دہشت گردی کا نشانہ بناکر قتل کردیا ۔ سادہ لوح عوام کی برین واشنگ کرکے فرقہ واریت کی بنیاد پر نفرتیں پھیلائی جارہی ہیں۔فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل وغارتگری، ملت اسلامیہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی سازش ہے ،میری تمام مکاتب فکر کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس سازش کو سمجھیں اور آپس میں اتحاد قائم رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کی جان لینے کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کی جان کے تحفظ کا حکم دیا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قراردیا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جوعناصر فرقہ واریت کی بنیاد پر بے گناہ شہریوں کاقتل کررہے ہیں انہیں پکڑنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ میں ہرگزیہ نہیں کہہ رہا کہ اگر ایم کیوایم کی صفوں میں کوئی شرپسند موجود ہے تو اسے نہ پکڑا جائے لیکن ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان کے گھروں پرغیرقانونی چھاپوں اور گرفتاریوں کا عمل کیوں کیاجارہا ہے ؟جب ملک، قومی پرچم اور آئین وقانون ایک ہے تو پھر یہ دہرا معیار کیوں اپنایا جارہا ہے ؟میں پاکستان کے ارباب اختیار اور اقتدار سے مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ ماضی کی طرح دوہرا معیاراپنا کرعوام میں نفرتوں کوفروغ دیں گے تواس کے اچھے نتائج نہیں نکلیں گے ۔ ہمارے آباو اجداد نے پاکستان بنایا تھا اور ان کی اولادیں پاکستان کو مضبوط ومستحکم بناناچاہتی ہیں۔انہوں نے حکومت اورعسکری اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے التجا کی کہ خدارا!! مہاجروں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیاجائے اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کیاجائے۔ایم کیوایم ، پاکستان کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتی ہے لہٰذا ایم کیوایم کو ملک دشمن نہ سمجھا جائے ،ہمیں گلے لگایا جائے اور ہمارے زخموں پر مرہم رکھا جائے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاک آج میں نے اپنے خطاب میں مہاجروں سے کی جانے والی زیادتیوں کا تذکرہ کیا ہے جس سے شاید میرے سندھی ساتھیوں اور ماؤں بہنوں کو یہ گمان ہوکہ میں نے ان کو خود سے الگ سمجھ لیا ہے ۔ میں اپنے سندھی ساتھیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے ۔جناب الطاف حسین نے سندھی میں کہاکہ میں خود کوسندھ دھرتی کا بیٹا سمجھتا ہوں ۔ سندھ میں رہنے والے مہاجر بھی خود کوسندھ کا حصہ سمجھتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہے کہ ہمیں ایک جانب تو سندھی قراردیا جاتا ہے لیکن جب بھی سندھ میں وزارت اعلیٰ کی بات آتی ہے تو کبھی بھی کسی اردو بولنے والے کو سندھ کا وزیراعلیٰ نہیں بنایا جاتا۔ آج بھی سندھ کی صوبائی حکومت، مہاجروں کو الگ رکھ کر اور سندھ کی آدھی آبادی کو کاٹ کر چلائی جارہی ہے ۔یہ تمام ناانصافیاں ہورہی ہیں لیکن میں اپنے سندھی بھائی بہنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ صرف چند مفا د پرست وڈیروں کی سازشیں ہیں۔ ہم اور آپ ایک ہیں اور انشاء اللہ ایک دن ہم مل جل کر ان سندھی وڈیروں اورمہاجروڈیروں سے چھٹکارا حاصل کریں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ پختون ، پنجابی ، بلوچ ، سرائیکی ، گلگتی، ، بلتستانی، کشمیری اور ہزاروال والے تمام میرے بھائی ہیں ۔ میں ان سب سے کہتا ہوں کہ میں تمہارا ہوں اور تم میرے ہو،ہم سب ایک ہیں۔ اس موقع پر اجلاس کے شرکاء نے ایک کورس میں گایا۔۔۔’’اس پرچم کے سائے تلے ، ہم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں‘‘۔
جناب الطاف حسین نے اجلاس میں شریک بزرگوں اور خواتین سے کہاکہ آج سرکاری اہلکار ، ایم کیوایم کے کارکنوں اورہمدردوں کی گرفتاریوں کیلئے اندھادھند چھاپے ماررہے ہیں۔ ہمارے کارکنوں سے تھانے اور جیلیں بھری جارہی ہیں۔ کل نجانے اور کیا حالات ہوں اسلئے خود کو ذہنی وجسمانی طورپرتیار کرلیں۔ کل یہ بھی ممکن ہے کہ ماضی کی طرح بزرگوں اور خواتین کو ہی نائن زیرو کے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پڑیں۔ اس موقع پر کارکنان نے پرجوش نعرے لگائے اور کہاکہ وہ کسی بھی آزمائش کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ جناب الطاف حسین نے فوج اورعسکری قیادت کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہرگز ہرگز ملک دشمن نہیں ہیں ، ہم غیرنہیں ، آپ کے اور ملک کے دوست اور خیرخواہ ہیں ۔ خداراہمیں گلے لگالو اور تمام غلط فہمیوں کاخاتمہ کرلو۔خدارا گلے شکوے دور کرکے ہمیں اپنا بنالیں ، ہم پاکستان کے چپہ چپہ کے دفاع کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ جدوجہد کیلئے تیار ہیں۔ آپ ایک قدم بڑھائیں ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے، میرے ساتھیوں اور ایم کیوایم کے چاہنے والوں کو دہشت گردی کے واقعات میں شہید شہریوں کا بے پناہ غم ہے اور اتنا ہی غم ہمیں اپنے ان شہید فوجیوں کا ہے جن کے گلے کاٹے گئے اور جنہیں پاک وطن کی حفاظت کرنے کی پاداش میں دہشت گردوں نے شہید کردیا۔ جناب الطا ف حسین نے پاکستان کے عوام سے کہاکہ وہ عہد کریں کہ وہ ملک دشمن جماعت اسلامی اور اس کی طلبہ تنظیم سے دوررہیں گے ۔ ان لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ہمارے ہرعلاقے میں رہتے ہیں لیکن انکے انتہاپسند ملک دشمن جماعتوں اور گروہوں سے گہرے تعلقات ہیں ۔ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور اس مقصد کیلئے ڈیفنس کلفٹن سمیت تمام علاقوں میں نگراں کمیٹیاں اورمحلہ کمیٹیاں بنائیں ۔ جناب الطاف حسین نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو دشمنوں سے محفوظ رکھے اور عوام میں اتحاد ویکجہتی قائم کرے ۔ انہوں نے اپنے خطاب کااختتام ایم کیوایم زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے نعرے پر کیا۔
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain
general worker meeting mqm altaf hussain

12/2/2016 11:53:29 AM