Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کوئی بھی صحافی HUNT WITCH سے HOUR WITCHING تک کیسے پہنچتا ہے؟


کوئی بھی صحافی    WITCH  HUNT سے    WITCHING HOUR  تک کیسے پہنچتا ہے؟تحریر ڈاکٹرندیم احسان
 Posted on: 9/28/2020
کوئی بھی صحافی    WITCH HUNT
 سے    WITCHING HOUR
تک کیسے پہنچتا ہے؟

17 ستمبر 2020
ٹورنٹو، کینیڈا

قارئینِ کرام،
السلام علیکم اور آداب،
صحافت ایک معززاورقابلِ احترام پیشہ ہے۔ صحافت کو کچھ حلقے ریاست کاچوتھاستون بھی کہتے ہیں۔ تاریخ نے بڑے جید اورقابلِ احترام صحافی پیداکئے ہیں۔ مگرآج کے دورمیں اس چوتھے ستون کی غلام گردشوں میں ایسے صحافی کہیں لاپتہ کردیئے گئے ہیں۔ 
قارئینِ کرام!
میں تاریخ کے ادنیٰ طالبعلم اور الطاف حسین بھائی کے ایک وفاپرست کارکن کی حیثیت سے ایک ایسے مضمون کے بار ے میں جواب دیناچاہتاہوں جومنطق اورصحافت کے زریں اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ میں اپنی اس تحریر میں تاریخ، قلم اور دماغ کی درستگی کیلئے حقائق پرمبنی صرف چیدہ نکات پرگفتگوکرناچاہوں گا۔ میرے تمام نکات پرگفتگونہ کرنے کا قطعاً یہ مطلب نہ لیاجائے کہ جن نکات پرمیں نے گفتگونہیں کہ ان کا میرے پاس جواب نہیں ہے یا میں ان نکات سے متفق ہوں۔ بلکہ میں ان نکات کوغیراہم سمجھتا ہوں اور اپنی تحریرکی طوالت نہیں چاہتا۔
گذشتہ ماہ 22 اگست 2020ء BBC کی اردوسروس کی ویب سائٹ پر جعفر رضوی صاحب (صحافی لندن) کی ایک تحریر نظرسے گزری جس کاعنوان تھا؛
الطاف حسین: ایم کیو ایم کے بانی 'قائد تحریک' سے'ہیپی آور' تک کیسے پہنچے؟
مجھے علم نہیں کہ جعفر رضوی صاحب نے صحافت کی تعلیم اورتربیت کہاں اورکس سے حاصل کی۔ مگران کی تحریرکا موضوع پڑھ کرجو پہلا خیال میرے ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ جس طرح پاکستان سے تعلق رکھنے والے دیگر صحافی الطاف بھائی سے بیر رکھتے ہیں، اسی طرح موصوف نے بھی الطاف بھائی کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہوگی۔ تمام مضمون پڑھ کر مجھے یہ یقین ہوگیا کہ یہ مضمون کسی''خاص مقصد''کے حصول کیلئے لکھا  یا شاید لکھوایا گیا ہے۔ لہٰذا مجھ پر یہ فرض اورقرض ہوگیاتھا کہ اس بے ہنگم مضمون کا میں''قلم توڑ''جواب دوں۔
معزز قارئین!
جعفر رضوی صاحب نے اپنا یہ مضمون خصوصی طورپر22 اگست کوہی کیوں شائع کروایا،؟ اسے ہرکوئی ذی شعور شخص باآسانی سمجھ سکتاہے۔ میرے لئے اس کاجواب دینا22 اگست کوممکن نہ رہا تھا اور 23 اگست کومیں دینا نہیں چاہتا تھا کہ 23 اگست ہو یا کہ 23 مارچ، یہ دونوں''23''بانیانِ پاکستان اور ان کی اولادوں کو دھوکے دینے کی تاریخیں ہیں۔ حصولِ رزق اورمعاش کی وجہ سے کئی روز گزرگئے اور میں بے چین رہا کہ اپنا تحریکی فرض ادا کرسکوں اور جعفر رضوی صاحب کو قرض بھی ادا کرسکوں۔ پھر خیال آیا کہ 22 اگست کی نسبت 17 ستمبر والے سے ہے، لہٰذا اپنی تحریرکو 17 ستمبرکے خوشیوں والے دن، تحفتاً جاری کروں۔ آج بانی و قائدِ تحریک الطاف حسین بھائی کی 67 ویں سالگرہ ہے۔ الطاف بھائی، آپ کو 67 ویں سالگرہ بہت بہت بہت مبارک ہو۔ 
تمہیں اورکیا دوں میں دل کے سوائے
 تم کو ہماری عمر لگ جائے۔ آمین

معزز قارئین!
اب آتے ہیں جعفررضوی صاحب کی صحافت کوقلم کی سچائی بتانیاورتاریخ کے ائینے میں حقیقت دکھانے کی جانب۔ میں یہاں کوشش کروں گا کہ پہلے جعفررضوی صاحب کا نکتہ لکھوں اور پھر اس پر اپنے دلائل پیش کروں۔
جعفررضوی صاحب نے الطاف بھائی کی 22 اگست 2016 کی تقریرکے حوالے سے لکھا کہ
''اس تقریر کے الفاظ  تو عدالتی حکم کی وجہ سے شائع نہیں کیے جا سکتے''۔
جعفررضوی صاحب!
آپ تو لندن میں رہ رہے ہیں اورBBC جیسے بے لاگ ادارے کیلئے کام کررہے اورلکھ رہے ہیں۔ کیا آپ یہ بتاناپسند کریں گے کہ فوجی بوٹوں تلے سسکتے پاکستان کی عدالت کا یہ غیر قانونی اور غیرآئینی فیصلہ آپ پرلندن میں کس صحافتی قانونی قدغن کے تحت نافذ ہوسکتاہے؟
پھرآپ فرماتے ہیں کہ
''تاہم اس تقریر کے بعد ہی یہ تاثر پیدا ہوا کہ اب ملک کے سیاسی منظر نامے میں الطاف حسین اور اُن کی ایم کیو ایم کی (فی الحال) کوئی جگہ نہیں رہی''
جعفررضوی صاحب!
یعنی آپ بھی یہ تسلیم کررہے ہیں کہ MQM الطاف بھائی کی ہے۔''واقفانِ حال''نے آپ کویہ بتادیا ہوگا کہ ''فی الحال''مناسب لفظ رہے گا۔ یعنی آپ اور واقفانِ حال، اس حقیقت کوتسلیم کرتے ہیں کہ ''فی المستقبل''الطاف بھائی اوران کی ایم کیوایم کوآنے سے روکانہیں جاسکتا۔ 
آگے آپ لکھتے ہیں کہ
'' یا پھر اس عروج و زوال میں کوئی حصہ شخصیت پرستی، ذاتی انا اور آمرانہ طرزِ سیاست کا بھی ہے''
جعفررضوی صاحب!
بہت معذرت، آپ نے اس طرح کے الفاظ لکھ کراپنے ذہن کے بجائے اپنی ذہنیت کی عکاسی کی ہے۔ کروڑوں ذہنوں اور دلوں پرحکمرانی کرنے والا الطاف حسین جیسا لیڈرصدیوں میں پیداہوتاہے۔ کئی کئی گھنٹے بیٹھ کراپنے کارکنان کیلئے اپنے ہاتھوں سے کھانابنانا اور اسے پیک کرکے گرما گرم بھیجنا۔ جعفررضوی صاحب، باقی کاموں کو ایک لمحے کیلئے ایک طرف رکھ دیں، آپ فقط یہ ایک کام یعنی چولہے پرچڑھے بڑے پتیلے یا دیگ میں اگرآدھے گھنٹے ہی کیلئے ذرا گھوٹا لگاکر دکھادیں توآپ کودن میں تارے نظرآنے لگ جائیں گے اورآپ یا کسی کی بھی شخصیت پرستی، ذاتی انا اورآمرانہ طرزِسیاست، پتیلے اور دیگ برد ہوتی نظرآئے گی۔ 
آگے چل کرآپ لکھتے ہیں کہ
'' اس رپورٹ کے حوالے سے مؤقف جاننے کی کوشش میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عامر خان اور الطاف حسین کی ایم کیو ایم لندن کے مرکزی سیکریٹری مصطفیٰ عزیز آبادی سے رابطہ کرنے کی بارہا کوششیں کی گئیں مگر دونوں رہنماء  بات کرنے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ ''
جعفر رضوی صاحب!
اگر آپ عامر خان کے کاروباری پارٹنرحیدر رضوی کے ذریعے رابطہ کرتے تووہ عامرخان کو منٹوں کے اندر ''لائن پر لے آتا۔
مصطفیٰ عزیزآبادی بھائی سے رابطہ کے حوالے سے آپ نے بارہاکوشش کی ہوگی۔ مگرآپ یہاں ڈنڈی مارگئے۔ اوپرآپ خود تسلیم کرچکے ہیں کہ ایم کیوایم، 
الطاف حسین بھائی کی ہے۔ اگرآپ BBC''لندن''لکھیں یا کہیں کہ یہ BBC لندن ہے، توبات سمجھ میں بھی آتی ہے۔ مگروہ صحافی جوکسی بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے وابستہ ہو، اس کا قلم پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی زبان کیسے تحریر کرسکتاہے؟
آپ مزیدلکھتے ہیں کہ
''17 ستمبر 1953 کو اسی کراچی میں پیدا ہونے والے الطاف حسین نے ابتدائی تعلیم کمپری ہینسِو ہائی اسکول عزیز آباد سے مکمل کی''
جعفر رضوی صاحب!
آپ نے صرف'' رپورٹ دائر''کرنی تھی، تحقیق تو کرنی نہیں تھی۔ آپ اپنی رپورٹ میں درستگی کرلیجئے کہ الطاف بھائی نے ابتدائی تعلیم، گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول، جیل روڈ سے حاصل کی ہے۔
آگے  آپ تحریرکرتے ہیں کہ
'' سنہ 1970ـ71 کے درمیان الطاف حسین نے فوجی تربیت کا کورس کرنے کے لیے نیشنل سروس کیڈٹ سکیم میں شمولیت اختیار کی، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس فوجی تربیت کے فوراً بعد وہ خود بھی پاکستانی فوج کی بلوچ رجمنٹ میں شامل ہوگئے''
جعفر رضوی صاحب!
آپ نے یقیناً پاکستان سے تعلیم ضرورحاصل کی ہوگی۔ ویسے''سکیم''نہیں اسکیم لکھاجاتاہے۔ آپ کی اطلاع کیلئے عرض کردوں کہ اس زمانے میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ چل رہی تھی۔ اورگیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ پر NCC کی ٹریننگ لازمی قرار دی گئی تھی، جو 2002 تک نافذالعمل رہی۔ جسے اب سرحدی علاقوں میں واقع اسکولز اور کالجز میں دوبارہ نافذ کیا جارہا ہے۔ جعفرصاحب، الطاف حسین بھائی فوج میں شامل نہیں ہوئے تھے بلکہ جنگ کے ان دنوں میں ان طلبہ کوبلوچ رجمنٹ کاحصہ بنادیا گیا تھا اور الطاف بھائی کاسپاہی نمبر تھا 2642671ـ
پھرآپ لکھتے ہیں کہ
''1974میں میڈیکل کالج میں داخلہ نہ ملنے کے بعد الطاف حسین نے اسلامیہ سائنس کالج سے مائیکرو بیالوجی میں بی ایس سی کیا''
جعفر رضوی صاحب!
آپ کی تحریرکی درستگی کیلئے کہ
 Bachelor of Science یعنی BSc مائیکروبیالوجی میں نہیں ہوتا تھا، یہ بالکل علیحدہ ہوتا تھا۔ جیسے اُس دور میں BA, BCom, BPharmacy, MBBS, BTech, BEd وغیرہ وغیرہ ہوتا تھا۔ ممکن ہے آپ کو سمجھ آگیاہوگا۔
آگے آپ فرماتے ہیں کہ
''11 جون 1978 کو الطاف حسین اور اُن کے ساتھیوں نے آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) قائم کی''
جعفر رضوی صاحب!
یہاں آپ نے پھرسے پکڑائی دے ہی دی۔ آپ کے''سٹوڈنٹس''لکھنے پر، انور مقصود صاحب اوردلدار پرویزبھٹی مرحوم کے درمیان حرف''الف''کے ہونے اورنہ ہونے کے فرق پرجو نوک جھونک ہوئی تھی، وہ بڑی شدت سے یاد آگئی۔ لگتاہے کہ آپ سکول، ہسپتال، سٹیشن، سٹیبلشمنٹ والوں کیساتھ اٹھ بیٹھ رہے ہیں۔ ویسے آپ سے ایک ذاتی نوعیت کا سوال کرنے کی گستاخی کررہاہوں کہ کیاآپ جب پریمئیر کالج میں NSF کے صدرتھے توکیاآپ اس وقت بھی نیشنل''سٹوڈنٹس''فیڈریشن ہی لکھاکرتے تھے؟
آگے آپ لکھتے ہیں کہ
''مارچ 1985 میں کراچی کے وسطی علاقے ناظم آباد کی چورنگی پر ٹریفک کے ایک حادثے میں سرسید گرلز کالج کی ایک طالبہ، بشریٰ زیدی کی جان چلی گئی''
جعفر رضوی صاحب!
تاریخ کبھی تبدیل نہیں کی جاتی اورنہ کی جاسکتی ہے۔  بشریٰ زیدی کی شہادت 15، اپریل 1985 کوہوئی۔ ان کی رہائش ایم وائی اسکوائر، بلاک G نارتھ ناظم آباد میں تھی۔ ان کی نمازِجنازہ بوتراب امام بارگاہ، عزیزآباد میں ادا کی گئی تھی اور تدفین سخی حسن قبرستان میں ہوئی تھی۔ ان کے جسدِ خاکی کو عبدالستار ایدھی خود ایمبولینس چلاکر بوتراب امام بارگاہ لائے اورسخی حسن قبرستان لیکرگئے تھے۔ آپ ریکارڈ کیلئے اسے کہیں لکھ کر رکھ لیجئے گا، آپ کے کام آئے گا۔ 
فاروق ستارکے حوالے سے آپ رقمطرازہیں کہ
''فاروق ستار نے بعض تجزیہ نگاروں کی یہ رائے تو یکسر مسترد کر دی کہ ایم کیو ایم کو مارشل لا نے پیپلز پارٹی کو کاؤنٹر کرنے کیلئے بنایا تھا۔ مگر وہ یہ ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ کوئی نرم گوشہ ضرور تھا''
جعفر رضوی صاحب!
ضیاء کے مارشل لاء کا دور5 جولائی 1977 تا
 17 اگست 1988 ہے۔ الطاف حسین بھائی کی تینوں گرفتاریاں بالترتیب 14 اگست 1979، یکم نومبر 1986، 29 اگست 1987، وہ اسی''نرم گوشے''والے مارشل لائی دور کی ہیں۔ اس''نرم گوشے''کے حوالے سے فاروق ستار کتناجانتاہوگا، اس کا اندازہ اس سے لگالیں کہ بلدیاتی انتخابات تک فاروق ستار کو عوامی سطح پر کوئی نہیں جانتاتھا۔ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے وقت اور الطاف بھائی کا اسے مئیربنانے تک فاروق ستار، APMSO کامرکزی جوائنٹ سکریٹری تھا اور اسے تنظیمی حوالے سے ایک خاص حد تک تومعلومات تک رسائی ہوسکتی تھی، مگر اس سے زیادہ نہیں۔ الطاف حسین بھائی 1987 کے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے وقت جیل میں تھے۔ کن نامساعدحالات میں الطاف بھائی نے ایم کیوایم کوتاریخی کامیابی دلوائی، وہ ایک الگ موضوع ہے۔ جنوری 1988 میں مئیربننے کے بعد سے لیکرضیاء کے طیارہ حادثہ یعنی 17 اگست 1988 تک اتنے قلیل عرصے میں فاروق ستارکی تنظیمی معلومات کتنی ہونگی اورکہاں تک ہونگی، اسے ہرذی شعور شخص اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ اگر الطاف بھائی کی تین گرفتاریاں، مہاجر آبادیوں پرمسلح حملے، کارکنان کی شہادتیں، گرفتاریاں، چھاپے، کسی کے ذہن کے کسی ایک گو شے سے بھی نرم گوشے کی صدا بلند کردے توجعفر صاحب مجھے ضرور آگاہ کردیجئے گا تاکہ عقلی دلائل پرمبنی آپ کی کسی منطقی دلیل کو تسلیم کرکے میں''گوشہ''نشینی کی''نرم''زندگی اختیار کرلوں۔
آگے آپ فرماتے ہیں کہ
''اے پی ایم ایس او ہو یا ایم کیو ایم، تعلیمی اداروں اور علاقوں میں جب دونوں تنظیموں کا جادو سر چڑھ کر بولنا شروع ہوا تو محلّوں میں کارنر میٹنگز، جلسوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ایک مظاہرہ بانی پاکستان کے مزار پر ہوا جہاں الطاف حسین کو پاکستان کا قومی پرچم جلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا اور انھیں فوجی عدالت سے نو ماہ (اور شاید پانچ کوڑوں) کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا۔
جب اربن سندھ میں لسانی سیاست شروع ہوئی اور مخالف جماعت اسلامی کو زبردست سیاسی نقصانات کا اندازہ ہوا تو دونوں تنظیموں میں 'ٹرف وار' یعنی علاقہ گیری کا آغاز ہوا
جعفر رضوی صاحب!
یہاں آپ کی تحریرمکمل طورپربے ربط اوربے سروپا ہے۔ اے پی ایم ایس او 11 جون 1978 میں قائم ہوئی اورایم کیوایم تو 18 مارچ 1984 کووجودمیں آئی۔ اورآپ الطاف بھائی کی پہلی گرفتاری 14 اگست 1979 کو پتہ نہیں کس دور سے ملارہے ہیں؟ ایک طرف توآپ فرما رہے ہیں کہ مارشل لاء میں نرم گوشہ تھااور پھر الطاف بھائی کو قائداعظم کے مزارسے گرفتارکرکے 9 ماہ قید رکھاگیااورپانچ کوڑوں کی سزا بھی سنائی گئی؟ یعنی آپ کا نام نہاد نرم گوشہ آپ نے خودہی ہواکردیا۔ دوئم آپ یہ بھی بتادیتے کہ الطاف بھائی کو محصورین َ مشرقی پاکستان کی واپسی کیلئے مظاہرہ کرنے کی پاداش میں گرفتارکیاگیا یعنی ان بہاریوں کی واپسی کیلئے کہ جنہیں''نرم گوشہ''والے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ضیاء الحق نے بھکاری کہاتھا۔ سوئم میں یہاں آپ کو واضح کردوں کہ الطاف بھائی نے پاکستان کاجھنڈا نہیں جلایاتھا۔ جعفرصاحب، آپ نے کبھی سمری ملٹری کورٹ دیکھی ہوتوشاید میری بات کوسمجھ پائیں گے۔ آپ نے''ٹرف وار''کی اصطلاح استعمال کی یعنی علاقہ گیری۔ جعفرصاحب، آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ جس جماعتِ اسلامی کی آپ بات کررہے ہیں، اسے بلدیاتی، صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی کی سطح پر کراچی سے، کبھی بھی آج کے دن تک اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ اتناسا اندازہ کرلیں کہ 1987 کے بلدیاتی انتخابات میں، نارتھ ناظم آباد کے بلاک AاورC سے الطاف حسین بھائی کے ایک غیرمعروف کارکن شاہد خان نے، جماعتِ اسلامی کے قومی اسمبلی کے رکن مظفرہاشمی کوشکستِ فاش دی تھی۔ میں مضمون کی طوالت کی وجہ سے مزیدمثالیں نہیں دے رہا۔ اس میں ٹرف وارکہاں سے آگئی؟ 1987 کے بلدیاتی انتخابات تو ایم کیوایم کے پہلے انتخابات تھے۔ علاقہ گیری کی بات آپ کرناچاہیں تویہ آپ جماعتِ اسلامی پرلاگوکریں۔ اس میں آپ ایم کیوایم کو کیوں گھسیٹ رہے ہیں؟ آپ نے بہت خوبصورتی سے اپنی تحریر لکھتے وقت لفظ''اربن ''کا استعمال کردیا۔ حضور، شہری لکھ لینے میں کوئی حرج تھا کیا؟ یہ ایسے ہی ہے کہ بارش میں شہرکراچی کو ڈبودیا جائے اورمیڈیایہ لفظی شعبدہ بازی کرے کہ اربن فلڈنگ کی وجہ سے کراچی ڈوب گیا۔ حضور، کچھ خیال کیاکریں۔
اب آتے ہیں آپ کے اس سر پر جادو چڑھادینے والے الفاظ ''جب اربن سندھ میں لسانی سیاست شروع ہوئی''۔ جعفرصاحب، صرف سندھ میں نافذ رورل (دیہی) اور اربن (شہری) کوٹہ سسٹم کے علاوہ، لسانی سیاست کی اصل سیاست اورتاریخ کومختصراً آپ کی آگاہی کیلئے بیان کردینا ضروری سمجھتاہوں۔ حضور،
اے پی ایم ایس او کے قیام سے قبل جامعہ کراچی سمیت تمام پروفیشنل تعلیمی اداروں میں پنجابی اسٹوڈنٹس، پختون اسٹوڈنٹس، گلگت بلتستان اسٹوڈنٹس، ہزارہ اسٹوڈنٹس، سرائیکی اسٹوڈنٹس، بلوچ اسٹوڈنٹس، جئے سندھ اسٹوڈنٹس، کشمیری اسٹوڈنٹس نامی طلبہ تنظیمیں پہلے سے موجود تھیں۔ حضور، آپ اپنے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پرانے رہنماؤں سے ذرامعلوم کیجئے گاکہ متعدد تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کے انتخابات کے موقع پرآپ کی NSF اور اسلامی جمیعت طلبہ، طلبہ یونین کے انتخابات کے موقع پر مختلف نشستوں پر دونوں جانب سے، کیا کسی ایک ہی لسانی تنظیم کے امیدوارکھڑے نہیں کیا کرتی تھیں؟ یعنی مثال کے طورپر جیمخانہ سکریٹری جمعیت کی طرف سے پنجابی ہے توNSF کی طرف سے بھی پنجابی ہے اور اگرمیگزین سکریٹری NSF کی طرف سے پنجابی ہے، تو جمعیت کی طرف سے بھی پنجابی ہے۔ کیاآپ کی NSF اورجمعیت، ووٹ حاصل کرنے کیلئے ان لسانی تنظیموں سے جاکر مذاکرات اورسیٹوں کی آفرز نہیں کرتی تھیں؟
اے پی ایم ایس او، واحد طلبہ تنظیم تھی کہ جس کے نام کے ساتھ لفظ پاکستان آتاتھا یعنی آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن۔ آپ بتادیں کہ باقی کس طلبہ تنظیم کے نام کے ساتھ لفظ پاکستان آتاتھا؟ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، اسلامی جمیعت طلبہ، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن، انجمنِ طلبہ اسلام، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پنجابی اسٹوڈنٹس، جئے سندھ اسٹوڈنٹس، بلوچ اسٹوڈنٹس، پختون اسٹوڈنٹس، کشمیری اسٹوڈنٹس، ہزارہ اسٹوڈنٹس، سرائیکی اسٹوڈنٹس، گلگت بلتستان اسٹوڈنٹس وغیرہ وغیرہ۔ حضور، اے پی ایم ایس او تو پاکستانی اور غیرلسانی تھی۔ کیونکہ مہاجر صرف اردو زبان نہیں بولتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ میمن، گجراتی، کاٹھیاواڑی، مارواڑی، کوکنی اور چار سے زائد دیگر زبانیں بھی بولتے ہیں۔ حضور، اے پی ایم ایس او کے علاوہ، 
باقی توسب کے سب غیرپاکستانی اورلسانی ہوئے ناں؟ کیاآپ کی NSF اور جمیعت نے ان لسانی تنظیموں کوہاسٹلز مختص نہیں کئے؟ اورکیا ان لسانی تنظیموں نے ہاسٹلز پرقبضے نہیں کئے؟ کیاآپ کی NSF اور جمیعت نے ہاسٹلزپر''ٹرف وار''اور ''علاقہ گیری''کوفروغ نہیں دیا؟ اورکیا اس پرآنکھیں بند کرکے اس کی سرپرستی نہیں کی؟ حضور، سچ لکھا کریں تومکمل لکھا کریں۔ امیدہے کہ آپ اپنے NSF کے سینئرز سے تاریخی حقائق ضرورمعلوم کریں گے۔
اب آگے آتے ہیں جو آپ نے فرمایا۔ آپ کہتے ہیں کہ
''اسی دوران سہراب گوٹھ کے علاقے میں منشیات فروشوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کی۔سہراب گوٹھ پشتون اکثریتی آبادی کا علاقہ تھا اور اس آپریشن کے فوراً بعد مہاجر اکثریتی آبادیوں علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی میں فائرنگ کے پراسرار واقعات ہوئے جن میں درجنوں افراد مارے گئے اور اسے سہراب گوٹھ آپریشن کا ردعمل سمجھا گیا''
جعفر رضوی صاحب!
آپ یہ سب کیسے کرلیتے ہیں؟ آپ کہہ رہے ہیں''پراسرار واقعات''؟ آپ اتنے بے حس ہوسکتے ہیں یا آپ کا ''ہیپی آور''ختم ہورہاتھا کہ آپ نے اتنی سفاکیت سے یہ الفاظ لکھ دیئے؟ آپ کی تحریرمیں نہ ربط ہے، نہ ضبط ہے، نہ سر، نہ پیر۔ حضور14 اور 15 دسمبر 1986، قصبہ علیگڑھ کالونی میں مسلح حملے ''کرائے گئے ''جس میں سینکڑوں مہاجر بزرگ، خواتین، بچے اورجوان شہید کئے گئے اورہزاروں دکانوں اور مکانات کوآگ لگاکرلوٹ مارکی گئی۔ اس پر سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ (جوبعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی بنے) کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیشن بھی بنایاگیا۔ اس کی تحقیقاتی رپورٹ دبادی گئی۔ جعفرصاحب، آپ کی مزیدآگاہی کیلئے میں بتانا ضروری سمجھتاہوں کہ سانحہ قصبہ علیگڑھ کے وقت، فوج سڑکوں سے غائب کرادی گئی تھی۔ اس وقت ڈسٹرکٹ ویسٹ کا ڈپٹی کمشنر، شفیق پراچہ تھا۔ واضح رہے کہ یہی وہ شفیق پراچہ تھاجو 30، ستمبر 1988 سانحہ حیدرآباد کے موقع پربھی ڈپٹی کمشنر حیدرآباد تھا۔ جعفر صاحب، اتنے''پراسرار''اندازمیں''واقعات''تحریرمت کیاکریں اور اتنی سفاکی سے صحافت کا گلا مت گھونٹیں۔
جعفر صاحب، آپ نے یہ جملہ لکھ کرکہ''اسے سہراب گوٹھ آپریشن کاردعمل سمجھاگیا''۔ میری رائے میں یہاں آپ نے انتہائی سفاکی سے اپنے قلم کی حرمت پامال کی ہے۔ یہ بتائیں کہ اس کا مطلب صاف ہے کہ آپ نے''پراسرار یت''کا پردہ خود چاک کردیاہے اورآپ یہ تسلیم کررہے ہیں کہ قصبہ علیگڑھ پرمسلح حملہ سہراب گوٹھ کے منشیات فروشوں نے کیا۔ لگے ہاتھوں آپ یہ بھی بتادیں کہ اس''ردعمل''میں منشیات فروشوں نے قانون نافذ کرنیوالوں کے خلاف ردعمل کیوں نہیں دکھایا؟ اورآپ جسے لسانیت کانام د ے رہے ہیں تومہاجروں کے اکثریتی شہر کراچی میں مہاجروں نے کسی اورلسانی بستی یا علاقے میں اس کا ردعمل کبھی کیوں نہیں دکھایا؟  جعفرصاحب، آپ خودہی مدعی بن رہے ہیں، خودہی گواہ اورخودہی منصف بن رہے ہیں۔ میری آپ سے استدعاہے کہ آپ صحافی ہیں توصحافی ہی رہیں اورصحافت ہی کریں جو آپ کا اصل کام ہے۔ 
آگے آپ لکھتے ہیں کہ
''اس کے بعد پشتون اور مہاجر آبادیوں میں شدید لسانی کشیدگی پھیل گئی جس کا الطاف حسین اور اُن کی ایم کیو ایم کو زبردست فائدہ ہوا اور ڈر اور خوف کی یہ فضا دراصل ایم کیو ایم کو مضبوط کرتی چلی گئی''
جعفر رضوی صاحب!
آپ نے یہاں صحافتی کشیدگی کی انتہاکردی ہے۔''زبردست فائدہ''جیسے الفاظ لکھ کرآپ کی تحریرکو زبردست نقصان ہوا ہے۔ اگرآپ یوں لکھ دیتے کہ یہ سانحات کرانے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کو زبردست نقصان ہوا، توبھی آپ کی منطق ہضم ہوجاتی۔ ایم کیوایم توسانحہ قصبہ علیگڑھ  سے قبل 8 اگست 1986 کو نشترپارک کراچی اور 31 اکتوبر 1986 کو پکا قلعہ حیدرآباد میں لاکھوں افراد کے تاریخی، کامیاب اور فقیدالمثال عوامی جلسے منعقد کرچکی تھی۔ آپ کو اس 
میں کہیں بھی اسٹیبلشمنٹ کی سازش نظرنہیں آئی کہ وہ کس ریاستی بربریت کیساتھ الطاف بھائی اورایم کیوایم کی مقبولیت کوروکنے کے درپے ہے؟ آپ نے خود تسلیم کیا کہ سہراب گوٹھ پر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی تھی اورپھر منشیات فروشوں نے ردعمل میں قصبہ علیگڑھ پر حملہ کیا۔ یہاں آپ یہ بتا رہے ہیں کہ یہ منشیات فروش پشتون تھے۔ یعنی آپ خودلسانیت پھیلارہے ہیں۔ حضور، تو لگے ہاتھوں یہ بھی بتادیں کہ جب یہ ثابت ہوگیاکہ یہ حملہ سہراب گوٹھ کے منشیات فروشوں نے کیاتھاتوپھران منشیات فروشوں میں سے کتنوں کوگرفتار کیاگیااورکتنوں کوسزا ہوئی؟ آپ نے بائیں بازوکی سیاست کی ہے۔ کیاآپ نے کبھی یہ نعرہ لگایا کہ خونِ کراچی سے ایشیا سرخ ہے؟  بغضِ مہاجر میں، کراچی میں لسانیت کی سیاست بائیں اور دائیں بازو والے کریں اور الزام ایم کیوایم پرلگائیں؟ حضور، منطق سے بات کیاکریں۔
الطاف حسین بھائی تو وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے احترامِ انسانیت، خدمتِ خلق کی تعلیم دی۔ انہوں نے کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں سے آپ کے نرم گوشے والی ضیائی سر کار کے فرقہ وارانہ نفرتی بیج کو جڑسے اکھاڑ کرپھینک دیا۔ آپ اپنے سینئرزسے معلوم کریئے گاکہ 80 کی دہائی میں سندھ کے شہری علاقے فرقہ واریت سے کتنے متاثرتھے۔ وہ آپ کوبتائیں گے کہ الطاف حسین نے فرقہ واریت اور اس سے جنم لینے والے خونریزفسادات ختم کرائے، مہاجروں میں سنی شیعہ کی تفریق کو دفن کیا اور بھائی چارگی کی مثالی فضا قائم کی۔ یہی بات اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آئی اور اس نے طرح طرح کی سازشیں کرکے الطاف حسین بھائی اورایم کیوایم کوختم کرنیکی ناکام کوششیں اور سازشیں کیں۔ تو جوشخصیت، یعنی الطاف حسین فرقہ واریت ختم کرادے، اس شخصیت پر لسانیت کا گھٹیا الزام لگانے سے پہلے تھوڑی تحقیق کرلیا کریں حضور۔  
آگے آپ لکھتے ہیں کہ
''پھر حیدرآباد میں حیدر بخش جتوئی چوک پر ہونے والے جلسے میں جاتے ہوئے الطاف حسین کے قافلے پر سہراب گوٹھ کے قریب فائرنگ کا واقعہ ہوا جو ہمیشہ ایک معمہ رہا۔مظہر عباس بتاتے ہیں: 'پراسرار اس لیے کہ وہاں بعض ایسے پولیس افسران موجود تھے جنھیں اس وقت وہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ اس واقعے میں حیدرآباد میں تقریباً 250 افراد ہلاک ہوئے اور بعد میں کراچی میں بھی فائرنگ کے واقعات میں تقریباً 150 کے لگ بھگ لوگ مارے گئے، مگر اس قتل عام کی وجوہات کبھی سامنے نہیں آسکیں''
جعفر رضوی صاحب! 
یہاں پرآپ اورمظہرعباس صاحب کے صحافتی''معمہ''کی اصطلاح کو میں سمجھنے سے قاصرہوں۔ حضور، پہلی بات تویہ کہ حیدربخش جتوئی چوک پرکوئی جلسہ نہیں ہوا۔ دوئم یہ کہ الطاف بھائی کے قافلے پرسہراب گوٹھ پرحملہ نہیں ہوا۔ سوئم یہ کہ حیدر بخش جتوئی چوک کے واقعے میں 250 افرادہلاک نہیں ہوئے۔ حضور،31 اکتوبر 1986 کوپکا قلعہ حیدرآباد میں جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسے میں شرکت کرنے والے ایم کیوایم کے کارکنان کی بسوں پرسہراب گوٹھ سے فائرنگ کی گئی۔ اسی طرح مارکیٹ چوک حیدرآباد میں جلسے میں جانے والے شرکاء پرفائرنگ کی گئی، جس میں ایم کیوایم کے متعدد کارکنان شہیدہوئے۔ اس جلسے میں الطاف بھائی نے اپنی پوری تقریرمیں شہداء کا تذکرہ نہیں کیا اور اسٹیبلشمنٹ کی ہنگامہ آرائی کی مکروہ سازش کوناکام بنادیا۔ جلسے سے واپسی میں الطاف بھائی کو یکم نومبر کوگھگھر پھاٹک کے مقام سے بلاجوازگرفتارکیاگیا۔ جن 250 افراد کو آپ''ہلاک''لکھ رہے ہیں، وہ 250 افراد سانحہ حیدرآباد میں 30 ستمبر 1988 کو دہشت گردوں کی فائرنگ سے''شہید''ہوئے۔ اگر آپ اور حیدرآباد والے سینئرصحافی مظہرعباس ایک دوسرے سے صحیح سے گفتگوکرلیتے تویہ''پراسرار معمہ'' حل ہوجاتا۔ صحافتی حلقوں میں صحافت کی آسان زبان میں کہاجاتاہے کہ''صحافت میں بعض ایسے صحافی موجود تھے جنہیں اس وقت صحافت میں نہیں ہونا چاہیئے تھا۔''اس حوالے سے آپ کوایک صلاح دیناچاہوں گا کہ آپ اورمظہرعباس صاحب سہراب گوٹھ کے پیچھے قائم کسی بھی ہوٹل میں جاکرچائے پئیں۔ اس سے کئی مسائل حل ہوجائیں گے۔ پہلے یہ کہ آپ کوزمینی حقائق سے آگاہی ملے گی۔ دوئم،''پراسرار معمہ ''حل ہوجائے گا۔ سوئم یہ کہ چائے کی چسکیاں 
لیتے ہوئے، لسانیت کی تعریف علم میں آجائے گی۔ اورآخرمیں تڑکے والی بات یہ کہ یہ عمل کرکے آپ دونوں کویہ بھی سمجھ آجائیگاکہ آپ دونوں کو اس وقت وہاں موجود ہوناچاہیئے تھاکہ نہیں۔ اگرپھربھی 250 افراد کی شہادت سمجھ میں نہ آئے تومیں اللہ کی بارگاہ میں صدقِ دل سے آپ کے قلب کومنور کرنے کی دعا ہی کرسکتا ہوں۔ حضور،''کھلا معمہ''یعنی''کھلا راز''یعنی Open Secret یہ ہے کہ الطاف حسین،ایم کیوایم اور مہاجروں کیخلاف لکھنے پر پوری توانائیاں صرف کی جاتی ہیں، مگر جب الطاف بھائی، ایم کیوایم، مہاجروں پر روا رکھے جانیوالے مظالم، سازشوں، سانحات کا ذکرآتا ہے توصحافتی قلم، معماتی طور پر پراسراریت کیساتھ غلام گردشوں میں کہیں لاپتہ ہوجاتاہے۔ حالانکہ قلم کی حرمت کاتقاضہ تو یہ بنتا ہے کہ اسے سچ لکھنے کیلئے''اس جگہ پر موجود ہوناچاہیئے تھا''۔ اگر اس صحافتی اصول کواپنالیا جائے تو اصل حقائق اور''وجوہات ''سامنے آجائیں۔
آگے آپ تحریرکرتے ہیں کہ
''17 اگست 1988 کو طیارے کے حادثے میں جنرل ضیا کی ہلاکت کے بعد کراچی سے تعلق رکھنے والے جنرل اسلم بیگ فوج کے سربراہ بنے''
جعفر رضوی صاحب!
کیا آپ یہاں واضح طورپرصحافت چھوڑکرعلاقائیت کا پرچار نہیں کررہے؟ آپ یوں لکھ دیتے کہ اعظم گڑھ میں پیدا ہونے والے جنرل اسلم بیگ۔ آپ نے جالندھرمیں پیدا ہونے والے ضیاء الحق کو، پنڈی کے جنرل ضیاء الحق کیوں نہیں لکھا؟ آپ کراچی سے تعلق رکھنے والے جنرل اسلم بیگ لکھ کرکیا یہ کہنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اسلم بیگ مہاجرہیں اور ضیاء الحق الہڑ پنجابی ہونے کے باوجود پاکستانی تھا؟ حضور، میری نظر میں GHQ کا جنرل اسلم بیگ اتنا ہی مہاجر ہے کہ جتنی ISPR کی سنتھیا رچی پاکستانی ہے۔ 
آگے آپ فرماتے ہیں کہ
''آفاق احمد کے مطابق جنرل بیگ کی اس بات پر الطاف حسین نے رسماً کہا کہ 'جناب، ہمارے پاس اتنے وسائل کہاں' تو اسلم بیگ نے یونس حبیب سے کہا اور یونس حبیب نے فوراً پیسے دے دیے''
جعفر رضوی صاحب!
آپ تاریخ سے یقیناًواقف ہونگے۔ آپ اس شخص کی بات کا حوالہ دے رہے ہیں کہ جوفوج کے ٹرکوں پربیٹھ کرآیا۔ خود اس نے اوراس کے ساتھیوں نے اس بات کوتسلیم کیاہے کہ حقیقی کوایجنسیوں نے لانچ کیا۔ حضور، آپ اصغرخان کیس کی بابت توجانتے ہی ہونگے؟ ائیرچیف مارشل اصغر خان نے16 جون 1996 کوجو پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کی تھی اس میں جنرل اسلم بیگ، جنرل اسد درانی، غلام اسحٰق خان اوردیگرکو فریق بنایاتھا۔ اصغرخان مرحوم نے اس میں یہ بتایا کہ 14 کروڑ روپے پاکستانی سیاستدانوں میں تقسیم کئے گئے۔ مہران بینک کے یونس حبیب میڈیا پراس بات کو تسلیم کرچکے ہیں کہ انہوں نے الطاف حسین بھائی کو رقم نہیں دی۔ سپریم کورٹ میں بھی ایف آئی اے نے جو کاغذات جمع کرائے ہیں، اس میں الطاف بھائی کانام نہیں ہے۔ الطاف حسین بھائی تو بریگیڈئیرامتیازکی جانب سے لائے جانے والے بریف کیس کی رقم کوٹھکرا چکے ہیں۔ اوریہ حقیقت بریگیڈئیرامتیازنے میڈیاپربھی تسلیم کی ہے۔ جعفرصاحب،  مجھے لگتاہے کہ آپ نے اپنے مضمون میں یہ بات''رسمی''طورپرلکھ دی ہوگی۔ ورنہ اگرآپ صحافتی تحقیق کرلیتے تو آپ کویہ''رسمی''تکلف اٹھانا نہ پڑتا۔
آگے آپ تحریرکرتے ہیں کہ
''الطاف حسین اور ایم کیو ایم نے علاقائی کنٹرول کی پالیسی اپنا لی۔ طاقت کے بل پر علاقوں کو اپنی گرفت میں رکھنے کی کوششوں میں بہت سے وار  ارادی یا 
پھر غیر ارادی طور پر غلط بھی ہوئے۔ ان میں فوج کے میجر کلیم کو لانڈھی میں اغوا کرنے کی غلطی بھی شامل تھی۔
پاکستان میں طاقت کے سرچشموں کے قریب رہنے والی ایک شخصیت کے مطابق 'ایک بار تو یہ بھی ہوا کہ جنرل آصف نواز کی فون کال آئی تو الطاف حسین نے خود بات کرنے کی بجائے عمران فاروق کو کہا کہ تم بات کر لو۔ انھوں نے جب جنرل آصف نواز کو بتایا کہ الطاف حسین مصروف ہیں، آپ مجھے بتائیں تو جنرل آصف نواز آگ بگولہ ہوگئے اور انھوں نے فون بند کر دیا۔''
جعفر رضوی صاحب!
اسی لئے کہتے ہیں کہ صحافت میں تحقیق ایک اہم عنصر ہے۔ حضور، میجرکلیم کی جھوٹی کہانی کو سندھ ہائی کورٹ 1998 کے اپنے فیصلے میں پہلے ہی مسترد اور الطاف بھائی سمیت تمام افراد کواس جھوٹے کیس سے بری کرچکی ہے۔ الطاف بھائی اوردیگراٹھارہ افراد کے بارے میں میجرکلیم کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائرکی جانے والی نظرثانی کی اپیل بھی 13 اگست 2007 کومسترد کردی گئی۔ آپ کی تحقیق میں اضافے کیلئے بتاتا چلوں کہ میجرکلیم اوراس کا وکیل سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوئے اورانہوں نے سپریم کورٹ میں سوالات کاسامناہی نہیں کیا۔ جعفرصاحب، پنجابی میں ایک مشہور کہاوت ہے''ھن ٹھنڈ پے گئی؟''میں یہ قوی امید رکھتاہوں کہ آپ اس پنجابی کہاوت کا مطلب سمجھتے ہونگے۔ جعفرصاحب، کبھی فرصت اورہمت ملے توایک اسٹوری پیپلزپارٹی کے وزیر سہیل انورسیال، ان کے بھائی طارق سیال اور ان کے فرنٹ مین اسد کھرل کے اوپربھی ضرورلکھئے گا۔ تھوڑا سا میں بتادیتاہوں کہ 13 جولائی2016 کو سندھ رینجرز (جو کہ فوجی ہوتے ہیں) وہ لاڑکانہ میں اسد کھرل کوگرفتارکرتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے مسلح افراد، رینجرزکے تمام اہلکاروں کوراستے میں پکڑتے ہیں، انہیں تھانے میں لیجاتے ہیں، ان کی وردیاں اتارتے ہیں، ان کا سرکاری اسلحہ چھینتے ہیں اور رینجرز کے اہلکاروں کوبے پناہ تشدد کانشانہ بناکر، اسد کھرل کواپنے ساتھ لیجاتے ہیں۔ ڈی جی رینجرز، بلال اکبر لاڑکانہ پہنچتا ہے اورسلطان راہی والی بڑھک مارکرواپس کراچی  پہنچ کرپیپلزپارٹی کی اس دہشت گردی پر دُم دبا کر بیٹھ جاتا ہے۔ جعفر صاحب، آپ پیپلز پارٹی اور رینجرز کے اس گٹھ جوڑ پر اسٹوری کریں۔ عنوان میں دے دیتاہوں اور عنوان ہے
''دے مار ساڑھے چار''۔ آپ یقین کریں، آپ کے قارئین کو یہ سچی اسٹوری بے حد پسند آئے گی۔ 
جعفر صاحب، اب آتے ہیں آپ کی آگ بگولے پھینکتی  PHONY اسٹوری کی جانب۔ آپ سفارتی، سرکاری، سیاسی، عسکری آداب یعنی protocols سے یقیناً واقف ہونگے۔  میں اس تفصیل میں جانانہیں چاہتاکہ وہ آداب کیاہوتے ہیں۔ یہ اسی طرح کی بے سروپا بات ہے جو یوتھیا اور یوتھیائی میڈیا سناتاہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عمران خان صحافیوں کیساتھ ایک میٹنگ میں مصروف تھے۔ اس دوران فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں کافون آیاکہ وہ عمران خان سے بات کرناچاہتے ہیں۔ عمران خان نے کہاکہ ان سے کہہ دوکہ میں مصروف ہوں۔ جعفرجی، جب کوئی PHONY بات کیا کریں توپہلے اس بات کی حقیقت دیکھ لیا کریں۔ یعنی کسی بھی فون کے آنے کاprotocol کیاہوتاہے۔ اگر اس پر کوئی phony کہانی بنائی جائے تواس کی پکڑ ہوجاتی ہے۔ آپ کی اس PHONY کہانی کو اگر ایک لمحے کیلئے مان بھی لیا جائے تو اس کا مطلب ہوا کہ یہ کہانی 16 اگست 1991 (جب آصف نواز COAS بنے)اور 31 دسمبر 1991 (جب الطاف حسین بھائی لندن روانہ ہوئے) کے درمیانی عرصے کی ہے۔ پھر پہلا نکتہ تو یہ ہوا کہ فون جنرل آصف نوازنے الطاف بھائی کو کیا تھا یعنی الطاف بھائی نے جنرل آصف نواز کو فون نہیں کیا تھا۔ دوئم یہ کہ جنرل آصف نواز ایک انتہائی انا پرست، کینہ پرور اور کمینہ صفت شخص تھا کہ اس نے صرف فون پر بات نہ کرنے کی سزا، آپریشن کلین اپ کرکے الطاف بھائی، ایم کیوایم اور پوری مہاجر قوم کو دی۔ جعفر صاحب، آپ نے طاقت کے''سرچشمے''کے قریب رہنے والی جس بے نامی شخصیت کاحوالہ دیکر یہ کہانی سنائی ہے، تواگرآپ آگ بگولہ نہ ہوں تو یہ عرض کردوں کہ آپ صحافت سے وابستہ اپنے والدِ محترم سے ہی کچھ صحافت سیکھ لیتے یا اس بے نامی شخصیت سے ہی یہ کہہ دیتے کہ
''سر۔ چشمہ درست کرلیں۔ تعصب کا''۔
ویسے جعفرصاحب آپ اس بے نامی شخصیت سے یہ بھی پوچھ سکتے تھے کہ جس جنرل آصف نوازنے 72 بڑی مچھلیوں کیخلاف آپریشن کا کہا اور اس آپریشن کا 
رخ ایم کیوایم کی طرف موڑدیا۔ جس نے پنجاب سے صحافیوں کوبلواکرایم کیوایم پرجناح پور اور ٹارچر سیلوں کا جھوٹاالزام لگایا اور کارکنان کو ماورائے عدالت شہید کروایا۔ تو جب اس نے الطاف بھائی کو فون کیا تواس کاصاف مطلب تویہ ہوا ناں کہ جنرل آصف نواز فون کرکے بات کرنا چاہ رہے ہیں یعنی وہ اس بات کوتسلیم کررہے ہیں کہ الطاف بھائی اور ان کی ایم کیوایم صاف ستھرے ہیں۔ جعفر صاحب، آپ سے ایک درخواست اورہے کہ آپ طاقت کے سرچشموں کے قریب رہنے والی اس بے نامی شخصیت سے ایک سوال ضرور کریئے گاکہ 8 جنوری 1993 کوجاگنگ کرتے ہوئے جنرل آصف نوازجنجوعہ انتقال فرماگئے۔ ان کے اہلِ خانہ نے یہ کہاکہ آصف نوازجنجوعہ کی قبرکشائی کی جائے اوران کے جسم کے اعضاء کے نمونے حاصل کرکے بیرون ممالک کی مستند لیبارٹریزسے ٹیسٹ کروائے جائیں۔ کیونکہ ان کے اہلِ خانہ یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ جنرل آصف نواز کو زہر دیکر قتل کیا گیاہے۔ جعفرصاحب، آپ اس سوال کاجواب حاصل کرکے قارئین کوضرورآگاہ کیجئے گا کہ جنرل آصف نوازجنجوعہ کو کس نے زہردیااورکیوں دیا؟ بس ایک بات کا ضرورخیال کھیئے گا کہ ''طاقت کے سرچشموں کے قریب رہنے والی شخصیت''آپ کایہ سوال سن کر کہیں''آگ بگولہ''نہ ہوجائے۔ 
آگے آ پ فرماتے ہیں کہ
''19 جون 1992 کو کراچی آپریشن شروع ہوا، جس کی ایم کیو ایم نے بھی حمایت کی۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ لیکن جب آفاق اور عامر خان کی ری انٹری ہوئی تو ایم کیو ایم کو اندازہ ہوا کہ جرائم پیشہ افراد کے بجائے انھیں ہدف بنا لیا گیا ہے۔ اس وقت معاملے نے دوسرا رخ اختیار کیا اور واضح طور پر نظر آ رہا تھا کہ آفاق اور عامر کی قیادت میں بننے والی ایم کیو ایم (حقیقی) کو خفیہ اداروں کی پشت پناہی حاصل رہی''
جعفر رضوی صاحب!
آپ کی صحافتِ طبع کیلئے یہ گوش گزار کردوں کہ برٹش لائبریری کی آرکائیومیں جاکرمطالعہ کرلیجئے کہ الطاف حسین بھائی، ایم کیوایم کیخلاف اس فوجی آپریشن کی بابت کارکنان کواپنے خطاب میں بہت پہلے ہی آگاہ کرچکے تھے۔ انہوں نے کہہ دیاتھاکہ فوج یہ آپریشن پتھاریداروں اور 72 بڑی مچھلیوں کیخلاف کبھی نہیں کرے گی، بلکہ یہ آپریشن ایم کیوایم اور مہاجروں کیخلاف ہوگا اوراس حوالے سے وفاقی حکومت اورفوج کے بیانات پر یقین مت کرنا۔ جعفرصاحب، مظہرصاحب سے کہیئے گا کہ ان کی صحافت تو''اندازے ''پر چل سکتی ہے، مگر الطاف بھائی کی دوراندیشی کا انہیں''اندازہ''تک نہیں ہے۔ ویسے مظہرصاحب نے یہ بات کہہ کرکہ
''واضح طورپرنظر آرہا تھا کہ آفاق اور عامر کی قیادت میں بننے والی ایم کیو ایم (حقیقی) کو خفیہ اداروں کی پشت پناہی حاصل رہی''
یعنی مظہر صاحب نے یہ بات توتسلیم کرلی کہ خفیہ ادارے اتنے بھی خفیہ نہیں۔ جنرل آصف نواز کایہ بیان ریکارڈ پرموجود ہے کہ جب مسلم لیگ کے کئی دھڑے ہوسکتے ہیں تو ایم کیوایم کے کیوں نہیں ہوسکتے۔ جعفرصاحب، آپ چاہیں تو اپنے سینئیرز سے معلوم کرلیجئے گا کہ NSF میں معراج، کاظمی، رشید، باری، گنڈاپور گروپس کیسے بنے تھے، کس نے بنائے تھے اور کیوں بنائے تھے؟ یہ معلومات لینے کے بعد آپ کیلئے کچھ بھی خفیہ اور مخفی نہیں رہے گا۔ 
اب آتے ہیں آپ کے مضمون کے''خفیہ''اور اصل ٹارگٹ اور مقصد کی طرف۔
آپ فرماتے ہیں کہ
''سندھ اسمبلی کے سابق رکن نے کہا' 'میں الطاف حسین کو 1986 سے جانتا ہوں۔ اُن کی شخصیت دو حصوں میں منقسم رہی۔ ایک وہ عوامی شخصیت جو 1986 سے 2000 کے اوائل تک دنیا کے سامنے رہی اور دوسری وہ جو گذشتہ 20 برس سے اب تک ہے۔
شخصیت کے یہ دونوں رخ ایک دوسرے کے برعکس ہیں، بالکل مختلف۔
پہلے دور کا الطاف حسین بہت مضبوط اور عوام سے جڑا ہوا رہنما تھا جسے تنظیم پر مکمل کنٹرول حاصل تھا جبکہ سنہ 2000 کے بعد الطاف حسین کمزور بیمار اور مجبور ہو گیا تھا''
جعفر رضوی صاحب!
صحافت میں یہ ایک اصول اپنالیا گیاہے کہ کوئی بات رپورٹ کرنی ہو اور اپنی مرضی ہوتورپورٹ میں معلومات دینے والے کانام لکھ دیاجاتاہے اورنہ دینی ہوتو نام چھپالیا جاتا ہے یا کوئی فرضی نام لکھ کراس کی شناخت چھپادی جاتی  ہے۔ آپ نے توصحافت کے اُس اصول کا بھی خیال نہ رکھا کہ فلانے شخص نے اپنانام صیغہ رازمیں رکھنے کی شرط کے ساتھ فلانی فلانی بات کی۔ حضور، اگر آپ اس دو رخی خلائی مخلوق نما سندھ اسمبلی کے سابق رکن کانام لکھ دیتے تومجھ ناچیز اور آپ کے قارئین کوان کی دو رخی اور دوعملی سیاسی بلوغت کوسمجھنے میں آسانی ہوجاتی۔ بہرحال، آتے ہیں آپ کی صحافتی موشگافیوں کی جانب۔ حضور، عرض کردوں کہ الطاف حسین بھائی ایک عہد سازشخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عہد شکن شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ اس جملے کی تشریح یا تعریف آپ اپنے کسی سینئر ترین صحافی سے سمجھئے گا۔ وہ آپ کو سمجھا دیں گے کہ اس جملے کوجس اندازمیں بیان کیاگیا ہے اس میں ایک ہی شخصیت (یعنی الطاف حسین بھائی) کے دو رخ بیان نہیں کئے گئے بلکہ ایک ہی عظیم شخصیت کے دوسرے پہلو کو مزید اجاگر کیاگیاہے۔ وہ آپ کویہ بھی سمجھادیں گے کہ لفظ'' عہد ''بہت وسیع معنوں میں لیا جاتاہے، جبکہ دور  اور  ادوار، عہد کے تابع ہوتے ہیں۔ ایک بہت پتے کی بات آپ کو بتانے جارہاہوں کہ آپ کا سابق رکن سندھ اسمبلی یہ تسلیم کررہا ہے کہ وہ 1986 سے پہلے اور 22 اگست 2016 کے بعد اور آج 17 ستمبر 2020 کے الطاف حسین کونہیں جانتا۔ آپ میرا نام چُھپائے بغیر،اس سابق رکنِ سندھ اسمبلی کویہ بتایئے گا کہ سابق رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر ندیم احسان نے یہ کہاہے کہ 22 اگست 2016 کے بعد والا الطاف حسین، آج 17 ستمبر 2020 میں، 1986 سے قبل والا الطاف حسین ہے۔ سحرانگیز، مضبوط، توانا، طاقتور، عوام اور کارکنان سے ہرلمحہ جڑا ہوا۔
آپ مزیدکہتے ہیں کہ
''سنہ 1992 میں جب الطاف حسین لندن آئے تو اُن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ دفتر، نہ مال و اسباب، نہ ساز و سامان۔ ہم (محمد انور اور طارق میر) نے انھیں دفتر کی عمارت سے لے کر مال و اسباب تک سب کچھ فراہم کیا''
جعفر رضوی صاحب!
کہا جاتاہے کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے۔ آپ کوحساب کتاب توآتاہوگا؟ آپ تھوڑی سی محنت کرکے ان دونوں حضرات کے ٹیکس پیپرزحاصل کریں اور پھران کی، ان کے اہلِ خانہ، ان کے رشتہ داروں کی طرزِ زندگی، پراپرٹیز اور سفری اخراجات کی تفصیل حاصل کرلیں۔ اورپھر پاپا جونز کا پیزا کھاتے ہوئے 1992 سے لیکر 2016 کے ٹیکس ریٹرنز اور زندگیوں کا فرق نکال لیں۔ حضور، اللہ رب العزت نے الطاف حسین بھائی کا ہاتھ ہمیشہ دینے والارکھاہے۔ آپ نے وہ محاورہ تو سنا ہوگا کہ''جھوٹوں پر اللہ کی لعنت''۔ ان دونوں حضرات پر یہ محاورہ فٹ آتا ہے۔
آپ مزید لکھتے ہیں کہ
''مشرف نے ایم کیو ایم کی صحیح اور غلط، ہر بات مانی۔ اس کے بدلے میں ایم کیو ایم نے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی سندھ اور وفاق میں حکومت سازی کے لیے کبھی حمایت نہیں کی''
جعفر رضوی صاحب!
آپ تاریخ اور اعداد و شمارسے ناواقف لگتے ہیں۔ حضور، ایم کیوایم واحد سیاسی تنظیم تھی کہ جس نے مشرف کے زیرِنگرانی منعقد کرائے گئے2001 کے بلدیاتی انتخابات کابائیکاٹ کیاتھا۔جبکہ پاکستان کی جتنی مذہبی اورسیاسی''جمہوری''جماعتیں ہیں انہوں نے''فوجی ڈکٹیٹر''کے بلدیاتی انتخابات میں بھرپور 
حصہ لیاتھا۔ سپریم کورٹ نے جب اپنے فیصلے میں جنرل مشرف کو آئینی تحفظ دیا تب ایم کیوایم نے 2002 کے عام انتخابات میں حصہ لیاتھا۔ 
دوئم یہ کہ 2002 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی  272 جنرل نشستوں میں سے PMLQ نے 78، PPPP نے 63، MMA نے 45، PMLN نے 14، MQM نے 13 نشستیں حاصل کیں۔ سندھ اسمبلی کی 130 جنرل نشستوں میں سے PPPP نے 50 اور MQM نے28 نشستیں حاصل کیں۔ حضور، پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قومی اسمبلی میں ملاکربھی اورسندھ میں پیپلزپارٹی کی سادہ اکثریت نہیں بنتی تھی۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں دیگرسیاسی اتحاد، سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدواربھی تھے جنہوں نے بڑی تعداد میں سیٹیں حاصل کی تھیں۔ جعفرصاحب، آپ ذرا سمجھادیں کہ مرکزمیں 13 سیٹیں اور سندھ اسمبلی میں 28 سیٹیں رکھنے والی ایم کیوایم کوآپ کونسی ٹوپی پہنارہے ہیں؟ یہ ٹوپی آپ دوسرے سیاسی اتحاد یا سیاسی جماعتوں کو کیوں نہیں پہنارہے؟ جعفرصاحب، ایک سوال آپ سے پوچھتاہوں، آپ یہ سوال مظہرصاحب سے بھی کرلیجئے گا کہ جب پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز2008 کے انتخابات کے بعد، فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف سے وزارتوں کے حلف لے سکتی ہیں تو یہ''جمہوری ثواب''ان دونوں جماعتوں نے 2002 میں کیوں نہیں کمایا؟  رہ گئی یہ بات کہ مشرف نے ایم کیوایم کی صحیح اورغلط ہربات مانی۔ جعفرصاحب، آپ میری صحیح یا غلط بات نہ مانیں، مگراللہ کو تو مانیں۔ آپ ذرالگے ہاتھوں صحیح اورغلط کی ایک لسٹ شائع کردیں تاکہ میں بھی آپ کوصحیح اورغلط میں تمیز بتاسکنے کی پوزیشن میں آجاؤں۔ آپ کے اس جملے کو انگریزی کی اصطلاح میں sweeping statement کہتے ہیں۔ اور میں آپ کے اس sweeping statement کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔
آگے آپ کہتے ہیں کہ
''مظہر عباس کہتے ہیں: 'ادھر لندن میں الطاف حسین نے ندیم نصرت کو واپس بلایا جو غالباً امریکہ میں تھے اور یہ بات محمد انور اور بہت سے دیگر رہنماؤں کو پسند نہیں آئی۔ مگر الطاف حسین کے فیصلے پر اعتراض وہ بھی نہیں کرسکتے تھے۔''
کراچی اور لندن میں اِن تبدیلیوں نے پارٹی میں نئی مگر خفیہ دھڑ بندی کو تیز کر دیا۔
پارٹی کے عہدیدار تیزی سے تبدیل کئے جانے لگے اور نئے نئے واپس آنے والے رہنماؤں عامر خان اور ندیم نصرت کی رائے کو اہمیت ملنے لگی۔
ان فیصلوں پر ناراض کارکنوں نے اپنے ساتھیوں کی تنظیمی خلاف ورزیوں، سرکاری اداروں سے متعلق مالی بدعنوانیوں اور دیگر بگڑتے معاملات پر پہلی دبے لفظوں پارٹی کے اندر اور پھر کھلے عام سماجی محافل اور سیاسی بیٹھکوں میں اعتراض کرنا شروع کیا۔
مگر سُکھ کا سانس لینے والے الطاف حسین کی توجہ اِن شکایات کی بجائے ''ہیپی آورز'' پر مبذول ہوتی چلی گئی اور وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر ان پر کان دھرنے سے گریزاں رہے۔
لندن اور کراچی ان تبدیلیوں سے گزر ہی رہے تھے کہ جنرل مشرف نے الطاف حسین کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان واپس آ جائیں''
جعفر رضوی صاحب!
لگتاہے کہ مظہرعباس صاحب، الطاف بھائی اورایم کیوایم کے معاملے میں ہمیشہ HOUR  UNHAPPY  میں ڈوبے رہتے ہیں۔ جعفر صاحب، یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ندیم نصرت کے حوالے سے محمد انور ناراض ہوگئے، پارٹی میں تنظیمی تبدیلیاں ہونے لگیں۔ مگر کوئی الطاف بھائی کے فیصلے پر اعتراض نہیں کرسکتا تھا۔ یہی کہہ رہے ہیں ناں آپ؟ توجعفرصاحب، آپ کے اس خفیہ سابق رکنِ سندھ اسمبلی اورمظہر صاحب کی بات تو یکسر غلط ثابت ہوگئی ناں کہ الطاف حسین کمزورہوگئے ہیں۔ یہاں میں یہ بھی واضح کردوں کہ جس دورکا مظہرصاحب حوالہ دے رہے ہیں اس دور میں الطاف بھائی نے کئی مرتبہ رابطہ کمیٹی اور تنظیمی ڈھانچے کو تحلیل کیااوراگرمظہرعباس صاحب unhappy hour کی کیفیت میں نہ ہوں تو ان سے پوچھیئے گا اور وہ آپ کوبتائیں 
گے کہ الطاف بھائی نے میڈیا کے سامنے رابطہ کمیٹی اوردوسرے ذمہ داران کو کرپشن پرفارغ کیا۔ جعفرصاحب، ایسے فیصلے ایک انتہائی مضبوط شخص ہی کرسکتا 
ہے۔ میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے دیرینہ کارکن مظہرعباس صاحب کی بے سروپا اور بے ربط گفتگوکاپوسٹ مارٹم یوں کردیتاہوں کہ ندیم نصرت اور عامرخان 2012 میں الطاف بھائی، شہداء کے لواحقین اور کارکنان سے معافی مانگ کرپارٹی میں واپس آئے۔ مشرف تو 2008 میں اقتدارسے علیحدہ ہو چکا تھا۔ توجعفرصاحب، یہ پاکستان آنے کا مشورہ جنرل مشرف نے ندیم نصرت اور عامرخان کے آنے کے بعد یعنی 2013 میں دیا تھا یا 2012 میں ہی دے دیاتھا؟ جعفر صاحب، اللہ کو مانیں۔ یعنی جوشخص خود پاکستان سے نکلنے کے چکرچلارہا تھا، وہ دوسرے کوآنے کامشورہ دے گا؟ سبحان اللہ۔
جعفرصاحب، میرا آپ کومشورہ ہے کہ آپ مظہرعباس صاحب سے زیادہ مشورہ مت لیا کریں۔ اوراگرکوئی مجبوری آن بھی پڑے توجب مظہرصاحب، الطاف بھائی اور ایم کیوایم کے حوالے سے unhappy hour کی کیفیت سے باہرآجایا کریں توتب آپ ان سے مشورہ کرلیا کریں۔۔ مظہر صاحب کی گفتگومیں نہ کوئی ربط ہے، نہ سر، نہ پیر۔ مختصراً یوں سمجھیں کہ مظہرصاحب سے منسوب بے ربط تحریر پڑھ کرہنسی بھی آتی ہے اور ان کی بے سروپا منطق پڑھ کر رونا بھی آتاہے۔ جعفرصاحب، ہمارا نہیں توکچھ اپناہی خیال کرلیا کرلیں۔
آگے آپ لکھتے ہیں،
''تاہم مظہر عباس کے مطابق: 'ایم کیو ایم کے کئی رہنماؤں نے وطن واپسی پر قتل ہو جانے کے خدشات ظاہر کر کے الطاف حسین کو لندن میں ہی رہنے کا مشورہ دیا۔ وجہ یہ تھی کہ ہر سطح پر نئے عہدیدار نہیں چاہتے تھے کہ الطاف حسین کراچی آئیں اور تنظیمی خلاف ورزیوں یا مالی بدعنوانی کی معاملات سے واقف ہو کر ان میں ملوث عناصر کے خلاف کوئی فیصلہ کریں یا قدم اٹھائیں''
جعفر رضوی صاحب!
اس پر میرا دل چاہ رہاہے کہ اگر اجازت ہو تو میں مظہرعباس صاحب کے ایک پپّی اِدھر اور آپ کے ایک پپّی اُدھر لے لوں؟ حضور، یعنی آپ یہ تسلیم کررہے ہیں کہ ایم کیوایم کے وہ تنظیمی ذمہ داران جو 22 اگست 2016 سے قبل یا اس کے بعد تنظیم سے نکال دیئے گئے، وہ الطاف بھائی اور تحریک سے مخلص اور وفادار نہیں تھے بلکہ الطاف بھائی کو اندھیرے میں رکھنا چاہتے تھے۔ دوئم اس سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ الطاف بھائی تنظیمی اور مالی کرپشن میں ملوث نہیں تھے اورتنظیم میں ہونے والی کرپشن کی بابت انہیں لاعلم رکھنے کی سازش کی جارہی تھی۔ سب سے اہم بات یہ کہ الطاف بھائی اپنی تنظیم میں کسی بھی قسم کی کرپشن برداشت نہیں کرتے اورعلم میں آنے پر کرپٹ ذمہ داران کیخلاف تنظیمی ایکشن ضرور لیتے ہیں۔ یعنی کرپشن پر وہ کسی بھی تنظیمی ذمہ دار کے خلاف کاروائی کرنے کی مکمل''طاقت''رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پراگر تنظیم کا کوئی بھی ذمہ دار کچھ ہی برسوں میں، ناجائز طریقے سے ناظم آباد سے شریف آباد، شریف آباد سے گلشنِ اقبال اور گلشنِ اقبال سے کلفٹن جاپہنچے، تو الطاف بھائی تو ایسے کرپٹ تنظیمی ذمہ دار کیخلاف تنظیمی ایکشن ضرور لیں گے۔ جعفر صاحب، آپ اپنی تحریرکا یہ ٹکڑا اس خلائی مخلوق قسم کے سابق رکنِ سندھ اسمبلی کوضرور پڑھا دیجئے گا۔ 
آگے آپ مزیدلکھتے ہیں کہ
''اسی دوران مشرف کی حمایت میں کراچی میں 12 مئی 2007 کا واقعہ ہوا اور لندن میں عمران فاروق کی قتل کی واردات بھی''
جعفر رضوی صاحب!
آپ نے ان دو بڑے سانحات کے بار ے میں دو لائن میں لکھ کر اپنی''صحافت چھڑائی ہے''۔ پہلی بات یہ کہ 12 مئی 2007 واقعہ نہیں سانحہ تھا اوراس میں ایم کیوایم کے کارکنان کوسیاسی، مذہبی، لسانی، کالعدم تنظیموں کے مسلح دہشت گردوں نے شہیدکیا۔ ایم کیوایم نے کوئی مشرف کی حمایت نہیں کی تھی۔ اس پرآپ چاہیں تو مناظرہ کرسکتے ہیں۔ شہیدِ انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق بھائی کی شہادت کو آپ واردات لکھ رہے ہیں۔ اس سے آپ کی محدود اوریکطرفہ سوچ 
کی عکاسی ہوتی ہے۔ عمران بھائی کی شہادت میں پاکستان کی ایجنسیوں کے کردارپرآپ کاقلم لکھتے ہوئے کیوں کانپ جاتاہے؟
آپ مزید لکھتے ہیں کہ
''گڑبڑ تب ہوئی جب 2007 میں بینظیر بھٹو کا قتل ہوا اور 2008 کے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کرنے والے آصف زرداری نے جنرل مشرف کو ایوان صدر سے رخصت کیا اور خود صدر بن گئے۔
جنرل مشرف کا جانا الطاف حسین کے لیے گھبرانے والا موقع تھا کیونکہ آصف زرداری کو نہ تو الطاف حسین کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت تھی اور نہ ہی وہ اس کے خواہشمند تھے''
جعفر رضوی صاحب!
سُرخوں یعنی بائیں بازوکی سیاست کرنے والوں کی طلبہ سیاست میں تین شاخیں تھیں ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن، نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور پیپلزاسٹوڈنٹس فیڈریشن۔ یہ تنظیمیں نعرے تو طلبہ، مزدوراورکسان کے لگاتی تھیں مگر ان کی تمام تر ہمدردیاں ہمیشہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ساتھ رہیں۔ آپ کی تحریرمیں اس کی آمیزش صاف نظرآرہی ہے کہ کس بات کو کس اندازمیں کہہ کرگزر جاناہے اوراپنی Parent party کوبچاناہے۔ مگرمیں آپ کو بھاگنے نہیں دوں گا۔ جعفرصاحب، آپ نے بینظیرکے قتل کی بات کرکے کہیں اورچھلانگ ماردی۔ حضور، پہلے اس بات کاجواب دیں کہ 27، 28 اور29 دسمبر 2007 کوکراچی اورسندھ کے شہری علاقوں میں جوقتل وغارت گری اور لوٹ مار، مہاجروں اور ان کی املاک کے ساتھ کی گئی، اس کا ذمہ دارکون ہے؟ بینظیرکا قتل تو پنجاب کے اورGHQ کے شہر راولپنڈی میں ہوا، توپھر یہ ساری دہشت گردی مہاجروں کے خلاف کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں کیوں بپا کی گئی؟ جعفرصاحب، لکھیں ناں ان تین خون آشام ایام کا نوحہ۔ اس موقع پرآپ کا قلم کیوں ہیپی آور کی نذر ہوجاتا ہے؟ ایک اورچہیتی پارٹی PTI کی دہشت گردیوں کو بھی بعض صحافی اس طرح چھپاتے ہیں کہ جب جیو نیوزکی خاتون صحافی ثناء مرزا، لاہورمیں PTI کے جلسے کی کوریج کر رہی ہیں تو ان کے ساتھ (اور متعدد مواقع پر دیگر خواتین صحافیوں کیساتھ) جوسلوک PTI کے درندوں نے کیا، اس پرصحافت کے علمبردار پی ٹی آئی کے ایک بیان پر تسلی اورتشفی پاکرچپ ہوجاتے ہیں اور مظہرعباس صاحب اوردوسرے صحافی دوسریs  DSNG' کی چھت پربیٹھ کر مسکرا کر، منہ دوسری طرف موڑ کر صرف اپنے پاؤں کھجاتے رہتے ہیں۔ جعفر صاحب، اب آتے ہیں آپ کے اس نکتے کی جانب کہ جنرل مشرف کاجانا الطاف حسین کے لئے گھبرانے والاموقع تھا کیونکہ آصف زرداری کونہ تو الطاف حسین کوساتھ لیکرچلنے کی ضرورت تھی اورنہ وہ اس کے خواہشمند تھے۔ حضور، اب جو بات میں آپ کو بتانے جارہاہوں اس پر''آپ نے گھبرانا نہیں ہے''۔ حضور، الطاف بھائی نے مجھے2008 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کا رکن بنوایاتھا۔ میں ان میٹنگز کے بار ے میں واقفیت رکھتا ہوں جنہیں آپ یکسرغلط اندازمیں پیش کررہے ہیں۔ اگر آصف زرداری کوضرورت اور خواہش نہیں تھی تووہ اور یوسف رضا گیلانی''گھبرا''کر نائن زیروکیوں آئے تھے؟ کیوں آصف زرداری نے الطاف بھائی سے درخواست کی تھی کہ مجھے صدارت کیلئے نامزد کروادیں؟ 2 اپریل 2008 کوآصف زردای نے نائن زیرو آکر کس بات کی معافی مانگی؟ کیوں شہداء قبرستان جاکر فاتحہ خوانی کی اور کیوں آئندہ نسلوں کے ساتھ چلنے کی بات کی؟ حضور، ضرورت اور خواہش الطاف بھائی اور ایم کیوایم کی کبھی نہیں تھی۔ یہ بتائیں کہ یوسف رضا گیلانی کے وزارت عظمیٰ میں، پیپلز پارٹی کے اراکین نے کیوں ''گھبرا''کرPMLN کے اراکین کے ساتھ مل کر، فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف سے وفاقی وزارتوں کا حلف لیا اورمخلوط حکومت بنائی؟ اور بعد میں کیوں نون لیگ کے چھوڑنے کے بعد''گھبرا''کر کیوں ق لیگ کے وزراء کوشامل کیا؟
ایم کیوایم تو 2010 میں وفاقی کابینہ کا حصہ بنی تھی۔ حضور، اس سے کیا بات ثابت ہوئی؟ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ضرورت اور خواہش، آصف زردای کو تھی، الطاف بھائی اور ایم کیوایم کو نہیں۔ پیپلزپارٹی کو تو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں تھی اور آپ اسے''زبردست کامیابی''لکھ رہے ہیں؟ 
حضور، مطالعہ، تحقیق اورجستجوکی عادت اپنائیں، اس سے آپ کو اصل حقائق کا علم اور ادراک ہوگا۔ 
آگے آپ کہتے ہیں کہ
''بقول سابق رکن اسمبلی، اس سب نے مل کر الطاف بھائی کو شدید عدم تحفظ کا شکار بنا دیا۔ 'تب میں نے الطاف حسین کی شخصیت کا دوسرا روپ دیکھا: 
کامپرومائزڈ، ذہنی طور پر منتشر اور مغلوب، نہ وہ کر و فر نہ وہ طمطراق، نہ وہ پہلی سی رمق۔''
اس دوسرے دور میں کبھی کبھی تو ایسا لگتا کہ وہ کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ جسمانی طور پر گردوں کی بیماری، بدترین ذیابیطس اوربے خوانی کے مرض کے باعث وہ مُٹّھی بھر بھر کے دوائیں کھانے لگے۔
پاک سرزمین پارٹی میں چلے جانے والے رہنما رضا ہارون کی بات مانیں تو یہ وہ وقت تھا جب ہر وقت کا 'ہیپی آور' شروع ہوا۔ ان کے مطابق 'ذہنی دباؤ، مایوسی اور ٹینشن سے نجات کے لیے الطاف بھائی الکوحلک ہوتے چلے گئے اور معاملات میں شدید بگاڑ آنے لگا۔'
سابق رکن سندھ اسمبلی بھی بتاتے ہیں کہ اس کے اثرات بھی نظر آنے لگے۔ 'فرسٹریشن میں پہلے الطاف بھائی ساتھیوں پر غصّہ ہونے لگے، پھر ذہنی امراض کی وجہ سے بالکل ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آئے''
جعفر رضوی صاحب!
عوامی زبان میں کہتے ہیں کہ ''آپ نے یہاں بھنڈ کردی''۔ اس سابق رکنِ سندھ اسمبلی کا نام آپ نے یہاں خود ہی آشکار کردیا۔ آگے چل کرآپ نے بات گھمانے کی بھرپور کوشش کی مگرآپ کا قلم اس بھنڈ کوسنبھال نہیں پایا۔ ہیپی آورکی اصطلاح رضا ہارون نے تب استعمال کی تھی جب اس نے بڑے بھرم دکھا کر، بڑے uncompromised، ذہنی طور پرمضبوط اورفرطِ جذبات سے مغلوب ہوکر پی ایس پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ مگر اب رضا ہارون میں نہ وہ کروفر ہے، نہ وہ طمطراق، نہ وہ پہلی سی رمق۔ جعفر صاحب، آپ نے اپنی تحریر 22 اگست کوتحریرکی ہے، مگر آپ کو یہ علم تک نہیں کہ رضاہارون پی ایس پی کا حصہ نہیں ہے۔ اسی لئے صحافت کا زریں اصول ہے کہ پہلے مکمل تحقیق کرو پھر بولو۔ آپ حوالہ بھی اس کا دے رہے ہیں جو خود چوبیس چوبیس گھنٹے ہیپی آورمیں رہتا ہے۔ جسے لندن پولیس نے نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے جرم میں ہتھکڑی لگاکرگرفتارکیا۔ اورآپ ایک ایسے شخص کی گواہی اوربات کو اہمیت دے رہے ہیں کہ جو نشے کی حالت میں گرفتارہوا ہو اورجوپی ایس پی کوبھی چھوڑ چکاہو؟ جعفرصاحب، آپ ذرا اس سے یہ پوچھئے گاکہ تم نے پریس کانفرنس کرکے اپنے محسن الطاف حسین کے خلاف تو بڑی ہرزہ سرائی کی تھی۔اب  یہ توبتاؤکہ پی ایس پی کیوں چھوڑی اور مصطفیٰ کمال نے تمہیں اپنی عسکری  پارٹی یعنی
پی ایس پی سے کس ہیپی آور کی پاداش میں نکالا؟
آگے آپ لکھتے ہیں کہ
''سنہ 2013 میں جنرل راحیل شریف کے زمانے میں 'آپریشن ردالفساد' شروع ہوا اور مذہبی و فروارانہ شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز ہوا۔
ایم کیو ایم کو بھی بتایا گیا کہ کسی بھی قسم کی شدت پسندی یا عسکریت پسندی کی گنجائش نہیں ہے لیکن ذہنی امراض، دباؤ، مایوسی اور ناکامیوں کا شکار الطاف حسین اس نئے آپریشن کو سمجھ ہی نہیں سکے''
جعفر رضوی صاحب!
اصل میں آپ اپنی ہی لکھی ہوئی تحریر نہیں سمجھ سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ الطاف حسین، راحیل شریف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نئے آپریشن کوبہت اچھی طرح سمجھ چکے تھے۔ جب یہ بل اسمبلی سے پاس ہونے کیلئے تیارہورہاتھاتو ٹھاکرکے آگے لیٹنے والے، ُاس وقت راحیل شریف کے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں، اوپر، 
نیچے لیٹ گئے تھے۔ یہ الطاف حسین ہی تھے جنہوں نے اس بل کی مخالفت کی اوراسے ماننے سے انکارکردیا۔ الطاف بھائی نے واضح طورپرکہاکہ یہ بل 
Jet Black دہشت گردوں کیخلاف نہیں بلکہ فوج دراصل ایم کیوایم کیخلاف آپریشن کی تیاری کررہی ہے۔ الطاف بھائی کے اس واضح مؤقف پریہ بل کئی گھنٹے تک التواء میں رہا۔ پھر راحیل شریف نے اپنے جھوٹے پیش روؤں کی طرح یقین دہانی کرائی۔ جعفرصاحب، آپ اس سابق رکنِ سندھ اسمبلی جس کانام آپ ظاہرکرچکے ہیں اورجوآج کل شدید ذہنی امراض، دباؤ، مایوسی اور ناکامیوں کاشکارہے، جس لمحے وہ کبھی اپنے ہیپی آور سے باہرآئے توآپ اس سے الطاف بھائی کے اس مؤقف کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ 
آپ مزید لکھتے ہیں کہ
''نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک ایم کیو ایم رہنما نے بتایا: 'شاید حیدرآباد کے ایک جلسے میں اُن کی ایک تقریر میں بنگلہ دیش کے قیام اور وہاں پاکستانی فوج کی پسپائی اور ہتھیار ڈالنے کے بارے میں حد سے زیادہ تنقید پر فوجی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ نے بھی شدید ردعمل دیا اور گورنر عشرت العباد کو پیغام پہنچا 'انف از انف' یعنی بس، بہت ہوگیا''
جعفر رضوی صاحب!
آپ جس نقاب پوش رہنما کی''شاید''والی بات بیان کررہے ہیں اس میں اتنی ہمت تو ہے نہیں کہ وہ اپنا نام ہی بتاسکے۔ حضور، جس شخص میں اپنا نام بتانے کی ہمت نہیں تو اس میں فوج کا نام لینے کی جرأت کہاں سے آپائے گی؟ جعفر صاحب، تحریک کے ابتدائی دنوں سے اور آج کے دن تک الطاف بھائی، بنگلہ دیش کے قیام، فوج کی پسپائی اور ہتھیار ڈالنے، اسٹیبلشمنٹ، ایجنسیوں کے کردار اور ان کے مکروہ دھندوں پرکھل کرگفتگوکرتے رہے ہیں۔ ایجنسیوں کے بارے میں گفتگو کا آغاز الطاف بھائی نے توجب ہی کردیا تھا کہ جب پاکستان کے کسی بھی شعبہ کی شخصیت، نام لینا تو دور کی بات ہے، ایجنسیوں کوسمجھنے سے بھی قاصر تھی۔ الطاف بھائی کی توپہلی گرفتاری فوجی حکومت نے کی کہ جب وہ قائداعظم کے مزار کے باہرمحصورینِ مشرقی پاکستان کی واپسی کیلئے مظاہرہ کررہے تھے اور ضیاء الحق کی سمری ملٹری کورٹ نے انہیں جھوٹے کیس میں سزاسنا کرجیل بھیج دیا تھا۔ آپ کو اس نقاب پوش رہنمانے کونسی ایسی نئی بات بتادی جو انتہائی خفیہ رازتھی یا آپ کی صحافتی اصطلاح میں اسے بریکنگ نیوزکے طورپرلیا جائے؟ جعفر صاحب، میرے خیال میں یہ نکتہ سمجھنے کیلئے آپ کیلئے اتنا ہی enough ہے۔
آپ لکھتے ہیں کہ
''مصطفیٰ کمال کے مطابق: 'میں نے انیس بھائی، عشرت العباد، فاروق ستار، سب سے بات کی۔ پھر 2008 میں ہم چاروں لندن آئے۔ میں الطاف بھائی کے پیر پکڑ لیے''
جعفر رضوی صاحب!
آپ نے جس عسکری بھانڈ کی گفتگوکاحوالہ دیاہے، اس نے جتنی مغلظات بکی ہیں، مہاجر عوام اس سے اتنی ہی نفرت کرتی ہے۔ کراچی کا بچہ بچہ اس عسکری بھانڈ کا مذاق اڑاتاہے۔ جعفر صاحب، ایک بات آپ سے پوچھوں؟ جب اس نے آپ سے یہ کہاہوگاکہ میں نے''الطاف بھائی''کے پیرپکڑلئے، توآپ نے تو اپنا سر پکڑ لیاہوگا؟ ہے ناں؟ یعنی کہ ابھی بھی اس کے منہ سے الطاف بھائی نکل رہاہے۔ یہ ہے میرے قائد کی عظمت کہ
''دشمنوں کے ذہنوں پر الطاف بھائی بھاری ہے''۔
آگے آپ تحریرکرتے ہیں کہ
''مصطفی کمال کہتے ہیں کہ جب اگست 2013 میں وہ خود مایوس ہوگئے تو انھوں نے الطاف حسین کو چھوڑ دیا اور تین ماہ بعد انیس قائم خانی بھی آ گئے۔
ان کے بقول سنہ 2006 سے 2016 تک، 'آخری دس سال تک تو رابطہ کمیٹی نے صرف الطاف حسین کو سنبھالا، کوئی اور کام کیا ہی نہیں۔ جب اندازہ ہوگیا 
کہ اب یہ نہیں سنبھل سکتے ہیں اور اب ان سے قوم اور تنظیم کو فائدے کی بجائے نقصان ہو رہا ہے تو ہم انھیں چھوڑ کر چلے گئے''
جعفر رضوی صاحب!
یہاں اس عسکری بھانڈ کاحساب گڑبڑہوگیا یعنی یہ گڑبڑا گیا۔ 2006 سے 2016 یہ توہوگئے دس سال۔ اور یہ اگست 2013 میں چلا گیا اور یہ کہہ رہاہے کہ تین مہینے بعد انیس قائم خانی بھی آگیا۔ بھیا، اس حساب سے تو سات سال بنے، اس نے یہ نہیں بتایاکہ باقی تین سال ان دونوں کو کس نے کس جگہ رکھ کر''سنبھالا''؟ جعفر صاحب، ایک اہم نکتہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتاہوں اور وہ یہ ہے کہ اگست 2013 میں یہ عسکری بھانڈ چلاگیا اور ستمبر 2013 میں فوج نے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کردیا اورپھرتین مہینے بعد انیس بھی نکل لیا۔ جعفر صاحب، آپ کو گیم سمجھ آرہاہے ناں؟
آپ مزید لکھتے ہیں کہ
''جماعت کے ایک رہنما نے بتایا کہ گھر جا کر وہ اپنی مرضی سے اور کسی مشورے کے بغیر کارکنان یاٹی وی سے خطاب شروع کر دیتے تھے اور 22 اگست کی تقریر بھی انہوں نے اپنے گھر سے ہی کی تھی۔ 'اگر مرکز پر ہوتے تو شاید ہم اُن کو روک لیتے۔'
پھر ایک درخواست کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے ذرائع ابلاغ پر اُن کی تقاریر شائع یا نشر کرنے پر پابندی لگا دی۔ اس سے ایم کیو ایم شدید دباؤ میں آگئی''
جعفر رضوی صاحب!
جس چھپن چھپائی والے نقاب پوش رہنماکا آپ حوالہ دے رہے ہیں اس کی اس لایعنی گفتگوپراتناہی کہوں گاکہ تحریک کا ہر تنظیمی ذمہ دار، حتیٰ کے کارکن بھی، لندن میں واقع ایم کیوایم کے آ فس کوسکریٹریٹ کہتاہے، مرکز کہنا توبہت دورکی بات ہے۔ یعنی ایک دوسرے سے بھی بات کرتے ہیں تویہی کہتے ہیں کہ سکریٹریٹ آجایئے یا چلیں سکریٹریٹ چلتے ہیں۔ پتہ نہیں آپ نے کس لاعلم نقاب پوش سے بات کرلی؟
اب آتے ہیں لاہورہائی کورٹ کی طرف۔ حضور، آپ نے کہا کہ 22 اگست کی تقریرہوئی، پھر لاہورہائی کورٹ نے الطاف بھائی کی تقاریر شائع یا نشر کرنے پرپابندی لگادی۔ جعفر صاحب، تھوڑی تحقیق کرلیاکریں۔ لاہور ہائی کورٹ نے چھ مہینے کیلئے، الطاف بھائی کی تقریر، تصویر اور تحریر پر غیر آئینی اور غیرقانونی پابندی 5 ستمبر 2015 کولگائی جبکہ کراچی پریس کلب پر کیاجانے والا خطاب 22 اگست 2016 کاہے۔ اس پابندی کیخلاف نڈر، بہادر اور باہمت عاصمہ جہانگیر مرحومہ نے اپیل دائرکی تھی۔ عسکری ڈگڈگی پر قلابازی کھاجانے والے، آج کے وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم نے پابندی لگنے کے بعد اس وقت  الطاف بھائی کو نیلسن منڈیلا اور آج کے ایک اور عسکری قلاباز بیرسٹر سیف نے اس وقت اس فیصلے کو غیرقانونی اقدام قرار دیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر صاحبہ کو 11 فروری 2018 کوقتل کردیاگیا۔ جعفر صاحب، نڈر، بہادر اور باہمت عاصمہ جہانگیر صاحبہ کا انتقال طبعی نہیں ہے۔ دوائیں اور علاج نہ ملنے پرہسپتالوں کوتوڑنے اورڈاکٹروں کوتشدد کا نشانہ بنانے والے وکلاء کی عاصمہ جہانگیر کی پراسرار موت پر خاموشی، شور مچا مچا کر یہ بیان کررہی ہے کہ سچ بولنا منع ہے۔ جعفر صاحب، میں امید کرتاہوں کہ اس عظیم خاتون کی پراسرارموت پر آپ کوئی تحقیقاتی مضمون ضرور لکھیں گے۔
آپ اپنی تحریرکے آخرمیں لکھتے ہیں کہ
''تب سے اب تک الطاف حسین سیاسی منظر سے غائب ہیں''
جعفر رضوی صاحب!
میں پورے وثوق اوردعوے سے یہ بات کہنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ نے مکمل تحقیق کی ہی نہیں اور نہ آپ کی تحریر غیرجانبدارہے۔ پتہ نہیں کس آور میں 
آپ کی صحافت''غائب''ہوگئی۔ جعفر صاحب، اگر آپ اپنے چوبیس آورز میںسے کوئی آور اس بات کی ریسرچ پر لگادیں کہ22 اگست 2016 سے لیکرآج 
کے دن تک الطاف بھائی نے کتنے وڈیو، آڈیو خطابات کئے ہیں، کتنے تحقیقی اور تاریخی لیکچرز دیئے ہیں، کتنی فکری نشستیں کی ہیں، کتنی میٹنگز کی ہیں، کتنے عوامی اجتماعات کئے ہیں، کتنے وفود ان سے ملے ہیں، روزانہ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں الطاف بھائی کتنے افراد سے گفتگو کرتے ہیں، تو جعفر صاحب، آپ یقین کریں کہ اس''سیاسی منظرنامے ''کی صرف لسٹ بنانے کیلئے ہی آپ کو کئی آورز نہیں، بلکہ کئی  DAYS  درکارہونگے۔
جعفر رضوی صاحب!
آپ کوجب موقع ملے تو اپنے قیمتی آورز میں سے کوئی آور نکال کر، الطاف بھائی کے اِس کارکن کے آپ کی تحریر سے متعلق اٹھائے گئے علمی سوالات کے صحافتی جوابات ضرور دیجئے گا۔
کہیں''غائب''مت ہوجایئے گا۔
والسلام،
آپ کی درست تحقیقی صحافتی تحریر کے''منظر''کا منتظر
الطاف بھائی کا ایک وفا پرست کارکن
ڈاکٹر ندیم احسان
17 ستمبر 2020ئ


10/24/2020 4:07:38 AM