Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تاریخ سے ثابت ہوگیا ہے کہ ایک سازش کے تحت پاکستان کے نام پر گریٹرپنجاب کامنصوبہ بنایاگیا، قائد تحریک الطاف حسین


   تاریخ سے ثابت ہوگیا ہے کہ ایک سازش کے تحت پاکستان کے نام پر گریٹرپنجاب کامنصوبہ بنایاگیا، قائد تحریک الطاف حسین
 Posted on: 6/8/2020 1
تاریخ سے ثابت ہوگیا ہے کہ ایک سازش کے تحت پاکستان کے نام پر گریٹرپنجاب کامنصوبہ بنایاگیا، قائد تحریک الطاف حسین
علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں موجودہ پاکستان کے علاقوں کوملاکر ایک ریاست بنانے کاجوتصورپیش کیاتھاوہ
 دراصل گریٹر پنجاب کامنصوبہ تھا
 تاریخی حوالوںسے ثابت ہے کہ علامہ اقبال سلطنت برطانیہ کے تنخواہ دار تھے
 کہاجاتاہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بناجبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کااسلام سے کوئی تعلق نہیں
1971ء میںپاکستان ٹوٹ گیا۔،پاکستان کاوجود ختم ہوگیا،توپھر اسے زندہ کیسے کہاجائے؟
سندھ میں نفرتوں کی بنیاد ڈالنے والے سندھی عوام نہیں بلکہ پنجاب کے ایجنٹ سندھی حکمراں ہیں
سندھی حکمرانوںنے ہردور میں فوج کے ایجنٹ بن کر سندھ کے مستقل باشندوں کو آپس میں لڑایا
سندھی اورمہاجر دونوں سندھ دھرتی ماں کے بیٹے اورسندھ دھرتی کے برابر کے مالک ہیں
 سندھی اورمہاجردونوں مل کر سندھ دھرتی کی آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں 
 جب تک سندھی مہاجرزندہ ہیں سندھ دھرتی کے خلاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی
سوشل میڈیاکے ذریعے قائد تحریک جناب الطاف حسین کا اہم خطاب 

لندن ۔۔۔ 7، جون  2020ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ تاریخ سے ثابت ہوگیاہے کہ ایک سازش کے تحت پاکستان کے نام پر گریٹرپنجاب کامنصوبہ بنایاگیااوراس کے لئے اسلام کانعرہ دیاگیا، علامہ اقبال جنہیں تصور پاکستان کاخالق کہاجاتاہے، ان کے خطبہ الہ آباد میں بھی پاکستان کاذکرنہیں تھاالبتہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں موجودہ پاکستان کے علاقوں کوملاکر ایک ریاست بنانے کاجوتصورپیش کیاتھاوہ بھی دراصل گریٹر پنجاب کامنصوبہ تھا، آج پاکستان کے نام پر اسی گریٹرپنجاب کے منصوبے پر عمل کیاجارہاہے ۔جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہارگزشتہ روزسوشل میڈیاکے ذریعے اپنے اہم خطاب میں کیا۔ ان کایہ خطاب سوشل میڈیاپر براہ راست نشرکیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں برصغیرپر انگریزوں کے قبضہ، تحریک پاکستان ، علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباداورپاکستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلی اظہارخیال کیا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے چند روز قبل انڈیا کے ممتازتجزیہ نگار گوروآریہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کے حوالے سے کچھ باتیں کیں توبہت سے مخالفین نے اعتراض کیاکہ پاکستان مردہ باد کیوں کہہ دیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر کسی چیز کاوجود ہواوروہ مرجائے تووہ مردہ کہلاتی ہے اورمردہ کوزندہ نہیں کہاجاتا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان 1947ء میں وجودمیں آیا، اس وقت پاکستان دوحصوںیعنی مشرقی پاکستان اورمغربی پاکستان پر مشتمل تھا، مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے 56فیصد اورمغربی پاکستان ( موجودہ پاکستان) آبادی کے لحاظ سے  44فیصد تھا، قیام پاکستان کے لئے 99فیصد حمایت کرنے والے مشرقی پاکستان کے بنگالی عوام کوان کے جائزحقوق نہیں دیے گئے بلکہ حقوق مانگنے پرانہیں غدارکہاگیااور ان پر فوج کشی کی گئی بالآخر وہ پاکستان سے علیحدہ ہوگئے۔56فیصد اکثریت پاکستان سے الگ ہوگئی ، پاکستان ٹوٹ گیا۔ پاکستان کاوجود ختم ہوگیا،توپھر اسے زندہ کیسے کہاجائے ۔
 انہوں نے کہاکہ جولوگ دوقومی نظریہ کے چیمپئن بنتے ہیںوہ یہ توبتاتے ہیںکہ ہندوستان میں دوقومیں مسلمان اورہندورہتے تھے لیکن وہ نئی نسل کویہ نہیں بتاتے کہ پاکستان میں پنجابی، پختون، بلوچ، سندھی اورمہاجرکی طرح بنگالی بھی پاکستان کاحصہ ہواکرتے تھے۔انہوں نے کہاکہ کہاجاتاہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بناجبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کااسلام سے دوردور تک   کوئی تعلق نہیں، اگرپاکستان اسلام کے نام پر وجودمیںآتاتوموجود ہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے رہنے والے بھی پاکستان بنانے کے لئے جانی ومالی قربانیاں دیتے۔ انہوں نے کہاکہ آج اسکولوں، کالجوں اوریونیورسٹیوں میں نئی نسل کومسخ شدہ تاریخ پڑھائی جارہی ہے ، جنہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی ،انگریزوں کاساتھ دیااورحریت پسندوں سے غداری کی وہ محب وطن ٹھہرے اورجوقیام پاکستان اورآزادی کے لئے جانی ومالی قربانیاں دینے والے تھے وہ غدارقراردیدیے گئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ پاکستان کاموجودہ پنجاب ہی ہے جہاںسے تعلق رکھنے والوں نے 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے خلاف انگریزوں کاساتھ دیااور انگریزوں کی فوج میں شامل ہوکرآزادی کے متوالوں کاسب سے زیادہ قتل کیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ تاریخی حوالوںسے ثابت ہے کہ علامہ اقبال سلطنت برطانیہ کے تنخواہ دار تھے، انہوں نے 1930ء میں اپنے خطبہ الہ آباد میں تجویز پیش کی تھی کہ پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ ( NWFP) ، سندھ اوربلوچستان کوملاکرایک واحد خودمختارریاست بنادی جائے جوسلطنت برطانیہ کے دائرہ کارکے اندریا سلطنت برطانیہ کے باہرہو، یہ شمال مغربی مسلم انڈین ریاست ان علاقوں کے مسلمانوں کی حتمی منزل ہوگی۔ یہاں لفظ ''مسلم'' مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کیلئے استعمال کیاگیا تھا۔ اس خطبہ الہ آباد میں مزید کہاگیا ہے کہ نارتھ ویسٹ کے مسلم یہ ثابت کردیں گے کہ وہ انڈیا کے خلاف کسی بھی بیرونی حملے کا بہترین دفاع کریں گے کیونکہ انڈیا کی کل فوج کوپنجاب کی56 فیصد آبادی میں سے54 فیصدمسلم فوجی پنجاب سے فراہم کیے جاتے  ہیں ،اگرانڈین فوج سے آزاد ملک نیپال کے 19000گورکھا فوجیوں کو نکال بھی دیا جائے تو پنجاب کے مسلم فوجیوں کی تعدادپوری انڈین آرمی کا 62 فیصد ہوگی اورہ یہ تناسب NWFP اور بلوچستان کے 6000 فوجیوں میں شمار نہیں ہوگی ۔ اس تناسب سے آسانی سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ نارتھ ویسٹ انڈین مسلم انڈیا پرکسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف ممکنہ دفاع کرسکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ میرا نہیں بلکہ علامہ اقبال کا خطبہ ہے، اس پورے خطے میں پاکستان کا تصور کہیں نہیں ہے لیکن قوم کو آج تک جھوٹ بتایاجارہا ہے کہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا یعنی انہوںنے پاکستان کا تصورپیش کیاتھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال نے پاکستان نہیں بلکہ پنجابستان مانگا تھااوریہ سچائی بیان کرنے پرمجھے غدار کہاجاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سلطنت برطانیہ کے فوجیوں میں صوبہ سرحداور بلوچستان کے مسلم فوجی تو شامل تھے لیکن  شکرہے کہ سندھ کی دھرتی سے انگریزوں کواپنا کوئی نمک خوار نہیں ملا کیونکہ سندھ دھرتی حریت پسندوں کی دھرتی ہے۔

جناب الطاف حسین نے مہاجروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ پاکستان چاہتے ہو یا ایسا آزاد ملک چاہتے ہو جہاں فوج، رینجرز اورپولیس چادرچہاردیواری کا تقدس پامال نہ کرے ،سیڑھیاں لگاکرہمارے گھروںمیںنہ کودے ، بزرگوں اور نوجوانوں کے کپڑے اتارکران کی آنکھوں پرپٹیاں نہ باندھے ، جنگی قیدی نہ بنائے ، نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل نہ کرے ، انہیں جھوٹے مقدمات میں گرفتارکرکے جیلوں میں قید نہ کرے اور والدین کے سامنے گرفتارکرکے جبری لاپتہ نہ کرے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین کو اس لئے قتل کیاگیا کہ وہ میرے رشتے دار تھے ۔پھر 73 سالہ بزرگ فلاسفر پروفیسرحسن ظفرعارف ، ایم کیوایم کے جواں سال کارکن وقاص شاہ ، آفتاب احمد سمیت 25 ہزار مہاجروں کا کیاقصور تھا؟ انہیں کس جرم کی پاداش میں قتل کیاگیا؟ شہیدوںکی یادگارپر جانے والی ماؤں ، بہنوں ، بزرگوں اورنوجوانوں کو تشددکا نشانہ کیوں بنایاجاتارہا؟ حتیٰ کہ حاملہ بہنوں کو زدوکوب کیوں کیاگیا؟ کیا ایم کیوایم کا کارکن ہونا جرم ہے ؟ سابق آرمی چیف کی یقین دہانی کے باوجود آفتاب احمد شہید کے قاتل نہیں پکڑے گئے پھر بھی عقل کے اندھے مہاجر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان زندہ باد والوں کا ایم کیوایم اور وفاپرستوں سے کوئی تعلق نہیں ہے 

جناب الطاف حسین نے کہاکہ غیرت مند مہاجروں نے طے کرلیا ہے کہ ان کا جینامرناسندھ دھرتی سے وابستہ ہے ، وہ جوکماتے ہیں سندھ دھرتی پر خرچ کرتے ہیں اورمرنے کے بعد سندھ میں ہی دفن ہوتے ہیں لہٰذا وہ سندھو دیش کی آزادی کی جدوجہد کریں گے لیکن سندھ کے مستقل باشندوں کے اتحاد کے خلاف سازشیں کرنے والے ضمیرفروش یہ نفرت انگیز پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ سندھیوں نے مہاجروں کو دھوکہ دیا ، سندھ میں کوٹہ سسٹم اور لسانی بل کے ذریعے نفرتیں پیدا کیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے عوام میں نفرتیں پیداکرنے والے سندھی عوام نہیں ہیں بلکہ سندھ میں نفرتوں کی بنیاد ڈالنے والے سندھی حکمراں ہیں جنہوںنے ہردور میں فوج کے ایجنٹ بن کر سندھ کے مستقل باشندوں کو آپس میں لڑایااورسندھ میں حکومت کرنے والے دراصل پنجاب کے دلال ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب تک الطاف حسین زندہ ہے وہ اپنے بزرگوں کے گناہ کے ازالہ کی جدوجہد کرتارہے گا،سندھی اورمہاجر دونوں سندھ دھرتی ماں کے بیٹے اورسندھ دھرتی کے برابر کے مالک ہیں، سندھی اورمہاجردونوں مل کر سندھ دھرتی کی آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں اوراس جدوجہد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے چاہے مہاجرہوں یا سندھی ہوں وہ سندھ دھرتی سے ہرگز مخلص نہیں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سندھیوں اورمہاجروں کے درمیان لاکھ اختلافات ہوں لیکن ہم سندھ کے مستقل باشندے ہیں اورہم کسی بھی سازش کا شکارنہیں ہوں گے،سندھیوں اورمہاجروں کے عظیم تر مفاد کیلئے الطاف حسین کسی کی بھی قیادت میں عام کارکن کی طرح کام کرنے کو تیار ہے ۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ چائنا یا کسی بھی ملک سے کتنی ڈیل کیوںنہ کرلیں لیکن جب تک سندھی مہاجرزندہ ہیں سندھ دھرتی کے خلاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔
جناب الطاف حسین نے بھٹکے ہوئے مہاجروں اورسندھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر انہوںنے سندھیوںاورمہاجروں کوآپس میں لڑانے کی سازش کو نہ سمجھا، پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی لڑاؤ اور حکومت کرو کی سازش کا حصہ بنتے رہے اور آپس میں متحد نہ ہوئے تو ان کی نسلیں غلاموں سے بدترزندگی گزاریں گی ۔ جناب الطاف حسین نے کروناوائرس کی وباء کے باعث ایم کیوایم کے کارکنان اوران کے عزیزواقارب کے انتقال پر تمام سوگواران سے دلی تعزیت کااظہارکیا اورمرحومین کے بلند درجات کیلئے دعائیں کیں۔ انہوںنے پاکستان سمیت دنیا بھرمیں مقیم وفاپرست کارکنان اورہمدردوں کو آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے 42 ویں یوم تاسیس کی پیشگی مبارکبادبھی پیش کی۔
٭٭٭٭٭


2/24/2021 8:07:47 PM