Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

22، اگست…یوم عزم ِ وفا قائد تحریک الطاف حسین کے نعرہ مستانہ کے اسباب ووجوہات تحریر:۔ قاسم علی رضا


22، اگست…یوم عزم  ِ وفا قائد تحریک الطاف حسین کے نعرہ مستانہ کے اسباب ووجوہات تحریر:۔ قاسم علی رضا
 Posted on: 8/22/2020
22، اگست…یوم عزم  ِ وفا
قائد تحریک الطاف حسین کے نعرہ مستانہ کے اسباب ووجوہات
تحریر:۔ قاسم علی رضا
سچائی کااظہارجرات پیکار کے ساتھ کرنے کی پاداش میں ایم کیوایم کے بانی وقائد تحریک جناب الطاف حسین کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بنے جارہے تھے ، انہیں سیاست سے مائنس کرنے کیلئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ''مائنس الطاف حسین'' فارمولے پر عمل درآمد کاآغازہوچکا تھا۔اس گھناؤنی سازش میں فوج، آئی ایس آئی ، رینجرز ، مسلم لیگ نواز کی وفاقی اورپیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت برابرکی شراکت دار تھی۔رینجرز کو پولیس کے اختیارات دیے گئے اور 11، مارچ 2015ء کو پیرملٹری رینجرز کی جانب سے ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروپر بلاجواز چھاپہ ماراگیا ، نائن زیرو، خورشید میموریل سیکریٹریٹ ، دیگر تنظیمی دفاتر اور اطراف کے مکینوںکو گرفتارکرکے ان کی قمیضوں اتارکرآنکھوں پر باندھی گئیں، تمام گرفتار شدگان کو سڑک کے کنارے جنگی قیدیوں کی طرح بٹھایاگیا،منتخب عوامی نمائندوں کالائسنس یافتہ اسلحہ ضبط کرکے اسے غیر قانونی اورنیٹوکااسلحہ قراردینے کا بھونڈا دعویٰ تک کیاگیا۔
اس دوران ایم کیوایم کے بے گناہ عہدیداروں اورکارکنوںکے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں،غیرقانونی چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔فوج، آئی ایس آئی اورپیرا ملٹری رینجرز کے افسران ایم کیوایم کے منتخب نمائندوںکو بلاکر ان پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ ایم کیوایم اورالطاف حسین کاساتھ چھوڑ دیںورنہ انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرناپڑے گا۔ قائد تحریک جناب الطاف حسین ان ریاستی مظالم پرکھل کراظہارخیال کرتے رہے اور ایم کیوایم کے خلاف سازشوںکے پس پردہ کرداروں کے چہرے بھی عیاں کرتے رہے ،سیاست میں فوج کے کرداراورغلط اقدامات پر تنقیدبھی کرتے رہے جس کی پاداش میں ستمبر2015ء کو لاہورہائی کورٹ کے جسٹس سید مظاہرعلی اکبرنقوی،جسٹس مظہر اقبال سدھو اورجسٹس ارم سجاد گل پرمبنی بنچ کی جانب سے جناب الطاف حسین کی تحریر، تقریراورتصویرکونشراورشائع کرنے پر پابندی عائد کردی۔اس پابندی کا مقصد یہ تھا کہ سیاست میں فوج کے 
کردار سے عوام الناس کوگمراہ کیاجاتا رہے ۔
 3، مارچ 2016ء کوچائنا کٹنگ ،سرکاری زمینوں، پارکوں پر قبضے اوردیگر جرائم میں ملوث کمالو ٹولے کی سرپرستی کی گئی اورانہیں ایم کیوایم کے مدمقابل کھڑا کرنے کیلئے کراچی لایاگیااورایم کیوایم کے منتخب نمائندوں، عہدیداروں اورکارکنوں کوکمالو ٹولے میں شامل کرانے کیلئے ریاستی ظلم وجبر کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے رہے ۔ بعد میں کمالوٹولے سے علیحدہ ہونے والے بعض احسان فراموشوںنے ٹیلی ویژن پر اعتراف کیاکہ ہمیں یہ لالچ دیاگیا تھا کہ ایم کیوایم کے ذمہ داران وکارکنان کو کمالوٹولے میں شامل کرایاجائے گا اور آئندہ الیکشن میں کامیابی دلواکر کراچی پرقبضہ کرایاجائے گا تاکہ ایم کیوایم کو صفحہ ہستی سے مٹادیاجائے،3، مئی 2016ء کو ایم کیوایم کے کارکن آفتاب احمد کو رینجرز کی حراست میں وحشیانہ تشدد کانشانہ بناکرماورائے عدالت قتل کردیاگیا،سابقہ ڈی رینجرزبلال اکبر نے آفتاب احمد کی ہلاکت کو دل کا دورہ قراردیالیکن جب ان کی تشدد زدہ لاش کی تصاویر سوشل میڈیاپر وائرل ہوئی تو ڈی رینجرز کواعتراف کرنا پڑا کہ آفتاب احمد کو حراست کے دوران تشدد کانشانہ بنایاگیا اور سابقہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یقین دہانی کرائی کہ حراست کے دوران آفتاب احمد پر تشدد اور ہلاکت کی تحقیقات کرائی جائے گی لیکن نہ تو تحقیقات کرائی گئی اورنہ ہی اس سفاکانہ عمل میں ملوث رینجرز اہلکاروںکو سزا دی گئی۔ ایم کیوایم کے خلاف ریاستی ظلم وستم کا سلسلہ جاری رہا، ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات روزمرہ کا معمول بن گئے ، لاپتہ کارکنوں کی تشددزدہ لاشیں ویرانوں سے ملنے کاسلسلہ جاری رہا، کارکنوںکو گرفتارکرکے جبری گمشدہ کیاجاتارہا اورتمام تر کاوشوں کے باوجود مظلوم خاندانوں کوانصاف فراہم نہیں کیاگیا۔
ایم کیوایم کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جاتے رہے ، لاپتہ افراد کی بوڑھی مائیں،والد، بھائی بہنیں، بیویاں اورمعصوم بچے اپنے پیاروںکی تصاویر اٹھائے فوج، حکومت، عدلیہ اورمیڈیا سے مطالبہ کرتی رہیں کہ ہمارے پیاروں کو بازیاب کرایاجائے، اگر وہ قانون کو مطلوب ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیاجائے اور صفائی کا موقع دیاجائے لیکن ظالم حکمرانوں پرمظلوموںکے آنسوؤں ، فریادوں 

اوردہائیوں کاکوئی اثر نہیں ہوا۔مہاجروں کے بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے خلاف قائد تحریک جناب الطاف حسین اپنی رابطہ کمیٹی کو باربار کہتے رہے کہ رینجرز کے ہیڈکوارٹرز کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرہ کیاجائے لیکن ان کی بات سنی ان سنی کی جاتی رہی ،جب ریاستی مظالم کا سلسلہ مزید شدت اختیارکرنے لگاتوطے کیاگیاکہ مہاجروں پر ڈھائے جانے والے ریاستی مظالم سے دنیا کوآگاہ کرنے کیلئے پرامن جمہوری انداز میں بھوک ہڑتال کی جائے اور 17،اگست 2016ء کو کراچی پریس کلب کے سامنے ایم کیوایم کے رہنماؤں ، منتخب نمائندوں ، عہدیداروں اورکارکنوں نے شہیدوںکے لواحقین، اسیروں اورلاپتہ کارکنان کے اہل خانہ کے ہمراہ تادم مرگ بھوک ہڑتال کاآغاز کردیا۔قائد تحریک جناب الطاف حسین روزانہ صبح شام ، دن رات وڈیوکانفرنسنگ کے ذریعے بھوک ہڑتالی کیمپ کا مشاہدہ کررہے تھے ، وہ اپنی آنکھوں سے بھوک ہڑتالی کارکنان کی نازک حالت اورانہیں طبی امداد فراہم کیے جانے والے مناظربھی دیکھ رہے تھے، جن منتخب نمائندوں ، عہدیداروں اورکارکنوں کو وہ اپنے بیٹوں اورچھوٹے بھائیوں کی طرح پیارکرتے تھے انکی حالت بگڑ نے پر انہیں ایمبولینس میں لے جانے کے واقعات پرجناب الطاف حسین شدید ذہنی کرب اورصدمے کاشکارتھے۔ اسی دکھ اورصدمے کی کیفیت میں وہ بھوک ہڑتالی کارکنان سے خطاب میں اپنے دکھ اورصدمے کااظہارکرتے رہے ، ارباب اقتداراورارباب اختیار سے فریادیں بھی کرتے رہے لیکن سب بے سود رہا اور ان کی داد فریاد پر کسی نے توجہ نہیں دی ، ریاستی ظلم وبربریت کا سلسلہ دراز ہوتا گیا اور جب بھوک ہڑتال کرنے والے کارکنان کی حالت مزید بگڑنے لگی تو 22 اگست 2016ء کو جناب الطاف حسین نے بھوک ہڑتال کرنے والے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کوہدایت کی کہ سب کو جوس پلاکر ان کی بھوک ہڑتال ختم کرائیں اورسب اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں ۔ ایسے میں عامرخان نے جناب الطاف حسین کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے آگ پرتیل چھڑکنے کا کام کیااور یہاں تک کہاکہ ہمارا خود دل نہیں چاہتا اس پاکستان کے حق میں نعرہ لگائیں جس کے لئے ہمارے اجداد نے قربانیاں دی تھیں۔ عامرخان کے یہ الفاظ سن کرجناب الطاف حسین نے جہاں بے گناہ شہریوںکو بلاجواز ماورائے عدالت قتل کردیا جائے، انہیں گرفتارکرکے کئی کئی برس تک لاپتہ کردیاجائے، لاپتہ کارکنوںکوسرکاری عقوبت خانوں میں 

وحشیانہ تشددکانشانہ بناکر سفاکی سے قتل کردیاجائے پھر ان کی تشدد زدہ اورمسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دیاجائے ایسے پاکستان کو کون زندہ باد کہے گا اورپھرانہوںنے پاکستان کے خلاف نعرہ بلند کیا۔اس واقعے کے فوری بعد رینجرز نے بھوک ہڑتالی کیمپ میں توڑپھوڑ کی اورایم کیوایم کے مرکزنائن زیرو پرتالالگادیا۔
جناب الطاف حسین نے اپنی غلطی کااحساس کرتے ہی دومرتبہ معذرت کی اورایم کیوایم میں تنظیم سازی اورفیصلہ سازی کے اختیارات رابطہ کمیٹی کو سونپ دیے لیکن افسوس جناب الطاف حسین اورایم کیوایم کے سبب ساری زندگی اپنے اوراپنے خاندان کے مفادات حاصل کرنے والے آزمائش کی گھڑی میں گرفتاری کی قربانی دینے کے بجائے اپنے محسن کودھوکہ دے گئے ،23،اگست2016ء کو رابطہ کمیٹی نے قائد تحریک جناب الطاف حسین سے لاتعلقی اختیارکرلی، ایم کیوایم کے آئین سے بانی وقائد تحریک جناب الطاف حسین کا نام نکال دیا ۔ بات یہیں تک نہیں رکی، گراؤنڈ پرکھڑے ہونے کے دعویدار،فوج کے افسران کے سامنے منہ کے بل لیٹ گئے اور سندھ اسمبلی میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کے خلاف قرارداد پیش کرکے ان کیلئے آرٹیکل 6 کے تحت پھانسی کا مطالبہ تک کرڈالا۔پنجابی فوج کی غلامی کرنے والے آج راندہ درگاہ ہوچکے ہیں ، انکی زندگی غلاموں سے بدترہوچکی ہے ، جناب الطاف حسین ، مہاجرقوم اورشہیدوںکے لہوسے غداری کرنے والے آج جگہ جگہ ذلیل ورسوا ہورہے ہیں جبکہ جناب الطاف حسین سے عہدوفانبھانے والے تمام ترمشکل حالات کے باوجود قابل تعظیم قراردیے جارہے ہیں اوراس سال بھی اپنے محبوب قائد جناب الطاف حسین سے عہدوفااستوارکرتے ہوئے 22، اگست یوم عزم وفاکے طورپرمنارہے ہیں۔اب پنجابی سامراج سے نجات کی اس جدوجہد میں سندھ دھرتی کے قدیم باشندے بھی شامل ہوچکے ہیں، مہاجروں اورسندھیوں کے درمیان اتحاد ومحبت کا فضاء پروان چڑھ رہی ہے اور سندھ کے مستقل باشندوں کا یہ اتحاد سندھ دھرتی کو پنجاب کے ظالمانہ اورغاصبانہ تسلط سے نجات کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
عقیدتوں کے اس انداز کو دوام رہے ۔


9/22/2020 9:47:18 PM