Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جناب الطاف حسین ایک عظیم استاد اور مظلوموں کی مدد کیلئے منزل پر پہنچنے کیلئے ان کو راہ دکھاتے ہیں، تقریب رونمائی کے صدر اجمل دہلوی


جناب الطاف حسین ایک عظیم استاد اور مظلوموں کی مدد کیلئے منزل پر پہنچنے کیلئے ان کو راہ دکھاتے ہیں، تقریب رونمائی کے صدر اجمل دہلوی
 Posted on: 11/30/2013
جناب الطاف حسین ایک عظیم استاد اور مظلوموں کی مدد کیلئے منزل پر پہنچنے کیلئے ان کو راہ دکھاتے ہیں، تقریب رونمائی کے صدر اجمل دہلوی 
جناب الطاف حسین نے شجر ممنوعہ موضوع پر قلم اٹھایا اور بہت سے سیاستدانوں سے سبقت لی ہے، تقریب کے مہمان خصوصی محمود شام 
ہر مسئلے کے علاج کیلئے جناب الطاف حسین نے فلسفہ محبت کا نسخہ تجویز کیا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
جناب الطاف حسین کا لیکچر فلسفۂ محبت کے بارے میں تمام بنیادی معلومات کو جمع کرکے ترتیب دیا گیا اور اختصار اس کی خوبی ہے، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم
دنیا میں صرف محبت کا فلسفہ باقی رہے گا اور یہی جناب الطاف حسین کی کتاب فلسفۂ محبت کا پیغام ہے، صدر آرٹس کونسل احمد شاہ
تقریب رونمائی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ مصنف کی پہچان ایک سیاستدان سے ہے، معروف شاعر خواجہ رفیق انجم
کتاب فلسفۂ محبت میں جناب الطاف حسین کے نزدیک یہی فکر رہی ہوگی کہ اگر محبت، دوستی نہیں تو معاشرے کا زوال تیزی سے سامنے آنے لگتا ہے، سینئر تجزیہ نگار آغا مسعود 
جناب الطاف حسین کی کتاب نفرت اور محبت کرنے والوں کیلئے دلچسپ اور منفرد ہے، تجزیہ نگار مجاہد بریلوی
فلسفۂ محبت کی کتاب جناب الطاف حسین کے فصیح و بلیغ سائنسی اور فکری لیکچر پر مشتمل ہے، ڈسٹری بیوٹر ویلکم بک اصغر زیدی
کراچی ۔۔۔30، نومبر2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین کی کتاب ’’فلسفہ محبت ‘‘ کی تقریب رونمائی کے صدر ، معروف ادیب ، شاعر اور مدیر روزنامہ امن اجمل دہلوی نے کہا ہے کہ میرے اور بہت سے لوگوں کے نزدیک جناب الطاف حسین ایک سیاستدان اور مقبول رہنما ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک عظیم استاد ہیں اور مظلوموں کی مدد کیلئے منزل پر پہنچنے کیلئے ان کو راہ دکھاتے ہیں۔ ان کی جماعت ایم کیوایم آج صرف کراچی نہیں پورے پاکستان کی جماعت ہے پوری دنیا میں جانی پہچانی جاتی ہے اس کا ایک وقار اور احترام ہے لیکن یہ ایک المیہ ہے کہ ایم کیوایم جماعت کے خلاف 10سال پہلے بھی ایک آپریشن ہوا اور 10سال بعد دوسراآپریشن ہورہا ہے اور یہ سب جھوٹے الزامات کی بنیاد پر ہورہا ہے جبکہ سب سے زیادہ دہشت گردی کے پی کے، دوسری بلوچستان میں ہورہی ہے اور آپریشن کراچی میں کیاجارہا ہے ؟۔ مقامی ہوتل میں منعقد کی گئی جناب الطا ف حسین کی کتاب ’’فلسفہ محبت ‘‘ پر تقریب کے مہمان خصوصی اور معروف دانشور محمود شام ، ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار ، جامعہ جناح کے وائس چانسلر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم ، صدر آرٹس کونسل احمد شاہ، معروف شاعر خواجہ رفیق انجم، سینئر تجزیہ نگار آغا مسعود، مجاہد بریلوی اور ویلکم بک کے ڈسٹری بیوٹر اصغر زیدی نے اظہار خیال کیا جبکہ تقریب رونمائی کی نظامت کے فرائض معروف کمپیئر اور رکن قومی اسمبلی محترمہ خوش بخت شجاعت نے انجام دیئے۔ تقریب رونمائی میں معروف ادیب، شاعر، دانشور، اساتذہ، وکلاء، تاجر، صنعتکار، صحافی اور عمائدین شہر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب رونمائی میں کتاب فلسفہ محبت پر اظہا رکرتے ہوئے ہوئے اجمل دہلوی نے کہاکہ آپ سب جانتے ہیں کہ ایم کیوایم کو مٹانے کی بہت سازشیں کی گئیں، اس کے ہزاروں بے گناہ کارکنان شہید بھی کردیئے گئے لیکن جناب الطاف حسین نے جو پودا لگایا تھا وہ ایک مضبوط درخت بن چکا ہے اور یہ حق پرستی کی راہ کا صلہ ہے ۔ ایم کیوایم کے خلاف سازشوں کے جال بچھائے گئے صرف اس لئے کہ وہ غریبوں کا راج اور استحصال کا خاتمہ چاہتی ہے ۔ اس نے سیاسی اجارہ داری کی مخالف ہے جو پاکستان کو 66برس میں بھی روشن پاکستان نہیں بنا سکی وہ مظلوموں کا خون چوستے رہے اور قومی دولت سے اپنی تجوریاں بھرتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ شیطانی طاقتوں نے پہلے بھی اور اب بھی ایم کیوایم کو بدنام کرنے کیلئے جناح پور اور مہاجر لبریشن آرمی کے افسانے اور سازشوں کے قصے سنائے ہم ان سازشوں کو سمجھتے ہیں، ہم تو اپنے کلمہ گو بھائی بہنوں کے خون سے بھرے ہوئے دریاؤں سے گزر کر پاکستان آئے ہیں جو ہم کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آزادی چاہتے تھے ، امن چاہتے تھے ، انصاف چاہتے تھے ، ہم کو سیاسی اور اقتصادی آزادی کی ضرورت تھی اسی لئے آزادی کی تحریک کا آغاز ہوا تھا پاکستان کے قیام کے بعد لاکھوں خاندان بے مثال قربانیاں دے کر اس وطن کی تعمیر وترقی اور خوشحالی کیلئے یہاں آئے ، وہ پاکستان کے خالق بھی ہیں اور معمار بھی ہیں لیکن وہ سوچتے ہیں کہ کیا ہمیں وہ سب کچھ مل گیا جس کیلئے ہم نے پاکستان بنایا اور لاکھوں جانوں کی قربانی دی ۔ انہوں نے کہاکہ کیا اس لئے پاکستان بنایا گیا تھا کہ یہاں ہم کو دوسرے درجے کا شہری سمجھاجائے اور ہمیں ہمارے جائز حقوق سے محروم رکھا جائے ہم میں بہت سے ہیں جنہوں نے اپنی عمر گزار دی لیکن یہ سوچیں کہ کل ہمارے بچوں کا کیا مستقبل ہوگا اور پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا یہ سب کو سوچنا ہے ، متحد ہونا ہے اور ایک آواز ہونا ہے اور مظلوم عوام کو حقو ق دلانے کی جدوجہد میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے ۔ محبت صرف انسانوں کے درمیان نہیں ہوتی ، زمین اور اللہ سے بھی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کتاب فلسفہ محبت کا مطالعہ کرکے آپ کی معلومات میں غیر معمولی اضافہ ہوگا میرے نزدیک محبت زندگی اور آخرت ہے اور سچی محبت کبھی نہیں مٹتی۔ 
تقریب رونمائی کے مہمان خصوصی محمود شام نے کہا کہ نفرت ، دہشت گرد ی ، خوں ریزی ، ٹارگٹ کلنگ کے وحشت بھرے جنگل میں کوئی محبت کا فلسفہ بیان کررہا ہو تو اس کی جرات کی داد بھی دینا چاہئے اور اس کی باتیں سننے کی ہمت بھی کرنی چاہئے ۔ ہمارے ارد گرد آسمان، سیارے سب محبت کا پھیلاؤ ہے، ہم خالق دو جہاں کی اشرف ترین مخلوق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین نے بہت سے امور میں سبقت لی ہے جسے بالآخر دیگر سیاسی رہنماؤں نے اپنا یا ۔ ٹیلی فون خطاب پر مذاق اڑایا جاتا تھا آج سب اس کی تقلید کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین واحد قائد ہیں جنہوں نے ناگزیر موضوع کے پتھر کو اٹھانے کی کوشش کی ہے اورمحبت کا فلسفہ انسان کی بنیادی جبلت کے بارے میں ایک فکری جست ہے ایسے مخصوص دستاویز نہیں کہا جاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ محبت اور عشق کی منزل وصال ہوتی ہے اور وصال ہی تخلیق کا سبب بنتا ہے ، صدیوں سے جوڑے محبت کرتے آرہے ہیں ، ہزاروں سال سے عشق کی داستانیں قلم بند کی جارہی ہیں، عشق کی کوئی سرحد نہیں ، پیار کی کوئی انتہاء نہیں ہے ، دنیا کیسے وجود میں آئی اس کے بہت سے فلسفے اور تاویلات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی پہلی نظر میں ہی کہ دیتا ہے کہ مجھے تم سے محبت ہیں اور کسی کو یہ کہنے میں زمانے لگ جاتے ہیں جو قومیں سوچتی ہیں اور تحقیق کرتی ہیں اور تحقیق کوتصدیق سے ملاتی ہیں کامیاب رہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے شجر ممنوعہ موضوع پر قلم اٹھایا جس پر وہ زبردست خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ 
رکن رابطہ کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار
قائدتحریک جناب الطاف حسین نے جرات سے کام لیتے ہوئے حساس موضوع فلسفہ محبت پر قلم اٹھایا اور اس پر بے لاگ لکھا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین ایک عہد ساز شخصیت ہیں وہ ایک ہمہ گیر اور عالم گیر نظریئے کے حامل ہیں ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف دنیا نے بھی کیا ہے ، ان کی سیاسی بصیرت اورویژن ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے یہ ہمارا یقین ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین نے پاکستان میں ایک انقلابی تحریک کی بنیاد ڈالی ، کارکنوں کی ذہن سازی کی اور ذہن سازی اور ذہنی آبیاری کے بغیر کسی ملک اور قوم میں انقلاب برپا کرنا ممکن ہی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جناب الطاف حسین نے فکر ی لیکچر ، اور ذہن سازی کا ایک عمل شروع کیا اور آج ہم ان کے فلسفہ محبت کے ایک لیکچر کو کتابی شکل میں پیش کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں قوم سازی کرنی ہوگی ، ہمیں معاشرے کی تشکیل کرنا ہوگی کیونکہ ہمارے مسائل صرف سیاسی مسائل نہیں ہیں ، ہمارے مسائل سماجی، نفسیاتی بھی ہیں اور ان کا علاج بھی ڈھونڈنا ہے اور جناب الطاف حسین نے ہر مسئلے کے علاج کیلئے جو نسخہ تجویز کیا ہے وہ فلسفہ محبت ہے ۔ فلسفہ محبت کو پاکستان کی سیاست ، معاشرت اور قومی زندگی میں عام کرنا ہوگا اور گھر گھر لے جانا ہوگا ، قائد تحریک جناب الطاف حسین نے مسائل کے حل کرراستہ دیکھا دیا ہے اور محبت میں قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔
ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم
یہ کتاب ایک ایسے موضوع پر لکھی گئی ہے کہ جس کا ہماری زندگی ، عمل اور معاملات سے گہرا تعلق ہے اس لئے فلسفہ محبت پر مشتمل کتاب اور موضوع کی اہمیت ہے ۔ پاکستان کے منظر نامے میں دو باتیں نظر آتی ہیں ایک تو علم سے بے اعتنائی ، علم دوستی سے دوری اور کتاب نہ لکھنے کا کلچر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان کتنے لوگ ہیں جنہوں نے زندگی کے پچا س پچاس برس خاص پیشہ وارانہ صلاحیتیوں میں گزارے ہیں لیکن انہیں یہ خیال نہیں آیا کہ وہ اپنے تجربات کو لوگوں اور معاشرے کے ساتھ شیئر کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کی صورت میں چیزیں سامنے نہیں آتی اس صورتحال میں اگر کوئی کتاب شائع ہوتی ہے اور اس کی زبردست رونمائی ہوتی ہے جیسے آج ہورہی ہیں تو میں اور میرے جیسے لوگ جن کا وعدہ کتاب اور علم سے ہے وہ اپنے اندر مسرت محسوس کرتے ہیں ۔ کتاب لکھے جانا اور اس کا سامنے آنا بڑا زبردست عمل ہے اس کو جاری و ساری رہنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین فکر و عملی طور پر معنی آفرینی کے قائل ہیں اور چاہتے ہیں کہ تحریک اورتنظیم سے وابستہ لوگوں کی بھی بھر پور تربیت ہوتی رہے یہ سلسلہ ہماری سیاسی دنیا میں مفقود ہے ۔ اس طریقے سے اپنے لوگوں اور تحریک کی تربیت عام نہیں ہے اسی فکر کو الطاف حسین ذہنی آبیاری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ سیاسی سطح پر جماعتوں اور رہنماؤں میں اس قسم کی سوچ کمیاب اور نایاب نظر آتا ہے جبکہ جناب الطاف حسین نے اس فکر کو آگے بڑھایا۔انہوں نے کہا کہ جو بڑے فکری موضوعات ابتداء سے مفکرین اور اسکالر کے مد نظر رہے ہیں اور ہیں ان میں زمانہ ، وقت ، انسان ،زندگی اور محبت نمایاں رہے ہیں اور محبت کا اپنا ہی ایک مقام ہے مگر عملی طور پر محبت کی جتنی جہتیں ہیں اس پر بہت کچھ لکھا جاتا رہا ہے تاہم الطاف حسین کا یہ لیکچر محبت کے بارے میں تمام بنیادی معلومات کو جمع کرکے ترتیب دیا گیا اور اختصار اس کی خوبی ہے ۔ 
صدر آرٹس کونسل احمد شاہ نے کہا کہ دنیا میں صرف محبت کا فلسفہ باقی رہے گا اور یہی جنا ب الطاف حسین کی کتاب فلسفہ محبت کا پیغام ہے اور جناب الطاف حسین کی کتاب اور اس کا موضوع موجودہ ملک کے حالات میں امید کی کرن ہے اور یہ کتاب اور فلسفہ سیاست سے بالا تر ہے اور ملک کے سیاستدانوں کو امن اور محبت کیلئے ملنا پرے گا ۔ انہوں نے خوبصورت کتاب کی تصنیف پر جناب الطاف حسین کو مبارکباد دی اور اس کی اشاعت میں کردار ادا کرنے پر ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کو خراج تحسین پیش کیا ۔ 
معروف شاعر خواجہ رفیق انجم
جب ہم نے فلسفہ محبت کا سر ور ق دیکھا تو ایسا لگا کے شمع محبت کے پیچھے تمام پروانے جمع ہوگئے ہیں ۔ آج ہم ایسے مصنف کی ایسی تصنیف کی تقریب رونمائی میں اکٹھا ہوئے جو اس لحاظ سے منفرد ہے کہ کتاب کے مصنف کی پہچان ایک سیاستدان سے ہے اور کتاب کا موضوع سیاستدان سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ تاریخ سے یہ سبق ملتا ہے کہ سیاست کھٹور ہوتی ہے اور اس کا محبت اور ایثار سے واسطہ کیسے ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس تصنیف سے قارئین کویقیناًبے حد ستفادہ حاصل ہوگا اور ساتھ ہی میں کتاب کے مصنف سے یہ درخواست کروں گا کہ وہ اپنی تربیت گاہ سے جتنی فکری نشستیں ہیں انہیں بھی کتابی شکل میں لائیں ۔ 
سینئر تجزیہ نگار آغا مسعود نے کہا کہ پاکستان میں نفرت کے بیج زیادہ اور محبتوں کے کم بوئے جاتے ہیں ، فلسفہ محبت کی کتاب پر اظہا رخیال کرتے ہوئے بڑا فخر محسوس کررہا ہوں اس کتاب میں جناب الطاف حسین کے نزدیک یہی فکر رہی ہوگی کہ اگر محبت ، دوستی نہیں تو معاشرے کا زوال تیزی سے سامنے آنے لگتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں چاروں جانب نفرت کی آگ ہو ، فرقہ واریت عروج پرہو ، جانوروں کی سوچ پھیل گئی ہو اور انسان سکڑتا جارہا ہو ، سائے اپنے ہی سائے سے خوفزدہ ہو ایسے حالات میں جناب الطاف حسین نے فلسفہ محبت پر مشتمل کتاب پیش کرکے بڑا کام کیا ہے اور ان کا محبت کے موضوع پر مطالعہ بہت وسیع ہے 
معروف تجزیہ نگا رمجاہد بریلوی
سیاسی جماعت کے قائد اور لاکھوں اور کروڑوں عوام سے محبت رکھنے والے قائد پر کچھ کہنا پر جلنے کا مقام ہے مگر کتاب فلسفہ محبت کے آغاز میں ہی جناب لطاف حسین نے پیش لفظ میں یہ بات لکھ کر میری مشکل آسان کردی ہ فلسفہ محبت پر اتفاق اور اختلاف کرنے والے دونوں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ فلسفہ محبت اس لیکچر پر مشتمل ہے جو جناب الطاف حسین نے 2003ء میں کارکنان کو دیا تھا ، محبت کی اس مختصر اور جامع تعریف کے بعد انہوں نے مرد ، عورت ، ٹیچر شاگرد کا ذکر کیا ہے جناب الطاف حسین کی کتاب نفرت اور محبت کرنے والوں کیلئے دلچسپ اور منفرد ہے اور اسے ایک بار لیکر پرھنے والے پڑھ کر ہی اٹھیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے فلسفہ محبت کو جس بالیدگی اور عمدگی سے پیش کیا اس پر انہیں داد او خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ 
ویلکم بک ڈسٹری بیوٹر اصغر زیدی نے کہا کہ فلسفہ محبت کی کتاب جناب الطاف حسین کے فصیح و بلیغ سائنسی اور فکری لیکچر پر مشتمل ہے اس تصنیف نے مختلف اقسام اور پہلوؤں کو نئے زواؤں سے نمایاں کیا اس میں فکری نشست کے تمام شعبوں کو متاثر کیا جس پر جناب الطاف حسین مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فلسفہ محبت میں زندگی کا فطری پیغام فطرت سے ہی ہم آہنگ ہوتا ہے اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ جہاں زندگی ہوتی ہے وہاں محبت ہوتی یہ سچی محبت ایثار اور قربانی پر مشتمل ہوتی ہے۔

12/6/2016 8:13:55 AM