Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جماعت اسلامی کے امیرمنورحسن کی جانب سے حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا جانا اسلام اور رسول اکرمؐ کی تعلیمات اورسنت کے سراسر خلاف ہے۔ الطاف حسین


جماعت اسلامی کے امیرمنورحسن کی جانب سے حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا جانا اسلام اور رسول اکرمؐ کی تعلیمات اورسنت کے سراسر خلاف ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 11/4/2013
جماعت اسلامی کے امیرمنورحسن کی جانب سے حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا جانا اسلام اور رسول اکرمؐ کی تعلیمات اورسنت کے سراسر خلاف ہے۔ الطاف حسین
کیا پاکستان کے مسلح افواج، پولیس،علمائے کرام اورہزاروں معصوم وبے گناہ شہریوں کے سفاک قاتل کو شہید قرار دیا جاسکتا ہے؟
کیا مساجد، امام بارگاہوں، بزرگان دین کے مزارات اوردیگرمذاہب کی عبادتگاہوں پر خودکش حملے کرنے والوں کو شہید قرار دیا جاسکتا ہے؟ 
کیا سفاک قاتل اورمعصوم بے گناہ مقتول دونوں کوشہیدقراردینا اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے؟
ہزاروں معصوم وبے گناہ افرادکے قاتلوں کو شہید قراردینا حسینیت کے علمبرداروں اوریزیدیت کے ماننے والوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے کے مترادف ہے
علمائے کرام اورمفتیان دین خاموشی کاقفل توڑیں اورسفاک قاتل اور بے گناہ مقتول کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے پر سخت احتجاج کریں
اگر مفتیان کرام ،مشائخ عظام اورعلمائے کرام نے خاموشی اختیارکئے رکھی اوراس پر آوازحق بلند نہ کی تووہ بھی اس جرم میں شریک سمجھے جائیں گے
لندن ۔۔۔ 4 نومبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے جماعت اسلامی کے امیرمنورحسن کی جانب سے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کوشہیدقراردیئے جانے کی شدیدمذمت کی ہے۔اپنے بیان میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج ملک کے بیشترذرائع ابلاغ میں جماعت اسلامی کے امیر منورحسن کاایک بیان شائع ہواہے جس میں انہوں نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کوشہادت قراردیاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کابچہ بچہ جانتاہے کہ پاکستانی مسلح افواج اورپولیس کے سات ہزار کلمہ گو افسران و اہلکار اورچالیس ہزارسے زائد معصوم وبے گناہ پاکستانی شہری طالبان کے ہاتھو ں شہیدہوچکے ہیں جن میں جید علمائے کرام اورمذہبی اسکالرزبھی شامل ہیں۔ اسکے علاوہ سینکڑوں مساجد، امام بارگاہیں، گرجا گھر ، بزرگان دین کے مزارات، لڑکیوں کے اسکول اورمسلح افواج کی تنصیبات طالبان کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں مفتیانِ کرام، جید علمائے دین اوراہل قلم ودانش سے سوال کرتاہوں کہ کیا پاکستان کے مسلح افواج اور پولیس کے افسران واہلکاروں،علمائے کرام اور ہزاروں معصوم وبے گناہ شہریوں کے سفاک قاتل کوشہیدقراردیاجاسکتاہے؟کیا مساجد، امام بارگاہوں، بزرگان دین کے مزارات اور دیگرمذاہب کی عبادتگاہوں پر خودکش حملے کرنے والوں کوشہید قراردیا جاسکتا ہے؟ کیا مساجد اور امام بارگاہوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف کلمہ گومسلمانوں کودہشت گردی کانشانہ بنانے والوں کوشہید قرار دیا جاسکتا ہے؟ کیا نماز جمعہ، نماز تراویح ، نماز عیدین، حتیٰ کہ نمازجنازہ تک کوبموں سے اڑانے والوں کو شہید قرار دیا جاسکتا ہے؟انہوں نے سوال کیاکہ اگرہزاروں معصوم وبے گناہ افرادکے قاتلوں کوشہیدقراردیا جاسکتاہے توان کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے پچاس ہزار سے زائدمسلح افواج اورپولیس کے افسران و اہلکاروں ، علمائے کرام اورعام شہریوں کوکیا قراردیا جائے گا؟ کیا سفاک قاتل اوربے گناہ مقتول دونوں کوشہیدقراردینا اسلامی تعلیمات اوراسلامی تقاضوں کے مطابق ہے؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں سمجھتاہوں کہ جماعت اسلامی کے امیرکی جانب سے طالبان کے سربراہ کی ہلاکت کو شہادت قرار دینا اسلامی تعلیمات اوررسول اکرمؐ کی تعلیمات اورسنت کے سراسر خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں معصوم وبے گناہ افراد کے قاتلوں کو شہید قراردینا حسینیت کے علمبرداروں اوریزیدیت کے ماننے والوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے کے مترادف ہے ۔جناب الطاف حسین نے تمام مکاتب فکرکے علمائے کرام اورمفتیان دین سے اپیل کی کہ وہ خاموشی کاقفل توڑیں اور اسلامی شعائر اورتعلیمات کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف سخت احتجاج کریں۔انہوں نے کہاکہ اگر مفتیان کرام ،مشائخ عظام اورعلمائے کرام نے سفاک قاتل اوربے گناہ مقتول کو ایک ہی صف میں کھڑاکرنے پرخاموشی اختیارکئے رکھی اور اس پر آوازحق بلند نہ کی اورسچ کوسچ نہ کہاتووہ بھی اس جرم میں شریک سمجھے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مفتیان کرام ،مشائخ عظام اور علمائے کرام کو اس بات کونہیں بھولنا چاہیے کہ ہم سب کو روز محشراپنے اپنے افعال وکردار کے ایک ایک لمحہ کاحساب دینا ہوگا۔

12/8/2016 1:58:12 AM