Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

8، اگست …تاریخ ساز دن .....تحریر:قاسم علی رضا


8، اگست …تاریخ ساز دن .....تحریر:قاسم علی رضا
 Posted on: 8/8/2020 1

8، اگست …تاریخ ساز دن
تحریر:قاسم علی رضا

بانی وقائد تحریک جناب الطاف حسین کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی تنظیمی جدوجہد میں 8، اگست کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے …اس تاریخ ساز دن کے ساتھ قائد تحریک جناب الطاف حسین اورانکے سینئر ساتھیوں کے وہ لازوال، خوش کن، دلفریب، انوکھے، اچھوتے اور یادگار لمحات وابستہ ہیں جس کے سحر سے وہ آج تک باہر نہیں آسکے ہیں…جب جب یہ تاریخ ساز دن آتا ہے سینئر تحریکی ساتھیوں ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے لگتے ہیں، اس دن کا تصورکرتے ہی پہلے عوامی جلسہ عام کے بہترین لمحات اور یادوں کے مناظرکسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں …اور…8، اگست کی اہمیت وافادیت سے واقف سینئر تحریکی ساتھی اپنی خوش کن یادوں میں ایسے کھوجاتے ہیں کہ انہیں خیال ہی نہیں رہتا کہ وہ کہاں، کس جگہ ، کس شہر اور کس ملک میںبیٹھے ہیں…8، اگست کا دن چشم زدن میں تحریکی ساتھیوں کو ماضی میں لے جاتا ہے اور وہ اس تاریخ ساز دن کے حوالے سے ایک ایک تاریخی لمحہ کو محسوس کرکے اپنی روح کو تروتازہ کرتے ہیں۔
8، اگست  1986ء کو کراچی کے تاریخی نشترپارک میں مہاجرقومی موومنٹ کا پہلا عوامی جلسہ منعقد کیاگیا تھا…جلسے کے انعقاد سے قبل آسمان صاف تھا، دور دور تک بارش کے آثارتک نہیں تھے ، ایم کیوایم کے پہلے عوامی جلسے کے حوالے سے تنظیم کے سینئر ساتھیوں کا جوش وخروش اپنے عروج پرتھا…ہرکوئی محنت ولگن اورجانفشانی سے جلسہ گاہ اور جلسہ عام کے انتظامات میں مصروف تھا،کوئی کراچی کے مختلف علاقوں میں خیرمقدمی بینر ز لگانے میں مصروف تھاتوکوئی 
شہربھرکی دیواروں پر پوسٹرزچسپاں کرنے میں مشغول تھا۔غرض ہرکوئی تنظیمی ذمہ داریوں اور فرائض کی بجاآوری میں مصروف دکھائی دے رہا تھا…لیکن شائد قدرت قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں کا امتحان لینا چاہتی تھی، ان کے عزم ، حوصلے ، ہمت، ثابت قدمی اوراعصاب کو پرکھنا چاہتی تھی اسی لئے 7، اگست1986ء کو کراچی میں دن بھر بادل جم کربرسے،ابررحمت کاسلسلہ رات بھی جاری رہا، بادل برستے رہے اور ایسے برسے کہ شہر کا شہر جھل تھل ہوگیااور 8، اگست1986ء کی صبح جب الطاف حسین بھائی نے جلسہ گاہ کادورہ کیاتو ان کی آنکھوں کے سامنے عجیب ہی منظرتھا… پورے جلسہ گاہ میں برساتی پانی جمع تھا، برساتی پانی اتنازیادہ جمع تھا کہ نشتر پارک میں بظاہر جلسہ عام کا انعقاد غیرممکن دکھائی دینے لگا، تنظیمی ساتھیوں کو جلسہ گاہ کے انتظامات اور عوام کی شرکت کی فکرلاحق ہونے لگی ، اس سے قبل تنظیمی ساتھی مایوسی کاشکارہوتے ، الطاف حسین بھائی نے تمام ساتھیوں کو دلاسہ دیاکہ ''مایوسی کفر ہے'' اپنے حوصلہ مضبوط رکھنااورعزم جواں رکھنا…کہ'' لوہا آگ میں تپ کرہی کندن بنتا ہے'' روایت شکن جناب الطاف حسین نے قدرت کی اس آزمائش کا بھی ڈٹ کرسامناکیااور سینئرساتھیوں کوہدایت کی وہ فوری طورپربڑے بڑے برتن ، بالٹیاںاورکنستر کاانتظام کریں تاکہ جلسہ گاہ سے بارش کے پانی کو صاف کیاجاسکے …بس پھرکیاتھا…الطاف حسین بھائی کے چاہنے والوں کے جسموں میں بجلی دوڑ گئی اوروہ اپنے محبوب قائد جناب الطاف حسین کے ساتھ مل کرنشترپارک سے بارش کا پانی نکالنے میں مصروف ہوگئے اورتھوڑی ہی دیر میں الطاف حسین بھائی کے جناتوں نے جلسہ گاہ کا منظر تبدیل کرکے رکھ دیا۔ 
شام ہوئی توشہربھرکے تمام راستوں کا رخ نشترپارک کی جانب تھا…لوگ چھوٹے بڑے قافلوں کی صورت میں جلسہ گاہ آتے رہے جن میں خواتین ، بزرگ، نوجوان اوربچے بچیاں بھی شامل تھیں، جلسہ گاہ میں ایم کیوایم کے تنظیمی ترانے گونج رہے تھے …''ہوش میں آ زردار مہاجر ، دیکھ قیامت آئی ''… اور…''اپنوں کا ساتھ دو ، غیروں کا ساتھ چھوڑو اے مہاجروں''  ترانوں کے الفاظ، مصرعے اور ہر شعر میں حقوق سے محروم اورمختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کی سیاسی بھٹی کا ایندھن بننے والے مہاجروں کیلئے دعوت فکر تھی …ایک پراثر پیغام تھا…سچ پر مبنی باتیں دل سے نکل کردل پر اثرکرتی گئیں اور پنڈال کے شرکاء کاجوش وخروش بڑھتا ہی رہا۔ پنڈال میں لوگوں کی آمد کاسلسلہ جاری رہا اوردیکھتے ہی دیکھتے نشترپارک کراچی میں تِل دھرنے کی بھی جگہ باقی نہ رہی… شرکاء کے چہروں پر خوشی کے رنگ تھے ، ہاتھوں میں تنظیمی پرچم اورلبوں پر تنظیمی ترانے، پنڈال میں نعروں اورتالیوں کی گونج تھی۔بانی وقائد تحریک جناب الطاف حسین اور مرکزی اراکین اسٹیج پرتشریف فرما تھے، ہرچہرہ خوشی سے دمک رہا تھا اور شکرگزاری کے جذبے سے انکی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اورپھر جلسہ عام کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوگیا…پنڈال میں ماؤں ، بہنوںاوربچوں کا جوش وخروش ہرلمحہ بڑھتا ہی جارہا تھا، وقفہ وقفہ سے فلک شگاف نعروں کی گونج لہوکو گرمارہی تھی اورجیسے جیسے جلسہ عام کی کارروائی آگے بڑھتی رہی شرکاء کا جوش وخروش بھی بڑھتارہا۔ایم کیوایم کاپہلاجلسہ عام حاضرین کی تعداد کے لحاظ سے کامیاب ترین جلسہ ثابت ہونے لگا … لیکن…ابھی عشق کے امتحان اوربھی تھے …جب محترم الطاف حسین بھائی خطاب کرنے کیلئے ڈائس پر تشریف لائے تو ایک مرتبہ پھر آسمان پر بادل گرجنے لگے اورپھربرسات کی جھڑی لگ گئی جوبڑھتے بڑھتے طوفانی بارش کی شکل اختیارکرگئی اورپنڈال میں برساتی پانی بھرنے لگا…اس طوفانی بارش میں ایک جانب عزم و استقامت کی علامت الطاف حسین بھائی کاخطاب جاری تھا تو دوسری جانب پنڈال کے شرکاء نے ایم کیوایم کے مثالی نظم وضبط کا ایسا مظاہرہ کیاجس کی مثال آج تک دی جاتی ہے … پنڈال کے شرکاء بارش کے پانی میں بھیگتے رہے ، برساتی پانی میں بیٹھے رہے اورکسی نے جلسہ گاہ سے اٹھ کرجانے کی کوشش نہیں اورجلسہ گاہ کے اختتام تک نظم وضبط کا شاندار مظاہرہ کرتے رہے اوراپنے روایتی جوش وخروش کامظاہرہ بھی کرتے رہے ۔8، اگست1986ء کے فقیدالمثال اورکامیاب ترین جلسہ عام نے ایم کیوایم کی شہرت کو چارچاند لگادیئے اورپوری دنیا میں ایم کیوایم کے تنظیمی نظم وضبط کی مثالیں دی جانے لگیں …لیکن …ایم کیوایم کے پہلے عوامی جلسے کی عظیم الشان کامیابی کے ساتھ ہی ایم کیوایم اورجناب الطاف حسین کے خلاف اقتدارمافیاکی سازشوںکا سلسلہ بھی تیزہوگیا۔

 نوجوان تحریکی ساتھیو!!
8، اگست 1986ء کا دن ایم کیوایم کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس دن سے وابستہ یادیں آج بھی تحریک کے سینئرساتھیوں کے دلوں میں زندہ وجاوید ہیں …لہٰذا…آپ جہاں بھی رہیں …جس ملک میں بھی مقیم ہوں…اس تاریخ ساز دن کو جوش وجذبے سے مناتے رہیں اورآنے والی نسلوں کو ایم کیوایم کے قیام کے اسباب،قائد تحریک جناب الطاف حسین کی مسلسل محنت ولگن، انتھک جدوجہد، قربانیوں اور 8، اگست سمیت ایم کیوایم کے  تمام تاریخی ایام سے آگاہ کرتے رہیں …کیونکہ…یہ ہماری قومی ذمہ داری بھی ہے اورقومی فرض بھی ہے ۔
 الطاف حسین بھائی… زندہ باد
ایم کیوایم  … پائندہ باد


9/20/2020 2:48:25 AM