Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ارباب اختیار و اقتدار بلدیاتی انتخابات کیلئے حکومت سندھ کے غیر آئینی وغیر جمہوری اقدامات کو کالعدم قرار دیں، رابطہ کمیٹی ایم کیوایم


ارباب اختیار و اقتدار بلدیاتی انتخابات کیلئے حکومت سندھ کے غیر آئینی وغیر جمہوری اقدامات کو کالعدم قرار دیں، رابطہ کمیٹی ایم کیوایم
 Posted on: 11/28/2013
ارباب اختیار و اقتدار بلدیاتی انتخابات کیلئے حکومت سندھ کے غیر آئینی وغیر جمہوری اقدامات کو کالعدم قرار دیں، رابطہ کمیٹی ایم کیوایم
سندھ حکومت بلدیاتی نظام کی آئینی روح کے برعکس بے اختیار بلدیاتی نظام متعارف کرارہی ہے
بلدیاتی انتخابات میں دیہی اور شہری سندھ کیلئے حکومت سندھ کی جانب سے وضع کردہ فارمولا یکسر مختلف ہے جو آئین پاکستان ، قانون اور الیکشن قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، کنور نوید جمیل و اراکین رابطہ کمیٹی ایم کیوایم 
سندھ بھر میں جہاں جہاں یونین کمیٹی ، یونین کونسلز ، وارڈز میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے انہیں درست کیاجائے ، رابطہ کمیٹی ایم کیوایم 
سندھ اسمبلی سے پیپلزپارٹی کی حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کا بل محض اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پرچند ہی منٹوں میں پاس کرایا
ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کے اراکین کی خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس
کراچی ۔۔۔28،نومبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ارباب اختیار واقتدارسے بھر پور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں من پسند و غیر قانونی حلقہ بندیوں اور بلدیاتی انتخابات کے قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھیرنے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور بلدیاتی انتخابات کی اپنی اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کیلئے حکومت سندھ کے غیر آئینی و غیر جمہوری اقدامات کو کالعدم قرار دیا جائے۔ یہ مطالبہ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن کنور نوید جمیل نے جمعرات کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیزآباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین واسع جلیل، حیدر عباس رضوی، توصیف خانزادہ اور عادل خان کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنور نوید جمیل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کو ہی ترقی و خوشحالی کی ضمانت قرار دیا جاتا ہے ۔ بلدیاتی نظام کے آئین کی روح کے برعکس سندھ حکومت تمام Political، Financialاور Administrativeاختیارات اپنے پاس رکھ کر ایک بے اختیار بلدیاتی نظام متعارف کرارہی ہے اور یہ بلدیاتی نظام پاکستان کے آئین 140-Aکی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ سندھ اسمبلی سے پیپلزپارٹی کی حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کا بل محض اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پرچند ہی منٹوں میں پاس کرایا جس کی پوری اپوزیشن بشمول متحدہ قومی موومنٹ نے نہ صرف مخالفت کی بلکہ اپنے خدشات اور تحفظات کا بھر پور اظہار سندھ اسمبلی اور میڈیا پر کیا ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے کیا جانے والا یہ عمل سندھ کی بھاری اپوزیشن کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے جو سندھ میں جاری جمہوری عمل کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ میں پہلے سے موجود دیہی اور شہری تفریق کے خاتمے کیلئے دن رات جدوجہد کی اور سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر پورے پاکستان میں اپنی حیثیت کو تسلیم کروایا ۔ ہمیں انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سندھ حکومت اپنے اقدامات سے دیہی اور شہری خلیج کو بڑھا رہی ہے اور اس سے سندھ کی اجتماعیت کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں دیہی اور شہری سندھ کیلئے حکومت سندھ کی جانب سے وضع کردہ فارمولا یکسر مختلف ہے جو آئین پاکستان ، قانون اور الیکشن قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ دیہی علاقوں کیلئے ڈسٹرکٹ کونسلز کا قیام اور شہری علاقوں کیلئے ڈسٹرکٹ کمیٹیز کا قیام پورے سندھ میں لایا گیا تھا جس کے تحت کراچی میں ڈسٹرکٹ کونسلز کو ختم کرکے آئین و قانون کی خلاف ورزی کی گئی اور ایک ایسا نظام جس کو بیک وقت سندھ میں نافذ ہونا تھا اس میں کراچی کے ساتھ دو عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعصبانہ سلوک اختیار کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسی صورت میں جب کہ حکومت سندھ کی جانب سے دیہی اور شہری سندھ کیلئے علیحدہ علیحدہ قوانین اور بلدیاتی نظام کا نفاذ آرڈی نینسز کے ذریعے کیاجارہا ہو اپوزیشن اس پر بھر پور احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے کراچی ، حیدرآباد ، نوابشاہ ، سکھر ، ٹنڈو آدم ، شہداد پور ، ٹنڈو الہ یار سمیت پورے سندھ میں نئی حلقہ بندیوں کے عمل کے دوران جس طریقے سے آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں وہ ایک انتہائی تشویشناک عمل ہے کہیں 50ہزار اور کہیں 1201افراد کی بنیاد یونین کمیٹیز کا قیام سندھ حکومت کی سیاسی بدیانتی کا ثبوت اور جمہوری عمل کی مکمل نفی ہے ۔ یہ اقدامات کرکے حکومت سندھ نے ایم کیوایم کے جمہوری مینڈیٹ پر نقب لگانے کی کوشش کی ہے اور اس صورتحال میں ایم کیوایم اس غیرقانونی ، غیر آئینی اور غیر جمہوری حکومتی اقدامات کو یکسرمسترد کرتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ ہم آئینی ، قانونی اور جمہوری دائرہ میں رہتے ہوئے ہر قسم کا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے مذکورہ اقدامات سے نہ صرف دیہی علاقوں کی آبادی کے حقوق غصب ہورہے ہیں بلکہ شہری علاقوں کی آبادی کے ساتھ بھی انتہائی متعصبانہ اور امتیازی سلوک کااظہار ہوتا ہے ۔ حکومت سندھ ہر آنے والے دن یونین کمیٹیز کی تعداد میں رد و بدل کررہی ہے اور اس کوشش میں ہے کہ مصنوعی اور غیر قانونی طریقے سے ایم کیوایم کے مینڈیٹ پر قبضہ کیا جاسکے ۔ ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ گزٹ پے گزٹ ، نوٹی فکیشن پر نوٹی فکیشن ، غیر قانونی من پسند حلقہ بندیاں بلدیاتی انتخابات میں من پسند نتائج کے حصول کی مشق ہے جسے ایم کیوایم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیگی اور بلدیاتی انتخابات میں حکومت سندھ کی اجارہ داری قائم رکھنے کی غیر جمہوری، غیر قانونی، غیر اخلاقی کوششوں کیخلاف اپنی سیاسی ، جمہوری ، عدالتی اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی اور ایم کیوایم ،حکومت سندھ کی جانب سے بلدیاتی انتخابات میں من پسند نتائج کے حصول کیلئے ماورائے آئین و قانون اقدامات کرنے کے عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کے مطابق 1998ء کی مردم شماری کے مطابق بننے والی ڈسٹرکٹ ملیر کی شہری اور دیہی آبادی یکجا کرکے قانون میں دیئے گئے آبادی کے پیمانے کو پرکھ کر حلقہ بندیاں کی جائیں اور یونین کمیٹیز بنائیں جائیں جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ 22اور کم سے کم 18ہوں۔قاسم آباد کو حیدرآبادکا حصہ رہنے دیاجائے کیونکہ قاسم آباد حیدرآباد کا تاریخی اثاثہ ہے۔ سکھر میونسپل کارپوریشن کی SMC2میر معصوم شاہ میں غیر فطری طور پر شامل کئے گئے علاقوں کو جغرافیائی لحاظ سے درست کیاجائے اور بے ترتیب اور غیر قانونی حلقہ بندیوں کو فی الفور درست کیاجائے ۔ ٹنڈو آدم اور شہداد پور میونسپل کی1987ء کی میونسپل کمیٹیوں کو بحال کیاجائے اور غیر جمہوری اور سیاسی عمل بند کرایاجائے اور پورے سندھ میں جہاں جہاں یونین کمیٹی ، یونین کونسلز ، وارڈز میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے انہیں درست کیاجائے اور پورے سندھ کیلئے چاہے وہ شہری یا دیہی علاقے ہوں ہر صورت میں تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آبادی کے تناسب حد بندی کی جائے۔ 

12/10/2016 12:27:20 PM