Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سانحہ انچولی ،سانحہ راولپنڈی ،سانحہ عباس ٹاؤن اورسانحہ ہزارہ ٹاؤن امن و یکجہتی کو پارا پارا کرکے پاکستان کی بقاء و سلامتی کو داؤ پر لگانے کیلئے کئے گئے ، ڈاکٹر فاروق ستار


سانحہ انچولی ،سانحہ راولپنڈی ،سانحہ عباس ٹاؤن اورسانحہ ہزارہ ٹاؤن امن و یکجہتی کو پارا پارا کرکے پاکستان کی بقاء و سلامتی  کو داؤ پر لگانے کیلئے کئے گئے ، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 11/23/2013
سانحہ انچولی ،سانحہ راولپنڈی ،سانحہ عباس ٹاؤن اورسانحہ ہزارہ ٹاؤن امن و یکجہتی کو پارا پارا کرکے پاکستان کی بقاء و سلامتی  کو داؤ پر لگانے کیلئے کئے گئے ، ڈاکٹر فاروق ستار
ڈرون یا میزائل یہ بھی ایف آئی آر میں درج نہیں اور سمت بھی معلوم نہیں ہے تو پھر یہ احتجاج کی سمت کا تعین امریکہ کے خلاف کیسے ہورہا ہے
پاکستان تمام مسالک اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ہے اور یہ کسی ایک مسلک یا کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کا نہیں ہے
جو لوگ دہشت گردوں کوشہید کہتے ہیں ایسے سیاسی عمل اور سیاسی سوچ رکھنے والوں کو ملک بھر کے عوام مستر دکرکے ان کا مکمل بائیکاٹ کریں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
پاکستان کے عوام کو ایک ٹھوس انسداد دہشت گردی پالیسی اور حکمت عملی دی جائے تاکہ یکسوئی کے ساتھ پاکستان کے اندر اس کے دشمنوں کا خاتمہ کیاجاسکے ، ڈاکٹر فاورق ستار کا حکومت سے مطالبہ 
سانحہ انچولی کے سوگ کے موقع پر لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں شہداء کے ایصال ثواب کیلئے منعقدہ قرآن خوانی کے اجتماع 
کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ 
کراچی ۔۔۔23، نومبر2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے خلاف پورے ملک میں واویلا مچایا جارہا ہے ، دھرنے دیئے جارہے ہیں جس پر میرا سوال یہ ہے کہ سانحہ انچولی کیا دہشت گردوں کی جانب سے ہنگو میں ہونے والے ڈرون حملے کا بدلہ ہے ؟ ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں مسلسل سازشوں کے ذریعے فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکایا جارہا ہے تاکہ کراچی اور ملک کو فرقہ واریت کے جہنم میں جھونکا جاسکے لیکن پاکستان کے عوام کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کی یہ جنگ جو روزانہ ہم پر مسلط کی جارہی ہے اس سے ہمیں کس طرح نبرد آزما ہونا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ فرقہ وارانہ فسادات کی سازشوں کے باوجود پاکستان کے تمام مسالک اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں نے اتحاد کا بھر پور مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان تمام مسالک اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ملک ہے اور یہ کسی ایک مسلک یا کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کا نہیں ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز سانحہ انچولی بم دھماکوں کے خلاف ایم کیوایم کی جانب سے پرامن یوم سوگ کے موقع پر لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں شہداء کے ایصال ثواب کیلئے منعقدہ قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کے اجتماع کے بعد صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان محترمہ نسرین جلیل اور سید امین الحق مین بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کے عوام ایک مرتبہ پھر اپنے غیر متزلزل اور مثالی ، شیعہ ، سنی ، مسالک اور مذاہب کے اتحاد سے سازشوں کے نئے سلسلوں کو بھی ناکام بنا کر سازشی عناصر کے ارادوں کو خاک میں ملا دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن ویکجہتی کے قیام کیلئے ہم نے بھی فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کردیا ہے کیونکہ امن و یکجہتی کے ذریعے ہی پاکستان کی بقاء و سلامتی کی ضمانت دی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے سانحہ انچولی سمیت ماضی میں ہونے والے سانحات جن میں سانحہ راولپنڈی ،عباس ٹاؤن ، ہزارہ ٹاؤن شامل ہیں یہ تمام سانحات امن و یکجہتی کو پارا پارا کرنے کیلئے اور پاکستان کی بقاء و سلامتی کو داؤ پر لگانے کیلئے کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام فرقہ واریت کی سازش کو سمجھ چکے ہیں اور وہ کسی حال میں اپنے اتحاد کو ختم نہیں ہونے دیں ، امن و یکجہتی کو قائم رکھیں گے اور اپنے عظیم تر اتحاد ،تنظیم کے ذریعے اور متحرک طریقے سے فیصلہ کن جدوجہد کرکے انشاء اللہ تعالیٰ پاکستان کو فرقہ واریت کے جہنم میں جھونکنے کی سازش کو ہمیشہ کیلئے ناکام بنا دیں گے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہنگو کے ڈردن حملے میں مارے جانے والے کون ہیں ؟اوران کے لئے آسمان سر پرکیوں اٹھایاجارہا ہے جبکہ سانحہ انچولی میں جو محب وطن پاکستانی اور جیو نیوز کے جفا کش ملازم سالک جعفری شہید ہوئے ہیں وہ بھی تو پاکستانی تھے اور محب وطن تھے ان شہداء کیلئے کیوں احتجاج نہیں کیاجارہا ہے ، ان کے لواحقین کے ساتھ ان کے درد میں شریک کیوں نہیں ہوجارہا ہے ؟اور ان سے اظہا رتعزیت و یکجہتی کیوں نہیں کیاجارہا ہے ؟ انہوں نے کہاکہ ڈرون حملے میں جو لوگ مارے جارہے ہیں ان کیلئے پاکستان کے قومی اور مذہبی جذبات سے کھیلا رہا ہے اور اپنی سیاست کو چمکا نے کیلئے عوام کو گمراہ کیاجارہاہے اور حقائق کو ان سے اوجھل رکھا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے خلاف تودہشت گردوں کا بس نہیں چلتا اور اب ڈرون حملوں کا بدلہ بھی پاکستان کے محب وطن عوام سے لیاجارہا جبکہ جو ڈرون حملہ کررہے ہیں ان کو للکارنہیں جارہا ہے ۔ایک طرف دھرنا دیا جارہا ہے ، پاکستان کے کئی رہنما واویلا کررہے ہیں اور امریکہ کے خلاف چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا رہے ہیں جبکہ ڈرون حملے کے خلاف جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہ منافقانہ ہے اورمقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے اس میں ڈرون کا لفظ تک استعمال نہیں کیا گیا ہے ؟اس کا مطلب یہ ہے کہ دھوکہ دیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو دھرنا دیاجارہا ہے یہ پاکستان کے عوام کے جذبات کا مذاق اڑایاجارہا ہے آپ ڈرون حملے اور نیٹو سپلائی تب بند کریں گے جب آپ میں اتنی اخلاقی ہمت ، جرات ہو کہ آپ ایف آئی آر میں کہیں جو تھانہ ٹل کے ایس ایچ او فرید خان کی مدعیت میں درج کی گئی اس میں کسی میزائل ،ڈرون کا ذکر نہیں ہے اور ایف آئی آر بھی نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی تو یہ ایف آئی آر امریکہ اور اس کی سی آئی اے کے خلاف درج کیوں نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ ڈرون حملے میں مارے جانے والے پاکستانی نہیں افغانی تھے اور یہ ایک دن پہلے ہی افغانستان سے سرحد پار کرکے پاکستان آئے تھے تھانہ ہیڈمحرر کی اپنی رائٹنگ میں جو رپورٹ درج ہے اس میں ڈرون کے ذکر اور امریکہ کے تذکر ہ کو گول کردیا گیا لیکن وفاقی حکومت ہمارے دفتر خارجہ نے امریکہ سے اس حملے پر بھر پور احتجاج کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں بچوں سمیت کئی پاکستانی شہریوں کی جان گئی ہے۔ اگر حکومت پاکستان ، وزارت خارجہ عوام سے ہی حقائق چھپائیں اور پھر چند سیاسی رہنما صرف اپنے مذموم عزائم، سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ڈرون حملے میں جو افغانی ہلاک ہوئے ہیں اور جو پاکستان کے شہری بھی نہیں ہیں ان کیلئے دھرنا دیاجائے اور کے پی کے میں کراچی کے شہید ہونے والے محب وطن شہریوں کیلئے دھرنا نہ دیا جاتے تو یہ کھلا تضاد ہے ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ،خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اپنے احتجاج کی توپوں کا رخ نیٹو سپلائی سے ہٹا کر اس ڈرون حملے کی طرف کردیا ہے ، قو ل و فعل کا تضاد اور منافقت ، دو عملی یہ ہے کہ حملہ نامعلوم افراد نے کیا ، حملہ نہ معلوم سمت سے ہوا یہ ایف آئی آر میں لکھا ہے اس میں افغانی مارے گئے پھر حکومت اور عمران خان احتجاج کس طرح سے کررہے ہیں اگر حملہ کرنے والے نامعلوم افراد ہیں ، حملہ میں کیا ہتھیار استعمال ہوئے ڈرون یا میزائل یہ بھی ایف آئی آر میں درج نہیں ہے اور سمت بھی معلوم نہیں ہے اور پھر یہ احتجاج کی سمت کا تعین امریکہ کے خلاف کیسے ہورہا ہے؟اس کا مطلب ہے کہ آئین و قانونی ذمہ داریوں سے سراسر انحراف کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت ڈرون حملے کے اصل ذمہ داران کے خلاف پرچہ کاٹ ہی نہیں رہی ہے ، ایف آئی آر جس کے نام کٹتی ہے اسی کو گرفتار کرکے عدالت میں لایاجاتا ہے کیا صوبائی حکومت نہیں چاہتی کہ وہ امریکہ پر مقدمہ چلائے اب یہ بات واضح ہے کہ خیبر پی کی حکومت امریکہ کے خلاف مقدمہ چلانا نہیں چاہتی اور یہ خیبرپختونخواہ کے عوام کے ساتھ سنگین مذاق ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کو ایک ٹھوس انسداد دہشت گردی پالیسی اور حکمت عملی دی جائے تاکہ یکسوئی کے ساتھ پاکستان کے اندر اس کے دشمنوں کا خاتمہ کیاجاسکے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ جو لوگ دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والوں کو شہید نہیں کہتے اور سفاک دہشت گردوں کو شہید کہتے ہیں ملک بھر کے عوام ایسے سیاسی عمل اور سیاسی سوچ کو بھی مستر کرکے اس کا بھی مکمل بائیکاٹ کریں ۔ 



12/4/2016 12:02:10 AM