Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آزاد سندھ ہی سندھیوں اورمہاجروں کے مسائل کادائمی اورمستقل حل ہے ۔الطاف حسین


  آزاد سندھ ہی سندھیوں اورمہاجروں کے مسائل کادائمی اورمستقل حل ہے ۔الطاف حسین
 Posted on: 1/6/2020 1


 آزاد سندھ ہی سندھیوں اورمہاجروں کے مسائل کادائمی اورمستقل حل ہے ۔الطاف حسین
آج تک سندھ میں جتنے بھی سندھی مہاجرفسادات ہوئے وہ ہوئے نہیں بلکہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ اورآئی ایس آئی نے کرائے تھے
اگرسندھی اورمہاجر آپس میں لڑتے رہے توسندھ پنجاب کی کالونی اورمقبوضہ علاقہ بنارہے گا
 سندھیوں اور مہاجروںکو ماضی کی تلخیوں کوفراموش کرکے متحد ہونا ہوگااورمقبوضہ سندھ کو آزادکرانے کیلئے مشترکہ جدوجہدکرنی ہوگی
 الطاف حسین اورشفیع برفت اپنے مفادکے لئے نہیںبلکہ سندھ دھرتی کی آزادی کے لئے ایک ہوئے ہیں
سندھ آزادہوگاتویہاں ملازمتوںاورداخلو ں میںکوئی تفریق نہیںہوگی اورسندھیوںاورمہاجروںکابرابرکاحق ہوگا
 جرنیلوںنے چائناکے ہاتھوںپاکستان کاسوداکرلیاہے، سندھی اورمہاجر کسی بھی بیرونی طاقت کا سندھ پرقبضہ نہیں ہونے دیںگے
 امریکی حملے میںایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے نتیجے میںتیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں 
جب بھی عالمی جنگ ہوئی ہے ،اسکے نتیجے میں نئے نئے ممالک نے جنم لیا، اگرسندھ کے عوام جاگتے رہے تووہ بھی آزادی حاصل کرلیںگے
میں بلوچستان کی بھی آزادی چاہتاہوں،میری خواہش ہے کہ پشتون، گلگتی،کشمیری ، ہزارے وال اورتمام مظلوم قومیں آزادی حاصل کریں
 تاریخ کے تسلسل نے سندھی اوراردوبولنے والوں کوایک کرنے کافیصلہ کرلیاہے، سندھ کے مستقل باشندوں سے فکری نشست سے خطاب

لندن  …  6  جنوری  2020ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ سندھی اورمہاجردونوںسندھ دھرتی کے مستقل باشندے ہیں جن کاجینامرناسندھ دھرتی سے وابستہ ہے، اگرسندھی اورمہاجر آپس میں لڑتے رہے توسندھ اسی طرح پنجاب کی کالونی اورمقبوضہ علاقہ بنارہے گااورسندھ دھرتی کے مستقل باشندے غلام بنے رہیںگے۔ اس غلامی سے نجات کیلئے سندھیوں اور مہاجروںکو ماضی کی تلخیوں کوفراموش کرکے متحد ہونا ہوگااورمقبوضہ سندھ کوپنجاب کی غلامی سے آزادکرانے کیلئے مشترکہ جدوجہدکرنی ہوگی ، سندھ دھرتی کے مستقل باشندوں کواب یہ سمجھ لیناچاہیے کہ آزاد سندھ ہی ان کے مسائل کادائمی اورمستقل حل ہے ۔ انہوںنے ان خیالات کااظہاراتوارکو سندھ کے مستقل باشندوں سے ایک اہم فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ فکری نشست سوشل میڈیا کے ذریعے براہ راست نشرکی گئی جسے سندھ سمیت پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ برطانیہ، امریکہ ،کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی، ساؤتھ افریقہ، خلیجی ممالک اوردیگراوورسیزیونٹوں میں موجود قوم پرست رہنماؤںاورکارکنوں کے ساتھ ساتھ عام سندھیوں اور مہاجروں نے بھی بڑی تعدادمیں سنا۔ 
فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج ہمیں اس بات پرغورکرناہوگاکہ جب ہماراملک ایک ہے اور پاکستان میں آباد تمام لوگوں کی وطنی شناخت پاکستانی ہے تو پھر سندھی بھائیوںکوسندھی شناخت کی بات کیوں کرناپڑی؟ اسی طرح قیام پاکستان کے لئے جانی ومالی قربانیاں دینے والے اورپاکستان کے لئے ہجرت کرنیو الے ار دوبولنے والوںکوخودکومہاجرکہلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟انہوںنے کہاکہ اگرکسی باپ کی پانچ اولادہوںاورجب کسی ایک بچے کونظرانداز کیاجائے،کسی کوچھوٹاکسی کوبڑا، کسی کواعلیٰ کسی کوادنیٰ، کسی کوآقا اورکسی کوغلام تصور کیاجائے تواس سے تفریق پیداہوگی اورجہاں تفریق پیداہوگی وہاںاحساس محرومی اور سوچ وفکر کاپیدا ہونافطری عمل ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس طرح نوآبادیاتی دور میں انگریزوں، فرانسیسیوںاورپرتگالیوں نے کئی ممالک کواپنی کالونی بنالیاتھااسی طرح آج پنجاب نے فوج کی طاقت کی بنیادپر سندھ، بلوچستان،خیبر پختونخوا، قبائلی وشمالی علا قوں، گلگت  بلتستان اورکشمیرکواپنی کالونی بنارکھاہے۔ جس طرح سلطنت برطانیہ نے ہندوستان پراپناقبضہ خوشی سے ختم نہیں کیابلکہ جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم کی وجہ سے انگریزوںکااپنی کالونیوںپر قبضہ برقراررکھنا مشکل ہوگیاتھاجس کی وجہ سے اسے ہندوستان کو آزاد کرنا پڑا۔انہوں نے کہاکہ میں سندھ دھرتی ماں اورشہیدوںکے لہوکی قسم کھاکرکہتاہوں کہ جس طرح انگریز خوشی سے اپنی کالونیاں چھوڑکرنہیں گئے اسی طرح سلطنت پنجاب بھی سندھ اوراپنی دیگر کالونیوں پر خوشی سے قبضہ ختم نہیں کرے گا بلکہ اس قبضہ کوختم کرانے کے لئے مقبوضہ سندھ اوردیگرمقبوضہ علاقوں کے محکوم عوا م کوعملی جدوجہد کرنا ہوگی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج صوبہ سندھ پنجاب کی کالونی بناہواہے، سندھ میں موجودفوج، رینجرزتمام سیکوریٹی فورسز پنجاب کے لوگوںپر مشتمل ہے، سندھ میں کورکمانڈر، ڈی جی رینجرز، آئی جی پنجاب سے آتاہے، چیف سیکریٹری سمیت تمام بڑے افسران پنجاب سے آتے ہیں، سندھ سے نکلنے والی گیس، تیل ، کوئلہ اورتمام معدنیات پر پنجاب کاقبضہ ہے ، پنجاب کے فوجی جرنیلوںکوریٹائرمنٹ کے بعد سندھ کی زمینیں دی جاتی ہیں،پوراسندھ آج ایک مقبوضہ علاقہ بنا ہواہے۔ انہوں نے کہاکہ آج سندھی نوجوانوں خصوصاً اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات کوسوچناہوگاکہ کیا وہ سندھ دھرتی کو ہمیشہ پنجاب کی کالونی بنے ہوئے دیکھناچاہتے ہیں؟ کیااردو بولنے والے بھی اسی طرح غلام بنکر رہناچاہتے ہیں؟ کیاوہ یہ گواراکریں گے کہ ان کی بہنیں بیٹیاں پنجاب کی فوج کی کنیزبن جائیں؟سندھ مقبوضہ علاقہ بنارہے اور سندھی اورمہاجر اپنی مقبوضہ دھرتی کواس قبضہ اورغلامی سے آزاد کرانے کے بجائے ایک دوسرے سے باہم دست و گریباں ہوتے رہیں اورایک دوسرے کے دشمن بنے رہیں؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں سندھ دھرتی ماں کی قسم کھاکر اورمہاجروںکی ہجرت اورقیام پاکستان کے لئے لاکھوں جانوںکی قربانیاں دینے والے شہیدوں اورسندھ دھرتی کے تمام سندھی اورمہاجرشہداکے لہو کی قسم کھاکرکہتاہوں کہ سندھی اورمہاجرآپس میں لڑے نہیں بلکہ انہیں لڑایاگیاتھا، بھٹو کے زمانے سے لیکرآج تک سندھ میں جتنے بھی سندھی مہاجرفسادات ہوئے وہ ہوئے نہیں بلکہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ اورآئی ایس آئی نے کرائے تھے اوراس میں سندھیوںاورمہاجروںمیںموجود آئی ایس آئی کے ایجنٹ آلہ کار بنے ۔ انہوںنے کہاکہ میں دنیا کی کسی بھی عدالت میں اس بات کوثابت کرسکتاہوںاوراگرثابت نہ کرسکوںتوجوچورکی سزاوہ میری سزا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میراایمان ہے کہ سندھی اورمہاجردونوںسندھ دھرتی کے مستقل باشندے ہیں جن کاجینامرناسندھ دھرتی سے وابستہ ہے ، جس طرح سندھی مرنے کے بعد سندھ میں دفن ہوتاہے اسی طرح مہاجربھی مرنے کے بعد سندھ دھرتی میں ہی دفن ہوتاہے ،مہاجروں کی لاشیںدفن ہونے کے لئے ہندوستان یاکسی اورعلاقے میںنہیں جاتیں، سندھی جوکماتاہے وہ سندھ میں خرچ کرتاہے، مہاجربھی جو کماتا ہے وہ سندھ میں خرچ کرتاہے، سندھی اگر ملک سے باہر کماتاہے تووہ کماکرپیسہ سندھ میں بھیجتاہے، اسی طرح مہاجربھی ملک سے باہر پیسہ کماکرسندھ ہی بھیجتا ہے اگرسندھی اورمہاجر آپس میں لڑتے رہے توسندھ اسی طرح پنجاب کی کالونی اورمقبوضہ علاقہ بنارہے گااورسندھ دھرتی کے مستقل باشندے غلام بنے رہیںگے۔ اگراس غلامی سے نجات حاصل کرنی ہے توسندھیوں اور مہاجروںکو ماضی کی تلخیوں اوراپنے اختلافات کوفراموش کرکے آپس میں متحد ہونا ہوگااورمقبوضہ سندھ کوپنجاب کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے مشترکہ جدوجہدکرنی ہوگی ۔ سندھی اورمہاجردونوں سندھ دھرتی کے بیٹے ہیں اوردونوں کواب یہ سمجھ لیناچاہیے کہ آزاد سندھ ہی ان کے مسائل کادائمی اورمستقل حل ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اب جبکہ سندھ دھرتی کے حقیقت پسنداورسچے قوم پرست سندھی اورمہاجرمشترکہ جدوجہد کے لئے قریب آرہے ہیں توبعض عناصر اس طرح کے سوالات اٹھارہے ہیںکہ سندھ آزادہوگیاتونظام تعلیم کیاہوگا، سرکاری زبان کونسی ہوگی ، کوٹہ سسٹم قائم رہے گایانہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کی باتوں میں ہمیں الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ہم الجھے رہیں اورہمیں مار مارکرغلام بننے پر مجبورکردیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ سب فروعی معاملات ہیں، ہمیں اس بحث میں نہیں پڑناچاہیے، سندھ کی آزادی کے بعد سندھی اورمہاجرآپس میں مل جل کر ایسے معاملات کوحل کرلیں گے۔ انہوں نے کہاکہ دنیامیں کتنے ہی ممالک ہیںجہاں ایک سے زائد زبانیں بولی ، لکھی اورپڑھی جاتی ہیں، کئی ممالک میں ایک سے زائد سرکاری زبانیں ہیں، اسی طرح سندھ میں بھی سندھی اوراردو سرکاری زبان ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ جو سندھی بھائی برطانیہ، جرمنی، فرانس ، اسپین، ڈنمارک یا دیگر ممالک میںرہتے ہیں وہ وہاں کیا انگریزی، فرینچ، جرمن، اسپینش، ڈینش یاوہاں کی دیگرمقامی زبانیںنہیں بولتے ؟ کیاوہاںکی مقامی زبانیں بولنے سے ان کی سندھی شناخت اورزبان ختم ہوجاتی ہے؟ اسی طرح ان ممالک میں رہنے والے مہاجرجب وہاں کی مقامی زبانیں پڑھ اوربول سکتے ہیں توانہیں سندھی زبان پڑھنے اور بولنے میں کیااعتراض ہے؟ انہوںنے کہاکہ جہاںتک کوٹہ سسٹم کے سوال کاتعلق ہے توسندھیوںاورمہاجروںکویہ سمجھناچاہیے کہ کوٹہ سسٹم سندھ کے مستقل باشندوںکوتقسیم کرنے کے لئے پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ نے نافذ کروایاتھا، انشاء اللہ سندھ آزادہوگاتویہاں ملازمتوںاورداخلو ں میںکوئی تفریق نہیںہوگی اورسندھیوںاورمہاجروںکابرابرکاحق ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اندرون سندھ میںرہنے والے مہاجروںمیںمستقبل کے حوالے سے بہت خوف اوربے چینی پائی جاتی ہے لہٰذا سندھ کے سچے قوم پرستوںکوچاہیے کہ وہ اندرون سندھ کے ایک ایک علاقے میں جاکروہاںآباد مہاجروںکویقین دلائیںکہ سندھ دھرتی ان کی بھی ہے ، وہ بھی سندھ دھرتی کے باشندے ہیں،سندھ دھرتی نفرت نہیںکرتی بلکہ وہ امن اور پیار کی دھرتی ہے لہٰذا وہ بالکل بے خوف ہوکر رہیںاوراب اندرون سندھ کے علاقوں، بازاروںاورتعلیمی اداروں میںکوئی خوف نہیں ہوگابلکہ سب آپس میںبھائیوںکی طرح رہیں۔ انہوںنے کہاکہ تاریخ کے تسلسل کے عمل نے سندھی اوراردوبولنے والوں کوایک کرنے کافیصلہ کرلیاہے، اگرہم نے تاریخ کے اس فیصلے کونہیں مانا تو ایک دوسرے سے لڑنا تباہی وبربادی کا راستہ ہوگالہٰذا دونوں صبروتحمل سے کام لیں، اپنے دلوںکووسیع کریں ،اتحادویکجہتی کی فضاکوپروان چڑھائیں اورملکر کہیں کہ ہم ایک ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے جئے سندھ تحریک کے بانی اوربزرگ سیاستداںسائیں جی ایم سید مرحوم، عبدالواحدآریسر، بشیرقریشی شہید کوخراج عقیدت پیش کیا اور جئے سندھ متحدہ محاذ کے چیئرمین شفیع برفت، جئے سندھ کے رہنماڈاکٹرصفدرسرکی اورجسمم اورجسقم کے تمام سچے رہنماؤںکوبھی ان کی جدوجہد اور سندھیوں اور مہاجروںکے اتحاد کے لئے ان کی کوششوںاورنیک جذبات کو سراہا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض لوگ کہہ رہے ہیںکہ الطاف حسین اور شفیع برفت اپنے مفادکے لئے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم اپنے اپنے ذاتی مفادکے لئے نہیںبلکہ سندھ کی آزادی کے لئے ایک ہوئے ہیں۔ مجھے اورشفیع برفت کوایک دوسرے سے کچھ نہیں چاہیے،ہم دونوں کامشترکہ مفادآزاد سندھ ریاست ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میںجس طرح سندھ کی آزادی چاہتاہوں اسی طرح میں بلوچستان کی بھی آزادی چاہتاہوں،میری خواہش ہے کہ پشتون، گلگتی،کشمیری ، ہزارے وال اور تمام مظلوم قومیں بھی آزادی حاصل کریں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ امریکہ کے حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے نتیجے میں خطہ کی صورتحال تیزی سے کشیدہ ہورہی ہے، تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں ، اگرامریکہ نے ہوشمندی سے کام نہ لیاتوخطہ میں تیسری جنگ عظیم چھڑجائے گی اورجب بھی عالمی جنگ ہوئی ہے ،اس کے نتیجے میں نئے نئے ممالک نے جنم لیاہے، اگرسندھ کے عوام جاگتے رہے تووہ بھی غلامی سے نجات حاصل کرلیںگے ۔ انہوںنے کہاکہ پنجاب کے جرنیل  امریکہ کی شرائط پر پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام سے دستبردارہوگئے ہیں جبکہ انہوں نے چائنا کے ہاتھوں سی پیک کے نام پر پاکستان کاسوداکرلیاہے ۔انہوں نے کہاکہ جب تک سندھی اورمہاجرزندہ ہیںہم کسی بھی بیرونی طاقت کاقبضہ سندھ پر نہیں ہونے دیںگے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آخرمیں کہا کہ ہمارے ہاتھوںمیںسندھ کی آزادی کاپرچم ہے اورہم سندھی اورمہاجرآپس میں ملکرکہہ رہے ہیں '' اس پر چم کے سائے تلے …ہم ایک ہیں ، ہم ایک ہیں ''  ۔ انہوں نے اپنے خطاب کااختتام ''  آزادسندھ ریاست …زندہ باد  '' کے نعرے سے کیا۔ 
٭٭٭٭٭



7/14/2020 11:30:31 AM