Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

''نظم وضبط ''کے عنوان پر قائد تحریک جناب الطاف حسین کااپنے ذاتی فیس بک پیج پر انتہائی معلوماتی اورفکرانگیز لیکچر


 Posted on: 5/4/2020 1
''نظم وضبط ''کے عنوان پر
قائد تحریک جناب الطاف حسین کااپنے ذاتی فیس بک پیج پر 
 انتہائی معلوماتی اورفکرانگیز لیکچر
بروز پیر …مورخہ 4، مئی2020ئ

مثبت اورمنفی سوچ میں توازن:
دنیا میں رہنے والے انسانوں کی اپنی اپنی شناخت ہواکرتی ہے۔ یہ شناخت مذہبی، علاقائی،ثقافتی، رنگ ، نسل، زبان اور جنس کی بنیادپر ہوتی ہے جوکہ شناخت کے پیمانے ہواکرتے ہیں۔انسانیت پر یقین رکھنے والے مذہبی جنونیت، مذہبی انتہاء پسندی پریقین نہیں رکھتے ، اسی طرح کوئی اپنی علاقائی، ثقافتی، رنگ، نسل، زبان اور جنس کی شناخت رکھتا ہو اسے ان شناخت کی بنیادپر جنونیت یا انتہاء پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ 
مذہبی تعلیمات کے معاملے میں بھی ہمیں حقیقت پسندی اور عملیت پسندی سے کام لینا چاہیے کیونکہ مختلف مذاہب اور مختلف مسالک کے مولوی، پادری ، پنڈت یادیگر مذاہب کے پیشواؤں کے بیان کردہ افکار میں بھی عموماً تضاد پایا جاتا ہے ۔ 
تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ علمائے سُومفاد اور غرض کیلئے اپنے سیاسی آقاؤں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی خوشنودی کیلئے فتوے دیتے رہے ہیں اورفتوے دیتے وقت یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ اس قسم کے عمل سے انسانیت کی خدمت نہیں بلکہ انسانیت پرظلم وجبر کررہے ہیں۔ سندھ میں یہی عمل جاگیردار اوروڈیرے کرتے ہیں ۔ دولت ، جاگیروں اوراثرورسوخ کے بل پر 60 سال کا بوڑھا جاگیردار وڈیرہ غریب ہاری کسان کی 10 سالہ کمسن بچیوں سے زبردستی نکاح کرلیتے ہیں ۔ اسی طرح سندھ میں غریب ہندو بچیوں کو مسلح جاگیردار وڈیرے اغواء کرکے زبردستی مذہب تبدیل کرالیتے ہیں اور پھر ان سے نکاح بھی کرلیتے ہیں اور شدید دباؤ کے باعث مظلوم ہندو لڑکی اپنی خواہش کے برخلاف جھوٹا بیان دینے پر مجبور ہوجاتی ہے کہ'' وہ یہ نکاح بغیرکسی دباؤ کے اوراپنی مرضی سے کررہی ہے''
عمومی طورپر دیکھا جائے تو ہمارا سماج تضادات کا مجموعہ ہے ، اس سماج کو مزید بہتر کرنے کیلئے ہم سب کو مثبت سوچ وعمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ لوگوں کے مثبت اور منفی سوچ میں توازن کے اثرات انسانی ذہن، انسانی نفسیات اور نفسیاتی سلوک پر اثرانداز ہوتے ہیں۔انسان مثبت اورمنفی سوچ میں توازن سے اپنی زندگی کو خوشحال اورتوازن بگڑنے سے زندگی کو بدحال بنادیتا ہے ۔ اگر انسان کی مثبت و منفی سوچ میں توازن بگڑ جائے تو وہ معمولی معمولی باتوں پر بھی چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتاہے، ایسے کسی فرد کو ہنگامی ضرورت کے تحت رات کے کسی پہرمیں جگادیاجائے تو وہ اس بات پر ناراض ہوجائے گا کہ ابھی میری آنکھ لگی تھی ، ابھی میں سویا تھا کہ مجھے جگادیاگیایہ سوچے سمجھے بغیرکہ ایسی کیا ہنگامی صورتحال آگئی تھی کہ اسے جگانے کی نوبت آئی۔
اگر مثبت اور منفی سوچ کا توازن میاں بیوی کے تعلقات میں بگڑجائے تو وہی میاں جو بیوی کے ہاتھوں پکے کھانوں کی تعریف کیاکرتا تھاکہ تمہارے ہاتھوں میں بہت ذائقہ ہے ،تم اس قدر لذیذ کھانا پکاتی ہوکہ دل کرتا ہے کھاتا رہوں، پیٹ بھرجاتا ہے مگر دل نہیں بھرتا۔لیکن جب سوچ کا یہ توازن بگڑ تا ہے تو یہی میاں جو کل تک اپنی بیوی کے پکوانوں کی تعریفیں کیاکرتا تھا وہ کھانے میںنقص نکالنے لگتا ہے کہ یہ کیاکھانا بنایا ہے؟میاں اکثرملازمت میں اوورٹائم کرے ، دیرتک دفترمیں کام کرے ،تاخیرسے گھرپہنچے تو چونکہ میاں بیوی کی سوچ میں توازن برقرار تھا تو بیوی کو تاخیرسے آنا برامحسوس نہیں ہوتا تھا لیکن جب مثبت اورمنفی سوچ میں توازن بگڑنے لگاتو بیگم کو اچانک یادآنے لگاکہ میاں جی بہت تاخیرسے گھرآرہے ہیں ، کپڑوں پر شکن یا داغ کو دیکھ کر کہانی بنالی جاتی ہے کہ سب معلوم ہے کہ کہاں تھے اور کس کے ساتھ گلچھرے اڑائے جارہے تھے وغیرہ وغیرہ ۔
حقیقت یہ ہے کہ مثبت اور منفی رحجان انسان کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں ۔ سائنس کے طلباء اس بات کوجانتے ہیں کہ انسانی جسم میں منرل اورہزاروں قسم کے ہارمونز(Hormones)، اینزائمز(Enzymes) اور کیمیائی مادے پائے جاتے ہیں.
مثال کے طورپر کلورین کی خصوصیات منفی (Negative) ہے جبکہ پوٹاشیم اورسوڈیم دونوں مثبت (Positive) خصوصیات رکھتے ہیں۔ اگر آپ اب تک دریافت کیے جانے والے معدنیات کے Periodic table کو پڑھیں  تو آپ کو معلوم ہوگاکہ کونسے عناصر مثبت اورمنفی خصوصیات کے حامل ہیں۔
انہی عناصر میں کچھ عناصر ایسے ہیں جن کو ملاکر انتہائی مہلک ہتھیار بنائے جاسکتے ہیں جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما پر امریکہ نے ایٹم بم گرائے تھے ۔ اس سے زیادہ بڑی طاقت کا ایٹم بم کسی جغرافیے پر گرایا جائے تو وہ ملک تباہ ہوجائے گا، وہاں رہنے والے حشرات الارض ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت ہی ختم ہوجائے گی۔اب یورینیم کی افزودگی (Enrichment)سے مزید سے مزید مہلک ہتھیار بنائے جارہے ہیں ۔
دنیا کاسب سے چھوٹا زرہ ''ایٹم '' کہلایا جاتا ہے ، بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایٹم اکیلا نہیں ہے اس میں مرکزہے ، مرکز کے گرد دائرے ہیں اور دائروں میں الیکٹرونز، نیوٹرونز اورپروٹونز اپنے اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں۔اگریہ الیکٹران ، نیوٹران اور پروٹون اپنے دائرے میں چلتے رہیں تو اس میں ان کی بقاء ہوتی ہے اورجہاں یہ اپنے دائرے سے باہرنکلیں گے تو اپنی حیثیت کو نہ صرف کھو دیں گے بلکہ جسم کو تباہ وبرباد کرنے کے کیمیائی مادہ بنانے کا سبب بھی بن جائیں گے ۔کسی بھی کیمیکل ری ایکشن کے دوران ایٹم ، مالیکیول یاآئن سے الیکٹران کے نکلنے کا عمل Oxidation کہلاتا ہے ،جبکہ Oxidation  کے خاتمے کیلئے Antioxidantsاستعمال کیے جاتے ہیں ۔
 کائنات کامرکز سورج ہے ، چاند ، زمین اورسیارے سورج کے گرد گردش کررہے ہیں ۔ اسی طرح دنیا میں ہر ملک ، ہرصوبے، ہرشہر، ہرمحلے اور ہرگھر کا بھی ایک مرکز ہوتا ہے ۔ جیسا کہ صوبہ سندھ کامرکز یعنی دارالخلافہ کراچی ہے اورصوبہ پنجاب کا مرکز لاہور ہے ، بلوچستان صوبہ جوکہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن بھوک ، افلاس، غربت اورپسماندگی میں بھی یہ صوبہ سب سے آگے ہے۔ بلوچستان کامرکز کوئٹہ ہے اورصوبہ خیبرپختونخوا کا مرکز پشاور ہے ۔ 
اسی طرح کسی گھرکا مرکز دادا ، دادی، نانا ،نانی یا والدین ہوا کرتے ہیں اور گھرکے دیگر تمام افراد انہی کے گرد چکر لگاتے ہیں ۔ کسی محلے میں دیکھیں تو آپ کو دوچار گھر ایسے بھی نظر آئیں گے جس کے افراد بہت معزز، تعلیم یافتہ اور مہذب ہوں گے ۔ ان گھروں سے کبھی اونچی آواز میں گفتگو یا لڑائی جھگڑے کی آواز نہیں سنی جاتی نہ دیکھی جاتی ہے ۔ مہذب گھرانوںمیں ہمیشہ اچھی باتوں کی تعلیم اورتربیت کی جاتی ہے کہ چوری چکاری اورجھوٹ سے پرہیز کیاجائے، اساتذہ کرام، خواتین اوربزرگوں کااحترام کیاجائے ، بچوںسے محبت سے پیش آیاجائے ، سچ بولاجائے اورہرکسی سے تمیز وتہذیب سے گفتگو کی جائے ۔ایسے والدین کی صحبت سے محلے بھر میں ان بچوںکا بھی احترام کیاجاتا ہے ۔ یعنی والدین مرکز ہیں اور بچے ان کے گرد گردش کررہے ہیںجیسا کہ سورج کے گرد اپنے اپنے مدار میں زمین ، چاند اور سیارے گردش کررہے ہیں ۔ جس دن یہ سیارے اپنے مرکز یعنی دائرے سے باہرنکلے تو تباہ ہوجائیں گے۔ 
اپنے  مرکز  سے  اگر دور  نکل  جاؤ  گے 
خاک ہوجاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
تو اپنے مرکز سے جڑے رہنے کاراز صرف ایک لفظ ''وفاداری ''میں پوشیدہ ہے کہ مرکز سے ، قائد سے ، رہنماء سے وفادار رہا جائے، رہنماء سے وفادار رہنے کا واحد ابتدائی طریقہ یہ ہے کہ آپ کی تحریک میں اضافہ ہواوراپنی فکری اورانقلابی تحریک میں اضافے کیلئے ''نظم '' اور''ضبط'' کو قائم رکھنا ہے ۔
نظم وضبط:(Discipline)
نظم کے لفظی معنی ترتیب کے ہیں، آپ کے مشاہدے میں فوجی پریڈآتی رہی ہوگی ، تمام فوجی سپاہی مخصوص فاصلے اورترتیب کے ساتھ ایک قطار میں کھڑے ہوتے ہیں ، ایک ساتھ اٹینشن کرتے ہیں، ایک ساتھ مارچ کرتے ہیں ، ایک ساتھ پیر زمین پر مارتے ہیں اور اسی طرح ایک ساتھ ہی اپنی بندوق پر ہاتھ مارتے ہیں ۔ ترتیب کا یہ مظاہرہ دیکھنے میں انتہائی اچھا محسوس ہوتا ہے ۔ یعنی کوئی بھی عمل اگر نظم کے ساتھ اورترتیب کے ساتھ کیاجائے تو وہ دیکھنے میں بھی بہت خوبصورت دکھائی دیتا ہے لیکن اس نظم کو قائم رکھنے کیلئے بسااوقات خود پر جبرکرنااوربرداشت کرنا بہت ضروری ہوتا ہے اور برداشت کے اسی عمل کو ضبط کہاجاتا ہے۔
اب آپ تصورکیجئے کہ کسی فوج کے تمام سپاہی ایک قطار میں کھڑے ہیں اور اس ملک کا صدریا آرمی چیف پریڈ کا معائنہ کررہا ہو اوراتفاق سے کوئی کیڑا کسی سپاہی کی پتلون میں گھس کراسے کاٹنے لگے ، سپاہی کو شدید جلن یاتکلیف محسوس ہورہی ہو لیکن اسے خود پر جبرکرناپڑتاہے، تکلیف اورجلن کو برداشت کرناپڑتا ہے کہ اگر اس نے نظم کو توڑکراپنے جسم پر کھجانا شروع کیاتو نہ صرف ترتیب خراب ہوجائے گی بلکہ اسے سزا کابھی سامنا کرناپڑے گا۔اب کسی مسجد میں باجماعت نماز پڑھی جارہی ہو، سب ایک قطار میں ہاتھ باندھے کھڑے ہوں ایسے میں کسی نمازی کواچانک شدید کھجلی محسوس ہو اوروہ ہاتھ چھوڑ کر دونوں ہاتھوں سے اپنا جسم کھجانے لگے تو آپ اندازہ کیجئے کہ اس صف بندی یا جماعت کی کیا شکل ہوگی ؟اگروہ شخص کھجلی برداشت کرلے اورنظم نہ توڑے تو جماعت کی خوبصورتی قائم رہتی ہے اورصف بندی کی خوبصورتی بھی برقراررہتی ہے ۔لہٰذا نظم یاترتیب کی خوبصورتی قائم رکھنے کیلئے انسان کو ضبط وبرداشت کے مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے اور نظم کے ساتھ ساتھ ضبط سے بھی کام لینا پڑتا ہے ۔ ایسے عمل کو نظم وضبط (Discipline) کہاجاتا ہے ۔

٭٭٭٭٭


8/6/2020 1:43:40 PM