Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

شہیدانقلاب ڈاکٹرعمران فاروق تحریک کاسرمایہ تھے ، ان کوقتل کرکے دراصل مجھے نقصان پہنچایاگیا۔الطاف حسین


 شہیدانقلاب ڈاکٹرعمران فاروق تحریک کاسرمایہ تھے ، ان کوقتل کرکے دراصل مجھے نقصان پہنچایاگیا۔الطاف حسین
 Posted on: 6/19/2020
شہیدانقلاب ڈاکٹرعمران فاروق تحریک کاسرمایہ تھے ، ان کوقتل کرکے دراصل مجھے نقصان پہنچایاگیا۔الطاف حسین
1992ء کے آپریشن کے دوران فوج نے ڈاکٹرعمران فاروق کے سرکی قیمت مقرر کی ،وہ سات سال تک روپوش رہے اورثابت قدم رہے 
 ڈاکٹرعمران فاروق شہید کے قتل کے مقدمہ میں اسلام آباد کی عدالت کے فیصلے میں بغیرثبوت وشواہد کے کہہ دیاگیاکہ قتل کاحکم
 الطاف حسین نے دیاتھا۔ یہ میرے خلاف بہت بڑی سازش کا حصہ ہے ۔ الطاف حسین
 تحریک کے تمام کارکنان اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگرمیںنے پارٹی میں سب سے زیادہ کسی کوچاہاہے تووہ ڈاکٹرعمران فاروق کی ذات تھی
 اسٹیبلشمنٹ سازش کے ذریعے میرے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرکے مجھے مرواسکتی ہے لیکن میں ظلم کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا
 اگرحقیقی کے افراد فوجی آپریشن کاحصہ نہ بنتے توفوج یا کسی کوبھی ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کرنے کی جرات نہ ہوتی
غلام اسحق خان اور نوازشریف ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن اورمہاجر عوام کے قتل میں برابر کے حصہ دارتھے۔الطاف حسین
 ہم نے نواز شریف سے کئی بار کہاکہ وہ فوج کی قیادت کو سمجھائیں کہ وہ ہمارے ساتھ غلط فہمیوں کو دور کریںلیکن نواز شریف نے
 ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کی منظوری دی۔الطاف حسین
ہم نے 1991ء میں پاکستان کے یوم آزاد ی پر تاریخی جشن چراغاں کیا، تین روزہ قومی میلہ بھی منعقد کیالیکن پاکستان سے 
اپنی محبت اوروابستگی کاعملی مظاہرہ کرنے کے باوجود فوج نے ہمیں غدار قرار دیااورہم پر فوج کشی کردی
28سال قبل شر وع کیاجانے والا آپریشن آج بھی جاری ہے۔ آج 19جون ہے، آج ہماری شام غریباں ہے، یوم سیاہ ہے ،یوم ماتم ہے
 ہم آج کے دن یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے شہیدوں کے خون کاسوداکبھی نہیں کریںگے اوراپنے حقوق ،سندھ کی آزادی اورپنجاب سامراج سے نجات کے لئے جدوجہد جاری رکھیںگے۔ 19جون 1992ء کے آپریشن کے دن کے موقع پر اہم خطاب 

لندن  …  19  جون  2020ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ شہیدانقلاب ڈاکٹرعمران فاروق تحریک کاسرمایہ تھے ،1992ء کے ریاستی آپریشن کے دوران فوج نے ان کے سرکی قیمت مقرر کی ،وہ سات سال تک روپوش رہے اورثابت قدم رہے ، ان کوقتل کرکے دراصل مجھے نقصان پہنچایاگیا۔ انہوںنے ان خیالات کااظہار 19جون 1992ء کے آپریشن کے دن کے موقع پر اپنے اہم خطاب میں کیا۔ ان کایہ خطاب سوشل میڈیاکے ذریعے پاکستان سمیت دنیا بھرمیں موجود ایم کیوایم کے کارکنان اورہمدردوںنے براہ راست دیکھا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈاکٹرعمران فاروق شہید کے قتل کے مقدمہ کا جوٹرائل اسلام آباد کی عدالت میں ہوااس کے دوران ملزمان نے مجسٹریٹ کے سامنے جوبیان دیا وہ عدالت میں اپنے گزشتہ بیانات سے منحرف ہوگئے اور انہوں نے خودعدالت کوبتایاکہ ان سے بیانات زبردستی لئے گئے لیکن اسلام آباد کی انسداددہشت گردی کی عدالت نے ان ملزمان کوسزادیدی اور عدالت کے فیصلے میں بغیرثبوت وشواہد کے حیرت انگیزطورپر یہ کہہ دیاگیاکہ قتل کاحکم الطاف حسین نے دیاتھا۔انہوںنے کہاکہ یہ میرے خلاف بہت بڑی سازش کا حصہ ہے کیونکہ تحریک کے تمام کارکنان اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگرمیںنے پارٹی میں سب سے زیادہ کسی کوچاہاہے تووہ ڈاکٹرعمران فاروق کی ذات تھی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سازش کے ذریعے میرے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرکے مجھے مرواسکتی ہے لیکن میں ظلم کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا۔ 1992ء کے فوجی آپریشن کاذکرکرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ پرانے ساتھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں فکری نشستوں میں ہمیشہ ایک بات کہتاتھاکہ ایم کیوایم کوباہر کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی ، اس تحریک کواگرکمزور کیاگیاتووہ اندرسے ہی کیاجاسکے گااورایساہی ہوا، آفاق احمد اورعامر خان جوتحریک کے سینئررہنماتھے انہوںنے سرکاری ایجنسیوں کے ہاتھوں اپنے ظرف وضمیر کاسوداکرلیااورتحریک کے کارکنوںکوقیادت کے خلاف ورغلانے لگے، انہیں ہم نے بہت سمجھایاکہ چندٹکوں کے لئے اپنے ظرف وضمیراورتحریک کاسودانہ کرو اورتحریک کوکمزورنہ کرولیکن وہ نہ سمجھے، وہ قسمیں کھاتے رہے لیکن انہوں نے اپنی حرکتیں جاری رکھیں، لہٰذاسرکاری ایجنسیوںکاایجنٹ بننے پر انہیں تحریک سے خارج کردیاگیا۔ انہوں نے فوج کی ایماپر حقیقی گروپ تشکیل دیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کے لئے فوج نے ڈرامہ تیارکیااورقوم کوبتایاگیاکہ سندھ میں ڈاکوؤں، اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والے جاگیرداروں، پتھاریداروںکے خلاف آپریشن کرناہے، اس کے لئے انہوںنے 72 ناموںکی ایک فہرست بھی تیار کی جسے 72بڑی مچھلیوںکانام دیاگیا۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں بات ڈالی اورمیں نے قوم کوآگاہ کیاکہ فوج ہمیں دھوکہ دے رہی ہے، یہ آپریشن ڈاکوؤں،اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والے وڈیروںاورپتھاریداروںکے خلاف نہیں بلکہ ایم کیوایم کے خلاف ہوگا۔ بالآخر میرے خدشات درست ثابت ہوئے، فوج نے منصوبے کے تحت حقیقی والوںکوپہلے اپنی فوجی چھاؤنیوں میں تیارکرایااورپھر 19جون 1992ء کوحقیقی والوںکوفوجی ٹرکوںمیں بٹھاکرکراچی میںلائی اورانکے ذریعے ایم کیوایم کے دفاتراوررہنماؤںوکارکنوںکے گھروںپر حملے کروائے، متعدد ساتھیوں کو شہید کردیا گیا،دفاترپر قبضے کرلئے گئے ۔حقیقی والوںنے ہی ایم کیوایم کے لوگوں کی نشاندہی کرواکرفوج کے ہاتھوں انہیں گرفتار کروایااورایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کاحصہ بنے رہے۔انہوں نے کہاکہ اگرحقیقی کے افراد اپنی ہی قوم کے لوگوں کی مخبریاںنہیںکرتے اوراس فوجی آپریشن کاحصہ نہ بنتے توفوج یا کسی کوبھی ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کرنے کی جرات نہ ہوتی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج بھی 19جون ہے ،28سال قبل ایم کیوایم کے خلاف جوریاستی آپریشن شروع کیاگیا تھاوہ آج بھی جاری ہے۔ ایم کیوایم کے ڈیفنس سیکٹرکے سابق انچارج آصف پاشا جنہیں 22  فروری 2019ء کو پیراملٹری رینجرز نے گرفتار کیا تھا، انہیںدوروزقبل بیدری اورسفاکی سے گولیاں مارکر شہیدکردیا گیا اور انکی لاش سپرہائی وے کے قریب جھاڑیوں میں پھینک دی گئی ۔ اسی طرح جسقم ( آریسر گروپ ) کے ایک رہنمانیازلاشاری کوبھی دوروز قبل ماورائے عدالت قتل کرکے ان کی لاش گلشن حدیدکے علاقے میں پھینک دی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1992ء کے فوجی آپریشن کے وقت غلام اسحق خان ملک کے صدر اورنوازشریف وزیراعظم تھے،غلام اسحق خان اور نوازشریف بھی ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن اورایم کیوایم کے کارکنوں اوررہنماؤں اورمہاجر عوام کے قتل میں برابر کے حصہ دارتھے۔انہوںنے کہاکہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز نے 1992ء کے آپریشن کے آغاز میںمیڈیاپر کہاکہ جب مسلم لیگ کے کئی گروپ ہوسکتے ہیں توپھرایم کیوایم کے گروپ کیوں نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ فوج کاکام ملک کی سرحدوں کادفاع کرنا ہوتا ہے یااس کاکام سیاسی جماعتوںمیں گروپ بنانا اور انہیںتقسیم کرناہے ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوجی آپریشن کے آغازمیں جنرل آصف نواز نے یہ بھی کہاتھاکہ الطاف حسین کاچیپٹر کلوز ہوگیا ہے، انہوںنے کہاکہ الطاف حسین کاچیپٹراللہ تعالیٰ نے کھولاتھا، وہی الطاف حسین کاچیپٹربندکرسکتاہے وگرنہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی الطاف حسین کا چیپٹربندنہیںکرسکتی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے نواز شریف سے کئی بار کہاکہ وہ فوج کی قیادت کو سمجھائیں کہ وہ ہمارے ساتھ غلط فہمیوں کو دور کریںلیکن نواز شریف نے ایسانہیں کیابلکہ ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کی منظوری دی۔1991ء میں نوازشریف نے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر اعلان کیاکہ جوشہر سب سے بہتر جشن چراغاں کرے گااس کااعتراف کیاجائے گا۔ ہم نے یہ چیلنج قبول کیااورعوام نے دیکھا کہ 1991ء کوپاکستان کے یوم آزاد ی کے موقع پر ایم کیوایم نے ایساجشن چراغاں کیااورکراچی ، حیدرآباد کواس خوبصورتی سے سجایا کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ایساجشن چراغاں کسی نے نہیں کیاہوگا، ہم نے تین روز قومی میلہ بھی منعقد کیالیکن پاکستان سے اپنی اس محبت اوروابستگی کاعملی مظاہرہ کرنے کے باوجود فوج نے ہمیں غدار قرار دیااورہمارے خلاف فوج کشی کردی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1992کے فوجی آپریشن میں ہمارے ہزاروں پیارے پیارے ساتھی بیدردی سے شہیدکردیے گئے ، کئی سہاگنیں بیوہ کردی گئیں،بچے یتیم اوروالدین کوبے سہاراکردیاگیا ۔ آج 19جون ہے، آج ہماری شام غریباں ہے، یوم سیاہ ہے ،یوم ماتم ہے کہ اس روز قوم پر ایسا بدترین ریاستی آپریشن شروع کیاگیاجوآج بھی جاری ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں ایک ایک شہید کے گھروالوںسے کہتاہوںکہ الطاف حسین تمہیں نہیں بھولابلکہ میں اپنے سچے وفاپرست ساتھیوںکوبھی یہ وصیت کرتاہوں کہ کامیابی کے بعد تم ہرگزاپنے شہیدوںکونہ بھولنابلکہ انہیں ہرجگہ باعزت مقام دینا۔ انہوںنے کہاکہ ہم آج کے دن یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے شہیدوں کے خون کاسوداکبھی نہیں کریںگے اوراپنے حقوق ،سندھ کی آزادی اورپنجاب سامراج سے نجات کے لئے جدوجہد جاری رکھیںگے۔انہوںنے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ تحریک کے تمام شہیدوں کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاکرے اورہماری غیب سے مدد فرمائے۔ 

٭٭٭٭٭


9/20/2020 10:29:29 PM