Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سندھ کاغیرت مند بچہ بچہ پنجاب سامراج کی غلامی سے آزادی چاہتاہے ۔ الطاف حسین


 سندھ کاغیرت مند بچہ بچہ پنجاب سامراج کی غلامی سے آزادی چاہتاہے ۔ الطاف حسین
 Posted on: 2/18/2020
 سندھ کاغیرت مند بچہ بچہ پنجاب سامراج کی غلامی سے آزادی چاہتاہے ۔ الطاف حسین
سندھ اس وقت پنجاب کی کالونی بناہواہے ، سندھ کے تمام وسائل پر پنجاب کاقبضہ ہے ۔الطاف حسین
سندھی اور اردوبولنے والوں کو متحدکرنے کی کوششیں شروع کیں تو لوگوںکوگمراہ کرنے کیلئے کہاجارہاہے کہ میں نے لفظ مہاجر چھوڑدیاہے 
میں نے اپنے ہزاروں ساتھیوں اوراپنے بھائی بھتیجے کی قربانی کیا اسلئے دی تھی کہ میں اپنے نظریہ سے دستبردارہوجاؤں؟کیامیںاپنے شہیدوں کے خون کا سودا کر سکتاہوں؟۔الطاف حسین
 اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ شناخت کے اعتبارسے ہم مہاجر ہیںلیکن وطنی اعتبار سے ہم سندھی ہوئے۔الطاف حسین
 وقت کاتقاضہ ہے کہ سندھی اورمہاجر ایک دوسرے کے وجود کی حقیقت کوتسلیم کریں اورایک دوسرے کوگلے لگائیں ۔الطاف حسین
 سندھ کے جوسچے سپوت سندھ کے مستقل باشندوں کے درمیان اتحاد کی بات کررہے ہیں وہ عظیم ہیں۔الطاف حسین
سائیں جی ایم سید کے تمام عاشقوں اورسندھ وطن کوماںسمجھنے والوںکی طرف سے الطاف بھائی کوسلام پیش کرتاہوں۔ ڈاکٹرصفدرسرکی 
سندھ کے مستقل باشندوں کو اتحاد کی جانب بڑھناہوگا،اگرہم ایک ہوگئے توانشاء اللہ آزادی اور فتح ہمارا مقدر ہوگی ۔ ڈاکٹرصفدرسرکی
 سندھی اوراردوبولنے والے سندھ کی آزادی کے لئے متحدہوجائیں اورمشترکہ جدوجہدکاآغازکریں۔ڈاکٹرصفدرسرکی 
قائدتحریک الطاف حسین اور جئے سندھ تحریک کے سربراہ ڈاکٹر صفدر سرکی کامشترکہ خطاب 

ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ سندھ کاغیرت مند بچہ بچہ پنجاب سامراج کی غلامی سے آزادی چاہتاہے ، سندھ اس وقت پنجاب کی کالونی بناہواہے ، سندھ کے تمام وسائل پر پنجاب کاقبضہ ہے ، سندھ کے مستقل باشندے اب اس غلامی اورقبضہ سے نجات چاہتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کواب اس بات کوسمجھ لیناچاہیے اوراس قبضہ کوختم کرکے سندھ کوسندھ کے حوالے کردیناچاہیے ورنہ وہ دن بہت جلد آرہاہے کہ ہم قابض قوتوں کوواضح الٹی میٹم دیںگے اورسندھ کے عوام اپنی دھرتی کوقابضین سے آزادکرالیںگے۔ انہوں نے یہ بات آج جئے سندھ تحریک کے سربراہ ڈاکٹر صفدر سرکی کے ساتھ اپنے اہم اورمشترکہ خطاب میں کہی۔ اس موقع پر ڈاکٹرصفدرسرکی نے بھی خطاب کیااورسندھ کے سندھی اوراردوبولنے والوںسے کہاکہ وہ سندھ کی آزادی کے لئے متحدہوجائیں اورمشترکہ جدوجہدکاآغازکریں۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر سندھ کے مستقل باشندوں کے درمیان اتحاد، پیار، محبت اورہم آہنگی کے لئے اپنے نیک جذبات کااظہارکیا۔ جناب الطاف حسین نے جئے سندھ تحریک کے بانی اوربزرگ رہنماسائیں جی ایم سید کوخراج عقید ت پیش کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے رہنماؤں میں پاکستان کے حق میں قراردادکی حمایت کرنے والوں میں سوائے رہبرسندھ سائیں جی ایم سید کے علاوہ کوئی دوسرا رہنما نہیں ہے، ان کی قربانیوںکامقابلہ کوئی نہیں کرسکتا، وہ اپنے نظریہ پر قائم رہنے والے ایک بہادر رہنماتھے ، انہوںنے اپنے نظریہ کی خاطر ساری زندگی اسیری اور نظربندی میں گزاری لیکن اپنے نظریہ سے پیچھے نہیں ہٹے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میںنے جب بھی سندھ میں سندھیوںاورمہاجروں کے درمیان اتحاد ویکجہتی اورافہام وتفہیم کی بات کی تومیرے خلاف پروپیگنڈے شروع کردیے گئے تاکہ میری کوششوںکوسبوتاژ کیا جاسکے ، میں نے ماضی میں سائیں جی ایم سید کے ساتھ ملکر سندھی مہاجراتحاد کی کوشش کی تو اس وقت میرے خلاف پروپیگنڈے کئے گئے کہ میں مہاجرنظریہ 

 سے ہٹ رہاہوں، میں نے 1997ء میں مہاجر قومی موومنٹ کومتحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کیاتوپروپیگنڈے کئے گئے کہ میں نے تمام قومیتوںکی بات کرکے اسٹیبلشمنٹ سے معاملہ کرلیاہے، حالانکہ میں نے زبانی بات نہیں بلکہ اپنے گھر عزیزآباد سے سندھی بولنے والے بھائی کوقومی اسمبلی کارکن بنایا اورعملاً بتایاکہ سندھی بولنے والے میرے دل کے قریب ہیں ۔ میں نے سندھی اور اردوبولنے والوں کوقریب لانے اورآپس میں متحدکرنے کی ایک بارپھر کوششیں شروع کی ہیں اور سائیں شفیع برفت سے بات کی توایک بارپھرمیرے خلاف پروپیگنڈے کئے جارہے ہیںاورلوگوںکوگمراہ کرنے کیلئے کہاجارہاہے کہ میں نے لفظ مہاجرچھوڑدیاہے ۔ انہوںنے کہا کہ کیامیں نے اپنے ہزاروں ساتھیوں اوراپنے بھائی اوربھتیجے کی قربانی اسلئے دی تھی کہ میں اپنے نظریہ سے دستبردارہوجاؤں؟اپنے شہیدوں کے خون کاسودا کرلوں؟ایسی بات کرنے والوںکوشرم آنی چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ بہت سارے شاؤنسٹ لکھاری، اینکراورکالم نگارکہہ رہے ہیںکہ الطاف حسین سندھی مہاجراتحاد کی بات کیوںکررہاہے۔ انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان سے پہلے پنجاب، سندھ ،بلوچستان، پختونخوا،آزادکشمیراور گلگت  بلتستان تھا، پاکستان بنا تو چار صوبے بنائے گئے ،سب کی اپنی اپنی زبانیں تھیں، ہمارے بزرگ ہندوستان سے ہجرت کرکے سندھ میں آکرآباد ہوئے ، ان کی مادری زبان اردو ہے، انہیں سندھ کے بعض لوگوںنے پناہ گیر کہاجبکہ وہ پناہ گیرنہیں تھے بلکہ انہوں نے اپنا آبائی وطن ترک کرکے سندھ کواپناوطن بنالیاتھالیکن انہیں تلیر، مکڑ ، مٹروا اور مختلف تضحیک ناموںسے پکارا گیا ۔ ان حالات میں مہاجروں میں اپنی شناخت کا تصورپیداہو، ہم نے اپنی تنظیم بناکر اپنی شناخت کی بات کی اور ہجرت کی بنیادپر خودکومہاجرکہلاناشروع کردیا۔ انہوں نے کہاکہ چاہے اب کوئی بھی ہمیں کسی بھی نام سے پکارے لیکن اب اس حقیقت سے کوئی بھی انکارنہیں کرسکتاکہ شناخت کے اعتبارسے ہم مہاجر ہیں لیکن چونکہ ہم سندھ میں آکرمستقل طور پر آباد ہوئے لہٰذا وطنی اعتبار سے ہم سندھی ہوئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ اب مہاجروںکاجینامرنا سندھ دھرتی سے وابستہ ہے ، اب ہمیں یہاں سے کہیں اور نہیں جاناہے لہٰذا سندھیوں اورمہاجروں کویہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ نہ سندھی بھائی مہاجروںکوختم کرسکتے ہیں اورنہ ہی مہاجر سندھی کوختم کرسکتے ہیں، دونوں ایک حقیقت ہیں اورجوکسی دوسرے کے وجود کوختم کرنے کی سوچ رکھتا ہے اس کی سوچ غلط ہے ، ایسی سوچ رکھ کرہم ایک دوسرے کونقصان توپہنچاسکتے ہیں لیکن ختم نہیں کرسکتے ۔ وقت کاتقاضہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے وجود کی حقیقت کوتسلیم کریں اورایک دوسرے کوگلے لگائیں، نفرت کے بجائے محبت کی بات کریں،نفرتیں پھیلانے والوںکی باتوں میں ہرگز نہ آئیں اور نفرتوں کا خاتمہ کرکے ایک ہوجائیں۔ انہوں نے کہاکہ زبان کابھی کوئی مسئلہ نہیںہے ، اگرسندھی بھائی انگریزی سیکھ سکتے ہیں تواردوکیوں نہیں سیکھ سکتے، اسی طرح مہاجر اگرانگریزی زبان سیکھ سکتے ہیں تو سندھی زبان کیوں نہیں سیکھ سکتے؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کچھ لوگوں نے مہاجرستان یامہاجردیش کی بات کی تو اس پر اعتراض ہوا، ہم نے اس اعتراض کوختم کرنے کیلئے مہاجروں اور سندھیوں کو ملاکر ''سندھو مہادیش'' نام رکھ دیا، ہمارے نزدیک نام اہمیت نہیں رکھتا ، نام کچھ بھی رکھاجاسکتاہے، پہلے سندھ کوپنجاب کی غلامی سے آزاد کرالیاجائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ کے سچے سپوت سندھ کی آزادی کیلئے ہم سے مل رہے ہیں توسندھ کے عوام کوان کے خلاف بھڑکایا جارہاہے کہ انہوں نے الطاف حسین سے ہاتھ ملاکرسندھ کو بیچ دیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے جوسچے سپوت سندھ کی خاطر سندھ کے مستقل باشندوں کے درمیان اتحاد کی بات کررہے ہیں وہ عظیم ہیںاورمیں سائیں جی ایم سید کی فکرکوآگے لے جانے والے اورسندھ کی آزادی کی جدوجہد کرنے والے سندھ ایک ایک سچے سپوت کوسیلوٹ پیش کرتاہوں۔ انہوںنے کہاکہ سندھ کے عوام پیپلزپارٹی کے رہنماؤںکوسندھ کاہمدردنہ سمجھیں ، اصل میں یہ جی ایچ کیو اور آبپارہ کے پیارے ہیں۔ انہوںنے سندھی عوام سے سوال کیاکہ پیپلزپارٹی 1970ء سے اقتدار میں آرہی ہے لیکن اس نے سندھ کیلئے کیاکیا؟ عام غریب سندھیوں کو کیادیا؟ نوڈیرو، رتوڈیرو، لاڑکانہ، خیرپور،شکارپور،گھوٹکی، دادواوراندرون سندھ کے دیگرعلاقوں میں آج بھی غریب سندھی عوام پکے گھروں، تعلیم، روزگار، سڑکوں ، اسپتالوں ،پانی ، سیوریج کے نظام اورزندگی کی بنیادی سہولتوںسے محروم ہیں۔پیپلزپارٹی کے ان وڈیروںنے سندھ کانام لیکراقتدارحاصل کیا لیکن سندھ کے غریب عوام کی حالت بہتربنانے کے بجائے سندھ کولوٹا، اپنی دولت میں اضافہ کیا، انہوںنے اپنے مفادات کیلئے سندھ کوپنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کی 

کالونی بنادیا،سندھ کی زمینیں فوج اوراس کے ایجنٹوں میں تقسیم کیں، آج پوراسندھ پنجاب کی کالونی بناہواہے۔ جناب الطاف حسین نے سندھ کے عوام خصوصاً نوجوانوںاور طلبہ وطالبات کودعوت دیتے ہوئے کہاکہ وہ گروپ بناکر سندھ میںموجود تمام آئل فیلڈز، گیس فیلڈز اور جہاںجہاں سے کوئلہ اور دیگرمعدنی وسائل پیداہورہے ہیں وہاں کا دورہ کرکے خود دیکھیں کہ سندھ کے معدنی وسائل کے ان مراکز پر سندھ کے لوگوںکا کنٹرول ہے یاان کاکنٹرول سندھ سے باہر کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے ، اسی طرح سے سندھ کے نوجوان اس بات کا بھی مشاہدہ کریںکہ یہ معدنی وسائل پیدا ہونے کے بعد سندھ میں استعمال ہوتے ہیں یاسندھ سے باہر لے جائے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی دیکھیں کہ سندھ میں قائم تمام فوجی چھاؤنیوںمیں کیا سندھ سے تعلق رکھنے والی فوج ہے یاسندھ سے باہر کی ؟ انہوںنے کہاکہ سندھ کودھرتی ماںکہاجاتاہے لیکن دھرتی ماں اس وقت غیروں کے ہاتھوںغلام بنی ہوئی ہے اورجودھرتی ماں کی بے حرمتی دیکھ رہے ہیں وہ بے غیرتی کے مرتکب ہورہے ہیں، سندھ کے سپوتوں کو غیرت مندی کامظاہرہ کرتے ہوئے دھرتی ماںکوبے حرمتی سے نجات دلاناچاہیے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ کے تمام غیرتمندبیٹے بیٹیاں، مائیں بہنیں متحد ہوںاوردھرتی ماں کوغلامی اوربے حرمتی سے نجات دلانے کیلئے متحدہوجائیں ، پختہ ارادہ کرلیں توپختہ ارادہ، جرات وہمت اوریقین کامل کے ساتھ عملی جدوجہدشروع کردیں تو جلد ہی وہ دن آئے گاکہ جب ہم سندھ کواپنی کالونی بنانے والوںسے پیار سے کہیں گے کہ وہ تین دن کے اندرسندھ چھوڑدیں ، وگرنہ ہم حضرت لعل شہباز قلندر کے ماننے والے ہیں، ہم ان کے مزار پر جاکر دمادم مست قلندرکریںگے اورسندھ دھرتی کوقابضین سے آزادکرالیںگے۔
 اس موقع پر جئے سندھ تحریک کے سربراہ ڈاکٹرصفدرسرکی نے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ سائیں الطاف حسین بھائی نے سندھ کی آزادی کاجوبیڑااٹھایا ہے اور وہ سندھ کے بیٹوںکوجودعوت دے رہے ہیں دراصل یہ دعوت عشق ہے ،اس عشق کی معراج حاصل کرنے کیلئے یہاں میلہ لگاہے اورمیں سائیں جی ایم سید کے تمام عاشقوں اورسندھ وطن کوماںسمجھنے والوںکی طرف سے الطاف بھائی کوسلام پیش کرتاہوں۔ ڈاکٹرصفدرسرکی نے کہاکہ سائیں جی ایم سید کے ہرعاشق کو علم ہے کہ سائیں الطاف اردو اورسندھی کے اتحاد کی بات کرتے ہیں، ہم ایک دھرتی کے باشندے ہیںاورجوبھی سائیں جی ایم سید کی تعلیمات سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ سائیں نے ہمیشہ یہ بات کی ہے کہ سندھ کی آزادی کی راہ میں تمہارانفاق سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو پنجاب نے پیدا کیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ الطاف بھائی نے سندھ کے مستقل باشندوں کے درمیان اتحاد کی بات کی توسندھ سے میری محبت نے مجھے الطاف بھائی کی حمایت پر مجبور کردیا۔ انہوںنے کہاکہ کوئی بھی اکیلاسندھ کوآزاد نہیں کراسکتااورسندھ کی آزادی کیلئے ہمیں چھوٹے چھوٹے بکسوںسے باہرآناہوگا۔ ڈاکٹرصفدرسرکی نے کہاکہ جس طرح سندھی ساماٹ ، بلوچ، سیداورراجپوت نسلوںکاتاریخ میں زکرہے ، شیخ ، میمن، اتراوی،سرکی اورمختلف قبیلوں کے تضادات ہمارے اندر ہیں ،اسی طرح مہاجربھی ایک بڑی نسل ہیں جن میں مختلف برادریاں ہیں۔ سندھ کی عظیم تاریخ میں دوسری قومیں شامل ہوئیں ، اب ایک جدید قوم بنانے کے لئے ہمیں کھلے ذہن اوروسیع سوچ رکھنی ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ جب برطانیہ میں رہنے والی مختلف قومیں انگلش سیکھ سکتی ہیں تو زبانوںکے معاملے میں ہمیں بھی اپنے ذہنوں میں وسعت رکھنی ہوگی اورتعصبات سے پاک ہوناہوگا۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح برصغیرکوکالونی بنانے کے لئے عوام کومذہب کی بنیاد پر تقسیم کیاگیاتھااسی طرح پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ سند ھ کے مستقل باشندوںکوبھی آپس میں لڑاتی آئی ہے، آج بھی اسٹیبلشمنٹ کے پے رول پر کام کرنے والے بعض سندھی اوراردو بولنے والے نفرتوں کے بیج بورہے ہیں۔ ڈاکٹرصفدرسرکی نے کہاکہ الطاف بھائی نے تحریک بنائی لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ بعض اردوبولنے والے آج انہیں غلط کہہ کرخود مہاجروں کے دعویدار بنے ہوئے ہیں اورمہاجروںپر ظلم ڈھانے والی اسٹیبلشمنٹ کے خلا ف آواز اٹھانے کے بجائے الطاف بھائی کے خلاف بول رہے ہیں ، اسی طرح وہ سندھی جواسٹیبلشمنٹ کے پے رول پر ہیں وہ فری کراچی کی باتیں کرنے والوں کے خلاف توایک لفظ نہیں بول رہے ہیں لیکن جو الطاف حسین سندھ کے حقوق اورسندھ کی آزادی کی بات کررہے ہیں ان کوتنقیدکانشانہ بنارہے ہیں۔ ڈاکٹرصفدرسرکی نے کہاکہ زرداری کی پیپلزپارٹی بھی غریب سندھیوںکومہاجروںسے ڈراکر سندھ کی اصل قوت اوراصل لیڈر کے خلاف آئی ایس آئی کی زبان بول رہی ہے ِ ،

 پیپلزپارٹی نے اتنے برسوں اقتدارمیں رہ کر کراچی سے نوابشاہ تک سندھ کوپنجاب اورفوج کے ہاتھوں بیچ ڈالاہے ، سندھ کی تمام زمینوںکوبحریہ ٹاؤن، فضائیہ ہاؤسنگ اوراسی طرح کی دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر ریٹائرڈ فوجیوں کودیدیاہے ، سندھ کی زمینیں ریٹائرڈفوجی جرنیلوں میں تقسیم کی جارہی ہیں اور سندھ کانام لیکر سندھ کوتباہ کیاجارہاہے، نئی نئی کالونیاںاوربلڈنگیںبناکر وہاں باہرسے لوگوںکولاکرآباد کیاجارہاہے ۔ سندھ کے تمام سچے عوام کوسوچناہوگاکہ کیا وہ خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھتے رہیںگے۔ڈاکٹرصفدرسرکی نے کہاکہ سندھی اورمہاجرسندھ کے مستقل باشندے ہیں، نہ سندھی مہاجروںکوختم کرسکتے ہیں اورنہ ہی مہاجرسندھی کوختم کرسکتے ہیں، دونوںکوسوچناہوگاکہ انہیں ملکر رہنا ہے یاسول وار کی طرف جاناہے کیونکہ تاریخ میں ہونے والی سول وار میں تباہی اورانسانی جانوں کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہوا ۔انہوں نے کہاکہ سندھی اوراردوبولنے والوںکو ہوشن کے ناخن لینے چاہئیں اورمنفی باتوںمیں اپناوقت ضائع نہیںکرناچاہیے اورنفرتیں پھیلانے والوںکی باتوں میں آنے کے بجائے آپس میں متحدہوناچاہیے ۔ڈاکٹرصفدرسرکی نے کہاکہ ہم محبت کرنے والے امن پسند لوگ ہیں، سائیں جی ایم سیدجیساامن پسند کوئی نہیں، مستقل امن کیلئے آزادی ضرور ی ہے ، آزادی کیلئے جدوجہد ضروری ہے ، جدوجہد کیلئے اتحاد ضروری ہے اوراتحاد کیلئے منظم آرگنائزیشن ضروری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میں سندھ کے تمام سچے سپوتوںاورسائیںجی ایم سید کے سچے پیروکاروں کی جانب سے الطاف بھائی کاشکرگزارہوں کہ انہوں نے ہمیںبے پناہ محبت دی۔ جناب الطاف حسین نے ڈاکٹرصفدرسرکی کی باتوں سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ آج سندھ کے مستقل باشندوں کوفیصلہ کرتے ہوئے اتحاد کی جانب بڑھناہوگااوراگرہم ایک ہوگئے توانشاء اللہ آزادی، فتح اورکامرانی ہمارامقدرہوگی۔

٭٭٭٭٭


5/29/2020 5:16:37 PM