Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود بینک ڈکیتیوں اور رہزنی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی وارداتیں معنی خیز ہیں۔ رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ


کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود بینک ڈکیتیوں اور رہزنی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی وارداتیں معنی خیز ہیں۔ رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ
 Posted on: 11/1/2013
کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود بینک ڈکیتیوں اور رہزنی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی وارداتیں معنی خیز ہیں۔ رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ
کراچی میں ایک طرف تو سپریم کورٹ روزانہ مختلف احکامات جاری کررہی ہے، پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کی جانب سے ٹارگٹڈ آپریشن بھی کیا جا رہا ہے
کراچی میں بینک ڈکیتیوں، رہزنی، لوٹ مار اور بھتہ خوری کی وارداتیں بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں
جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے تاجروں، دکانداروں سے بھتہ وصول کرنے اور دکانوں اور کاروباری مراکز پر دستی بموں سے حملے بھی جاری ہیں
ڈاکو اور جرائم پیشہ عناصر بلا خوف و خطر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، آخر شہر کے عوام اپنی جان و مال کے تحفظ کیلئے کہاں جائیں؟
سیاسی کارکنوں اور معصوم شہریوں کو گرفتار کرنے کے بجائے اصل جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے
کراچی ۔۔۔۔یکم ؍ نومبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کراچی کے مختلف علاقوں میں بینک ڈکیتیوں اوررہزنی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی وارداتوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجوداس قسم کی وارداتیں معنی خیزہیں۔ اپنے بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ ماہ کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں بینک ڈکیتیوں کی کئی وارداتیں ہوئیں جن میں جرائم پیشہ عناصر شہریوں کے لاکھوں روپے لوٹ کرفرارہوگئے ۔ گزشتہ روزبھی بینک ڈکیتیوں اوررہزنی کی وارداتیں ہوئیں۔ کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں دہشت گرد وں نے موبائل مارکیٹ میں گھس کر نہ صرف دکانوں کو لوٹا بلکہ مارکیٹ میں موجودلوگوں کوبھی لوٹااورخیریت کے ساتھ فرار ہوگئے۔ آج پھر شہر میں کئی بینکوں کولوٹ لیاگیا۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ کراچی میں ایک طرف توسپریم کورٹ اپنی عدالتیں لگا کر کراچی میں بدامنی کے حوالے سے روزانہ مختلف احکامات جاری کررہی ہے، پولیس ،رینجرزاورقانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کی جانب سے ٹارگٹڈ آپریشن بھی کیاجارہاہے جسکے دوران روزانہ کراچی کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرکے بڑی تعداد میں سیاسی کارکنوں، ان کے رشتہ داروں اورعام شہریوں کو گرفتار کیا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب کراچی میں بینک ڈکیتیوں،مارکیٹوں اور شاہراہوں پر رہزنی ، لوٹ ماراوربھتہ خوری کی وارداتیں بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے تاجروں، دکانداروں سے بھتہ وصول کرنے اوربھتہ ادانہ کرنے پر دکانوں اور کاروباری مراکزپر دستی بموں سے حملے بھی جاری ہیں۔رابطہ کمیٹی نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے سوال کیاکہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود ان وارداتوں کا بدستور جاری رہنا آخر کیا معنی رکھتا ہے؟جب ڈاکو اورجرائم پیشہ عناصر بلاخوف وخطراپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تو آخر شہرکے عوام اپنی جان ومال کے تحفظ کیلئے کہاں جائیں؟رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم نوازشریف، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار، وفاقی حکومت اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سے مطالبہ کیاکہ کراچی میں بینک ڈکیتیوں، لوٹ مار،رہزنی اوربھتہ خوری کی وارداتوں کافی الفورنوٹس لیاجائے اور سیاسی کارکنوں اورمعصوم شہریوں کو گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بجائے اصل جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

12/2/2016 10:41:12 PM