Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اسلام ایک تناور درخت ہے اور مختلف مسالک، عقائد اور آئمہ کرام اس درخت کی شاخیں ہیں،الطاف حسین


اسلام ایک تناور درخت ہے اور مختلف مسالک، عقائد اور آئمہ کرام اس درخت کی شاخیں ہیں،الطاف حسین
 Posted on: 10/29/2013
اسلام ایک تناور درخت ہے اور مختلف مسالک، عقائد اور آئمہ کرام اس درخت کی شاخیں ہیں،الطاف حسین
پاکستان کی بقاء وسلامتی کو خطرات لاحق ہیں، پاکستان کو بچانا کسی ایک جماعت کی نہیں ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے 
طالبان سے مذکرات سے انکارنہیں ، اگرکوئی یہ کہتاہے کہ ہم پاکستان اوراسکے آئین وقانون کونہیں مانتے توانکے بارے میں موجودہ حکومت اورعسکری حکام فیصلہ کریں
امریکہ پاکستان کے اداروں کوکارروائی کرنے دے اور پاکستان کی خودمختاری کااحترام کرتے ہوئے مداخلت سے گریز کرے
اسلام انتہاپسندی نہیں بلکہ اعتدال پسندی کی تعلیم دیتاہے،اسلام میں انتہاپسندی کی کوئی گنجائش نہیں
لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں محرم الحرام کے سلسلے میں علمائے کرام کے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن۔۔۔29، اکتوبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان کی بقاء وسلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور باقیماندہ پاکستان کو بچانا کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے اور قومی سلامتی وبقاء کیلئے ملک کی تمام جماعتوں کو کردارادا کرنا ہوگا۔مسلمانان پاکستان میں کوئی اختلاف نہیں۔ شیعہ وسنی سمیت تمام مسالک کے ماننے والے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، ختم نبوت اور قرآن مجید پر یقین رکھتے ہیں، بنیادی طور پردین اسلام ایک گھنا سایہ داراورتناور درخت ہے جبکہ مختلف مسالک، عقائد اور آئمہ کرام اس درخت کی شاخیں ہیں، مختلف شاخیں ہوجانے سے ہرشاخ درخت نہیں بنتی بلکہ تناور درخت کا حصہ ہی رہتی ہیں۔ شاخیں بڑھنے سے درخت کی حیثیت اور سائے میں اضافہ ہوتا ہے کمی نہیں ہوتی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں محرم الحرام کے سلسلے میں علمائے کرام کے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں مختلف مکاتب فکر کے جید علمائے کرام ، مشائخ عظام ، مفتیان، مذہبی اسکالرز اورذاکرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان ، منتخب نمائندگان ،ایم کیوایم کی علماء کمیٹی اور متحدہ بین المسلمین کے ارکان بھی موجود تھے ۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ بنیادی طور پردین اسلام ایک گھنا سایہ داراورتناور درخت ہے جبکہ مختلف مسالک، عقائد اور آئمہ کرام اس درخت کی شاخیں ہیں، مختلف شاخیں ہوجانے سے ہرشاخ درخت نہیں بنتی بلکہ تناور درخت کا حصہ ہی رہتی ہیں۔ شاخیں بڑھنے سے درخت کی حیثیت اور سائے میں اضافہ ہوتا ہے کمی نہیں ہوتی ۔انہوں نے کہاکہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر دین اسلام تناور درخت اور مختلف مسالک اس کی شاخیں ہیں تو پھر شیعہ اور سنی حضرات علیحدہ علیحدہ وقت میں نماز کیوں ادا کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب ایک درخت پر پھل ایک وقت میں پک کر تیار نہیں ہوتے تو کسی کے پانچ منٹ پہلے اور کسی کے پانچ منٹ بعد نماز ادا کرنے سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔ ان باتوں پر الجھنے کے بجائے یہ دیکھا جائے کہ نماز کا مقصد کیا ہے اور نماز کس کیلئے پڑھی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ شیعہ وسنی سمیت تمام مسالک کے ماننے والے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، ختم نبوت اور قرآن مجید پر یقین رکھتے ہیں، اسی طرح دین اسلام کے بنیادی اصولوں پر بھی تمام مکاتب فکر کے ماننے والوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ کسی بھی مسلک کے ماننے والے کی نماز قبول کرنے کا فیصلہ آپ اور میں نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے ۔دیوبند، بریلوی، فقہ جعفریہ، اہلحدیث کے کسی بھی امامین نے مخالف مسلک پرتنقیداور ان کے عقائد کی تضحیک کا درس نہیں دیا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب تمام مسالک وعقائد کے ماننے والے اس پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی فقہ کے امام نے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والوں کومارنے اورانکی مساجد پر حملے کرنے کادرس نہیں دیا تو پھر ہم ایک دوسرے پر کفر اور بدعت کے فتوے لگاکر ایک دوسرے کی گردنیں کیوں مارتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف غلط الفاظ کیوں ادا کرتے ہیں؟ بدقسمتی سے بعض عناصر پاکستان میں نفاق کا زہر پھیلارہے ہیں، بے گناہ شہریوں کو باقاعدہ شناخت کرکے بسوں سے اتارکرگولیوں کا نشانہ بنارہے ہیں ۔چندبرسوں کے دوران ملک میں افسوسناک واقعات ہوئے ،مساجد، امام بارگاہوں اور مزارات پر حملے ہوئے ،تراویح ،عیداورجمعہ کی نماز کے دوران مساجد میں بم دھماکے کرکے نمازیوں کو شہید کیا گیا اورمساجد کا تقدس پامال کیا گیا۔ اس طرح کی نفرتیں ، تفریق اور دشمنی پیدا کرنے کا مقصد ملت اسلامیہ کے اتحاد کو کمزور کرنا اور دین اسلام کے دشمنوں کو مضبوط کرنا ہے ہمیں اپنے اتحاد سے اس سازش کو ناکام بنانا چاہیے۔ جناب الطاف حسین نے سورۃ البقرہ کی 117 ویں آیت تلاوت اور ترجمہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجد میں اللہ کے نام کا ذکر کرنے سے منع کرے ، انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے ، ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ وہ ان مساجد میں داخل ہوں، جو ایسا کرتے ہیں ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اورآخرت میں عذاب عظیم ہے‘‘۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ جوخیالات میرے ذہن میں ڈالتا ہے اسے میں عوام الناس میں منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہوں ضروری نہیں کہ اس سے اتفاق کیا جائے ۔ میں اتفاق اور اختلاف کرنے والے دونوں مکاتب کا احترام کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔جناب الطاف حسین نے سوال کیاکہ جب پاکستان بن رہاتھا اس کیاکسی نے قائداعظم سے ان کا مسلک پوچھاتھا؟کیاکسی نے قائداعظم سے یہ سوال کیاتھاکہ پاکستان میں کس مسلک کی حکمرانی ہوگی؟کیاکسی نے ایسے مسئلے چھیڑے تھے؟کیاکسی نے یہ سوال کیاتھاکہ کون سنی، کون شیعہ اورکون اسماعیلی ہے؟انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ نہیں دیکھناچاہیے کہ کون کس طریقے سے نمازپڑھ رہاہے بلکہ ہمیں یہ دیکھناچاہیے کہ اس کی نیت کیاہے، وہ کس کے آگے جھک رہاہے،وہ تواللہ تعالیٰ کی عبادت کررہاہے اوراس کی بزرگی اورعظمت کے آگے جھک رہاہے۔انہوں نے کہاکہ اگرآپ طریقہ نماز کے اختلاف پر کسی کودائرہ اسلام سے خارج قراردیں گے تودوسرے آپ کودائرہ اسلام سے خارج قراردیں گے، اس سے اتحادنہیں بلکہ انتشارپیداہوگا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ اسلام انتہاپسندی نہیں بلکہ اعتدال پسندی کی تعلیم دیتاہے،اسلام میں انتہاپسندی کی کوئی گنجائش نہیں ،قرآن مجید نے اتحاد،اخوت اوراحترام انسانیت کادرس دیاہے، قرآن کاپیغام ’’ لکم دینکم ولی الدین‘‘ اور ’’ لااکراہ فی الدین ‘‘ ہے۔جواس کی نفی کرتاہے تووہ قرآن کی نفی کرتاہے اورجوقرآن کی نفی کرتاہے وہ اللہ کی نفی کرتاہے۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم قرآن مجیدکے اسی درس پر یقین رکھتی ہے اوراس کی روشنی میں ملک میں اعتدال پسندی اوررواداری کیلئے جدوجہدکررہی ہے اورملک میں ایساماحول قائم کرناچاہتی ہے جہاں تمام مذاہب اورمسالک کے ماننے والے ایک دوسرے کااحترام کریں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان اس وقت داخلی اور بیرونی خطرات سے گھرا ہوا ہے لیکن ٹی وی ٹاک شوز میں آج بھی بٹیر لڑائے جارہے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان نے امریکہ کے دورے میں ڈرون حملے پر بات چیت کی یا نہیں ، عافیہ صدیقی کے معاملے پر بات چیت کی یا نہیں ۔ اس کے بجائے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ آج اگر ہم بہت سی چیزیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں تو اس میں جہاں غیرملکی قوتوں کی خامی ہے تو ہماری بھی کوتاہی کا دخل ہے ۔ اگر گھر کے لوگ مضبوط ومتحد ہوں تو کوئی ہمارے گھرمیں داخل ہونے کی جرات نہیں کرسکتا۔ ہم کسی کو بھارت ، امریکہ اور اسرائیل کا ایجنٹ بنانے کاوطیرہ اختیار کرکے آیا دین اسلام کی خدمت کررہے ہیں یا آپس میں انتشار اور خلفشار کا سبب بن رہے ہیں، نوجوانوں خصوصاً چھوٹے بچوں کے ذہنوں کوپراگندہ کررہے ہیں اور ہمیں یادرکھنا چاہیے کہ بچپن میں جوچیزیں ذہن میں بٹھا دی جائیں وہ تناور درخت کی شکل میں پختہ ہوجاتی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی بقاء وسلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور باقیماندہ پاکستان کو بچانا کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے اور قومی سلامتی وبقاء کیلئے ملک کی تمام جماعتوں کو کردارادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ٹی وی ٹاک شوزمیں موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے کی مدت کے خاتمے اورنئے چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری جیسے حساس موضوعات کوزیربحث نہیں لاناچاہیے۔طالبان سے مذاکرات کے سوال پر انہوں نے کہاکہ ٹی وی ٹاک شوزمیں اس حوالے سے بھی بٹیرے لڑائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تمام جماعتوں نے جب ملکرحکومت کوکہہ دیاہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات کرے توحکومت کو چاہیے کہ وہ تمام جماعتوں کے مشورے سے طالبان سے مذاکرات کاایجنڈاتیارکرے جوطالبان کے سامنے رکھاجائے اوراس بات کوضرورپیش نظر رکھا جائے کہ ریاست کی رٹ کاہرصورت میں احترام کیاجائے ۔میں طالبان سے مذکرات سے انکارنہیں کرتالیکن اگرکوئی یہ کہتاہے کہ ہم پاکستان اوراس کے آئین وقانون کونہیں مانتے توان کے بارے میں موجودہ حکومت اورعسکری حکام فیصلہ کریں اور خواہ پیارکاراستہ ہویاجنگ کاراستہ ہوپوری قوم ان کاساتھ دے۔ڈرون حملوں کے بارے میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ امریکہ کہتاہے کہ شمالی وزیرستان سے طالبان ٹریننگ لیکراورمسلح ہوکرافغانستان جاکرحملے کرتے ہیں اورحملے کرکے واپس قبائلی علاقوں میں آکرپناہ لیتے ہیں۔ حکومت پاکستان اورعسکری ادارے اس کی تحقیقا ت کرائیں اوراگرایساہے تواس سلسلے کوبندکرائیں۔انہوں نے امریکی حکومت سے بھی کہاکہ وہ اس سلسلے ازخودکارروائی کرنے کے بجائے پاکستان کے اداروں کوکارروائی کرنے دے اور پاکستان کی خودمختاری کااحترام کرتے ہوئے خودمداخلت سے گریز کرے۔ ایل او سی پر ہونے والے حملوں کا زکر کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہا کہ مغربی سرحد کے ساتھ ساتھ مشرقی سرحدپر بھی صورتحال کشیدہ ہے، بھارت کی طرف سے مسلسل مداخلت ہورہی ہے ۔جب ہم ایک دوسرے کے گھر اجاڑ رہے ہوں اورآپس میں دست وگریباں ہوں تودوسروں کوبھی گھرمیں مداخلت کاموقع ملتاہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال پرروشنی ڈالتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان اس وقت چارو ں طرف سے خطرات اورچیلنجوں میں گھراہواہے، دہشت گردی،بدامنی اورمعاشی بدحالی کا شکار ہے ۔انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کومشکلات سے نکالے اورپوری قوم کوملک کی سلامتی وترقی کیلئے کام کرنے کی توفیق دے ۔ انہوں نے اجتماع میں شرکت پرتمام مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے علماء و مشائخ اورزاکرین کاشکریہ اداکیا۔ انہوں نے مذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے کوششیں کرنے اوراس مقصدکیلئے قربانیاں دینے والے علمائے کرام کوخراج تحسین پیش کیااوراپنی جانوں کانذرانہ پیش کرنے والے علمائے کوبھی خراج عقیدت پیش کیا۔ 



















































12/3/2016 9:55:07 PM