Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان پنجابستان بن چکاہے ، اب کسی بھی مظلوم قوم کا پنجابستان کے ساتھ گزارانہیں ہے۔الطاف حسین


 پاکستان پنجابستان بن چکاہے ، اب کسی بھی مظلوم قوم کا پنجابستان کے ساتھ گزارانہیں ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 1/4/2020 1

 پاکستان پنجابستان بن چکاہے ، اب کسی بھی مظلوم قوم کا پنجابستان کے ساتھ گزارانہیں ہے۔الطاف حسین
 تمام مظلوم قوموں کوغلامی سے نجات اورآزادی کے حصول کیلئے متحد ہوجاناچاہیے ، آزادی کے سواکوئی چارہ نہیں ہے
 بھٹونے فوج کے تیارکردہ منصوبے پرعمل کرتے ہوئے سندھ دھرتی کی ڈیموگرافی کوتبدیل کیا
 بھٹونے سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کرکے سندھیوںاور مہاجروںکوآپس میں لڑایا تاکہ وہ پنجاب کے تسلط کے خلاف آوازنہ اٹھاسکیں
 سندھ کے وڈیرے سندھ دھرتی اور سندھیوںکے دشمن ہیں، انہوں نے سندھ کوپنجاب کی کالونی بنانے کیلئے جرنیلوںکے ہاتھوں سندھ کوبیچا
 سائیںجی ایم سید نے سندھ کی آزادی کانظریہ دیا، عوام کو شعور د یااورزندگی کی آخری سانس تک اپنے نظریہ پر قائم رہے
 سندھی اورمہاجر سندھ دھرتی کے مستقل باشندے ہیں، ان میںیہ قدرمشترک ہے کہ دونوںکاجینامرناسندھ دھرتی سے وابستہ ہے
قدرت نے مہاجروںاورسندھیوںکوتاریخی طورپرایک دوسرے کے ساتھ جوڑدیاہے،مہاجروںکوبھی اب سندھ سے کہیں اورنہیںجاناہے
 سندھی اورمہاجرآپس میں ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے سندھ دھرتی کی آزادی اوراس کے حقوق کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں
لندن سے مظلوم قوموں خصوصاً سندھی عوام سے خطاب
لندن  …  4  جنوری  2020ئ
ایم کیوایم کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان دراصل پنجابستان بن چکاہے ، اب مہاجر،سندھی ،بلوچ ،پشتون ،سرائیکی ، گلگتی  بلتستانی ، کشمیری کسی بھی مظلوم قوم کااس پنجابستان کے ساتھ گزارانہیں ہے، تمام مظلوم قوموں کوغلامی سے نجات اورآزادی کے حصول کے لئے متحد ہوجاناچاہیے ، اپنے حقوق کے حصول کے لئے اب آزادی کے سواکوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہارگزشتہ روز لندن سے مظلوم قوموں خصوصاً سندھی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کے وقت بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے کہاتھاکہ پاکستان ''  تھیوکریٹک اسٹیٹ نہیں ہوگا '' جو انگریزوں کوبرداشت نہیں تھااس لئے انگریزوں نے فوج کے جرنیلوں کے ذریعے قائداعظم محمدعلی جناح کوسازش کے تحت راستے سے ہٹادیا، ان کے دست راست اورملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خا ن کوراولپنڈی میں قتل کردیاگیااورپھرملک پر فوج نے اپناتسلط قائم کرلیا، فوج نے پاکستان پر اپناکنٹرول قائم رکھنے کے لئے ملک توڑناگواراکرلیالیکن عوام کے مینڈیٹ کوتسلیم نہیں کیا، محروم قوموںکوان کے حقوق نہیں دیے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ذوالفقارعلی بھٹونے جرنیلوں کی گودمیںپرورش پائی، وہ پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کو'' ڈیڈی '' کہتاتھا اورجنرل ایوب خان کی فوجی حکومت کاایک ستون اورمہرہ تھا، جنرل ایوب خان کے بعد وہ جنرل یحییٰ کے ساتھ رہا، جنرل یحییٰ کے دورمیں1970ء کے عام انتخابات ہوئے توبنگالیوں کی نمائندہ جماعت عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کی مگرجرنیلوں نے عوامی لیگ کواقتدارنہ دینے کافیصلہ کیا، جرنیلوں کے کہنے پر ہی بھٹو نے '' ادھرہم ،ادھرتم '' کانعرہ لگایااور بنگالیوں کو کچلنے کے لئے مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کی حمایت کی اورفوج کے مفاد کے خاطرملک توڑنا منظور کرلیا ۔فوج کے کہنے پر ہی ذوالفقار علی بھٹونے 70ء کی دہائی میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کیا،بلوچستان اور صوبہ سرحد کی منتخب حکومت کاتختہ الٹا۔ بھٹونے فوج کے تیارکردہ منصوبے پرعمل کرتے ہوئے سندھ کی ڈیموگرافی کوتبدیل کیا،سندھ کے مستقل باشندے سندھی اورمہاجر آپس میں پیاراورمحبت سے رہ رہے تھے کہ فوج کے ہیڈکوارٹرجی ایچ کیو میںسندھ کے مستقل باشندوںکوتقسیم کرنے اورانہیں آپس میںلڑانے کا منصوبہ تیارہواجس کے تحت بھٹو نے سندھ میں نفرتوں کی دیوار کھڑی کرنے کے لئے پہلے لسانی بل پیش کیاجس کی وجہ سے 1972ء میں پہلی مرتبہ سندھ میں لسانی فسادہوا،بھٹوحکومت نے سندھ میں شہری اوردیہی آبادی کوالگ کرنے کے لئے دیہی آبادی کی فلاح وبہبود کے نام پرسندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیا۔ انہوںنے کہاکہ بھٹوکو اگر دیہی عوام سے ہمدردی ہوتی تووہ سندھ کے دیہی علاقوںمیںشہری سہولتیںفراہم کرتا اور پورے ملک میں کوٹہ سسٹم نافذ کرتالیکن اس نے صرف سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیا تاکہ سندھ کے مستقل باشندوںسندھیوںاور مہاجروںکوایک دوسرے سے لڑایاجائے اوروہ پنجاب کے تسلط کے خلاف آوازنہ اٹھاسکیں ۔ انہوںنے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹونے پنجاب کے فوجی جرنیلوں کے لئے سب کچھ کیا، فوج نے اس کے ساتھ کیاکیا؟ بیگم نصرت بھٹو نے فوج کی شرائط کو مانا،فوج نے ان کے ساتھ کیاکیا؟ بینظیربھٹونے فوج کی خوشنودی کے لئے کیا کچھ نہیں کیالیکن فوج نے ان کوقتل کردیا، شاہنواز بھٹواورمرتضی بھٹوکوقتل کردیا ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے ماضی میں بھی پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے لئے کام کیااورآج بھی وہ پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ اور فوج کے مفادات کے لئے کام کررہی ہے ، اب بھی جب پنجاب سے تعلق رکھنے والے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کامعاملہ آیاتو نوازشریف اور دیگررہنماؤں کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹونے بھی اس کی حمایت کردی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ کے دانشوروں، سیاسی کارکنوںخصوصاً سندھی نوجوانوں کویہ سمجھ لیناچاہے کہ سندھ کے وڈیرے جاگیردارسندھ دھرتی اور سندھیوںکے دشمن ہیں، انہوں نے سندھ کوپنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کی کالونی بنانے کے لئے پنجاب کے جرنیلوںکے ہاتھوں سندھ دھرتی ماںکوبیچا اوراس کی عزت وعصمت کولوٹااورآج تک یہی کررہے ہیں۔ان وڈیروں نے غریب سندھیوںکے لئے اب تک کیاکیاہے، انہوں نے دیہی سندھ میں کتنے اسکول، کالج اوراسپتال بنائے ہیں؟ انہوں نے غریب سندھیوںکوغلام بناکر رکھا ہوا ہے اوریہ آج بھی سندھ کے لئے نہیں بلکہ پنجاب کے مفادات لئے کام کررہے ہیں ، سندھ کے عوام انہیں اپنادوست نہ سمجھیں۔ 
 جناب الطاف حسین نے کہاکہ بزرگ سیاستداں سائیںجی ایم سید نے پنجاب کی غلامی اورتسلط سے نجات کے لئے سندھ کی آزادی کانظریہ دیا، عوام کو شعور د یااورزندگی کی آخری سانس تک اپنے نظریہ پر قائم رہے، ان کے بعد ان کے فالوورعبدالواحدآریسر نے اس نظریہ کوآگے بڑھانے کی جدوجہدشروع کی تو فوج نے انہیں راستے سے ہٹادیا، بشیرقریشی نے عملی جدوجہدکوآگے بڑھایاتوفوج نے سازش کے ذریعے انہیں زہردیکرقتل کردیا، سندھ کے تمام سچے قوم پرست ماردیے گئے لیکن آج بھی سائیں جی ایم سید کے ماننے والے زندہ ہیں، عبدالواحدآریسر، بشیرقریشی کے ساتھی زندہ ہیں اورسندھ کی آزادی کیلئے عملی جدوجہد کرنے والے سچے قوم پرست رہنماشفیع برفت موجود ہیں اوران کے ساتھی موجودہیں، سندھی نوجوانوںکوچاہیے کہ وہ ان کے ہاتھ مضبوط کریں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پنجاب کی فوج نے سندھ کواپنی کالونی بنائے رکھنے کے لئے سندھ کے مستقل باشندوں یعنی سندھیوںاور مہاجروںکوآپس میں لڑانے کے لئے قادرمگسی اوران جیسے دیگرنام نہاد قوم پرستوںکوخریدکران کے ذریعے مہاجربستیوںپر حملے کروائے ، 30ستمبر 1988ء کو حیدرآبادمیں مہاجروںکاقتل عام کرایا، اسی طرح مہاجروںمیں سے بھی کچھ لوگوںکوخرید کران سے سندھیوںکومروایاتاکہ سندھی اورمہاجرآپس میںلڑتے رہیںاورکبھی ایک نہ ہوں۔ اسٹیبلشمنٹ کی سازش کے تحت ایک طرف مہاجروں میں سے کچھ گروپ بنادیے گئے ہیں جوسندھیوںکے خلاف بات کرتے ہیں،دوسری طرف قادرمگسی، پلیجواوران جیسے دیگرنام نہادقوم پرستوں کے ذریعے سادہ لوح سندھی عوام کومہاجروں کے خلاف بھڑکایاجاتاہے کہ مہاجرتمہارے دشمن ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمیں ٹھنڈے دل سے اس حقیقت کوتسلیم کرناہوگاکہ سندھی اورمہاجر سندھ دھرتی کے مستقل باشندے ہیں، ان میںیہ قدرمشترک ہے کہ دونوںکاجینامرناسندھ دھرتی سے وابستہ ہے ، جس طرح سندھی مرنے کے بعد سندھ میں دفن ہوتاہے اسی طرح مہاجربھی مرنے کے بعد سندھ دھرتی میں ہی دفن ہوتاہے ،مہاجروں کی لاشیںدفن ہونے کے لئے انڈیانہیں جاتیں، سندھی جوکماتاہے وہ سندھ میں خرچ کرتاہے، مہاجربھی جو کماتا ہے وہ سندھ میں خرچ کرتاہے، سندھی اگرملک سے باہر کماتاہے تووہ کماکرپیسہ سندھ میں بھیجتاہے، اسی طرح مہاجربھی ملک سے باہر پیسہ کماکرسندھ ہی بھیجتا ہے،قدرت نے مہاجروںاورسندھیوںکوتاریخی طورپرایک دوسرے کے ساتھ جوڑدیاہے،مہاجروںکوبھی اب سندھ سے دوسری ہجرت کرکے کہیں اور نہیں 

جاناہے۔ جناب الطاف حسین نے سندھی دانشوروں، اساتذہ، وکلائ، سیاسی کارکنوںخصوصاًنوجوانوںکو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اس بات پر غور کریںکہ کیاسندھ آزاد ہے یاپنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کی کالونی بناہواہے؟ کیا سندھ دھرتی سے نکلنے والی گیس، تیل،کوئلہ اوردیگرمعدنی وسائل پر سندھیوں کا کنٹرول ہے یااس پر پنجابی فوج کاقبضہ ہے؟ کیا سندھ کاآئی جی اورچیف سیکریٹری سندھ سے لیاجاتاہے یا پنجاب سے آتاہے؟کیاسندھ میں موجودتمام وفاقی محکموں میں سندھ سے لوگ لئے جاتے ہیں یاپنجاب سے آتے ہیں؟ کیاسندھ میں موجود فوج اور رینجرز میں سندھ کے لوگوںکولیاجاتاہے؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ کے عوام کوسمجھناہوگاکہ کیاوہ سندھ دھرتی کواس ظلم وناانصافی سے آزادکراناچاہتے ہیں یاسندھ کوغلام بنے دیکھناچاہتے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ اب سندھی اورمہاجرآپس میں ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے ملکراپنے مشترکہ دشمن کے خلاف آوازبلندکریںاوراپنی سندھ دھرتی کی آزادی اوراس کے حقوق کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں۔انہوں نے سندھی دانشوروں، قلمکاروں، اساتذہ، وکلاء ،ہاریوں سمیت تمام سندھی عوام خصوصاً سندھی نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ الطاف حسین سندھ دھرتی کاحلالی بیٹاہے،وہ تمام ترریاستی جبراورظلم وبربریت کے باوجود آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے ، آؤسندھ کی آزادی کے لئے الطاف حسین کاساتھ دو۔ انہوں نے کہاکہ اگرسندھی بھائیوںنے میراساتھ دیاتومیں سندھ کوپنجاب کی غلامی سے آزاد کراؤں گا ۔ سندھی بھائی کسی بھی سچے قوم پرست کواپنالیڈربنالیں، سندھ کی آزادی کے لئے میں اس کے پیچھے چلنے کوتیار ہو ں ، مجھے اپنے کچھ نہیںچاہیے ، میں سندھ کی آزادی چاہتاہوں۔ انہوں نے کہاکہ سندھی بھائی پرانی باتیں چھوڑیں، وقت کاتقاضہ ہے کہ سندھی اورمہاجر ایک ہوجائیں اوردونوں کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ سندھ آزادہوجائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان دراصل پنجابستان بن چکاہے اور اب مہاجر،سندھی ،بلوچ ،پشتون ،سرائیکی ، گلگتی  بلتستانی ، کشمیری کسی بھی مظلوم قوم کاپنجابستان کے ساتھ گزارانہیں ہے، تمام مظلوم قوموں کوغلامی سے نجات اورآزادی کے حصول کے لئے متحد ہوجانا چاہیے کیونکہ حقوق کے حصول کے لئے آزادی کے سواکوئی چارہ نہیں ہے۔ 

٭٭٭٭٭



7/4/2020 4:03:33 AM