Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جرنیلوں کی کرپشن کابازارگرم ہے لیکن نیب یاسپریم کورٹ کوفوج کی کرپشن نظرنہیں آتی ۔الطاف حسین


جرنیلوں کی کرپشن کابازارگرم ہے لیکن نیب یاسپریم کورٹ کوفوج کی کرپشن نظرنہیں آتی ۔الطاف حسین
 Posted on: 9/5/2020 1

جرنیلوں کی کرپشن کابازارگرم ہے لیکن نیب یاسپریم کورٹ کوفوج کی کرپشن نظرنہیں آتی ۔الطاف حسین 
فوج نے پورے ملک میںڈی ایچ اے کاجال بچھا دیاہے، فوج کاروبارکررہی ہے
 فوج کی کرپشن کیخلاف آوازاٹھانے والوںکوریاستی جبرکے ذریعے خاموش کیا جارہا ہے 
 قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے پاکستان کے ٹھیکیدار اورآقابن گئے جبکہ قیام پاکستان کیلئے قربانیاں دینے والے غدارقراردیدیے گئے
 ہمیں ڈیفنس کلفٹن والوں سے ہمدردی ہے کیونکہ ہم بارشوں میں پیش آنے والی
 مشکلات سے نمٹتے چلے آئے ہیں 
ابھی توڈیفنس کلفٹن والے اپنے گھربارش کے پانی میں ڈوبنے پر احتجاج کررہے ہیں، مستقبل میں توان کے گھروں پر چائنیز کاقبضہ ہوگا
سندھ میں فوج کاکنٹرول ہے ، سندھ کے وڈیرے اقتدارکیلئے فوج کی کاسہ لیسی کررہے ہیں
سندھ میں معدنیات کے ذخائرپرفوج کاقبضہ ہے ،وہاںسندھ کے لوگوں کا داخلہ بند ہے
 سندھ کے باشندے اپنی دھرتی کی آزادی کیلئے میدان عمل میں آنے کیلئے تیار ہوجائیں تاریخ کے حوالے سے پانچویں لیکچرمیں اظہارخیال

لندن  …  5  ستمبر  2020ئ

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ فوج نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح پورے ملک میںڈی ایچ اے کاجال بچھا دیاہے ،جرنیلوں کی کرپشن کابازارگرم ہے لیکن نیب یاسپریم کورٹ کوفوج کی یہ کرپشن نظرنہیں آتی کیونکہ سپریم کورٹ اورنیب بھی فوج کے اشاروںپر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز اپنے پانچویں لیکچر میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہی۔جناب الطاف حسین نے نوآبادیاتی دور،برصغیر پر انگریزوں کے قبضہ، تحریک آزادی ، قیام پاکستان اوراسکے بعد کے حالات کی تاریخ سے نئی نسل کوآگاہ کرنے کیلئے لیکچرکاسلسلہ شروع کررکھاہے ۔ گزشتہ روز اس سلسلے کا پانچواں لیکچرتھا۔انہوںنے پانچویںلیکچرمیں اپنے چوتھے لیکچر کااعادہ کرتے ہوئے برصغیرمیں انگریزوںکی آمد، ایسٹ انڈیاکمپنی کاقیام، جنگ پلاسی ، جنگ میسور، مغل حکومت کے خاتمے، جنگ آزادی کی تحریک اور قیام پاکستان کی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جنگ عظیم اول اورجنگ عظیم دوم کے بعد دنیا کی معیشت تباہ ہوگئی تھی جس کی وجہ سے برطانیہ، فرانس ، امریکہ، روس اوردیگرملکوںکوٹیبل پر بیٹھنا پڑا اوراپنی کالونیوںپر قبضہ ختم کرناپڑا۔ اس دوران جنگوں اور آزادی کی تحریکوںمیں کروڑوں لوگ مارے گئے ، لاپتہ یادربدرکئے گئے ،جلاوطن کئے گئے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تحریک پاکستان میں ہمارے بزرگوںکو اسلام اورپاکستان کے نام پر بیوقوف بنایاگیا، 

آزادی کے بعد قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے توپاکستان کے ٹھیکیدار اورآقابن گئے جبکہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں حصہ لینے والے اور قربانیاں دینے والے غدار قرار دیدیے گئے اورغلام بنالئے گئے۔تحریک پاکستان کے تمام رہنما راستے سے ہٹادئے گئے، سندھ اسمبلی میں قیام پاکستان کی قرارداد پیش کرنے والے سائیں جی ایم سید غدار ٹھہرائے گئے، آزادی کیلئے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے رہنماباچہ خان غداربن گئے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی موجودہ فوج کے جرنیل اوراعلیٰ افسران کے آباؤاجدادانگریزوں کی فوج میں شامل ہوکرتحریک آزادی کیلئے جدوجہدکرنے والوں کو مارتے رہے اوران کی اولادوں نے پاکستان میں اپنے حقوق اور انصاف کیلئے آواز اٹھانے والوںپر ظلم وستم ڈھائے اورآج تک ڈھارہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ظلم وستم کے ذریعے پاکستان کوتوڑدیا، مشرقی پاکستان الگ ہوکربنگلہ دیش بن گیا ۔ انہوںنے اپناحق مانگنے پر بلوچوں، پشتوں، سندھیوں اورمہاجروںپر ریاستی مظالم کے پہاڑ توڑے ، ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروںبے گناہ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا، کئی کارکنوںکوکراچی سے لے جاکر مارکر اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں میں دفن کردیا۔ فوج نے ہمارے بزرگ رہنما، فلاسفر اور جامعہ کراچی کے سینئر استادپروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف تک کونہیں بخشا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح پورے ملک میںڈی ایچ اے کاجال بچھا دیاہے، آرمی، نیوی اورفضائیہ سمیت پوری فوج ہاؤسنگ اسکیمیں بنارہی ہے اورملک کے دفاع کے بجائے فوج آج ہرطرح کاکاروبارکررہی ہے ،جرنیلوں کی کرپشن کا بازار گرم ہے لیکن نیب یا سپریم کورٹ کوفوج کی یہ کرپشن نظرنہیں آتی کیونکہ سپریم کورٹ اور نیب بھی فوج کے اشاروں پر کام کررہے ہیں۔ فوج کے سربراہان، صدر، وزیراعظم اور حکومتی وزراعوام کوبیوقوف بنانے کیلئے ''کشمیر بنے گاپاکستان'' کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن کشمیر کی آزادی کیلئے عملاً کچھ نہیں کرتے کیونکہ کاروبار میں مصروف فوج اب لڑنے کے قابل نہیں ہے لیکن اپنے ہی ملک کے عوام کوبندوق کی نوک پر غلام بنایا ہواہے۔ فوج کی کرپشن کے خلاف آوازاٹھانے والوںکوریاستی جبرکے ذریعے خاموش کیا جارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے یہ کرائے کی فوج بن چکی ہے جو ڈالروں کے عوض دنیابھرمیں جاکرلڑنے کیلئے تیاررہتی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث کراچی میں جہاں کراچی کے دیگرعلاقے زیرآب آئے وہیں ڈیفنس کلفٹن جیسے علاقے بھی پانی میں ڈوب گئے جس پروہاں کے عوام نے کنٹونمنٹ بورڈکے خلاف احتجاج کیاجوکل تک ریاستی مظالم کے خاتمے اوراپنے حق کیلئے احتجاج کرنے پر لانڈھی، کورنگی، لیاقت آباد،ناظم آباد،نیوکراچی اوردیگرعلاقوں کے عوام کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ڈیفنس کلفٹن والوں سے ہمدردی ہے کیونکہ ہم بارشوں میں علاقوں کے ڈوبنے اوراس سے پیش آنے والی مشکلات سے نمٹتے چلے آئے ہیں ۔ انہوںنے مزید کہا کہ ابھی توڈیفنس کلفٹن والے اپنے گھربارش کے پانی میں ڈوبنے پر احتجاج کررہے ہیں، مستقبل میں توآپ کے گھروں پر چائنیز کاقبضہ ہوگا تو اس وقت لوگوںکوحالات کی سنگینی کااحساس ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج نے اپنی پالیسیوں اوراقدامات کے ذریعے شہرکے دیگرعلاقوں کی طرح ڈیفنس اورکلفٹن کوبھی ڈبویا ۔جب پروین رحمان نے ساحلی علاقوں میں کی جانے والی غلط پلاننگ کو بے نقاب کیا اور بتایاکہ کس طرح سمندر کے ساحلی علاقوں سے قدرتی درخت جنہیں Mangrove کہتے ہیں ختم کرکے اوروہاں مٹی ڈال کرڈی ایچ اے والے زمین پر قبضہ کررہے ہیں اور ساحلی علاقے کوبربادکررہے ہیں تو فوج اوراسٹیبلشمنٹ نے انہیں مروادیادیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے علیحدہ صوبہ کاشوشہ چھوڑاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ صوبہ تو بلوچستان بھی ہے لیکن وہاں اصل حکومت فوج کی ہے ، اسی طرح سندھ میں بھی فوج کاکنٹرول ہے ، سندھ حکومت میں شامل جاگیردار وڈیرے فوج کے ایجنٹ ہیں جواپنے اقتدارکیلئے فوج کی کاسہ لیسی کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں نے آصف زرداری سے بھی ایک مرتبہ کہا تھاکہ اگر سندھ کواس کے حقوق نہ دیے گئے توکیاآپ سندھ کے حقوق کیلئے آزادی کی جدوجہد کریںگے تو انہوںنے جواب دیا کہ ایساوقت نہیں آئے گا۔ کیونکہ زرداری کو اپنا اقتدار عزیز تھا۔ انہوںنے کہاکہ جواپنی دھرتی ماں کے سچے بیٹے ہوتے ہیں وہ اپنی ماں کا سودا نہیں کرتے۔انہوںنے کہاکہ آج جس طرح الطاف حسین کھل کرسندھ کی آزادی کی بات کررہاہے کیا زرداری اور سندھ کاکوئی لیڈر کرسکتاہے؟ انہوں نے کہاکہ آج سندھ میں تیل گیس، کوئلہ اوردیگرمعدنیات کے جوذخائرہیں وہاںفوج کاقبضہ ہے اور سندھ کے مستقل باشندوں کاداخلہ بند ہے اورسندھ کے وزراء اپنی کرسی بچانے میں مصروف ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں سندھ کے تمام مستقل باشندوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتاہوںکہ وہ اپنی دھرتی کی آزادی کیلئے میدان عمل میں آنے کیلئے تیار ہوجائیں ۔ ہم سندھ کی آزادی اوراس کے معدنی وسائل پر سے قبضہ ختم کرائیں گے کیونکہ ان پر باہر سے آنے والوںکانہیں بلکہ سندھ کے مستقل باشندوںکاحق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ سندھ میںمستقل طور پر آبادگئے ہیںاوریہیں جیتے ہیں، یہیں کھاتے کماتے ہیں اور سندھ دھرتی کواپناوطن سمجھتے ہیں انہیں بھی سندھ کے حق کیلئے جدوجہد کا حصہ بنناچاہیے ، ہم انہیں بھی گلے لگائیںگے۔ جناب الطاف حسین نے لیکچر کے اختتام پر تمام شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیااوران کیلئے دعاکی ۔ 

٭٭٭٭٭

9/20/2020 2:14:38 AM