Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سندھ کے عوام پرامن طورپرسندھ کی علیحدگی چاہتے ہیں…الطاف حسین


 سندھ کے عوام پرامن طورپرسندھ کی علیحدگی چاہتے ہیں…الطاف حسین
 Posted on: 6/12/2020
سندھ کے عوام پرامن طورپرسندھ کی علیحدگی چاہتے ہیں…الطاف حسین
سندھ کے عوام سندھ کوایک آزاداورخودمختار ریاست دیکھناچاہتے ہیںجہاں وہ غلاموں کی طرح نہیں بلکہ آزادشہریوں کی طرح رہ سکیں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سندھ کے عوام کے اس مطالبہ پر توجہ دیں اورسندھ کے عوام کوپنجاب کی غلامی سے نجات دلائیں
 انشاء اللہ سندھ ایک دن پنجاب کی غلامی سے آزادہوگا، سندھودیش قائم ہوگااور سندھ کی آزادی مقدرہے
اسٹیبلشمنٹ اورفوج نے 72سال تک مہاجروں اورسندھیوںکوسازش کے تحت آپس میںبہت لرْایا لیکن اب ہم آپس میں نہیں لڑیںگے
 ہم ایک تھے، ایک ہیں اورایک رہیںگے، مہاجراورسندھی دونوں سندھ دھرتی ماں کے بیٹے ہیں، دونوں ہی سندھ کے مالک اوروارث ہیں
 آل پاکستان متحدہ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کے 42ویں یوم تاسیس کے موقع پر تاریخی خطاب

لندن  …  12  جون 2020 ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ سندھ کے عوام پرامن طورپرسندھ کی علیحدگی چاہتے ہیںاورسندھ کوایک آزاداورخودمختار ریاست دیکھناچاہتے ہیںجہاں وہ غلاموں کی طرح نہیں بلکہ آزادشہریوں کی طرح رہ سکیں۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سندھ کے عوام کے اس مطالبہ پر توجہ دیں اورسندھ کے عوام کوپنجاب کی غلامی سے نجات دلائیں۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار آل پاکستان متحدہ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کے 42ویں یوم تاسیس کے موقع پر اپنے تاریخی خطاب میں کیا۔ ان کایہ خطاب سوشل میڈیاکے ذریعے پاکستان سمیت دنیابھرمیں براہ راست نشرکیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کہنے کوپاکستان سب کاہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نہ سندھیوں کاہے، نہ مہاجروں کاہے ،نہ بلوچوں کاہے ، نہ پشتونوںکاہے، نہ سرائیکیوں کاہے، نہ گلگت  بلتستان کے لوگوں کاہے، پاکستان صرف پنجابیوںکاہے اورصرف پنجاب کوہی پاکستان سمجھاجاتاہے۔ میڈیامیںموجود پنجابی صحافی ، اینکرزاورتجزیہ نگار کشمیراورسانحہ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ کاذکرتوکرتے ہیں لیکن وہ سانحہ علی گڑھ، سانحہ حیدرآباد، سانحہ پکا قلعہ آپریشن کاذکرنہیں کرتے جہاں ایک ایک واقعہ میں دو دو سو، تین تین سو معصوم وبے گناہ مہاجروںکاقتل عام کیاگیا، یہ متعصب صحافی اوراینکرز ایم کیوایم پر تودہشت گردی اورملک دشمنی کے الزامات لگاتے ہیں لیکن ایم کیوایم کے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کاذکرنہیں کرتے، وہ پروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید کاذکرنہیں کرتے جنہیں پیراملٹری رینجرزاورآئی ایس آئی نے دومرتبہ گرفتارکرکے اپنی قیدمیں تشددکانشانہ بنایاورپھر13جنوری 2018ء کوگرفتارکرکے سفاکی سے تشددکانشانہ بناکرشہیدکردیالیکن یہ لوگ ان مظالم کاذکرنہیں کرتے۔اسلئے کہ یہ ہمیں پاکستانی تسلیم نہیں کرتے بلکہ دوسرے درجے کاشہری سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جب یہ ہمیں پاکستانی تسلیم نہیں کرتے توہم بھی ایسے پاکستان کوماننے سے انکارکرتے ہیں۔ اب ہم اورسندھ کے لوگ پرامن طریقے سے سندھودیش کے لئے پرامن جدوجہد کریںگے۔ جناب الطاف حسین نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ سندھ کے عوام پرامن طورپرسندھ کی علیحدگی چاہتے ہیں، وہ سندھودیش چاہتے ہیںاورسندھ کوایک آزاداورخودمختار ریاست کے طورپر دیکھناچاہتے ہیںجہاں وہ غلاموں کی طرح نہیں بلکہ آزادشہریوں کی طرح رہ سکیں، سندھ کے عوام اپنی دھرتی پر پنجاب کی فوج اورپیراملٹری فورسز کے جابرانہ قبضہ اور تسلط سے نجات چاہتے ہیں لہٰذا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سندھ کے عوام کے اس مطالبہ پر توجہ دیں اورسندھ کے عوام کو ان کی خواہشات کے مطابق پنجاب کے قبضہ اور غلامی سے نجات دلائیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھودیش کاآئین ایک فلاحی ریاست کاآئین ہوگاجس میںتمام شہریوں کابرابرکاحق ہوگا، سب کے ساتھ مساوی سلوک ہوگا، کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب، فقہ ، مسلک ،عقیدے اورجنس کی بنیادپر کوئی ناانصافی اورزیادتی نہیں کی جائے گی، مذہب اورعقیدہ ہرشہری کاذاتی معاملہ ہوگا، جہاں خواتین کوزندگی کے تمام شعبوں میں مساوی حقوق حاصل ہوںگے۔
 جناب الطا ف حسین نے کہاکہ انشاء اللہ سندھ ایک دن پنجاب کی غلامی سے آزادہوگا، سندھودیش قائم ہوگااور سندھ کی آزادی مقدرہے۔ انہوںنے سندھی اورمہاجرنوجوانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وقت تیزی سے بدل رہاہے، اگرآپ مجھے اپناقائدمانتے ہیں توپھرمیری بات بھی مانیں اورسندھ کی آزادی کے حصول کے لئے عملی میدان میںآکرجدوجہدکریں خواہ اس کے لئے جتنی بھی قربانیاں کیوں نہ دیناپڑیںاورآپس میں مل جل کراپنے حق کے لئے مظاہرے کریں، جہاں مشترکہ مظاہرے نہیں کرسکتے توالگ الگ مظاہرے کریں ، اگرسندھ کے عوام خصوصاً نوجوان آزاد ی اور حقوق کے لئے تیارنہ ہوئے تو وہ غلام درغلام بنکررہیںگے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ اورفوج نے 72سال تک مہاجروں اورسندھیوںکوسازش کے تحت آپس میںبہت لرْایااورہمیں محکوم بناکررکھا لیکن اب ہم آپس میں نہیں لڑیںگے، اب سندھ کی تقسیم کی نہیں بلکہ سندھ کی آزادی کی بات ہوگی، اب ہم الگ نہیں، ہم ایک تھے، ایک ہیں اورایک رہیںگے، مہاجراورسندھی دونوں سندھ دھرتی ماں کے بیٹے ہیں، دونوں ہی سندھ کے مالک اوروارث ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جولوگ سندھ کے مستقل باشندوںکوآپس میں لڑانے کی کوشش کررہے ہیںوہ اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ اورسندھ کے دشمن اور غدارہیں، ہمیں ایسے عناصر کی سازشوںکومل جل کرناکام بناناچاہیے۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہم پر ملک دشمنی، غداری اوردیگر جھوٹے الزامات لگانے والے غورکریں کہ جب ہم نے اے پی ایم ایس او قائم کی تو تب بھی پنجاب سے ایم کیوایم کے خلاف آوازیں اٹھیں کہ یہ لسانیت اورعصبیت پھیلارہے ہیں اور یہ را کے ایجنٹ ہیں جبکہ یہ تنظیم آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نام سے قائم کی گئی تھی، ہمارا شروع دن سے ہی یہ مؤقف تھا کہ ہم پاکستان میں رہتے ہوئے مہاجروں کے حقوق حاصل کریں گے اوراس وقت الطاف حسین نے ''را'' کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان دولخت ہوچکا ہے اور جب باقی ماندہ پاکستان بھی قائم نہیں رہے گا تب بھی اے پی ایم ایس او کو آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نام سے ہی پکارا اورلکھاجائے گا۔ انہوںنے کہاکہ 42 سالہ جدوجہد کے دوران پنجابی فوج ، پیراملٹری رینجرز اورپولیس نے اے پی ایم ایس او اور ایم کیوایم کے ہزاروں مہاجررہنماؤں اورکارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا پھربھی ہم نے ملک بھرکے مظلوم عوام کے حقوق کیلئے مہاجرقومی موومنٹ سے لفظ مہاجر ہٹاکر متحدہ قومی موومنٹ قائم کرکے ثابت کیاکہ ہم صرف مہاجروں کے ہی نہیں بلکہ ملک بھرکے غریب ہاریوں، کسانوںاور محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں اورملک بھرکے غریب ومتوسط طبقہ کے تعلیم یافتہ افراد کی حکمرانی قائم کرکے انہیں برابر کاشہری تسلیم کرانا چاہتے ہیں۔کراچی سے پشاور اورقبائلی علاقہ جات تک میں ایم کیوایم کے یونٹس قائم تھے لیکن پنجابی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی نے ہمیں کام نہیں کرنے دیا۔
 جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں فرزند زمین اور غیرفرزند زمین کی تفریق الطاف حسین نے پیدا نہیں کی ہے ، ہمارے اجداد نے انگریزوں کے خلاف آزادی کی جدوجہد کی اور پاکستان بنایا ، ہمارے اجداد نے پاکستانی بن کر انڈیا سے ہجرت کی تھی لیکن مقامی لوگوںنے پاکستان کیلئے ہجرت کرنے والوں کومکڑ، تلیر، مٹروا، بھیا، پناہ گیر اورمہاجر کہہ کرپکارا۔ہمارے اجداد نے پاکستان کاانفرااسٹرکچر قائم کیا، معیشت کو بہتربنایاانہیں ملازمتوں سے نکالاجاتارہا، سروس کمیشن کے امتحانات میں مہاجروں کو شرکت سے روکاجاتا رہااور مختلف حکومتوں میں مہاجربیوروکریٹس کو نکالاجاتارہا ، تعصب اورنفرت کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور باقاعدہ اخبارات میں اشتہارات دیکر کراچی کے اداروں میں پنجاب کاکوٹہ رکھاجاتا ہے جبکہ کراچی میں مقامی لوگوںکو ملازمتیں نہیں دی جاتیں۔ انہوںنے کہاکہ حقوق کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں آج تک ہم پر جھوٹے اوربے بنیاد الزامات عائد کیے جارہے ہیں لیکن اگرہم دہشت گرداور بھتہ خورہوتے تو طلباء تنظیم اے پی ایم ایس او کے بطن سے جنم لینے والی عوامی جماعت ایم کیوایم ملک کی تیسری اورسندھ کی دوسری سب سے بڑی جماعت نہیں ہوتی۔ کہاجاتا ہے کہ الطاف حسین کی ایک آواز سے پورا سندھ بند ہوجاتا تھا تو یہ عوام کی چاہت اور پیار تھا، ہمیں عوامی مینڈیٹ حاصل تھا، ہم پروگریسیو اور جمہوری سوچ کے حامل تھے اورآج بھی ہیں ، 1987ء کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی اورحیدرآباد سے ہمارے میئرز اورڈپٹی میئرز بلامقابلہ منتخب ہوئے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1988ئ، 1990ئ، 1993، 1997ئ، 2002ء اور 2008ء کے عام انتخابات میں ایم کیوایم کو بھرپورعوامی مینڈیٹ ملا اور ایم کیوایم ، ملک کی تیسری اورسندھ کی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ، ایم کیوایم نے یہ مقام بلٹ کے بجائے بیلٹ کی طاقت سے حاصل کیا ، ایم کیوایم عوام کے تعاون سے ہرعام انتخابات اوربلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہوتی رہی ہے جبکہ پنجابی فوج اورآئی ایس آئی گولی کی طاقت سے اپنے من پسند افراد یا جماعت کو الیکشن میں کامیاب بناتی رہی ہے ۔ پاکستان کی فوج،آئی ایس آئی اور ایم آئی سے بڑھ کر دنیا کی کوئی ایجنسی ظالم وسفاک نہیں ہے ، پنجابی فوج عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جماعت ایم کیوایم پرجھوٹے الزامات لگاکر فوجی آپریشن کرتی رہی ہے ، 19، جون1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف پہلا فوجی آپریشن کیاگیا اور حقیقی دہشت گردوںکو فوجی ٹرکوں پر بٹھاکر کراچی لایاگیا ، حقیقی دہشت گردوںکو قتل وغارت گری اورلوٹ مارکی کھلی چھوٹ دی گئی اور ایم کیوایم کے تمام دفاترپر قبضے کرائے گئے ، نوجوان نسل یہ تاریخی حقائق اپنے والدین سے معلوم کرسکتے ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ حیدرآباد ، الطاف حسین کا شہر ہے ، اس شہرکے لوگوں پربہت ظلم ہوا ہے اس کے باوجود آج بھی حیدرآباد کی ماؤں ، بہنوں، بزرگوں ، نوجوانوں اوربچوں کے دل الطاف حسین کے ساتھ ہیں ۔ اگر کسی کو الطاف حسین کی عوامی مقبولیت دیکھنی ہے تو محض 24 گھنٹے کے نوٹس پر مجھے حیدرآباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دے دیں ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ ٹیلی ویژن پر آکر قسمیہ یقین دلائیں کہ ایم کیوایم ، حیدرآباد میں جلسہ کرے ، ہم جلسے کے منتظمین اور نعرے لگانے والوں کو نہ تو گرفتارکریں گے اورنہ ہی انکے گھروں پر چھاپے ماریں گے تو الطاف حسین ثابت کردے گا کہ حیدرآباد شہر کس کے ساتھ ہے ۔انہوںنے کہاکہ لالچی اورخودغرض غداروںنے اپنے مفادات کی خاطر باربار قوم کاسودا کیا،یہ عناصراتنے بے شرم ہیں کہ آج بھی آئی ایس آئی اورفوج کے مخبربن کرالطاف حسین کے چاہنے والوںکی مخبریاں کرکے انہیں گرفتارکرارہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بہت جلد سندھو دیش آزاد ہوگاتو پھرچاہے مہاجرہوں یا سندھی ہوں، فوج اورآئی ایس آئی کے جوتے پالش کرنے والے ہرجاگیردار، وڈیرے کوآئین اورقانون کے تحت احتساب کا سامنا کرنا ہوگااورآزاد سندھو دیش میں قوم کے غداروں کا انجام بنگلہ دیش کے غداروں سے ہرگز مختلف نہیں ہوگا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہا کہ سندھی اور اردوبولنے والے سندھ دھرتی ماں کے بیٹے ہیں اورہم دونوں ایک ہی ہیں ۔ سندھ ہمارا ہے اورہم دونوں سندھ کے مالک ہیں ۔ایک منظم سازش کے تحت سندھیوں اورمہاجروںکو باربارلڑایا گیا، ذوالفقارعلی بھٹو کے ذریعے پنجابی فوج نے سندھ میںکوٹہ سسٹم نافذ کرایا ، کوٹہ سسٹم کی آڑ میں سندھ میں شہری اوردیہی تفریق پیدا کی گئی اور دیہی آبادی کیلئے مختص 60 فیصد کوٹے کافائدہ غریب سندھی، ہاری کسان کے بیٹوں کے بجائے جاگیرداروں اوروڈیروںکے بچوں نے اٹھایا اورتھرڈ کلاس پوزیشن لینے والے کو انجینئرنگ اورمیڈیکل کالجوں میں داخلے دیے گئے جبکہ غریب سندھیوں کااستحصال کیاگیا اور کوشش کی گئی کہ غریب ہاری کسان کے بچوںکو یاتو تعلیم سے محروم رکھاجائے یا چپراسی یا کلرک کی ملازمتیں ان کامقدر بنادی جائیں ۔  جناب الطاف حسین نے کہاکہ کوٹہ سسٹم اگرچہ بھٹو نے نافذ کیاتھا لیکن یہ فیصلہ پنجابی فوج کی مرضی سے کیاگیا تھا جب بھٹو کو پھانسی دے دی گئی تو جنرل ضیاء الحق نے سندھیوں کے مطالبے کے بغیرہی کوٹہ سسٹم میں دس سال کی توسیع کردی اور اس کے بعد ہرفوجی جرنیل کی جانب سے کوٹہ سسٹم میں توسیع کی جاتی رہی۔انہوںنے کہاکہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ نے سازش کے تحت سندھ میں لسانی بل منظورکرایا، ہم لسانی بل کے مخالف نہیں ہیں کیونکہ سندھی ہماری زبان ہے، اگرمقامی زبان کوسرکاری زبان قراردینے کا بل درست تھا تو یہ بل صوبہ پنجاب، سرحد اوربلوچستان میں بھی منظورکرایاجاتا۔
 جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں شروع دن سے سندھ کے مستقل باشندوںکے درمیان اتحاد اور یگانگت کیلئے جدوجہد کرتارہااور اسی مقصد کیلئے رہبر سندھ سائیں جی ایم سیدسے متعددملاقاتیں کرتارہا۔سائیں جی ایم سید اور میں تمام ترحقائق جاننے کے بعد اس نتیجے پر متفق ہوگئے کہ سندھیوں اورمہاجروں کا جینا مرنا سندھ دھرتی سے وابستہ ہے ،دونوں سندھ دھرتی میں جوکماتے ہیں اسی دھرتی پر خرچ کرتے ہیں، منی آرڈر ہندوستان، پنجاب، سرحد یابلوچستان نہیں بھیجتے ، سندھ میں ہی ملازمتیں کرتے ہیں اورمرنے کے بعد ان کی لاشیں کسی اورملک نہیں جاتیں بلکہ سندھ دھرتی میں ہی دفن ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری جدوجہد سے سندھ کے مستقل باشندوں کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہونے لگیں اور سندھ میں ایسے حالات پیدا ہوگئے تھے کہ اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں میں جئے سندھ والے ایم کیوایم کے لیٹر دیکھ کر مہاجرطلباء کو داخلے اورتعلیم حاصل کرنے میں مدددینے لگے لیکن پنجابی فوج اورآئی ایس آئی کو سندھ کے مستقل باشندوں کے درمیان امن ومحبت کی یہ فضاء پسند نہیں آئی اورانہوںنے اپنے ایجنٹوںکے ذریعے سندھ میں امن ومحبت کی فضاء خراب کرنے کیلئے سانحات کراکرسندھ کے مستقل باشندوں کے درمیان نفرتیںپیدا کیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پہلے ایم کیوایم کے نام کے ساتھ لفظ ''پاکستان'' 
شامل تھا لیکن اب مائنس پاکستان ایم کیوایم ہے، اب سندھ دھرتی ہمارا وطن ہے اورہم آزادسندھو دیش کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے اجداد نے اس زمین سے غداری کی جہاں وہ ہزاروں سال سے رہتے چلے آئے تھے اور جہاں انہوںنے صدیوں تک حکومت کی تھی اس زمین کو چھوڑ کر انگریزوں کے نمک خواروں کیلئے بنائے گئے پاکستان میں ہجرت کی لیکن جو غلطی ہمارے اجداد نے کی تھی ہم وہ غلطی نہیں دہرائیں گے۔
جناب الطا ف حسین نے تمام کارکنوں اورعوام کواے پی ایس او کے 42ویںیوم تاسیس کی مبارکباد پیش کی اورکہاکہ جن لوگوں نے تحریک سے غداری کی اورخود قائدبننے کی کوشش کی انہیں سمجھ لیناچاہیے کہ قائد نہ فیکٹریوں میں بنتے ہیں اورنہ فوج قائد بناسکتی ہے ، قائد قدرت پیداکرتی ہے اوروہی کامیابیاں عطا کرتی ہے ۔ قوم نے دیکھ لیاکہ الطاف حسین نے اپنی پوری 42سالہ جدوجہد میں قیدوبندکی صعوبتیںا ورتمام مظالم برداشت کئے اپنے گھروالوں تک کی قربانی دی لیکن اپنے ظرف وضمیراورنظریہ کاسودانہیںکیا۔ جناب الطاف حسین نے تمام ترریاستی جبر کے باوجود پاکستان کے مختلف شہروں میں تحریک کے بینر لگانے وال چاکنگ کرنے والے کارکنوںکوسلام تحسین پیش کیا۔ انہوں نے یوم تاسیس کے موقع پر خصوصی ترانے اورپوسٹرز تیارکرنے اورسوشل میڈیاپر بھرپور انداز میں کام کرنے پر اے پی ایم ایس او اورایم کیوایم کی سوشل میڈیاٹیم کے تمام ارکان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے تحریک کے تمام شہیدوںکوخراج عقید ت پیش کیا، لاپتہ اوراسیرساتھیوں کی رہائی اوربازیابی کے لئے دعاکی ۔ ان کے تمام اہل خانہ سے یکجہتی اورہمدردی کااظہارکیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کااختتام جئے سندھ کے نعرے پر کیا۔ 

٭٭٭٭٭





8/14/2020 6:13:05 PM