Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی میں سیلاب آیانہیں لایاگیاہے۔الطاف حسین


کراچی میں سیلاب آیانہیں لایاگیاہے۔الطاف حسین
 Posted on: 8/26/2020
کراچی میں سیلاب آیانہیں لایاگیاہے۔الطاف حسین 
 ایک طرف کراچی کے سیوریج سسٹم کوتباہ کیاگیادوسری جانب ندیوں کوبلاک کردیاگیا
 ملیرندی میں ندی کے گیٹ بھی کھلے ہوئے تھے جسکے نتیجے میں آبادیاں زیرآب آئیں
 فوج انتظار کررہی تھی کہ عوام یہ کہیں کہ صورتحال پرقابوپانے کیلئے فوج سے مدد لی جائے 
 کراچی اوردیگرشہروںمیں سیلابی صورتحال سے تباہی پر دلی افسوس ہے
 اگر ہمیں کام کرنے دیاجاتا توآج شہرکی اس قدررتباہ کن صورتحال نہ ہوتی 
 میں اورمیرے سچے ساتھی بندنالوں کوبھی کھولتے اورصورتحال کوتباہ کن نہ ہونے دیتے 
ہم توانسانیت کی خدمت کررہے تھے ، پھرفوج نے ہمارے خلاف آپریشن کیوں کیا؟ 
ریاست ماں ہوتی ہے لیکن ریاست ہمارے ساتھ سوتیلی ماں سے بدترسلوک کررہی ہے 
 ایم کیوایم اوورسیزیونٹوں کے کارکنوں سے ہنگامی خطاب 

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ کراچی میں سیلاب آیانہیں بلکہ لایاگیاہے اوراس کے لئے ایک طرف تو کراچی کے سیوریج سسٹم کوتباہ کیاگیادوسری جانب ندیوں کے سمندرمیں گرنے کے حصوںکوبلاک کردیاگیاہے جس کانتیجہ یہ ہے کہ آج پور اشہر بارش اورسیوریج کے پانی میں ڈوب چکاہے۔ انہوں نے یہ بات ایم کیوایم اوورسیزیونٹوں کے کارکنوں سے اپنے ہنگامی خطاب میں کہی۔ انہوںنے کراچی اور سندھ کے دیگرشہروںمیں طوفانی بارشوںاورسیلابی صورتحال سے آنے والی تباہی اورجانی ومالی نقصانات پر دلی افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ملیرندی میں کہیںشگاف پڑے ہیں توکہیں ندی کے گیٹ بھی کھلے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں سیلابی پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوااورآبادیاں زیرآب آئیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف تویہ صورتحال تھی تو دوسری طرف فوج یہ انتظار کررہی تھی کہ شہرمیں ایسی صورتحال پیداہواورعوام یہ کہنے پر مجبور ہوجائیںکہ ہنگامی صورتحال پرقابوپانے کیلئے فوج سے مدد لی جائے جس کے بعد آرمی چیف کی جانب سے فوج کوامدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کاحکم سامنے آگیاتاکہ فوج عوام کی ہمدردیاں سمیٹے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہمیں کام کرنے دیاجاتا توآج شہرکی اس قدر رتباہ کن صورتحال نہ ہوتی اورمیں اورمیرے سچے ساتھی عوام کے ساتھ ملکر بند نالوں کو بھی کھولتے اورصورتحال کواس قدرتباہ کن نہ ہونے دیتے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جب نائن زیروکھلاہواتھا تو شہر میں شدیدبارشوںسے ایسی صورتحال پیداہوتی تومیں تمام منتخب نمائندوںاور تنظیمی ذمہ داروںکومتاثرہ علاقوںمیں بھیجتااوررات دن خود بھی لندن سے72، 72 گھنٹے جاگ کر امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا لیکن آج جب شہر ڈوب رہاہے تونام نہاد میئر، ڈپٹی میئر، ایم این ایز،ایم پی ایز علاقوںسے غائب ہیں۔ 

جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم نے الیکشن میں حصہ لیاتومیں نے کبھی اپنے بہن بھائیوں کوٹکٹ نہیں دیے بلکہ پاکستان کی سیاست میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے باصلاحیت نوجوانوں کو اسمبلیوں میں بھیجا، مہاجرعلاقوں سے سندھی بولنے والوں اور دیگر غیرمہاجروںکومنتخب کرایا اپنے گھرعزیزآباد سے سندھی اوربلوچ کو ایم این اے منتخب کرایاتاکہ قومی یکجہتی پیداہو۔ میں نے سیاست کے ساتھ ساتھ غریب ومستحق افراد کی امداد اورفلاحی سرگرمیوں کے لئے خدمت خلق کمیٹی بھی قائم کی جس کے تحت ہم نے کراچی میں مفت بازار لگایاجس میں تمام قومیتوںکے غریب ومستحق افرادکو مفت سامان فراہم کیاگیا، ہم نے ہفتہ صفائی منا کر شہرکوصاف کیا، خدمت خلق کمیٹی کی فلاحی سرگرمیوں کادائرہ بڑھاتو اسے خدمت خلق فاؤنڈیشن میں تبدیل کردیاگیا، ہم نے ایمبولینس سینٹرز ، بلڈبینک، سردخانے ، ڈسپنسریاں ، اسپتال قائم کئے ،ہزاروں غریب ومستحق بیواؤں ،شہیدوں کے لواحقین اور نادارافراد کی ہرماہ باقاعدگی سے امداد کی جاتی۔ہم ہرسال رمضان میں سندھ بھرمیںامدادی پروگرام کرکے ہزاروں افراد میں کروڑوں روپے مالیت کا امداد ی سامان تقسیم کرتے،  2005ء میں آزادکشمیرمیں زلزلہ آیا توہم نے وہاں جس قدربڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں انجام دیں وہ ریکارڈپر موجود ہیں ،اس کے علاوہ ملک میں کہیں بھی کوئی قدرتی آفت آئی ،خشک سالی ہو یا 

سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں،کوئی حادثہ ہو، میں نے ہرجگہ اپنے ساتھیوں کومتاثرین کی امداد کے لئے بھیجا،تھرکے علاقے میں قحط اورخشک سالی پیداہوئی توہم نے غذائی اجناس اور سینکڑوںکی تعداد میں پانی کے ٹینکر بھیجے ،ہم توسیاست کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کررہے تھے ، پھرفوج نے ہمارے خلاف بار بار ریاستی آپریشن کیوں کئے؟ ہمارے ہزاروں بے گناہ ساتھیوںکوکیوں شہید کیا؟ ہمارے ہزاروں بے گناہ کارکن آج بھی جیلوںمیں قید ہیںاورہزاروں لاپتہ ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کہاجاتاہے کہ ریاست ماں ہوتی ہے لیکن ہماری ریاست ہمارے ساتھ توسوتیلی ماں سے بدترسلوک کررہی ہے اورجب کوئی ریاست اپنے ہی بچوںکوکھانے لگے، ان کو جان ومال کاتحفظ فراہم کرنے کے بجائے ان کی جانیں لینے لگے اوران کا مال و اسباب لوٹنے لگے توایسی ریاست کوکوئی بھی زندہ باد نہیں کہتا۔ انہوں نے کہاکہ اب سندھ کے مستقل باشندوں نے فیصلہ کرلیاہے کہ وہ آپس میںملکر اس ظالم ریاست سے چھٹکاراحاصل کریںگے کیونکہ اسی میں ان کی بقاء ہے ۔ 

٭٭٭٭٭


10/25/2020 5:02:25 PM