Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں امن کا قیام یکجہتی سے ہی ممکن ہے اور اگر یکجہتی پیدا نہ کی گئی تو شائد یہ موقع بھی نہ مل سکے، ڈاکٹر فاروق ستار


 Posted on: 11/21/2013
پاکستان میں امن کا قیام یکجہتی سے ہی ممکن ہے اور اگر یکجہتی پیدا نہ کی گئی تو شائد یہ موقع بھی نہ مل سکے، ڈاکٹر فاروق ستار
پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے معاشرے میں موجود تمام مذہبی اکائیوں، مسالک، فنکار اور تمام طبقہ فکر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے، حیدر عباس رضوی 
فساد فی سبیل اللہ پیدا کیاجارہا ہے، یہ ہمارے لئے فساد اور تباہی کا باعث ہے ہمیں کھل کر ان کے خلاف لڑنا ہوگا، بزرگ سیاستدان معراج محمد خان 
پاکستان تاریخ جھنجھور رہی ہے اور جغرافیہ للکار رہا ہے ہم صرف بھاری مینڈیٹ کا ڈھول پیٹ رہے ہیں، محمود شام 
حال کے حالات ماضی کے حالات کا نتیجہ ہوتے ہیں آج کے حالات دیکھ کر ماضی کو فراموش نہیں کرسکتے تھے، مولانا تنویر الحق تھانوی 
جو سفر وسعت النظری کے ساتھ شروع کیا تھا آج ہم اس سفر کے ساتھ انتہائی تنگ نظری کے گہرے غار میں گر چکے ہیں، مقتداء منصور 
راولپنڈی کا واقعہ سازش ہے، پنڈی میں جو ہوا وہ فسطائیت، وحشت، دہشت ہے، ڈاکٹر جمیل راٹھور 
اگر شیعہ سنی فساد ہوتا تو دیو بندی، بریلوی مساجد پر حملے کیوں ہوئے، علامہ عباس کمیلی
مندر، مسجد، چرچ، گردوارہ ہو سب عبادت کیلئے بنائے گئے ہیں، رام ناتھ مہاراج
ہم اپنے آپ کو پاکستانی کی حیثیت سے مضبوط کریں گے تو دشمن ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ پاسٹر ایمائنل وکٹر
ایم کیوایم کے زیر اہتمام فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ’’امن و یکجہتی‘‘ سیمینار سے خطاب
کراچی ۔۔۔21، نومبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ آج پاکستان میں فیصلے کی گھڑی ہے اور اب ہمیں مل کر دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کرنا ہوگا ۔ اگر اب بھی ہم نے فیصلے سے راہ فرار اختیار کیا تو پاکستان کی بقاء وسلامتی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیوایم کے زیر اہتمام ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے جمعرات کی شب مقامی ہوٹل میں ’’امن و یکجہتی‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے سینئر صحافی ادیب محمود شام، بزرگ سیاستدان معراج محمد خان ،معروف عالم دین مولانا تنویر الحق تھانوی، علامہ عباس کمیلی ،مذہبی اسکالر ڈاکٹر جمیل راٹھور ، ہیومن رائٹس کمیشن بورڈ کے اسد بٹ ، کراچی تاجر اتحاد کے جمیل پراچہ، کاؤنسل آف پاکستان نیو زپیپر کے عامر محمود، آرٹس کونسل پاکستان کے صدر احمد شاہ ، معروف اسکالر محترمہ شہر بانو والا جائی، کالم نگار و تجزیہ کار آغا مسعود حسین، پاسٹر ایمائنل وکٹر، رام ناتھ مہاراج، جرات کے ایڈیٹر مختار عاقل، وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ظفراقبال نے مقامی ہوٹل میں متحدہ قومی موومنٹ کے زیر اہتمام ’’امن و یکجہتی‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ناصر جمال، اراکین رابطہ کمیٹی ، حق پرست اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں امن کا قیام یکجہتی سے ہی ممکن ہے اور اگر یکجہتی پیدا نہ کی گئی تو شائد یہ موقع بھی نہ مل سکے۔ انہوں نے سمینار میں شریک علمائے کرام ، ہندو و کرسچئن مذہبی رہنماؤں ، قلمکاروں ، صحافیوں اور عوام کی رہنمائی پر قائد تحریک جناب الطاف حسین کی جانب سے خراج تحسین بھی پیش کیا۔ رابطہ کمیٹی رکن حیدر عباس رضوی نے کہا کہ قائد تحریک الطاف حسین پاکستان کی موجودہ صوررتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ ہم اس امر کو طے کرچکے ہیں کہ ہمارا سرحدوں سے باہر موجود دشمن وطن عزیز پاکستان کیلئے سر دست اتنا بڑا گردانا نہیں جاسکتا جتنا کہ ہماری سرحدوں کے اندر ہمارے دشمن ہوتے جارہے ہیں اور وطن عزیز پاکستان کو آج امن و یکجہتی کی جس قدر ضرورت تھی شاید اس سے قبل نہیں تھی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور نیشنل سیکورٹی کو درپیش چیلنجز سے نبر د آزما ہونے کیلئے معاشرے میں موجود تمام مذہبی اکائیوں ، مختلف مسالک ، فنکار اور تمام طبقہ فکر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے اور ان تمام عناصر کو جو پاکستان میں کسی بھی بنیاد پر تفریق پیدا کرنا چاہتے ہیں انکو مسترد کریں سیمینار سے اپنے خطاب میں مولانا تنویر الحق تھانوی نے کہا کہ جب قیام پاکستان کی تحریک چلی تھی تو ایک مذہبی طبقے نے فرقہ واریت کا زہر گھولا تھا ۔ انہوں نے سانحہ راولپنڈی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حال کے حالات ماضی کے حالا ت کا نتیجہ ہوتے ہیں آج کے حالات دیکھ کر ماضی کو فراموش نہیں کرسکتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ سنی اتحاد برقرار رہنا چاہئے اور اسے ختم نہیں ہونا چاہئے۔سینئر بزر گ سیاستدان ودانشور معراج محمد خان نے کہا کہ دنیا میں کوئی پاگل اور دیوانہ ہی ہوگا جواتحاد کو زندگی ، ترقی کی علامت نہیں سمجھے گا ، کسی بھی معاشرے میں ناانصافی اور نابرابر ی موجود ہو تو وہاں اتحاد بین المسلمین یا اتحاد بین المذاہب ہو ایک دھوکے کی مانند ہے ۔ قائد اعظم کے 11ستمبر کے خطاب کو آئین پاکستا ن کا جز قرار دیا جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان وہی ریاست ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد اعظم نے اسے بنایا تھا ۔معروف عالم دین علامہ عباس کمیلی نے کہا کہپاکستان دراصل ان کے ہاتھوں میں آگیا جو قائد اعظم کے نظریہ کے مخالفت تھے جنہوں نے انہیں کافر قرار دیا تھا ، قائد اعظم نے تو سب کیلئے ملک بنایا تھا اور اب تو یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور الطاف حسین نے پردہ اٹھا دیا کہ قائد اعظم کون تھے ۔ادیب اور شاعر محمود شام نے کہا کہ پاکستان تاریخ جھنجھور رہی ہے اور جغرافیہ للکار رہا ہے ہم صر ف بھاری مینڈیٹ کا ڈھول پیٹ رہے ہیں ۔راولپنڈی ، راجہ بازار ، مسجدیں دکانیں کس صوبے کے اختیار میں ہیں ، اسلام آباد بھی چند قدم پر ہے کیا آگ وہاں تک لے جانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پنڈی میں کیا ہوا آسمان کچھ اور زمین کچھ کہہ رہا ہے ، سوشل میڈیا کچھ اور داستانیں سنا رہے ہیں یہ اس ملک کے قلب میں ہورہا ہے جسے اسلامی جموریہ پاکستان کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو ستان میں نمازیں بغیر خوف سے ادا کی جارہی ہے ، محفلیں سجائی جارہی ہیں ، جامعہ مسجد دہلی کے مینار جھک جھک کر پوچھتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت کے ملک میں نمازیں سنگینوں کے سائے میں کیوں پڑھی جارہی ہیں ۔کالم نگار مقتداء منصورنے کہا کہ ہم نے جو سفر وسعت النظری کے ساتھ شروع کیا تھا آج ہم اس سفر کے ساتھ انتہائی تنگ نظری کے گہرے غار میں گر چکے ہیں ،ریاست کی جانب سے بعض ایسے فیصلے کئے گئے جن کے نتیجے میں یہ ریاست منافقتوں کا ایک گہوارہ بن گئی اور یہاں وہ حقائق جو کہ اس ملک کے قیام کے وقت مد نظر رکھے گئے تھے اور جو بابائے قوم نے 11اگست 47ء کو اپنی تقریر میں فرمائے تھے ان سے دانستہ صرف نظر کیا گیا ۔ ۔ انہوں نے جناب الطاف حسین کو بین المذاہب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلے عملی کاوشیں کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ ہیومن رائٹس کمیشن بورڈ کے رکن اسد بٹ نے کہا کہ ہم لوگ جب تک مسائل کو نہیں سمجھیں گے تو اس کا حل تلاش نہیں کرسکتے ،جوقوم فرد، ریاست خود اپنے آپ سے جھوٹ بولتی ہے اپنے آپ کو دھوکہ دیتی ہے اس کے بچنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا وہ تباہی کی طرف جاتی ہے ہم لوگ ہمیشہ اپنی غلطی اور کوتاہیوں کو دوسرے کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب خود ریاست عدم رواداری اور تشدد کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور مذہبی جنیونیوں کے سامنے بے بس تصور کرے تو عام شہریوں کو تحفظ کون دے گاایسے رویئے سے تشدد پسند جماعتوں کے رویئے بلند ہوتے ہیں اور حکومت ٹک ٹک دیدم کی تصور بنی رہتی ہے ۔ کراچی تاجر اتحاد کے جمیل پراچہ نے کہا کہ اس شہر یا ملک میں دہشت گرد بار بار اپنی کوششیں کرتے رہتے ہیں تاکہ اس ملک کے لوگوں کو لڑایاجائے لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جناب الطاف حسین نے سب سے پہلے روالپنڈی سانحہ پر آواز بلند کی اور یہاں تمام مکاتب فکر کے لوگ موجود ہیں جو اس بات کی مثال ہے کہ پاکستان کے تمام مسالک ایک ہیں ، سب مسلمان ہیں کوئی شیعہ ، سنی نہیں ہے اور یہ جانتے ہیں کہ صرف دہشت گرد ان کے درمیان تفریق پیدا کرنا چاہتے ہیں اور آپس میں لڑانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ نے تمام مکاتب فکر کے افراد کو جمع کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ پاکستان میں امن چاہتی ہے اور امن کے پیغام کو فروغ دے رہی ہے ۔ مذہبی اسکالر ڈاکٹر جمیل راٹھور نے کہا کہ ہم جس ماحول میں سسک کر زندگی گزار رہے ہیں وہ ہولناک ، دہشت ناک ، خون آشام اور پرآشوب ہے ، پاکستان کی قوم کی شو مئی قسمت سے المیہ یہ ہے کہ یہ وحدت ، دہشت ، بربریت کے ماحول کو پیدا کرنے والے کون لوگ ہیں ، عام پاکستانی کا خون بہہ رہا ہے ،کوئی آوازا بلند نہیں ہورہی ہے ، ہم سب قتل کی مذمت ضرور کررہے ہیں لیکن قاتل کی مذمت نہیں کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک ہی آواز بلند ہورہی ہے جو مظلومیت کیلئے اور ظالم کے خلاف بلند ہورہی ہے وہ آواز قائد تحریک الطاف حسین کی ہے ،روالپنڈی کا واقعہ سازش ہے ، پنڈی میں جو ہوا وہ فسطائیت ، وحشت ، دہشت ہے ۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر کے عامرمحمود نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے ایک مرتبہ پھر پہل کردی یہ پہل ہمیشہ کی طرح ایم کیوایم کے حصے میں کیوں آئی اس لئے کہ جب بھی ملک میں یا اس شہر اور صوبے میں کبھی بھی کوئی ایسا مسئلہ اٹھا متحدہ قومی موومنٹ نے اسے حل کرنا اپنا فرض سمجھا اور پہل کی اور آج اتنے علمائے کرام ، صحافیوں ، زعما سب کو جمع کرکے پلیٹ فارم فراہم کیا کہ یہاں سے ہم امن و یکجہتی کی بات کریں یہ بات یہا ں سے نکل کر اسی،ہال تک نہیں رہے گی آگے جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ روالپنڈی کے واقعہ کے بعد بھی ہماری آنکھیں نہیں کھلی ،ہم نے اپنے اندر تفریق پیدا کرلی ، آج اگر نہیں جاگیں گے تو ہمیں ماضی کی تباہ ہوتی قومیں یاد رکھنا چاہئے کیونکہ قومیں تباہ اسی لئے ہوتی ہیں کہ انہوں نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا ۔ آرٹس کونسل پاکستان کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ یہ قابل ستائش بات ہے کہ عیسائیوں کو قتل عام کیا گیا تو نائن زیرو پران کی یاد میں دیئے جلائے گئے ، اب پاکستان کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو چوہے کی طرح گھر میں بیٹھے بیٹھے مر جائیں یا لڑ کر مر جائیں اگر چوہے کی طرح مریں گے تو ذلیل ہوں گے اور شیر کی طرح لڑ کر مریں گے تو شان سلامت رہے گی ۔معروف اسکالر محترمہ شہربانو والا جائی صاحبہ نے کہا کہ ہمارے ہاں مذہبی جماعتیں کوششیں کرتی ہیں لیکن ان میں بھی ایم کیوایم سبقت لے جاتی ہے ،نوجوانوں کا یہ گروہوں اپنے راستے پر چل رہا ہے اور پاکستان کو اس شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں جس کیلئے بنایا گیا ہے ہم اس کو سراہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کاقائد میں لوگوں کی تعداد بڑھ جائے ۔۔ معروف عالم دین علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ پاکستان دراصل ان کے ہاتھوں میں آگیا جو قائد اعظم کے نظریہ کے مخالفت تھے جنہوں نے انہیں کافر قرار دیا تھا ، قائد اعظم نے تو سب کیلئے ملک بنایا تھا اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور الطاف حسین نے پردہ اٹھا دیا کہ وہ کیا تھے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ کالم نگار ،تجزیہ نگار آغا مسعود حسین نے کہا کہ یہاں شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ کبھی تھا ۔ ہندو مذہبی رہنما رام ناتھ مہاراج نے کہا کہ جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم امن و یکجہتی پر سیمینار کرکے بڑا کام کیا ہے ،مندر ، مسجد ، چرچ ، گروود وارہ ہو سب عبادت کیلئے بنایئے گئے ہیں ۔ جرات کے ایڈیٹر مختار عاقل نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے آج ضرورت کو محسوس کیا اور امن و یکجہتی کے جن چراغ کو بجھانے کی کوشش کی جارہی ہے اسے جلا یا ہے۔
1982ء میں کراچی شہر ہی تھا جب شیعہ سنی فسادات عروج پر تھے تین سال فسادات چلتے رہے لیکن قدرت نے جناب الطاف حسین کی صورت میں ایک ایسا ، جہاندیدہ شخص پیدا کیا جس نے اپنے پیغام، تنظیم ، تحریک ، پارٹی کے ذریعے اس شہر کو یکجا کیا اور متحد کیا اور متحدہ قومی موومنٹ کے ذریعے آج اگر اس شہر میں شیعہ ، سنی ، دیو بندی ،اہل حدیث امن و سکون سے رہتے ہیں۔ پاسٹر ایمانیل وکٹر نے کہا کہ میں بے شک امن و یکجہتی کا حامی ہوں ، مسیحی ہوتے میں اس کا بہت بڑا حامی ہوں اور ہمیں بھی اپنے پیرو کاروں کو بھی یہی در س دینا ہے کہ اپنے گرد و نواح میں قوم کوئی بھی ہو، کسی بھی مذہب کا ہو ہم ان کے ساتھ اچھے طور پر ، بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ وقت گزارگزاریں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کسی بھی فرقہ سے ہمارا تعلق ہے پر ہم پاکستانی ہیں ہم اپنے آپ کو پاکستانی کی حیثیت سے مضبوط کریں گے تو دشمن ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ۔علمی شخصیت اور وائس چانسلر وفاقی اردویونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ ہم تو تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔ سماج کی مختلف قوتوں ، عناصر اور جہاد کے حوالے سے بہت سی گفتگو ہوئی ۔ میں ایک استاد ہوں یہ جانتا ہوں کہ اگر تقسیم کا یہ عمل نہیں روکا تو استاد ، کلا س روم ،لائیبریاں اور پانی پینے کے گلاس بھی تقسیم ہوجائیں گے۔ اس لئے ہم سب کو کوشش کرنی چاہئے کہ ہم تیزی کے ساتھ تقسیم کے عمل کو روکیں اور اسے روکنے کی یہی شکل ہے کہ مکالمہ کی صورت نکالی جائے۔

12/6/2016 4:21:31 AM