Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سازش کے تحت نوجوان نسل کو مسخ شدہ تاریخ پڑھاکر گمراہ کیاجارہا ہے۔الطاف حسین


سازش کے تحت نوجوان نسل کو مسخ شدہ تاریخ پڑھاکر گمراہ کیاجارہا ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 7/4/2020 1

 سازش کے تحت نوجوان نسل کو مسخ شدہ تاریخ پڑھاکر گمراہ کیاجارہا ہے۔الطاف حسین

عام پنجابیوں کا قصوریہ ہے کہ وہ فوج اورپنجابی اشرافیہ کی ہربات کو درست قراردیتے ہیں اور فوج کے مظالم کو برانہیں کہتے 

پنجاب کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کو بھی فوج کی غلط پالیسیوں اور ناجائز اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی

 علامہ اقبال کو تصورپاکستان کا خالق قراردینا تاریخ کومسخ کرنے کے مترادف ہے، علامہ اقبال نے قیام پاکستان کی اسکیم

 کی مخالفت کی تھی ، وہ ہندوستان کے وفاق میںرہتے ہوئے خودمختارریاست چاہتے تھے

پنجاب کے فوجی جرنیلوں نے برصغیرکے حریت پسندوں کے سرقلم کرکے انگریزوں سے ''سر '' کے خطابات وصول کئے

فوج عوامی حکومتوں کاتختہ الٹتی رہی ہے ، عوام کوچاہیے کہ وہ ان ریاستی مظالم کے خلاف میدان عمل میں آئیں اوراس ظلم کاسلسلہ بندکرائیں

فوج نے پاکستان کے جس محکمہ میں مداخلت کی اس کوتباہ کردیا، انہوں نے پاکستان اسٹیل مل،کے الیکٹرک کوتباہ کردیا، پی آئی اے کوتباہ کردیا

 آج پوری دنیانے اپنے اپنے ممالک میں پی آئی اے پر پابندیاں لگادی ہیں

ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کا تاریخی حقائق کے حوالے سے لیکچرز کی دوسری قسط میں خطاب

 

لندن۔۔۔3، جولائی2020ئ

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد تحریک جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ گریٹرپنجاب کی سازش کے تحت پاکستان کی نوجوان نسل کو تحریک آزادی اور قیام پاکستان کی جدوجہد کے حوالے سے مسخ شدہ تاریخ پڑھاکر انہیں گمراہ کیاجارہا ہے۔عام پنجابیوںکا قصوریہ ہے کہ وہ فوج اورپنجابی اشرافیہ کو نعوذباللہ مکہ ، مدینہ کی طرح مقدس سمجھتے ہیں، ان کی کہی ہوئی ہربات کو درست قراردیتے ہیں اورکبھی بھی فوج کے مظالم کو برانہیں کہتے ۔ اگرپنجاب کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کے دلوں میں پاکستان کیلئے زرہ برابر بھی لگن ہے تو انہیں بھی پنجابی فوج کی غلط پالیسیوں اور ناجائز اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ 

 ۔ان خیالات کااظہارجناب الطاف حسین نے سوشل میڈیا کے ذریعے براہ راست اپنے وڈیولیکچر میں کیا۔تاریخی حقائق کے حوالے سے اپنے لیکچرز کی دوسری قسط میں بھی تحریک پاکستان کی جدوجہد کے بارے میں تاریخی حقائق بیان کیے اور اس حوالے سے ناقابل تردیددستاویزی ثبوت بھی پیش کیے۔ جناب الطاف حسین کا یہ وڈیولیکچر پاکستان سمیت دنیا بھرمیں دیکھا اور سنا گیا۔ اپنے لیکچر میں جناب الطاف حسین نے معروف شاعر علامہ اقبال کو تصورپاکستان کا خالق قراردینے کے جھوٹ کی قلعی کھولتے ہوئے کہاکہ نصابی کتب اور ٹی وی ٹاک شوز میں علامہ اقبال کے بارے کہاجاتارہا ہے کہ انہوںنے پاکستان کاخواب دیکھاتھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال مسلمانوں کی علیحدہ ریاست یا قیام پاکستان کے ہرگز حامی نہیں تھے ۔ علامہ اقبال کے حوالے سے جب جب علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کے مطالبے کی بات آئی تو ان کی جانب سے باربار وضاحت کی گئی کہ انہوں نے علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کاکوئی مطالبہ نہیں
کیا۔



اس موقع پر جناب الطاف حسین نے علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کے چنداقتباسات بھی پڑھے۔

علامہ اقبال کے تاریخی خطبہ الہ آباد1930ء کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الہ آباد میں کہاتھا،''اگر شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ بھر پور موقع دیاجائے کہ وہ ہندوستان کے نظام سیاست میں رہ کر نشو ونما کر سکیں تو وہ ہندوستان کے خلاف تمام حملوں کی صورت میںچاہے یہ حملہ بزور ِقوت ہو یا بزور خیالات ،ہندوستان کے بہتر ین محافظ ثابت ہونگے ''۔ ''پنجاب جس کی 56فیصد آبادی مسلمان ہے، ہندوستان کی لڑاکا فوج کی 54فیصد نفری مہیا کرتا ہے، اگر ہندوستان کی پوری فوج سے آزاد ریاست نیپا ل کے انیس ہزار گو رکھوں کو نکال دیا جائے تو پنجاب کا حصہ تمام ہندوستانی فوج کا 62فیصد ہوجاتا ہے جن کی بدولت وہ تمام ہندوستان کو غیر ممالک کی چیرہ دستیوں سے محفو ظ رکھ سکتے ہیں ''۔''مجھے یقین ہے کہ وفاقی حکومت کے قیام کی صورت میں مسلم وفاقی ریاستیں ہندوستان کے دفا ع کی خاطر غیر جانبدار بری و بحری فوجوں کو قائم کرنے کے لئے بخوشی رضامند ہوجائیں گی ''۔ ''مجھے کامل یقین ہے کہ ہندوستان کے وفاق پر مبنی ایک غیر جانبدار ہند وستانی فوج کے قیام میں مسلمانوں کی حب الوطنی میں اضافہ ہوگا اور اس سے بدگمانی کا بھی ازالہ ہوجائے گا کہ بیرونی حملہ آور کی صورت میں مسلمان حملہ آور مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں گے'' ۔''مجوزہ ریاست میں مذہبی حکومت قائم نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک ایسی ریاست ہوگی جس میں شرح سود پر کوئی پابندی نہیں ہوگی ''۔














جناب الطاف حسین نے کہاکہ علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کو سیاق و سباق کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ بات واضع ہوتی ہے کہ انہوںنے اپنے خطبہ میں پاکستان یا ایک آزاد مسلمان ریاست کا تصور پیش نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے ہندوستان کے اندر پنجاب ، سندھ اور سرحد پر مشتمل ایک خود مختار صوبے کی تجویز پیش کی تھی لیکن علامہ اقبال کومفکر پاکستان اورتصورپاکستان کاخالق کہہ کرتاریخ کومسخ کرکے پیش کیاجاتاہے ۔جناب ا لطاف حسین نے کہاکہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد اور اپنے تصور کی بار بار وضاحت کرتے ہوئے کئی مواقع پرکہا کہ انہوں نے انڈین فیڈر یشن کے اندر ایک مسلمان اکثر یتی صوبہ کی تجویز پیش کی ہے نہ کہ ایک آزاد مسلم ریاست کا تصور۔ تو پھر کیا ہمارے لئے یہ مناسب اور جائز ہے کہ ہم ان سے کئی قدم آگے جاکر خطبہ الہ آباد سے ایک آزاد مسلم مملکت کا تصور تلا ش کریں ؟ انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال اپنے خطبہ الہ آباد میں واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ ''میر ی خواہش ہے کہ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو یکجا کر کے ایک واحد ریاست بنادی جائے خواہ اسے برطانوی سلطنت کے اندر خود مختاری حاصل ہو یا باہر ۔ مجھے تو یہی نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہند میں ایک مستحکم مسلم ریاست کا قیام مسلمانوں، کم از کم شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کا بالآ خر مقدر ہوچکی ہے '' 

 مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے مطالبے کے حوالے سے علا مہ اقبال نے 6مارچ 1934کو مولانا راغب احسن کے نام ایک وضاحتی خط لکھا اور خطبہ الہ آباد کے حوالے سے اپنے تصور کی وضاحت کی ۔علامہ اقبال کے ان خطوط کا مجموعہ'' اقبال … جہان دیگر ''کے نام سے شائع ہوچکاہے ۔مولانا راغب کے نام مکتوب انگریزی زبان میں ہے جس کا ترجمہ ہے کہ، ''برائے کرم نوٹ فرمائیں کہ اس تبصرہ کا مصنف اس مغالطہ کا شکار ہے کہ جیسے میری تجویز '' پاکستان کی اسکیم '' سے تعلق رکھتی ہے ،جہاں تک میر ی تجویز کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ انڈین وفاق کے اندر ایک مسلم صوبہ تخلیق کیا جائے۔ جبکہ پاکستان اسکیم کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے شمال مغرب کے مسلم صوبوں کا ایک ایساوفاق تشکیل دیا جائے جو انڈین فیڈریشن سے علیحدہ ہو اور انگلستان سے براہ راست وابستہ ہو ''۔





 اسی طرح علا مہ اقبال نے 4مارچ 1934ء کو آکسفور ڈ یونیو رسٹی کے پر وفیسر ایڈ و رڈ جان تھامپسن کے مضمون کے جواب میں خطبہ الہ آباد کی وضاحت کر تے ہوئے لکھا ،''مائی ڈیئر مسٹر تھا مپسن !مجھے اپنی کتاب پر آپ کا  Review  ابھی ابھی موصول ہوا ہے آپ نے غلطی کی ہے جس کی میںفوری نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ یہ ایک فاش غلطی ہے ۔ آپ نے میر ے بار ے میں کہا ہے کہ میں اس اسکیم کا حامی ہوں جسے ''پاکستان ''کہا جاتا ہے جبکہ پاکستان میری اسکیم میں نہیں ہے ۔میں نے اپنے خطبہ میں جو تجویز پیش کی تھی وہ ایک مسلم صوبہ کے بارے میں تھی جو شمال مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل تھا میر ی اسکیم کے مطابق یہ نیا صوبہ مجوز ہ انڈین فیڈر یشن کا حصہ ہوگا جبکہ پاکستان اسکیم میں مسلم صوبوں پر مشتمل ایک علیحدہ فیڈریشن کاقیام تجویز کیا گیا ہے جو ایک علیحدہ Domination کی حیثیت سے انگلستان کے ساتھ براہ راست تعلق رکھے گا ۔ اس اسکیم نے کیمبر ج میں جنم لیا ہے اس اسکیم کے مصنفین کاخیال ہے کہ ہم جو گو ل میز کانفر نس کے مند وبین ہیں ،ہم نے مسلم قوم کو ہندوئوں یا نام نہاد انڈین نیشنلزم کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا ہے ''۔







جناب الطاف حسین نے کہاکہ ان تاریخی حقائق اور ناقابل تردید ثبوت وشواہد کی روشنی میں یہ کہنا قطعی درست ہے کہ علامہ اقبال کو تصورپاکستان کا خالق کہنا تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے اور اگر کسی کومیرے بتائے گئے حقائق سے اختلاف ہے تو میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ثبوت وشواہد اور دلائل کے ذریعے میری بتائی گئی باتوں کی تردید کریں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی فوج، آئی ایس پی آر اورپنجابی اشرافیہ تاریخی حقائق کو مسخ کرتی رہی ہے اور عام پنجابیوںکا قصوریہ ہے کہ وہ فوج اورپنجابی اشرافیہ کو نعوذباللہ مکہ ، مدینہ کی طرح مقدس سمجھتے ہیں، ان کی کہی ہوئی ہربات کو درست قراردیتے ہیں اورکبھی بھی فوج کے مظالم کو برانہیں کہتے ۔ اگرپنجاب کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کے دلوں میں پاکستان کیلئے زرہ برابر بھی لگن ہے تو انہیں بھی پنجابی فوج کی غلط پالیسیوں اور ناجائز اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ 

جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھی اوراردوبولنے والے سندھی دونوں سندھ دھرتی کے بیٹے ہیں ، دونوں سندھ دھرتی کے مستقل باشندے ہیں، دونوںکا جینامرنا سندھ دھرتی سے وابستہ ہے، دونوں جو کچھ کماتے ہیںوہ اسی دھرتی پر خرچ کرتے ہیں ، کہیں منی آرڈرنہیں بھیجتے اور مرنے کے بعدان کا جنازہ کسی اورصوبے میں نہیں جاتابلکہ وہ اسی سندھ دھرتی میں دفن ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے جاگیرداراوروڈیرے پنجابی اشرافیہ کے ایجنٹ بن کرسندھ دھرتی اوراس کے مستقل باشندوں کا استحصال کررہے ہیں۔ ذوالفقارعلی بھٹو ، جنرل ایوب خان کو ڈیڈی کہاکرتے تھے ، فوج نے بھٹو کے ذریعے سندھ کے مستقل باشندوںکے درمیان نفرت اورتفریق کی بنیادڈالی اور جب پنجابی فوج کا مقصد پورا ہوگیا تو اسی فوج نے ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی پرلٹکادیا۔ انہوں نے سندھ دھرتی کے مستقل باشندوں کے اتحاد کی مخالفت کرنے والے سندھیوں،بلوچوںاورپشتونوںکو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ پنجابی سامراج کی کتنی ہی کاسہ لیسی کرلیںاورانکے ایجنٹ بن کراستعمال ہوتے رہیںلیکن ایک دن پنجابی اشرافیہ انہیں بھی استعمال کرکے بھٹو کی طرح سولی پرلٹکادے گی کیونکہ یہ پنجابی اشرافیہ کا وطیرہ رہا ہے ۔ 

جناب الطاف حسین نے کہاکہ مارچ 1927ء میں آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے چند ماہ بعد آل انڈیامسلم لیگ کے دودھڑے ہوئے ، ایک مسلم لیگ وہ تھی جس کے سربراہ قائداعظم محمدعلی جناح تھے جبکہ ان کے خلاف قائم کیاجانے والامسلم لیگ کادوسرادھڑا میاں محمدشفیع کی سربراہی میں قائم ہواجو مسلم لیگ کی مخالف پنجاب کی یونینسٹ پارٹی کے دھڑے سے تعلق رکھتے تھے، سرمیاںمحمدشفیع کواس لیگ کاصدربنایاگیاتھا جبکہ اس شفیع لیگ کے جنرل سیکریٹری کے طورپر علامہ اقبال کاانتخاب ہواتھا۔ اس زمانے میں یونینسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار '' انقلاب '' کوعلامہ اقبال کی اعانت وسرپرستی حاصل تھی۔کہاجاتاہے کہ وہ یونینسٹ پارٹی کے رکن بھی تھے۔ یونینسٹ پارٹی قیام پاکستان کی مخالف تھی ،علامہ اقبال بھی قیام پاکستان کی اسکیم کے خلاف تھے بلکہ وہ ہندوستان کے وفاق میں رہتے ہوئے ایک علیحدہ صوبے کے قیام کے حامی تھے۔اسی لئے علامہ اقبال بھی یونینسٹ پارٹی کے حامی دھڑے کے زیادہ قریب تھے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مسلم لیگ میں دھڑے بندی انگریزوں نے کرائی اوراسی پالیسی کے تحت انگریزوں کے وفادار پنجاب سے تعلق رکھنے والے فوجی جرنیلوں نے ہردورمیں ہرسیاسی جماعت میں دھڑے بندی اور مائنس ون ، مائنس ٹویامائنس تھری کرتے ہیں،پہلے تحریک انصاف والے دوسری جماعتوں میں مائنس ون کی پالیسی کی کھل کرحمایت کرتے تھے، اب تحریک انصاف کے سربراہ بھی مائنس ون ہونے کی بات کررہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ سلطنت برطانیہ کے وفادارپنجاب کے فوجی جرنیلوں نے برصغیرکی آزاد ی کے لئے جدوجہد کرنے والے حریت پسندوں کے سرقلم کرکے انگریزوںسے ''سر '' کے خطابات وصول کئے، سامراجی قوتوں نے آج بھی پنجاب کی اشرافیہ کووہی لائسنس دے رکھاہے کہ وہ اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے والے بلوچوں، سندھیوں، مہاجروں، بلوچوںاورپشتونوں کوریاستی مظالم کانشانہ بنائیں، ان کاماورائے عدالت قتل کریں، انہیں جبری گمشدہ کریںجبکہ ہزاروں معصوم شہریوںکاسفاکانہ قتل عام کرنے والے طالبان لیڈراحسان اللہ احسان کوریاستی ادارے ٹی وی پر شاعروادیب بناکرپیش کیاجاتاہے، القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لاد ن کوکاکول اکیڈمی کے قریب قلعہ نماگھربناکرپناہ دی جاتی ہے ۔چند روز قبل بھی ایم کیوایم کے کارکن آصف پاشا کوبیدردی سے شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاش پھینکی گئی ،اسی طرح جئے سندھ کے رہنمانیازلاشاری کی بھی مسخ شدہ لاش بھی کراچی میں پھینکی گئی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج عوامی حکومتوںکاتختہ الٹتی رہی ہے اوراب عوام کوچاہیے کہ وہ ان ریاستی مظالم کے خلاف میدان عمل میں آئیں اوراس ظلم کاسلسلہ بندکرائیں۔ انہوں نے پنجاب کے عوام کو خاص طورپرمخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ بھی فوج کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف آوازبلندکریں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج نے پاکستان کے جس محکمہ میں مداخلت کی اس کوتباہ کردیا، انہوںنے پاکستان اسٹیل مل کوتباہ کیا، کے الیکٹرک کوتباہ کردیا، پی آئی اے کوتباہ کردیا، اس کابٹہ بھٹادیا۔ آج پوری دنیانے اپنے اپنے ممالک میں پی آئی اے پر پابندیاں لگادی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ فوج نے جس ادارے میں مداخلت کی اس کوتباہ وبرباد کردیا۔ اب فوج پورے پاکستان کوچلارہی ہے ، اب یہ پورے ملک کوتباہ کریںگے۔

جناب الطاف حسین نے نوجوان طلبا ء وطالبات بالخصوص Millennials کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تحریک آزادی اورتحریک پاکستان کی مسخ شدہ تاریخ ہرگز نہ پڑھیں ، پہلے تاریخی حقائق جاننے کیلئے دوردراز کاسفر کرکے لائبریری جاناپڑتاتھا ، درجنوں کتابیں کھنگالنی پڑتی تھیںاورریسرچ کرنی پڑتی تھی لیکن نئی نسل کے لوگ خوش نصیب ہیں کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے باعث دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے اور آپ اپنے فون کے ذریعے دنیا بھرکی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب کااختتام آزاد بلوچستان زندہ باد، سندھودیش زندہ کے نعروںسے کیا۔ 

٭٭٭٭٭



 سازش کے تحت نوجوان نسل کو مسخ شدہ تاریخ پڑھاکر گمراہ کیاجارہا ہے۔الطاف حسین
عام پنجابیوںکا قصوریہ ہے کہ وہ فوج اورپنجابی اشرافیہ کی ہربات کو درست قراردیتے ہیں اور فوج کے مظالم کو برانہیں کہتے 
پنجاب کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کو بھی فوج کی غلط پالیسیوں اور ناجائز اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی
 علامہ اقبال کو تصورپاکستان کا خالق قراردینا تاریخ کومسخ کرنے کے مترادف ہے، علامہ اقبال نے قیام پاکستان کی اسکیم
 کی مخالفت کی تھی ، وہ ہندوستان کے وفاق میںرہتے ہوئے خودمختارریاست چاہتے تھے
پنجاب کے فوجی جرنیلوں نے برصغیرکے حریت پسندوں کے سرقلم کرکے انگریزوںسے ''سر '' کے خطابات وصول کئے
فوج عوامی حکومتوںکاتختہ الٹتی رہی ہے ، عوام کوچاہیے کہ وہ ان ریاستی مظالم کے خلاف میدان عمل میں آئیں اوراس ظلم کاسلسلہ بندکرائیں
فوج نے پاکستان کے جس محکمہ میں مداخلت کی اس کوتباہ کردیا، انہوںنے پاکستان اسٹیل مل،کے الیکٹرک کوتباہ کردیا، پی آئی اے کوتباہ کردیا
 آج پوری دنیانے اپنے اپنے ممالک میں پی آئی اے پر پابندیاں لگادی ہیں
ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کا تاریخی حقائق کے حوالے سے لیکچرز کی دوسری قسط میںخطاب

لندن۔۔۔3، جولائی2020ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد تحریک جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ گریٹرپنجاب کی سازش کے تحت پاکستان کی نوجوان نسل کو تحریک آزادی اور قیام پاکستان کی جدوجہد کے حوالے سے مسخ شدہ تاریخ پڑھاکر انہیں گمراہ کیاجارہا ہے۔عام پنجابیوںکا قصوریہ ہے کہ وہ فوج اورپنجابی اشرافیہ کو نعوذباللہ مکہ ، مدینہ کی طرح مقدس سمجھتے ہیں، ان کی کہی ہوئی ہربات کو درست قراردیتے ہیں اورکبھی بھی فوج کے مظالم کو برانہیں کہتے ۔ اگرپنجاب کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کے دلوں میں پاکستان کیلئے زرہ برابر بھی لگن ہے تو انہیں بھی پنجابی فوج کی غلط پالیسیوں اور ناجائز اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ 
 ۔ان خیالات کااظہارجناب الطاف حسین نے سوشل میڈیا کے ذریعے براہ راست اپنے وڈیولیکچر میں کیا۔تاریخی حقائق کے حوالے سے اپنے لیکچرز کی دوسری قسط میں بھی تحریک پاکستان کی جدوجہد کے بارے میں تاریخی حقائق بیان کیے اور اس حوالے سے ناقابل تردیددستاویزی ثبوت بھی پیش کیے۔ جناب الطاف حسین کا یہ وڈیولیکچر پاکستان سمیت دنیا بھرمیں دیکھا اور سنا گیا۔ اپنے لیکچر میں جناب الطاف حسین نے معروف شاعر علامہ اقبال کو تصورپاکستان کا خالق قراردینے کے جھوٹ کی قلعی کھولتے ہوئے کہاکہ نصابی کتب اور ٹی وی ٹاک شوز میں علامہ اقبال کے بارے کہاجاتارہا ہے کہ انہوںنے پاکستان کاخواب دیکھاتھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال مسلمانوںکی علیحدہ ریاست یا قیام پاکستان کے ہرگز حامی نہیں تھے ۔ علامہ اقبال کے حوالے سے جب جب علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کے مطالبے کی بات آئی تو ان کی جانب سے باربار وضاحت کی گئی کہ انہوں نے علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کاکوئی مطالبہ نہیں کیا۔اس موقع پر جناب الطاف حسین نے علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کے چنداقتباسات بھی پڑھے۔
علامہ اقبال کے تاریخی خطبہ الہ آباد1930ء کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الہ آباد میں کہاتھا،''اگر شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ بھر پور موقع دیاجائے کہ وہ ہندوستان کے نظام سیاست میں رہ کر نشو ونما کر سکیں تو وہ ہندوستان کے خلاف تمام حملوں کی صورت میںچاہے یہ حملہ بزور ِقوت ہو یا بزور خیالات ،ہندوستان کے بہتر ین محافظ ثابت ہونگے ''۔ ''پنجاب جس کی 56فیصد آبادی مسلمان ہے، ہندوستان کی لڑاکا فوج کی 54فیصد نفری مہیا کرتا ہے، اگر ہندوستان کی پوری فوج سے آزاد ریاست نیپا ل کے انیس ہزار گو رکھوں کو نکال دیا جائے تو پنجاب کا حصہ تمام ہندوستانی فوج کا 62فیصد ہوجاتا ہے جن کی بدولت وہ تمام ہندوستان کو غیر ممالک کی چیرہ دستیوں سے محفو ظ رکھ سکتے ہیں ''۔''مجھے یقین ہے کہ وفاقی حکومت کے قیام کی صورت میں مسلم وفاقی ریاستیں ہندوستان کے دفا ع کی خاطر غیر جانبدار بری و بحری فوجوں کو قائم کرنے کے لئے بخوشی رضامند ہوجائیں گی ''۔ ''مجھے کامل یقین ہے کہ ہندوستان کے وفاق پر مبنی ایک غیر جانبدار ہند وستانی فوج کے قیام میں مسلمانوں کی حب الوطنی میں اضافہ ہوگا اور اس سے بدگمانی کا بھی ازالہ ہوجائے گا کہ بیرونی حملہ آور کی صورت میں مسلمان حملہ آور مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں گے'' ۔''مجوزہ ریاست میں مذہبی حکومت قائم نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک ایسی ریاست ہوگی جس میں شرح سود پر کوئی پابندی نہیں ہوگی ''۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کو سیاق و سباق کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ بات واضع ہوتی ہے کہ انہوںنے اپنے خطبہ میں پاکستان یا ایک آزاد مسلمان ریاست کا تصور پیش نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے ہندوستان کے اندر پنجاب ، سندھ اور سرحد پر مشتمل ایک خود مختار صوبے کی تجویز پیش کی تھی لیکن علامہ اقبال کومفکر پاکستان اورتصورپاکستان کاخالق کہہ کرتاریخ کومسخ کرکے پیش کیاجاتاہے ۔جناب ا لطاف حسین نے کہاکہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد اور اپنے تصور کی بار بار وضاحت کرتے ہوئے کئی مواقع پرکہا کہ انہوں نے انڈین فیڈر یشن کے اندر ایک مسلمان اکثر یتی صوبہ کی تجویز پیش کی ہے نہ کہ ایک آزاد مسلم ریاست کا تصور۔ تو پھر کیا ہمارے لئے یہ مناسب اور جائز ہے کہ ہم ان سے کئی قدم آگے جاکر خطبہ الہ آباد سے ایک آزاد مسلم مملکت کا تصور تلا ش کریں ؟ انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال اپنے خطبہ الہ آباد میں واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ ''میر ی خواہش ہے کہ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو یکجا کر کے ایک واحد ریاست بنادی جائے خواہ اسے برطانوی سلطنت کے اندر خود مختاری حاصل ہو یا باہر ۔ مجھے تو یہی نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہند میں ایک مستحکم مسلم ریاست کا قیام مسلمانوں، کم از کم شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کا بالآ خر مقدر ہوچکی ہے '' 
 مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے مطالبے کے حوالے سے علا مہ اقبال نے 6مارچ 1934کو مولانا راغب احسن کے نام ایک وضاحتی خط لکھا اور خطبہ الہ آباد کے حوالے سے اپنے تصور کی وضاحت کی ۔علامہ اقبال کے ان خطوط کا مجموعہ'' اقبال … جہان دیگر ''کے نام سے شائع ہوچکاہے ۔مولانا راغب کے نام مکتوب انگریزی زبان میں ہے جس کا ترجمہ ہے کہ، ''برائے کرم نوٹ فرمائیں کہ اس تبصرہ کا مصنف اس مغالطہ کا شکار ہے کہ جیسے میری تجویز '' پاکستان کی اسکیم '' سے تعلق رکھتی ہے ،جہاں تک میر ی تجویز کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ انڈین وفاق کے اندر ایک مسلم صوبہ تخلیق کیا جائے۔ جبکہ پاکستان اسکیم کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے شمال مغرب کے مسلم صوبوں کا ایک ایساوفاق تشکیل دیا جائے جو انڈین فیڈریشن سے علیحدہ ہو اور انگلستان سے براہ راست وابستہ ہو ''۔
 اسی طرح علا مہ اقبال نے 4مارچ 1934ء کو آکسفور ڈ یونیو رسٹی کے پر وفیسر ایڈ و رڈ جان تھامپسن کے مضمون کے جواب میںخطبہ الہ آباد کی وضاحت کر تے ہوئے لکھا ،
''مائی ڈیئر مسٹر تھا مپسن !مجھے اپنی کتاب پر آپ کا  Review  ابھی ابھی موصول ہوا ہے آپ نے غلطی کی ہے جس کی میںفوری نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ یہ ایک فاش غلطی ہے ۔ آپ نے میر ے بار ے میں کہا ہے کہ میں اس اسکیم کا حامی ہوں جسے ''پاکستان ''کہا جاتا ہے جبکہ پاکستان میری اسکیم میں نہیں ہے ۔میں نے اپنے خطبہ میں جو تجویز پیش کی تھی وہ ایک مسلم صوبہ کے بارے میں تھی جو شمال مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل تھا میر ی اسکیم کے مطابق یہ نیا صوبہ مجوز ہ انڈین فیڈر یشن کا حصہ ہوگا جبکہ پاکستان اسکیم میں مسلم صوبوں پر مشتمل ایک علیحدہ فیڈریشن کاقیام تجویز کیا گیا ہے جو ایک علیحدہ Domination کی حیثیت سے انگلستان کے ساتھ براہ راست تعلق رکھے گا ۔ اس اسکیم نے کیمبر ج میں جنم لیا ہے اس اسکیم کے مصنفین کاخیال ہے کہ ہم جو گو ل میز کانفر نس کے مند وبین ہیں ،ہم نے مسلم قوم کو ہندوئوں یا نام نہاد انڈین نیشنلزم کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا ہے ''۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ان تاریخی حقائق اور ناقابل تردید ثبوت وشواہد کی روشنی میں یہ کہنا قطعی درست ہے کہ علامہ اقبال کو تصورپاکستان کا خالق کہنا تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے اور اگر کسی کومیرے بتائے گئے حقائق سے اختلاف ہے تو میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ثبوت وشواہد اور دلائل کے ذریعے میری بتائی گئی باتوں کی تردید کریں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی فوج، آئی ایس پی آر اورپنجابی اشرافیہ تاریخی حقائق کو مسخ کرتی رہی ہے اور عام پنجابیوںکا قصوریہ ہے کہ وہ فوج اورپنجابی اشرافیہ کو نعوذباللہ مکہ ، مدینہ کی طرح مقدس سمجھتے ہیں، ان کی کہی ہوئی ہربات کو درست قراردیتے ہیں اورکبھی بھی فوج کے مظالم کو برانہیں کہتے ۔ اگرپنجاب کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کے دلوں میں پاکستان کیلئے زرہ برابر بھی لگن ہے تو انہیں بھی پنجابی فوج کی غلط پالیسیوں اور ناجائز اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھی اوراردوبولنے والے سندھی دونوں سندھ دھرتی کے بیٹے ہیں ، دونوں سندھ دھرتی کے مستقل باشندے ہیں، دونوںکا جینامرنا سندھ دھرتی سے وابستہ ہے، دونوں جو کچھ کماتے ہیںوہ اسی دھرتی پر خرچ کرتے ہیں ، کہیں منی آرڈرنہیں بھیجتے اور مرنے کے بعدان کا جنازہ کسی اورصوبے میں نہیں جاتابلکہ وہ اسی سندھ دھرتی میں دفن ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے جاگیرداراوروڈیرے پنجابی اشرافیہ کے ایجنٹ بن کرسندھ دھرتی اوراس کے مستقل باشندوں کا استحصال کررہے ہیں۔ ذوالفقارعلی بھٹو ، جنرل ایوب خان کو ڈیڈی کہاکرتے تھے ، فوج نے بھٹو کے ذریعے سندھ کے مستقل باشندوںکے درمیان نفرت اورتفریق کی بنیادڈالی اور جب پنجابی فوج کا مقصد پورا ہوگیا تو اسی فوج نے ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی پرلٹکادیا۔ انہوں نے سندھ دھرتی کے مستقل باشندوں کے اتحاد کی مخالفت کرنے والے سندھیوں،بلوچوںاورپشتونوںکو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ پنجابی سامراج کی کتنی ہی کاسہ لیسی کرلیںاورانکے ایجنٹ بن کراستعمال ہوتے رہیںلیکن ایک دن پنجابی اشرافیہ انہیں بھی استعمال کرکے بھٹو کی طرح سولی پرلٹکادے گی کیونکہ یہ پنجابی اشرافیہ کا وطیرہ رہا ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مارچ 1927ء میں آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے چند ماہ بعد آل انڈیامسلم لیگ کے دودھڑے ہوئے ، ایک مسلم لیگ وہ تھی جس کے سربراہ قائداعظم محمدعلی جناح تھے جبکہ ان کے خلاف قائم کیاجانے والامسلم لیگ کادوسرادھڑا میاں محمدشفیع کی سربراہی میں قائم ہواجو مسلم لیگ کی مخالف پنجاب کی یونینسٹ پارٹی کے دھڑے سے تعلق رکھتے تھے، سرمیاںمحمدشفیع کواس لیگ کاصدربنایاگیاتھا جبکہ اس شفیع لیگ کے جنرل سیکریٹری کے طورپر علامہ اقبال کاانتخاب ہواتھا۔ اس زمانے میں یونینسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار '' انقلاب '' کوعلامہ اقبال کی اعانت وسرپرستی حاصل تھی۔کہاجاتاہے کہ وہ یونینسٹ پارٹی کے رکن بھی تھے۔ یونینسٹ پارٹی قیام پاکستان کی مخالف تھی ،علامہ اقبال بھی قیام پاکستان کی اسکیم کے خلاف تھے بلکہ وہ ہندوستان کے وفاق میں رہتے ہوئے ایک علیحدہ صوبے کے قیام کے حامی تھے۔اسی لئے علامہ اقبال بھی یونینسٹ پارٹی کے حامی دھڑے کے زیادہ قریب تھے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مسلم لیگ میں دھڑے بندی انگریزوں نے کرائی اوراسی پالیسی کے تحت انگریزوں کے وفادار پنجاب سے تعلق رکھنے والے فوجی جرنیلوں نے ہردورمیں ہرسیاسی جماعت میں دھڑے بندی اور مائنس ون ، مائنس ٹویامائنس تھری کرتے ہیں،پہلے تحریک انصاف والے دوسری جماعتوں میں مائنس ون کی پالیسی کی کھل کرحمایت کرتے تھے، اب تحریک انصاف کے سربراہ بھی مائنس ون ہونے کی بات کررہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ سلطنت برطانیہ کے وفادارپنجاب کے فوجی جرنیلوں نے برصغیرکی آزاد ی کے لئے جدوجہد کرنے والے حریت پسندوں کے سرقلم کرکے انگریزوںسے ''سر '' کے خطابات وصول کئے، سامراجی قوتوں نے آج بھی پنجاب کی اشرافیہ کووہی لائسنس دے رکھاہے کہ وہ اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے والے بلوچوں، سندھیوں، مہاجروں، بلوچوںاورپشتونوں کوریاستی مظالم کانشانہ بنائیں، ان کاماورائے عدالت قتل کریں، انہیں جبری گمشدہ کریںجبکہ ہزاروں معصوم شہریوںکاسفاکانہ قتل عام کرنے والے طالبان لیڈراحسان اللہ احسان کوریاستی ادارے ٹی وی پر شاعروادیب بناکرپیش کیاجاتاہے، القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لاد ن کوکاکول اکیڈمی کے قریب قلعہ نماگھربناکرپناہ دی جاتی ہے ۔چند روز قبل بھی ایم کیوایم کے کارکن آصف پاشا کوبیدردی سے شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاش پھینکی گئی ،اسی طرح جئے سندھ کے رہنمانیازلاشاری کی بھی مسخ شدہ لاش بھی کراچی میں پھینکی گئی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج عوامی حکومتوںکاتختہ الٹتی رہی ہے اوراب عوام کوچاہیے کہ وہ ان ریاستی مظالم کے خلاف میدان عمل میں آئیں اوراس ظلم کاسلسلہ بندکرائیں۔ انہوں نے پنجاب کے عوام کو خاص طورپرمخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ بھی فوج کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف آوازبلندکریں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج نے پاکستان کے جس محکمہ میں مداخلت کی اس کوتباہ کردیا، انہوںنے پاکستان اسٹیل مل کوتباہ کیا، کے الیکٹرک کوتباہ کردیا، پی آئی اے کوتباہ کردیا، اس کابٹہ بھٹادیا۔ آج پوری دنیانے اپنے اپنے ممالک میں پی آئی اے پر پابندیاں لگادی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ فوج نے جس ادارے میں مداخلت کی اس کوتباہ وبرباد کردیا۔ اب فوج پورے پاکستان کوچلارہی ہے ، اب یہ پورے ملک کوتباہ کریںگے۔
جناب الطاف حسین نے نوجوان طلبا ء وطالبات بالخصوص Millennials کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تحریک آزادی اورتحریک پاکستان کی مسخ شدہ تاریخ ہرگز نہ پڑھیں ، پہلے تاریخی حقائق جاننے کیلئے دوردراز کاسفر کرکے لائبریری جاناپڑتاتھا ، درجنوں کتابیں کھنگالنی پڑتی تھیںاورریسرچ کرنی پڑتی تھی لیکن نئی نسل کے لوگ خوش نصیب ہیں کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے باعث دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے اور آپ اپنے فون کے ذریعے دنیا بھرکی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب کااختتام آزاد بلوچستان زندہ باد، سندھودیش زندہ کے نعروںسے کیا۔ 
٭٭٭٭٭


8/10/2020 4:32:19 PM